موٹروے M14 پر بڑھتی وارداتیں، میانوالی سے ڈیرہ اسماعیل خان تک سفر غیر محفوظ
موٹروے M14 پر ڈاکوؤں کی بڑھتی ہوئی وارداتوں نے مسافروں میں شدید خوف و ہراس پیدا کر دیا ہے۔ میانوالی سے ڈیرہ اسماعیل خان تک سفر کرنے والے شہریوں، ٹرانسپورٹرز اور نجی گاڑیوں کے مالکان کا کہنا ہے کہ یہ اہم شاہراہ اب غیر محفوظ ہوتی جا رہی ہے جہاں رات کے اوقات میں سفر کرنا خطرناک بن چکا ہے۔
مقامی ذرائع اور مسافروں کے مطابق موٹروے کے مختلف حصوں میں ڈاکو ناکہ بندی کر کے گاڑیوں کو روکنے، قیمتی سامان لوٹنے اور شہریوں کو ہراساں کرنے کی وارداتیں کر رہے ہیں۔ کئی مسافروں نے شکایت کی ہے کہ سیکیورٹی گشت کم ہونے کے باعث جرائم پیشہ عناصر کھلے عام کارروائیاں کر رہے ہیں۔
مسافروں کا کہنا ہے کہ خاص طور پر رات کے وقت میانوالی، پہاڑی علاقوں اور کم آبادی والے مقامات کے قریب صورتحال زیادہ تشویشناک ہوتی ہے۔ بعض واقعات میں ڈاکوؤں نے اسلحے کے زور پر نقدی، موبائل فون اور دیگر قیمتی اشیاء چھین لیں جبکہ بعض گاڑیوں کو نقصان بھی پہنچایا گیا۔
ٹرانسپورٹ سے وابستہ افراد کے مطابق M14 موٹروے خیبرپختونخوا اور پنجاب کے درمیان اہم تجارتی و سفری راستہ ہے، جہاں روزانہ ہزاروں گاڑیاں گزرتی ہیں۔ اس روٹ پر سیکیورٹی خدشات بڑھنے سے نہ صرف مسافر پریشان ہیں بلکہ کاروباری سرگرمیاں بھی متاثر ہونے کا خدشہ پیدا ہو گیا ہے۔
عوام نے موٹروے پولیس، ضلعی انتظامیہ اور متعلقہ اداروں سے مطالبہ کیا ہے کہ فوری طور پر اضافی نفری تعینات کی جائے، رات کے گشت میں اضافہ کیا جائے اور حساس مقامات پر چیک پوسٹس قائم کی جائیں تاکہ شہری محفوظ سفر کر سکیں۔
شہریوں کا کہنا ہے کہ موٹروے جیسے جدید اور اہم قومی شاہراہ پر اگر مسافر خود کو غیر محفوظ محسوس کریں تو یہ تشویش ناک صورتحال ہے۔ لوگوں نے حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ M14 پر جدید نگرانی نظام، سیفٹی کیمرے اور فوری رسپانس یونٹس فعال کیے جائیں تاکہ وارداتوں کا خاتمہ ممکن بنایا جا سکے۔
سیکیورٹی ماہرین کے مطابق دور دراز علاقوں میں نگرانی کے مؤثر نظام، مسلسل پٹرولنگ اور مقامی پولیس و موٹروے پولیس کے درمیان بہتر رابطے سے صورتحال بہتر بنائی جا سکتی ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ بروقت اقدامات نہ کیے گئے تو مسافروں کے اعتماد میں مزید کمی آ سکتی ہے۔



