اسلام آباد: چیف جسٹس پاکستان جسٹس یحییٰ آفریدی نے سپریم کورٹ میں نافذ کفایت شعاری اقدامات ختم کرنے کی ہدایت جاری کر دی ہے، جس کے بعد عدالت عظمیٰ میں جاری خصوصی اخراجاتی پابندیاں 15 جون 2026 سے ختم ہو جائیں گی۔
سپریم کورٹ کی جانب سے جاری نوٹیفکیشن کے مطابق چیف جسٹس پاکستان کی ہدایت پر 10 مارچ 2026 کو جاری کیا گیا کفایت شعاری پالیسی سے متعلق نوٹیفکیشن واپس لے لیا گیا ہے۔ فیصلے کے تحت سپریم کورٹ کے تمام انتظامی، دفتری اور روزمرہ امور دوبارہ معمول کے مطابق چلائے جائیں گے۔
نوٹیفکیشن میں واضح کیا گیا ہے کہ 15 جون 2026 سے سپریم کورٹ میں نافذ تمام کفایت شعاری اقدامات غیر مؤثر ہو جائیں گے جبکہ عدالت کے مختلف شعبوں میں معمول کی سرگرمیاں بحال کر دی جائیں گی۔
یاد رہے کہ ملک میں معاشی صورتحال اور حکومتی سطح پر اخراجات میں کمی کی پالیسی کے تحت سپریم کورٹ سمیت مختلف ریاستی اداروں میں کفایت شعاری اقدامات نافذ کیے گئے تھے۔ ان اقدامات کا مقصد غیر ضروری اخراجات کم کرنا اور وسائل کے استعمال میں احتیاط برتنا تھا۔
ذرائع کے مطابق کفایت شعاری پالیسی کے دوران سپریم کورٹ میں مختلف انتظامی اخراجات محدود کیے گئے تھے جبکہ بعض سہولیات اور سرکاری امور کو بھی محدود دائرہ کار میں چلایا جا رہا تھا۔ تاہم اب چیف جسٹس کے فیصلے کے بعد عدالتی نظام مکمل معمول پر آ جائے گا۔
قانونی ماہرین کا کہنا ہے کہ سپریم کورٹ جیسے اہم آئینی ادارے میں انتظامی سرگرمیوں کی مکمل بحالی سے عدالتی امور کی انجام دہی مزید مؤثر اور تیز ہو سکتی ہے۔ ان کے مطابق اعلیٰ عدلیہ میں دفتری سہولیات اور وسائل کی دستیابی مقدمات کی بروقت سماعت میں اہم کردار ادا کرتی ہے۔
دوسری جانب بعض حلقے اس فیصلے کو موجودہ معاشی حالات کے تناظر میں اہم قرار دے رہے ہیں۔ ماہرین کے مطابق کفایت شعاری اقدامات کے خاتمے کے بعد اخراجات اور وسائل کے استعمال سے متعلق عوامی توجہ بھی برقرار رہے گی۔
سپریم کورٹ کے اس فیصلے کے بعد توقع کی جا رہی ہے کہ عدالت عظمیٰ کے تمام شعبے، دفتری نظام اور انتظامی سرگرمیاں پہلے کی طرح مکمل استعداد کے ساتھ کام کریں گی۔


