نیویارک: (فرسٹ نیوز)
دنیا بھر میں مصنوعی ذہانت اے آئی سے ڈالر کی تیزی سے ترقی جہاں روزگار کے روایتی مواقع کو متاثر کر رہی ہے، وہیں اس جدید ٹیکنالوجی نے کمائی کے نئے دروازے بھی کھول دیے ہیں۔ اب عام لوگ گھر بیٹھے سادہ ویڈیوز بنا کر ڈالرز کما سکتے ہیں۔
تازہ رپورٹ کے مطابق بھارت سمیت کئی ممالک میں ہزاروں افراد ایسے کام سے وابستہ ہو چکے ہیں جہاں وہ اپنی روزمرہ زندگی کی ویڈیوز ریکارڈ کرتے ہیں۔ یہ ویڈیوز درحقیقت مصنوعی ذہانت پر مبنی روبوٹس کو انسانی انداز میں کام سکھانے کیلئے استعمال ہوتی ہیں۔
🎥 کیسے کام کرتا ہے یہ نیا نظام؟
اس نئے آن لائن روزگار میں افراد:
- اپنے سر پر اسمارٹ فون یا کیمرہ لگا کر
- روزمرہ گھریلو کاموں جیسے کھانا بنانا، سبزیاں کاٹنا، صفائی کرنا
- اور دیگر معمول کی سرگرمیوں کی ویڈیوز بناتے ہیں
یہ ویڈیوز بعد میں اے آئی کمپنیوں کو بھیجی جاتی ہیں، جہاں انہیں روبوٹ ٹریننگ ڈیٹا کے طور پر استعمال کیا جاتا ہے۔
💰 کتنی کمائی ممکن؟
رپورٹس کے مطابق:
- ایک گھنٹے کی ویڈیو ریکارڈنگ پر تقریباً 2.5 سے 3 ڈالر (تقریباً 700+ پاکستانی روپے) ادا کیے جاتے ہیں
- کچھ افراد روزانہ کئی گھنٹے کام کر کے مستقل آمدن حاصل کر رہے ہیں
🤖 اے آئی ٹریننگ کیلئے یہ ویڈیوز کیوں اہم ہیں؟
ماہرین کے مطابق یہ ویڈیوز “ایگو سینٹرک ڈیٹا” کہلاتی ہیں، یعنی وہ ویڈیوز جو انسان کی نظر سے بنائی جاتی ہیں۔
ان کا مقصد:
- روبوٹس کو انسانی حرکات سکھانا
- چیزوں کو ہاتھ سے پکڑنے، چلنے پھرنے اور کام کرنے کی صلاحیت دینا
- حقیقی دنیا میں روبوٹس کو قابل استعمال بنانا
🌍 تیزی سے بڑھتی ہوئی مارکیٹ
ماہرین کے اندازوں کے مطابق:
- 2050ء تک دنیا میں 1 ارب سے زائد روبوٹس استعمال میں ہوں گے
- زیادہ تر روبوٹس صنعتی اور تجارتی کاموں کیلئے استعمال ہوں گے
- اس وجہ سے ایسے ڈیٹا کی طلب مسلسل بڑھے گی
⚠️ مواقع کے ساتھ خدشات بھی
جہاں یہ نیا روزگار عام لوگوں کے لیے کمائی کا ذریعہ بن رہا ہے، وہیں کچھ خدشات بھی سامنے آئے ہیں:
- یہی کام مستقبل میں روبوٹس خود کرنے لگیں گے
- غیر رسمی شعبے کے کارکنوں کی روزی متاثر ہو سکتی ہے
- انسانی ہنر سیکھنے کے بعد روبوٹس متبادل بن سکتے ہیں
ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ شعبہ مستقبل میں مزید بڑھے گا، لیکن اس کے سماجی اور معاشی اثرات پر بھی توجہ دینا ضروری ہے۔s.


