نئی دہلی: (فرسٹ نیوز)
خلیجِ عمان کے قریب امریکی کارروائی میں بھارتی عملے کے 3 ملاحوں کی ہلاکت کے بعد بھارت میں شدید ردعمل سامنے آیا ہے اور بھارتی میڈیا نے امریکا کو تنقید کا نشانہ بنایا ہے۔
بھارتی حکام کے مطابق حالیہ کارروائیوں کے دوران ایسے 3 تجارتی جہاز متاثر ہوئے جن پر بھارتی عملہ موجود تھا۔ ایک واقعے میں امریکی کارروائی کے نتیجے میں 3 بھارتی ملاح ہلاک جبکہ متعدد افراد متاثر ہوئے۔
⚠️ امریکا پر سنگین الزامات
بھارت نے امریکی بحریہ پر شہری جہاز رانی کو نشانہ بنانے کا الزام عائد کرتے ہوئے اس معاملے پر سخت احتجاج ریکارڈ کروایا ہے۔
بھارتی وزارت خارجہ نے مطالبہ کیا ہے کہ:
- اس کارروائی کی مکمل وضاحت دی جائے
- ذمہ داروں کا تعین کیا جائے
- شہری جہاز رانی کے خلاف طاقت کے استعمال کی تحقیقات کی جائیں
🕰️ 1988 کا سانحہ پھر یاد
اس واقعے کے بعد بھارتی میڈیا میں 3 جولائی 1988ء کے سانحے کا ذکر بھی دوبارہ سامنے آیا ہے، جب امریکی جنگی جہاز نے غلطی سے ایک ایرانی مسافر طیارے کو مار گرایا تھا۔
اس حادثے میں:
- تمام 290 افراد ہلاک ہو گئے تھے
- جن میں 10 بھارتی شہری بھی شامل تھے
امریکا نے اس واقعے کو اس وقت دفاعی کارروائی قرار دیتے ہوئے افسوس کا اظہار کیا تھا، تاہم ایران نے اسے سنگین انسانی المیہ قرار دیا تھا۔
🌍 بین الاقوامی سطح پر تشویش
بین الاقوامی تحقیقات میں بعد ازاں اس سانحے میں کئی تکنیکی اور عملی غلطیوں کی نشاندہی کی گئی تھی، جس کے باعث یہ واقعہ عالمی سطح پر ایک بڑ ا تنازع بن گیا تھا۔
📊 حالیہ واقعے پر ردعمل
ماہرین کے مطابق خلیج عمان کا علاقہ پہلے ہی حساس سمجھا جاتا ہے، اور ایسے واقعات نہ صرف علاقائی کشیدگی کو بڑھا سکتے ہیں بلکہ عالمی سطح پر بھی تشویش کا باعث بنتے ہیں۔
بھارت نے واضح کیا ہے کہ شہری جہازوں کی سیکیورٹی کو یقینی بنانا عالمی برادری کی مشترکہ ذمہ داری ہے اور ایسے واقعات کی شفاف تحقیقات ناگزیر ہیں۔


