لاس اینجلس: (فرسٹ نیوز)
امریکی پاپ اسٹار اور اداکارہ آریانا گرانڈے نے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی انتظامیہ کو سخت تنبیہ کرتے ہوئے مطالبہ کیا ہے کہ ان کی موسیقی کو حکومتی پالیسیوں کی تشہیر کے لیے استعمال نہ کیا جائے۔
یہ تنازع اُس وقت سامنے آیا جب وائٹ ہاؤس نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹک ٹاک پر ایک ویڈیو جاری کی، جس میں امیگریشن پالیسی کو دکھایا گیا تھا۔ ویڈیو میں سرکاری اہلکاروں کو مشتبہ افراد کو گرفتار کرتے اور ہتھکڑیاں لگاتے ہوئے دکھایا گیا جبکہ پس منظر میں آریانا گرانڈے کا مقبول گانا “بائے” چل رہا تھا۔
آریانا گرانڈے نے اس ویڈیو پر سخت ردِعمل دیتے ہوئے کہا:
“برائے مہربانی میری موسیقی کو اس وحشیانہ، غیر انسانی اور گھناؤنے کام کے لیے استعمال نہ کریں۔”
ذرائع کے مطابق آریانا گرانڈے کی ٹیم اب اس معاملے پر قانونی کارروائی کے امکانات کا جائزہ لے رہی ہے تاکہ ان کے گانے کو ویڈیو سے ہٹایا جا سکے۔
⚠️ وائٹ ہاؤس کا ردعمل
وائٹ ہاؤس کی ترجمان نے گلوکارہ کے بیان پر ردعمل دیتے ہوئے کہا کہ اصل میں وہ افراد غیر انسانی ہیں جو غیر قانونی طور پر ملک میں داخل ہو کر جرائم کرتے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ حکومت کی پہلی ترجیح امریکی شہریوں کی حفاظت اور قانون کا نفاذ ہے۔
🌍 امیگریشن پالیسی پر نئی بحث
یہ معاملہ ایک بار پھر امریکا میں امیگریشن پالیسی کے حوالے سے جاری بحث کو تیز کر گیا ہے۔ جہاں حکومتی مؤقف سیکیورٹی پر مبنی ہے، وہیں ناقدین کا کہنا ہے کہ بعض اقدامات انسانی حقوق کے اصولوں سے متصادم ہیں۔
🎤 فنکاروں کی کھل کر مخالفت
آریانا گرانڈے اس سے پہلے بھی ٹرمپ انتظامیہ اور امیگریشن ادارے آئس (ICE) کی پالیسیوں پر تنقید کرتی رہی ہیں۔ وہ تارکین وطن کے حقوق کے حق میں مسلسل آواز اٹھاتی رہی ہیں۔
دلچسپ بات یہ ہے کہ وہ اکیلی فنکار نہیں ہیں جنہوں نے اپنی موسیقی کے استعمال پر اعتراض اٹھایا ہو، ان کے علاوہ اولیویا روڈریگو، بلی ایilish اور سبرینا کارپنٹر سمیت کئی عالمی گلوکار بھی ایسی پالیسیوں پر تنقید کر چکے ہیں۔
📱 ویڈیو میں تبدیلی
اطلاعات کے مطابق تنازع کے بعد:
آریانا کا کمنٹ ڈیلیٹ کر دیا گیا
تاہم گلوکارہ نے خود اس کمنٹ کے اسکرین شاٹس اپنے سوشل میڈیا پر شیئر کر دیے، جس کے بعد یہ معاملہ مزید وائرل ہو گیا
ویڈیو کی آواز بند کر دی گئی


