ممبئی: (فرسٹ نیوز)
بھارتی فلم اور ٹی وی اداکارہ ایوا گروور نے پہلی بار اپنی ذاتی زندگی کے مشکل ترین دور کے بارے میں کھل کر بات کرتے ہوئے اداکار عامر خان کے سوتیلے بھائی حیدر علی خان سے شادی کو ایک دردناک تجربہ قرار دے دیا۔
بھارتی میڈیا کو دیے گئے ایک حالیہ انٹرویو میں ایوا گروور نے بتایا کہ ان کی ازدواجی زندگی کا آغاز ایک خوبصورت محبت کی کہانی کے طور پر ہوا، تاہم وقت کے ساتھ یہ رشتہ تلخی اور مشکلات میں تبدیل ہو گیا۔
اداکارہ کے مطابق انہوں نے حیدر علی خان کے ساتھ صرف 18 دن کی ملاقاتوں کے بعد شادی کا فیصلہ کر لیا تھا کیونکہ انہیں یقین تھا کہ انہیں ایک بہترین جیون ساتھی مل گیا ہے۔
انہوں نے بتایا کہ ان کی والدہ اس شادی کے خلاف تھیں، خاص طور پر مختلف مذہب سے تعلق رکھنے کی وجہ سے، لیکن اس کے باوجود انہوں نے گھر سے بھاگ کر شادی کر لی۔
⚠️ شادی کے بعد مشکلات کا آغاز
ایوا گروور نے انکشاف کیا کہ شادی کے فوراً بعد ہی مسائل سامنے آنے لگے۔
ان کے مطابق شوہر کا رویہ انتہائی جارحانہ تھا اور وہ اپنے غصے پر قابو نہیں رکھ پاتا تھا۔
اداکارہ نے دعویٰ کیا کہ:
- انہیں کئی مرتبہ جسمانی تشدد کا سامنا کرنا پڑا
- اس صورتحال نے ان کے ذہنی سکون کو شدید متاثر کیا
- وقت کے ساتھ حالات مزید خراب ہوتے چلے گئے
💔 رشتہ بچانے کی کوششیں ناکام
ایوا گروور کا کہنا تھا کہ انہوں نے کئی سال تک اس رشتے کو بچانے کی ہر ممکن کوشش کی، مگر تمام کوششیں بے سود ثابت ہوئیں۔
انہوں نے بتایا کہ شادی کے چار سال بعد انہوں نے ماں بننے کا فیصلہ کیا، تاکہ شاید اس سے رشتہ بہتر ہو سکے، مگر صورتحال میں بہتری آنے کے بجائے مزید پیچیدگی پیدا ہو گئی۔
👶 بیٹی بنی طاقت
اداکارہ کے مطابق ان کی بیٹی کی پیدائش نے ان کی زندگی کا رخ بدل دیا۔
انہوں نے کہا کہ بیٹی ہی ان کی سب سے بڑی طاقت بنی اور اسی نے انہیں یہ فیصلہ کرنے کا حوصلہ دیا کہ وہ مزید یہ سب برداشت نہیں کر سکتیں۔
ایوا گروور نے بتایا کہ آخرکار انہوں نے اپنی زندگی کو نئی سمت دینے کے لیے مشکل مگر اہم فیصلہ کیا اور دوستوں، ساتھی فنکاروں اور فیملی کے تعاون سے اس رشتے کو ختم کر کے آگے بڑھنے کا حوصلہ حاصل کیا۔
🎤 نئی زندگی کا آغاز
اداکارہ نے کہا کہ زندگی میں دوبارہ کھڑے ہونے کا عمل آسان نہیں تھا، مگر انہوں نے خود کو مضبوط رکھا اور اپنے کیریئر اور ذاتی زندگی کو سنوارنے پر توجہ دی۔
تجزیہ کاروں کے مطابق ایوا گروور کا یہ اعتراف نہ صرف شوبز انڈسٹری بلکہ معاشرے میں بھی ایک اہم پیغام دیتا ہے کہ گھریلو تشدد جیسے مسائل پر خاموشی کے بجائے آواز اٹھانا ضروری ہے۔


