شاہد آفریدی اور اسکے بھائی پر سنگین الزامات، پشاور میں کاروباری تنازعہ شدت اختیار کر گیا
پشاور: (فرسٹ نیوز)
پشاور سمیت مختلف علاقوں میں ایک سنجیدہ نوعیت کا معاملہ زیر بحث ہے جس میں قومی کرکٹر شاہد آفریدی کے بھائی طارق آفریدی پر مبینہ سنگین الزامات سامنے آئے ہیں، جن کے بعد کاروباری حلقوں اور سوشل میڈیا پر تشویش کی لہر دوڑ گئی ہے۔
ذرائع کے مطابق طارق آفریدی پر الزام ہے کہ وہ مبینہ طور پر اپنے بھائی شاہد آفریدی کی شہرت اور اثر و رسوخ کو استعمال کرتے ہوئے مختلف کاروباری شخصیات پر دباؤ ڈالتا اور بلیک میلنگ جیسے ہتھکنڈے استعمال کرتا رہا ہے، جبکہ شاہد آفریدی کو ان معاملات سے لاعلم رکھا جاتا ہے۔
⚠️ کاروباری تنازعہ سامنے آ گیا
حالیہ دنوں ایک وائرل معاملے میں جنوبی وزیرستان سے تعلق رکھنے والے معروف کاروباری شخصیت اور اے ایچ گروپ کے مالک یاسر محسود اور طارق آفریدی کے درمیان تنازع سامنے آیا ہے۔
اطلاعات کے مطابق اس تنازع میں یہ دعویٰ بھی کیا جا رہا ہے کہ طارق آفریدی نے شاہد آفریدی کے نام کو بطور دباؤ استعمال کیا۔
🚨 یاسر محسود کیس میں نیا موڑ
ذرائع کے مطابق یاسر محسود کے معاملے میں:
- پشاور پولیس کے اعلیٰ حکام نے معاملہ حل کروانے کی کوشش کی
- تاہم کوئی حتمی پیشرفت سامنے نہیں آ سکی
- مبینہ طور پر جائیداد کی منتقلی سے متعلق مطالبات بھی سامنے آئے
مزید یہ کہ رپورٹس میں یہ بھی دعویٰ کیا جا رہا ہے کہ یاسر محسود کے لاپتہ ہونے کے بعد ان کے اہل خانہ کو دباؤ کا سامنا رہا، تاہم اس حوالے سے بھی کوئی سرکاری تصدیق موجود نہیں۔
🏛️ ریاستی عملداری پر سوالات
مبصرین کا کہنا ہے کہ اگر ان الزامات میں کوئی حقیقت ہے تو یہ نہ صرف قانون کی عملداری بلکہ ریاستی اداروں پر بھی سوالیہ نشان ہے۔
ان کا کہنا ہے کہ کسی بھی فرد کو کسی بااثر نام کے تحت قانون سے بالاتر نہیں ہونا چاہیے اور اس حوالے سے شفاف تحقیقات ضروری ہیں۔
📢 خاندان کا مؤقف
یاسر محسود کے اہل خانہ کا کہنا ہے کہ:
- اگر ان کے بھائی نے کوئی غلطی کی ہے تو قانون کے مطابق کارروائی کی جائے
- بصورت دیگر انہیں فوری انصاف فراہم کیا جائے
- ریاستی ادارے اس معاملے کو سنجیدگی سے دیکھیں
انہوں نے حکومت، فوجی قیادت اور دیگر اعلیٰ حکام سے اپیل کی ہے کہ معاملے کی مکمل اور شفاف تحقیقات کی جائیں اور ذمہ داروں کو کیفر کردار تک پہنچایا جائے۔
⚖️ تحقیقات کی ضرورت
ماہرین کے مطابق اس نوعیت کے سنگین الزامات میں:
- مکمل تحقیقات ناگزیر ہیں
- تمام فریقین کا مؤقف سامنے آنا ضروری ہے
- اور حقائق سامنے آنے تک محتاط رویہ اپنانا چاہیے


