پاکستان میں غربت کی شرح 28.9 فیصد تک پہنچ گئی، اقتصادی سروے نے خطرے کی گھنٹی بجا دی

پاکستان کے اقتصادی سروے 2025-26 میں ملک میں بڑھتی ہوئی غربت اور معاشی عدم مساوات سے متعلق تشویشناک اعداد و شمار سامنے آئے ہیں۔ سروے کے مطابق پاکستان میں غربت کی مجموعی شرح بڑھ کر 28.9 فیصد تک پہنچ گئی ہے، جس کا مطلب ہے کہ ملک کی تقریباً ایک تہائی آبادی بنیادی ضروریاتِ زندگی پوری کرنے میں مشکلات کا شکار ہے۔

اقتصادی سروے کے مطابق غربت میں اضافے کی یہ صورتحال گزشتہ چند برسوں کے دوران مہنگائی، بے روزگاری، معاشی سست روی، روپے کی قدر میں کمی اور توانائی بحران جیسے عوامل کے باعث پیدا ہوئی۔ رپورٹ کے مطابق 2018-19 میں غربت کی شرح 21.9 فیصد تھی جو اب بڑھ کر 28.9 فیصد ہو گئی ہے۔

ماہرینِ معیشت کے مطابق یہ اضافہ صرف اعداد و شمار تک محدود نہیں بلکہ اس کے اثرات لاکھوں خاندانوں کی روزمرہ زندگی پر پڑ رہے ہیں۔ خوراک، تعلیم، صحت اور رہائش جیسی بنیادی سہولیات عام آدمی کی پہنچ سے دور ہوتی جا رہی ہیں۔ خاص طور پر متوسط اور غریب طبقہ شدید مالی دباؤ کا شکار ہے۔

اقتصادی سروے میں بتایا گیا ہے کہ دیہی علاقوں میں غربت کی شرح سب سے زیادہ بڑھ رہی ہے۔ دیہاتوں میں غربت 28.2 فیصد سے بڑھ کر 36.2 فیصد تک پہنچ گئی، جبکہ شہری علاقوں میں یہ شرح 11 فیصد سے بڑھ کر 17.4 فیصد ریکارڈ کی گئی۔

رپورٹ کے مطابق دیہی علاقوں میں زراعت سے وابستہ افراد بڑھتی ہوئی پیداواری لاگت، پانی کی قلت، موسمیاتی تبدیلیوں اور فصلوں کو نقصان پہنچنے کی وجہ سے شدید متاثر ہوئے ہیں۔ دوسری جانب شہروں میں مہنگائی، کرایوں میں اضافہ اور روزگار کے محدود مواقع نے شہری آبادی کی مشکلات میں اضافہ کیا ہے۔

صوبائی سطح پر بلوچستان ملک کا سب سے غریب صوبہ قرار پایا جہاں غربت کی شرح 47 فیصد ریکارڈ کی گئی۔ اس کے بعد خیبرپختونخوا میں غربت کی شرح 35.3 فیصد رہی۔ سندھ میں یہ شرح 32.6 فیصد جبکہ پنجاب میں 23.3 فیصد ریکارڈ کی گئی، جو چاروں صوبوں میں سب سے کم ہے۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ بلوچستان میں بنیادی سہولیات کی کمی، کم صنعتی ترقی، تعلیم اور صحت کے محدود مواقع غربت میں اضافے کی بڑی وجوہات ہیں۔ خیبرپختونخوا میں سیکیورٹی مسائل، بے روزگاری اور ترقیاتی منصوبوں کی کمی بھی اہم عوامل قرار دیے جا رہے ہیں۔

اقتصادی سروے میں امیر اور غریب طبقے کے درمیان بڑھتے ہوئے فرق پر بھی تشویش ظاہر کی گئی ہے۔ رپورٹ کے مطابق آمدنی میں عدم مساوات کا اشاریہ 28.4 فیصد سے بڑھ کر 32.7 فیصد ہو گیا ہے، جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ دولت کا بڑا حصہ محدود طبقے کے پاس جمع ہوتا جا رہا ہے جبکہ غریب مزید مشکلات کا شکار ہو رہے ہیں۔

رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ سندھ میں آمدنی کا فرق سب سے زیادہ ریکارڈ کیا گیا جہاں عدم مساوات کی شرح 35.9 فیصد رہی۔ پنجاب میں یہ شرح 32 فیصد، خیبرپختونخوا میں 29.4 فیصد جبکہ بلوچستان میں 26.6 فیصد ریکارڈ کی گئی۔

اقتصادی ماہرین کے مطابق مہنگائی میں مسلسل اضافے نے عوام کی قوتِ خرید کو شدید متاثر کیا ہے۔ اشیائے خورونوش، بجلی، گیس، پٹرول اور ٹرانسپورٹ کے اخراجات میں اضافہ غریب اور متوسط طبقے کے لیے سب سے بڑا چیلنج بن چکا ہے۔ کئی خاندانوں کو اپنے اخراجات پورے کرنے کے لیے قرض لینا پڑ رہا ہے یا ضروریاتِ زندگی میں کمی کرنا پڑ رہی ہے۔

سروے میں یہ بھی بتایا گیا ہے کہ ملک میں بے روزگاری کی صورتحال بھی تشویشناک ہے۔ لاکھوں نوجوان ملازمتوں کی تلاش میں ہیں جبکہ روزگار کے نئے مواقع محدود ہیں۔ رپورٹ کے مطابق تقریباً 59 لاکھ افراد بے روزگار ہیں، جس سے غربت میں مزید اضافہ ہو رہا ہے۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ غربت میں اضافے کے باعث تعلیم اور صحت کے شعبے بھی متاثر ہو رہے ہیں۔ کم آمدنی والے خاندان بچوں کی تعلیم جاری رکھنے میں مشکلات کا شکار ہیں جبکہ مناسب طبی سہولیات حاصل کرنا بھی مشکل ہوتا جا رہا ہے۔ اس صورتحال کے طویل المدتی اثرات ملکی ترقی پر پڑ سکتے ہیں۔

اقتصادی سروے میں حکومت کی جانب سے غریب طبقے کے لیے کیے گئے اقدامات کا بھی ذکر کیا گیا ہے۔ رپورٹ کے مطابق بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام اور دیگر سماجی تحفظ کے منصوبوں کے لیے اربوں روپے مختص کیے گئے ہیں تاکہ کمزور طبقات کو مالی معاونت فراہم کی جا سکے۔

تاہم ماہرین کا ماننا ہے کہ صرف امدادی پروگرام کافی نہیں ہوں گے بلکہ پائیدار معاشی اصلاحات، روزگار کے مواقع، صنعتی ترقی، زرعی بہتری اور مہنگائی پر قابو پانا ضروری ہے۔ ان کے مطابق اگر بروقت اقدامات نہ کیے گئے تو غربت اور معاشی عدم مساوات میں مزید اضافہ ہو سکتا ہے۔

اقتصادی سروے کے یہ اعداد و شمار حکومت اور پالیسی ساز اداروں کے لیے ایک بڑا چیلنج ہیں۔ عوام کو امید ہے کہ آنے والے بجٹ اور معاشی پالیسیوں میں ایسے اقدامات کیے جائیں گے جن سے عام آدمی کو حقیقی ریلیف مل سکے اور ملک میں غربت کی بڑھتی ہوئی شرح پر قابو پایا جا سکے۔

Leave a Comment

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Scroll to Top