اسلام آباد: (فرسٹ نیوز)
وفاقی دارالحکومت اسلام آباد کے پوش علاقے ایف-10 میں خواتین پر مبینہ تشدد کا سنگین واقعہ سامنے آیا ہے، جہاں متاثرہ خواتین نے الزام عائد کیا ہے کہ انہیں بااثر افراد کی جانب سے اسلحے کے زور پر تشدد کا نشانہ بنایا گیا۔
متاثرہ خواتین کے مطابق واقعے کے بعد انہوں نے قانونی کارروائی کیلئے متعلقہ تھانے سے رجوع کیا، تاہم شالیمار تھانے کے ایس ایچ او شفقت فیض نے مبینہ طور پر مقدمہ درج کرنے سے انکار کر دیا ہے، حالانکہ خواتین نے واقعے کی میڈیکل رپورٹس بھی فراہم کر دی ہیں۔
⚠️ سنگین الزامات، انصاف کی طلب
خواتین نے اپنے بیان میں کہا کہ:
- انہیں ہتھیاروں کے زور پر تشدد کا نشانہ بنایا گیا
- واقعے کے شواہد اور میڈیکل رپورٹس موجود ہیں
- اس کے باوجود پولیس کارروائی سے گریز کر رہی ہے
📢 پولیس رویے پر سوالات
متاثرہ خواتین نے الزام عائد کیا ہے کہ بااثر ملزمان کے دباؤ کے باعث کیس درج نہیں کیا جا رہا، جس سے انصاف کے عمل پر سوالات اٹھ رہے ہیں۔
⚖️ فوری کارروائی کا مطالبہ
شہری اور سماجی حلقوں نے اس واقعے پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے مطالبہ کیا ہے کہ:
- کیس فوری طور پر درج کیا جائے
- ملوث افراد کے خلاف سخت قانونی کارروائی کی جائے
- متاثرہ خواتین کو انصاف فراہم کیا جائے
📊 قانون کی عملداری پر سوال
ماہرین کے مطابق اگر ایسے سنگین الزامات کے باوجود ایف آئی آر درج نہ ہو تو یہ قانون کی بالادستی پر سوالیہ نشان بنتا ہے اور عوام کے اعتماد کو متاثر کرتا ہے۔


