امریکی ٹیکنالوجی اور کاروباری شخصیت ایلون مسک دنیا کے پہلے “ٹریلینئر” یعنی ایک کھرب ڈالر سے زائد دولت رکھنے والے فرد بن گئے ہیں۔ مختلف بین الاقوامی مالیاتی رپورٹس کے مطابق اسپیس ایکس کے تاریخی آئی پی او (IPO) کے بعد ایلون مسک کی مجموعی دولت تقریباً 1.1 ٹریلین ڈالر تک پہنچ گئی ہے۔
رپورٹس کے مطابق اسپیس ایکس کے حصص نے نیسڈیک مارکیٹ میں شاندار آغاز کیا، جہاں کمپنی کے شیئرز اپنی ابتدائی قیمت سے نمایاں اضافے کے ساتھ ٹریڈ ہوئے۔ اس تاریخی آئی پی او کو دنیا کی سب سے بڑی اسٹاک مارکیٹ لسٹنگز میں شمار کیا جا رہا ہے۔
فوکس بزنس کے مطابق اسپیس ایکس نے تقریباً 75 ارب ڈالر اکٹھے کیے جبکہ کمپنی کی مجموعی مالیت 1.8 سے 2.2 ٹریلین ڈالر تک پہنچ گئی۔ اس پیش رفت کے بعد ایلون مسک کے اسپیس ایکس میں موجود حصص کی مالیت تقریباً 690 ارب ڈالر تک جا پہنچی۔
فوربز نے بھی تصدیق کی ہے کہ اسپیس ایکس کے پبلک ہونے کے بعد ایلون مسک کی دولت میں غیر معمولی اضافہ ہوا اور وہ دنیا کے پہلے ٹریلین ڈالرز رکھنے والے فرد بن گئے۔ فوربز کے مطابق مسک کے پاس اسپیس ایکس کے تقریباً 38 فیصد شیئرز موجود ہیں، جو ان کی دولت کا سب سے بڑا حصہ ہیں۔
اس کے علاوہ ٹیسلا، ایکس (سابق ٹوئٹر)، مصنوعی ذہانت اور دیگر ٹیکنالوجی منصوبوں میں سرمایہ کاری نے بھی ایلون مسک کی دولت میں نمایاں کردار ادا کیا ہے۔ ماہرین کے مطابق سرمایہ کار مستقبل کی ٹیکنالوجیز، خلائی تحقیق اور اے آئی منصوبوں کے حوالے سے ایلون مسک کے وژن پر بھرپور اعتماد رکھتے ہیں۔
اسپیس ایکس کے آئی پی او کو سرمایہ کاری کی دنیا میں تاریخی پیش رفت قرار دیا جا رہا ہے۔ رپورٹس کے مطابق کمپنی کے حصص کے لیے اربوں ڈالر کی درخواستیں موصول ہوئیں جبکہ ریٹیل سرمایہ کاروں نے بھی غیر معمولی دلچسپی ظاہر کی۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ ایلون مسک نے جس طرح ٹیسلا کو الیکٹرک گاڑیوں کی عالمی طاقت بنایا، اسی طرح اسپیس ایکس کے ذریعے خلائی صنعت کو بھی نئی سمت دی ہے۔ کمپنی نے دوبارہ استعمال ہونے والے راکٹس، سیٹلائٹ انٹرنیٹ اور مریخ مشن جیسے منصوبوں کے ذریعے دنیا بھر کی توجہ حاصل کی۔ [
ایسوسی ایٹڈ پریس کے مطابق اسپیس ایکس کے شیئرز میں تیزی نے کمپنی کی مارکیٹ ویلیو 2 ٹریلین ڈالر سے اوپر پہنچا دی، جس کے بعد ایلون مسک کی مجموعی دولت ایک تاریخی سطح پر جا پہنچی۔
54 سالہ ایلون مسک اس وقت دنیا کی بااثر ترین کاروباری شخصیات میں شمار ہوتے ہیں۔ وہ ٹیسلا، اسپیس ایکس، اسٹارلنک اور مصنوعی ذہانت کے مختلف منصوبوں کی قیادت کر چکے ہیں جبکہ ان کے مستقبل کے منصوبوں میں مریخ پر انسانی بستی قائم کرنے کا خواب بھی شامل ہے۔
مالیاتی حلقوں میں ایلون مسک کی غیر معمولی مقبولیت کو بعض ماہرین “ایلون پریمیئم” کا نام دیتے ہیں، جس سے مراد یہ ہے کہ سرمایہ کار صرف کمپنی نہیں بلکہ ایلون مسک کے وژن اور شخصیت پر بھی سرمایہ لگاتے ہیں



