22 C
Lahore
Sunday, October 17, 2021

بحیرہ روم کے جزیرے ٹولرا پر آباد دنیا کی سب سے چھوٹی ریاست، جس کی تاریخ بہت قدیم ہے

آپ میں سے بہت سے لوگوں نے وسیع و عریض سلطنتوں کے بارے میں تو سن رکھا ہو گا۔ جن پر تاریخ کے جانے مانے بادشاہوں نے حکومت کی ہے۔ اور پوری دنیا پر اپنی حکمرانی قائم کی ہے۔ مگر کیا آپ دنیا کی سب سے چھوٹی سلطنت سے بھی واقف ہیں۔ اگر نہیں تو آج کے اس آرٹیکل میں ہم آپ کو دنیا کی سب سے چھوٹی سلطنت کے چند اہم حقائق سے آگاہ کریں گے۔

اٹلی کے مشہور صوبے سارڈینیا کے قریب بحیرہ روم کے سمندر میں واقع ٹولرا جزیرے پر دنیا کی سب سے چھوٹی سلطنت قائم ہے۔ یہ جزیرہ دنیا کا سب سے چھوٹا جزیرہ ہے، جو کہ صرف 5 مربع کلو میٹر پر پھیلا ہوا ہے۔ اور ریاست میں گنتی کے صرف 11 لوگ پائے جاتے ہیں۔

:یہاں کے بادشاہ کے کیے جانے والے کام

سب سے عجیب بات یہ ہے کہ، اس ریاست کا بادشاہ اپنے ہی ریسٹورنٹ میں ویٹرنگ کا کام کرتا ہے، اور ساحل سمندر پر اپنی ہی کشتیوں کو چلاتا ہے۔

دنیا میں پائے جانے والی سب سے چھوٹی سلطنت کا بادشاہ ایتونیو برتلونی ایک عام انسان کی طرح ہی زندگی گزرتا ہے۔ اس بادشاہ نے اپنی پوری زندگی میں کبھی شاہی لباس زیب تن نہیں کیا۔ ایتونیو برتلونی بادشاہ نے اپنی ساری عمر نیکر اور سینڈل پہن کر گزار دی ہے۔

اس ریاست کے بادشاہ کا کہنا ہے، کہ اسے اپنی ریاست سے کوئی بھی سہولت فراہم نہیں ہے۔ اسے بس مفت کا کھانا دیا جاتا ہے، اور وہ بھی اس کے اپنے ریسٹورنٹ کا ہی ہوتا ہے۔

:یہ ریاست وجود میں کیسے آئی

اس سلطنت کو کنگڈم آف ٹاؤلرا کے نام سے پکارا جاتا ہے۔ اس کی تاریخ اٹلی کے وجود میں آنے سے بھی پہلے کی ہے۔ کنگڈم آف ٹاؤلرا اس وقت اپنی 180 ویں سالگرہ کو انجوائے کر رہی ہے۔ اس قدیم ریاست کی تاریخ بہت ہی دلچسپ ہے۔ جس کے بارے میں یہاں کے بادشاہ ایتونیو برتلونی نے خود بتایا ہے۔

ایتونیو برتلونی کا کہنا ہے کہ 1807 میں ان کے پردادا گسیپ برتلونی نے دو شادیاں کی تھیں۔ اور وہ جس علاقے میں رہتے تھے، وہاں دو شادیاں کرنا اس دور میں ایک بہت ہی سنگین جرم تھا۔ اسی لیے انہوں نے اپنی جان بچانے کے لیے، اس علاقے کو چھوڑ کر اس جزیرے رہائش قائم کر لی تھی۔

اس کے بعد انہیں یہاں پر ایسی بیش قیمت بکریوں کے بارے میں پتا چلا۔ جن کے دانت بہت ہی انمول ہیں۔ لہذاً ان انمول بکریوں کی خبر چند عرصے بعد ہی سارڈینیا کے بادشاہ کارلو البرٹو تک بھی پہنچ گئی۔

یہ خبر سنتے ہیں کارلو البرٹو اس جزیرے پر پہنچ گیا۔ بادشاہ کے آنے کی خوشی میں ایتو برتلونی کے پردادا نے انہیں پورے جزیرے کی پہلے سیر کروائی۔ پھر اس کے بعد انہوں نے مل کر ان بکریوں کا شکار بھی کیا۔ جب بادشاہ نے یہ خاطر تواضع دیکھی، تو جاتے وقت ٹولرا جزیرے کو ایک علیعدہ سلطنت کا اختیار دے دیا۔ اس اعلان پر عملدرآمد ہوتے ہی، گسیپ برتلونی ٹولرا جزیرے کا بادشاہ منتخب ہو گیا۔

:ریاست کے پہلے بادشاہ کی آخری خواہش

اس جزیرے پر ایک شاہی قبرستان بھی موجود ہے۔ جس میں ایتو برتلونی کے دادا بادشاہ گسیپ برتلونی کی قبر بھی موجود ہے۔ گسیپ برتلونی نے مرتے وقت اپنی خاندان سے کہا تھا، کہ میرے مرنے کے بعد مجھے یہاں دفن کیا جائے۔ اور ساتھ ہی میرے سر پر میرا تاج بھی رکھا جائے۔ اس قصے کی دلچسپ بات یہ ہے، کہ بادشاہ گسیپ نے اپنی حیاتی میں کبھی بھی اس تاج کو اپنی سر پر نہیں رکھا تھا۔

سن 1962 میں اس جزیرے پر نیٹو فوج کا ایک اڈہ بھی تعمیر کیا گیا تھا۔ مگر افسوس کی بات یہ ہے، کہ پوری دنیا کا کوئی بھی ملک اس سلطنت کا قبول نہیں کرتا۔

:سیاح اس سلطنت تک کیسے پہنچتے ہیں

ہر سال سیاحوں کا ایک بہت بڑا ہجوم اس ریاست کی سیر کے لیے آتا ہے۔ ان سیاحوں کو اٹلی کے ساحل سے ٹولرا کے ساحل تک لانے کا کام بھی یہ شاہی خاندان ہی کرتا ہے۔ اس خاندان کے تمام لوگ سمندر میں کشتیاں چلاتے ہیں، اور اپنی زندگی اس جزیرے پر گزار رہے ہیں۔

یہاں آنے والے تمام سیاح یہاں کی انمول بکریوں اور ایک بیش قیمت نسل کے باز کو دیکھنے کے لیے آتے ہیں۔ یہاں ایک ریسٹورنٹ بھی موجود ہے، جہاں کا کھانا سمندر سے شکار کیا جاتا ہے، اور آنے والے سیاحوں کو پیش کیا جاتا ہے۔

بادشاہ ایتو برتلونی کا کہنا ہے، کہ وہ اپنی بیوی کی قبر پر روزانہ پھول چڑھاتے ہیں، لیکن وہ پھول نکلی ہوتے ہیں۔ وہ اس لیے کہ یہاں کی بکریاں اصلی پھولوں کو تو چند منٹوں میں ہی کھا لیتی ہیں۔ ٹولرا جزیرے پر رہنے والا یہ شاہی خاندان اپنی زندگی دنیا میں پائے جانے والے عما لوگوں کی طرح ہی گزارتا ہے۔ اور انہیں اس طرزِعمل میں ہی سکون ملتا ہے۔

آپ میں سے بہت سے لوگوں نے وسیع و عریض سلطنتوں کے بارے میں تو سن رکھا ہو گا۔ جن پر تاریخ کے جانے مانے بادشاہوں نے حکومت کی ہے۔ اور پوری دنیا پر اپنی حکمرانی قائم کی ہے۔ مگر کیا آپ دنیا کی سب سے چھوٹی سلطنت سے بھی واقف ہیں۔ اگر نہیں تو آج کے اس آرٹیکل میں ہم آپ کو دنیا کی سب سے چھوٹی سلطنت کے چند اہم حقائق سے آگاہ کریں گے۔

اٹلی کے مشہور صوبے سارڈینیا کے قریب بحیرہ روم کے سمندر میں واقع ٹولرا جزیرے پر دنیا کی سب سے چھوٹی سلطنت قائم ہے۔ یہ جزیرہ دنیا کا سب سے چھوٹا جزیرہ ہے، جو کہ صرف 5 مربع کلو میٹر پر پھیلا ہوا ہے۔ اور ریاست میں گنتی کے صرف 11 لوگ پائے جاتے ہیں۔

:یہاں کے بادشاہ کے کیے جانے والے کام

سب سے عجیب بات یہ ہے کہ، اس ریاست کا بادشاہ اپنے ہی ریسٹورنٹ میں ویٹرنگ کا کام کرتا ہے، اور ساحل سمندر پر اپنی ہی کشتیوں کو چلاتا ہے۔

دنیا میں پائے جانے والی سب سے چھوٹی سلطنت کا بادشاہ ایتونیو برتلونی ایک عام انسان کی طرح ہی زندگی گزرتا ہے۔ اس بادشاہ نے اپنی پوری زندگی میں کبھی شاہی لباس زیب تن نہیں کیا۔ ایتونیو برتلونی بادشاہ نے اپنی ساری عمر نیکر اور سینڈل پہن کر گزار دی ہے۔

اس ریاست کے بادشاہ کا کہنا ہے، کہ اسے اپنی ریاست سے کوئی بھی سہولت فراہم نہیں ہے۔ اسے بس مفت کا کھانا دیا جاتا ہے، اور وہ بھی اس کے اپنے ریسٹورنٹ کا ہی ہوتا ہے۔

:یہ ریاست وجود میں کیسے آئی

اس سلطنت کو کنگڈم آف ٹاؤلرا کے نام سے پکارا جاتا ہے۔ اس کی تاریخ اٹلی کے وجود میں آنے سے بھی پہلے کی ہے۔ کنگڈم آف ٹاؤلرا اس وقت اپنی 180 ویں سالگرہ کو انجوائے کر رہی ہے۔ اس قدیم ریاست کی تاریخ بہت ہی دلچسپ ہے۔ جس کے بارے میں یہاں کے بادشاہ ایتونیو برتلونی نے خود بتایا ہے۔

ایتونیو برتلونی کا کہنا ہے کہ 1807 میں ان کے پردادا گسیپ برتلونی نے دو شادیاں کی تھیں۔ اور وہ جس علاقے میں رہتے تھے، وہاں دو شادیاں کرنا اس دور میں ایک بہت ہی سنگین جرم تھا۔ اسی لیے انہوں نے اپنی جان بچانے کے لیے، اس علاقے کو چھوڑ کر اس جزیرے رہائش قائم کر لی تھی۔

اس کے بعد انہیں یہاں پر ایسی بیش قیمت بکریوں کے بارے میں پتا چلا۔ جن کے دانت بہت ہی انمول ہیں۔ لہذاً ان انمول بکریوں کی خبر چند عرصے بعد ہی سارڈینیا کے بادشاہ کارلو البرٹو تک بھی پہنچ گئی۔

یہ خبر سنتے ہیں کارلو البرٹو اس جزیرے پر پہنچ گیا۔ بادشاہ کے آنے کی خوشی میں ایتو برتلونی کے پردادا نے انہیں پورے جزیرے کی پہلے سیر کروائی۔ پھر اس کے بعد انہوں نے مل کر ان بکریوں کا شکار بھی کیا۔ جب بادشاہ نے یہ خاطر تواضع دیکھی، تو جاتے وقت ٹولرا جزیرے کو ایک علیعدہ سلطنت کا اختیار دے دیا۔ اس اعلان پر عملدرآمد ہوتے ہی، گسیپ برتلونی ٹولرا جزیرے کا بادشاہ منتخب ہو گیا۔

:ریاست کے پہلے بادشاہ کی آخری خواہش

اس جزیرے پر ایک شاہی قبرستان بھی موجود ہے۔ جس میں ایتو برتلونی کے دادا بادشاہ گسیپ برتلونی کی قبر بھی موجود ہے۔ گسیپ برتلونی نے مرتے وقت اپنی خاندان سے کہا تھا، کہ میرے مرنے کے بعد مجھے یہاں دفن کیا جائے۔ اور ساتھ ہی میرے سر پر میرا تاج بھی رکھا جائے۔ اس قصے کی دلچسپ بات یہ ہے، کہ بادشاہ گسیپ نے اپنی حیاتی میں کبھی بھی اس تاج کو اپنی سر پر نہیں رکھا تھا۔

سن 1962 میں اس جزیرے پر نیٹو فوج کا ایک اڈہ بھی تعمیر کیا گیا تھا۔ مگر افسوس کی بات یہ ہے، کہ پوری دنیا کا کوئی بھی ملک اس سلطنت کا قبول نہیں کرتا۔

:سیاح اس سلطنت تک کیسے پہنچتے ہیں

ہر سال سیاحوں کا ایک بہت بڑا ہجوم اس ریاست کی سیر کے لیے آتا ہے۔ ان سیاحوں کو اٹلی کے ساحل سے ٹولرا کے ساحل تک لانے کا کام بھی یہ شاہی خاندان ہی کرتا ہے۔ اس خاندان کے تمام لوگ سمندر میں کشتیاں چلاتے ہیں، اور اپنی زندگی اس جزیرے پر گزار رہے ہیں۔

یہاں آنے والے تمام سیاح یہاں کی انمول بکریوں اور ایک بیش قیمت نسل کے باز کو دیکھنے کے لیے آتے ہیں۔ یہاں ایک ریسٹورنٹ بھی موجود ہے، جہاں کا کھانا سمندر سے شکار کیا جاتا ہے، اور آنے والے سیاحوں کو پیش کیا جاتا ہے۔

بادشاہ ایتو برتلونی کا کہنا ہے، کہ وہ اپنی بیوی کی قبر پر روزانہ پھول چڑھاتے ہیں، لیکن وہ پھول نکلی ہوتے ہیں۔ وہ اس لیے کہ یہاں کی بکریاں اصلی پھولوں کو تو چند منٹوں میں ہی کھا لیتی ہیں۔ ٹولرا جزیرے پر رہنے والا یہ شاہی خاندان اپنی زندگی دنیا میں پائے جانے والے عما لوگوں کی طرح ہی گزارتا ہے۔ اور انہیں اس طرزِعمل میں ہی سکون ملتا ہے۔

آپ میں سے بہت سے لوگوں نے وسیع و عریض سلطنتوں کے بارے میں تو سن رکھا ہو گا۔ جن پر تاریخ کے جانے مانے بادشاہوں نے حکومت کی ہے۔ اور پوری دنیا پر اپنی حکمرانی قائم کی ہے۔ مگر کیا آپ دنیا کی سب سے چھوٹی سلطنت سے بھی واقف ہیں۔ اگر نہیں تو آج کے اس آرٹیکل میں ہم آپ کو دنیا کی سب سے چھوٹی سلطنت کے چند اہم حقائق سے آگاہ کریں گے۔

اٹلی کے مشہور صوبے سارڈینیا کے قریب بحیرہ روم کے سمندر میں واقع ٹولرا جزیرے پر دنیا کی سب سے چھوٹی سلطنت قائم ہے۔ یہ جزیرہ دنیا کا سب سے چھوٹا جزیرہ ہے، جو کہ صرف 5 مربع کلو میٹر پر پھیلا ہوا ہے۔ اور ریاست میں گنتی کے صرف 11 لوگ پائے جاتے ہیں۔

:یہاں کے بادشاہ کے کیے جانے والے کام

سب سے عجیب بات یہ ہے کہ، اس ریاست کا بادشاہ اپنے ہی ریسٹورنٹ میں ویٹرنگ کا کام کرتا ہے، اور ساحل سمندر پر اپنی ہی کشتیوں کو چلاتا ہے۔

دنیا میں پائے جانے والی سب سے چھوٹی سلطنت کا بادشاہ ایتونیو برتلونی ایک عام انسان کی طرح ہی زندگی گزرتا ہے۔ اس بادشاہ نے اپنی پوری زندگی میں کبھی شاہی لباس زیب تن نہیں کیا۔ ایتونیو برتلونی بادشاہ نے اپنی ساری عمر نیکر اور سینڈل پہن کر گزار دی ہے۔

اس ریاست کے بادشاہ کا کہنا ہے، کہ اسے اپنی ریاست سے کوئی بھی سہولت فراہم نہیں ہے۔ اسے بس مفت کا کھانا دیا جاتا ہے، اور وہ بھی اس کے اپنے ریسٹورنٹ کا ہی ہوتا ہے۔

:یہ ریاست وجود میں کیسے آئی

اس سلطنت کو کنگڈم آف ٹاؤلرا کے نام سے پکارا جاتا ہے۔ اس کی تاریخ اٹلی کے وجود میں آنے سے بھی پہلے کی ہے۔ کنگڈم آف ٹاؤلرا اس وقت اپنی 180 ویں سالگرہ کو انجوائے کر رہی ہے۔ اس قدیم ریاست کی تاریخ بہت ہی دلچسپ ہے۔ جس کے بارے میں یہاں کے بادشاہ ایتونیو برتلونی نے خود بتایا ہے۔

ایتونیو برتلونی کا کہنا ہے کہ 1807 میں ان کے پردادا گسیپ برتلونی نے دو شادیاں کی تھیں۔ اور وہ جس علاقے میں رہتے تھے، وہاں دو شادیاں کرنا اس دور میں ایک بہت ہی سنگین جرم تھا۔ اسی لیے انہوں نے اپنی جان بچانے کے لیے، اس علاقے کو چھوڑ کر اس جزیرے رہائش قائم کر لی تھی۔

اس کے بعد انہیں یہاں پر ایسی بیش قیمت بکریوں کے بارے میں پتا چلا۔ جن کے دانت بہت ہی انمول ہیں۔ لہذاً ان انمول بکریوں کی خبر چند عرصے بعد ہی سارڈینیا کے بادشاہ کارلو البرٹو تک بھی پہنچ گئی۔

یہ خبر سنتے ہیں کارلو البرٹو اس جزیرے پر پہنچ گیا۔ بادشاہ کے آنے کی خوشی میں ایتو برتلونی کے پردادا نے انہیں پورے جزیرے کی پہلے سیر کروائی۔ پھر اس کے بعد انہوں نے مل کر ان بکریوں کا شکار بھی کیا۔ جب بادشاہ نے یہ خاطر تواضع دیکھی، تو جاتے وقت ٹولرا جزیرے کو ایک علیعدہ سلطنت کا اختیار دے دیا۔ اس اعلان پر عملدرآمد ہوتے ہی، گسیپ برتلونی ٹولرا جزیرے کا بادشاہ منتخب ہو گیا۔

:ریاست کے پہلے بادشاہ کی آخری خواہش

اس جزیرے پر ایک شاہی قبرستان بھی موجود ہے۔ جس میں ایتو برتلونی کے دادا بادشاہ گسیپ برتلونی کی قبر بھی موجود ہے۔ گسیپ برتلونی نے مرتے وقت اپنی خاندان سے کہا تھا، کہ میرے مرنے کے بعد مجھے یہاں دفن کیا جائے۔ اور ساتھ ہی میرے سر پر میرا تاج بھی رکھا جائے۔ اس قصے کی دلچسپ بات یہ ہے، کہ بادشاہ گسیپ نے اپنی حیاتی میں کبھی بھی اس تاج کو اپنی سر پر نہیں رکھا تھا۔

سن 1962 میں اس جزیرے پر نیٹو فوج کا ایک اڈہ بھی تعمیر کیا گیا تھا۔ مگر افسوس کی بات یہ ہے، کہ پوری دنیا کا کوئی بھی ملک اس سلطنت کا قبول نہیں کرتا۔

:سیاح اس سلطنت تک کیسے پہنچتے ہیں

ہر سال سیاحوں کا ایک بہت بڑا ہجوم اس ریاست کی سیر کے لیے آتا ہے۔ ان سیاحوں کو اٹلی کے ساحل سے ٹولرا کے ساحل تک لانے کا کام بھی یہ شاہی خاندان ہی کرتا ہے۔ اس خاندان کے تمام لوگ سمندر میں کشتیاں چلاتے ہیں، اور اپنی زندگی اس جزیرے پر گزار رہے ہیں۔

یہاں آنے والے تمام سیاح یہاں کی انمول بکریوں اور ایک بیش قیمت نسل کے باز کو دیکھنے کے لیے آتے ہیں۔ یہاں ایک ریسٹورنٹ بھی موجود ہے، جہاں کا کھانا سمندر سے شکار کیا جاتا ہے، اور آنے والے سیاحوں کو پیش کیا جاتا ہے۔

بادشاہ ایتو برتلونی کا کہنا ہے، کہ وہ اپنی بیوی کی قبر پر روزانہ پھول چڑھاتے ہیں، لیکن وہ پھول نکلی ہوتے ہیں۔ وہ اس لیے کہ یہاں کی بکریاں اصلی پھولوں کو تو چند منٹوں میں ہی کھا لیتی ہیں۔ ٹولرا جزیرے پر رہنے والا یہ شاہی خاندان اپنی زندگی دنیا میں پائے جانے والے عما لوگوں کی طرح ہی گزارتا ہے۔ اور انہیں اس طرزِعمل میں ہی سکون ملتا ہے۔

Related Articles

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here

Stay Connected

22,046FansLike
2,982FollowersFollow
18,400SubscribersSubscribe

Latest Articles