30 C
Lahore
Tuesday, October 19, 2021

پاکستان کے چوتھے بڑے شہر راولپنڈی کو راجاوؤں کا شہر کیوں کہا جاتا تھا؟

پاکستان کا ہر شہر ایک تاریخی اہمیت رکھتا ہے، اور اس کی اپنی ہی ایک علحیدہ پہچان ہے۔ لیکن اگر ہم بات راولپنڈی کی کریں۔ تو یہ پاکستان کا چوتھا بڑا شہر ہے۔ آج ہم اس آرٹیکل میں اس بات کا اندازہ لگائیں گے، کہ اس شہر کی تاریخ کتنی پُرانی ہے، اور اس میں ایسے کون سے آثارِ قدیما پائے جاتے ہیں۔ جن کی وجہ سے اسے شہزادوں کا شہر کہا جاتا ہے۔

:راولپنڈی اور اس کی حیرت انگیز خصوصیات

شہر راولپنڈی کو یہ تمغہ حاصل ہے کہ یہ پاکستان کا چوتھا سب سے بڑا شہر ہے۔ لیکن اس کے ساتھ ساتھ دنیا کی پہلی یونیورسٹی بھی راولپنڈی میں ہی قائم کی گئی تھی۔ راولپنڈی کو شہزادوں کا شہر بھی کہا جاتا ہے۔

:راجاؤں اور شہزادوں کا راج

آج کے دور میں تو راولپنڈی میں زیادہ تر مسلمان آباد ہیں۔ لیکن اس شہر کو ہزاروں سال پہلے بدھ مت کے ماننے والوں نے تعمیر کیا تھا۔ بدھ مت کے بعد اس شہر پر ہندوؤں اور سکھوں کا راج ہوا کرتا تھا۔

ہندوؤں سے پہلے اس شہر پر مغلیہ بادشاہ حکومت کرتے تھے۔ سکِھوں نے مغلوں سے اس شہر کو فتع کر لیا تھا۔ سن 1810ء تک مہاراجہ رنجیت سنگھ نے راولپنڈی پر حکومت کی۔ ان کے بعد بھی کئی راجاؤں نے اس شہر پر اپنی راج داری قائم کی۔ اسی لیے راولپنڈی کو راجاؤں کا شہر کہا جاتا ہے۔

:آبادی اور تاریخی عمارتیں

یہ شہر تیزی سے ترقی کر رہا ہے، اور اس کی آبادی 20 لاکھ سے بھی زیادہ ہے۔ راولپنڈی کی سیر میں آپ کو راولپنڈی فورٹ، گُردوارا پنچ صاحب، مانکیالہ اسٹوپ اور کئی مندروں کے علاوہ ایسی بھی باقیات پائی جاتی ہیں، جن کو دیکھ کر یہ پتا چل جاتا ہے، کہ راولپنڈی کتنا پُرانا شہر ہے۔

:دنیا کی پہلی یونیورسٹی

اس کے علاوہ دنیا کی سب سے پہلی یونیورسٹی بھی راولپنڈی میں قائم کی گئی تھی۔ یہ یونیورسٹی ٹیکسلا کے قریب واقع تھی۔ اس جگہ پر ابھی بھی اس کی باقیات موجود ہیں۔ اس یونیورسٹی کا نام یونیورسٹی آف اینشئینٹ ٹیکسلا ہے۔ آثارِ قدیمہ کے ماہرین کے مطابق یہ یونیورسٹی 1000 قبل از مسیح میں بھی اس مقام پر قائم تھی۔ اور اس میں 20 ہزار طلبہ تعلیم حاصل کرتے تھے۔

پاکستان کا ہر شہر ایک تاریخی اہمیت رکھتا ہے، اور اس کی اپنی ہی ایک علحیدہ پہچان ہے۔ لیکن اگر ہم بات راولپنڈی کی کریں۔ تو یہ پاکستان کا چوتھا بڑا شہر ہے۔ آج ہم اس آرٹیکل میں اس بات کا اندازہ لگائیں گے، کہ اس شہر کی تاریخ کتنی پُرانی ہے، اور اس میں ایسے کون سے آثارِ قدیما پائے جاتے ہیں۔ جن کی وجہ سے اسے شہزادوں کا شہر کہا جاتا ہے۔

:راولپنڈی اور اس کی حیرت انگیز خصوصیات

شہر راولپنڈی کو یہ تمغہ حاصل ہے کہ یہ پاکستان کا چوتھا سب سے بڑا شہر ہے۔ لیکن اس کے ساتھ ساتھ دنیا کی پہلی یونیورسٹی بھی راولپنڈی میں ہی قائم کی گئی تھی۔ راولپنڈی کو شہزادوں کا شہر بھی کہا جاتا ہے۔

:راجاؤں اور شہزادوں کا راج

آج کے دور میں تو راولپنڈی میں زیادہ تر مسلمان آباد ہیں۔ لیکن اس شہر کو ہزاروں سال پہلے بدھ مت کے ماننے والوں نے تعمیر کیا تھا۔ بدھ مت کے بعد اس شہر پر ہندوؤں اور سکھوں کا راج ہوا کرتا تھا۔

ہندوؤں سے پہلے اس شہر پر مغلیہ بادشاہ حکومت کرتے تھے۔ سکِھوں نے مغلوں سے اس شہر کو فتع کر لیا تھا۔ سن 1810ء تک مہاراجہ رنجیت سنگھ نے راولپنڈی پر حکومت کی۔ ان کے بعد بھی کئی راجاؤں نے اس شہر پر اپنی راج داری قائم کی۔ اسی لیے راولپنڈی کو راجاؤں کا شہر کہا جاتا ہے۔

:آبادی اور تاریخی عمارتیں

یہ شہر تیزی سے ترقی کر رہا ہے، اور اس کی آبادی 20 لاکھ سے بھی زیادہ ہے۔ راولپنڈی کی سیر میں آپ کو راولپنڈی فورٹ، گُردوارا پنچ صاحب، مانکیالہ اسٹوپ اور کئی مندروں کے علاوہ ایسی بھی باقیات پائی جاتی ہیں، جن کو دیکھ کر یہ پتا چل جاتا ہے، کہ راولپنڈی کتنا پُرانا شہر ہے۔

:دنیا کی پہلی یونیورسٹی

اس کے علاوہ دنیا کی سب سے پہلی یونیورسٹی بھی راولپنڈی میں قائم کی گئی تھی۔ یہ یونیورسٹی ٹیکسلا کے قریب واقع تھی۔ اس جگہ پر ابھی بھی اس کی باقیات موجود ہیں۔ اس یونیورسٹی کا نام یونیورسٹی آف اینشئینٹ ٹیکسلا ہے۔ آثارِ قدیمہ کے ماہرین کے مطابق یہ یونیورسٹی 1000 قبل از مسیح میں بھی اس مقام پر قائم تھی۔ اور اس میں 20 ہزار طلبہ تعلیم حاصل کرتے تھے۔

پاکستان کا ہر شہر ایک تاریخی اہمیت رکھتا ہے، اور اس کی اپنی ہی ایک علحیدہ پہچان ہے۔ لیکن اگر ہم بات راولپنڈی کی کریں۔ تو یہ پاکستان کا چوتھا بڑا شہر ہے۔ آج ہم اس آرٹیکل میں اس بات کا اندازہ لگائیں گے، کہ اس شہر کی تاریخ کتنی پُرانی ہے، اور اس میں ایسے کون سے آثارِ قدیما پائے جاتے ہیں۔ جن کی وجہ سے اسے شہزادوں کا شہر کہا جاتا ہے۔

:راولپنڈی اور اس کی حیرت انگیز خصوصیات

شہر راولپنڈی کو یہ تمغہ حاصل ہے کہ یہ پاکستان کا چوتھا سب سے بڑا شہر ہے۔ لیکن اس کے ساتھ ساتھ دنیا کی پہلی یونیورسٹی بھی راولپنڈی میں ہی قائم کی گئی تھی۔ راولپنڈی کو شہزادوں کا شہر بھی کہا جاتا ہے۔

:راجاؤں اور شہزادوں کا راج

آج کے دور میں تو راولپنڈی میں زیادہ تر مسلمان آباد ہیں۔ لیکن اس شہر کو ہزاروں سال پہلے بدھ مت کے ماننے والوں نے تعمیر کیا تھا۔ بدھ مت کے بعد اس شہر پر ہندوؤں اور سکھوں کا راج ہوا کرتا تھا۔

ہندوؤں سے پہلے اس شہر پر مغلیہ بادشاہ حکومت کرتے تھے۔ سکِھوں نے مغلوں سے اس شہر کو فتع کر لیا تھا۔ سن 1810ء تک مہاراجہ رنجیت سنگھ نے راولپنڈی پر حکومت کی۔ ان کے بعد بھی کئی راجاؤں نے اس شہر پر اپنی راج داری قائم کی۔ اسی لیے راولپنڈی کو راجاؤں کا شہر کہا جاتا ہے۔

:آبادی اور تاریخی عمارتیں

یہ شہر تیزی سے ترقی کر رہا ہے، اور اس کی آبادی 20 لاکھ سے بھی زیادہ ہے۔ راولپنڈی کی سیر میں آپ کو راولپنڈی فورٹ، گُردوارا پنچ صاحب، مانکیالہ اسٹوپ اور کئی مندروں کے علاوہ ایسی بھی باقیات پائی جاتی ہیں، جن کو دیکھ کر یہ پتا چل جاتا ہے، کہ راولپنڈی کتنا پُرانا شہر ہے۔

:دنیا کی پہلی یونیورسٹی

اس کے علاوہ دنیا کی سب سے پہلی یونیورسٹی بھی راولپنڈی میں قائم کی گئی تھی۔ یہ یونیورسٹی ٹیکسلا کے قریب واقع تھی۔ اس جگہ پر ابھی بھی اس کی باقیات موجود ہیں۔ اس یونیورسٹی کا نام یونیورسٹی آف اینشئینٹ ٹیکسلا ہے۔ آثارِ قدیمہ کے ماہرین کے مطابق یہ یونیورسٹی 1000 قبل از مسیح میں بھی اس مقام پر قائم تھی۔ اور اس میں 20 ہزار طلبہ تعلیم حاصل کرتے تھے۔

Related Articles

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here

Stay Connected

22,046FansLike
2,986FollowersFollow
18,400SubscribersSubscribe

Latest Articles