30 C
Lahore
Tuesday, October 19, 2021

دنیا کے 5 ایسے شہر، جہاں سال کے چند مہینوں میں سورج سے بچنا مشکل نہیں نا ممکن ہوتا ہے

اللہ کی رحمت سے ہمارا ملک پاکستان ایک ایسا ملک ہے، جہاں سال کے چاروں موسم آتے ہیں اور اپنی خوبصورتی بکھیرتے ہیں۔ اِس کے شہروں میں سورج ہر جگہ اپنی مکمل گرمی اور روشنی دیتا ہے۔ اس کے جانے کے بعد چاند بھی اپنا پورا جوہر دکھاتا ہے۔ تاکہ ہمارے ملک کا آسمان رات کو تاروں کی جگمگاہٹ سے گونج اُٹھے۔ لیکن دنیا کے کچھ ممالک ایسے بھی ہیں، جہاں انہیں یہ تمام نظارے دیکھنے کو نہیں ملتے۔ اگر وہاں سورج نمودار ہو جائے، تو پھر ڈوبنے کا نام نہیں لیتا۔ اور اگر ڈوب جائے تو پھر مہینوں تک اپنا دیدار نہیں کرواتا۔ آج کے اس آرٹیکل میں ہم آپ کو چند ایسے ممالک کے بارے میں بتائیں گے، جنہیں اس طرح کی صورتحال کا سامنا ہے۔

:آئس لینڈ

یہ ملک برطانیہ کے بعد دنیا کا سب سے بڑا ایک ایسا ملک ہے، جو جزیرے پر قائم ہے۔ اس ملک کے مناظر ایسے ہیں، کہ دیکھنے والوں کی جان ہلک میں اٹک جاتی ہے۔ اس ملک کی خوبصورتی اس کی لینڈ اسکیپ سر زمین اور دلفروش آبشاریں ہیں۔ لیکن جون کا مہینہ یہاں کے رہنے والوں کے لیے بہت سخت ہوتا ہے۔ کیونکہ اس مہینے میں سورج نہ دن کو غروب ہوتا ہے اور نہ ہی رات کو۔ سورج ن رات اپنی گرمی اس ملک میں خوب برساتا ہے۔

:فِن لینڈ

یہ ملک چھوٹے چھوٹے جزیروں پر مشتمل ہے۔ مگر اس کی سب سے خاص بات یہ ہے، گرمیوں کے موسم میں یہاں سورج 73 دن تک ٹس سے مس نہیں ہوتا۔ ان دنوں یہاں دن اور رات کا کچھ پتا نہیں چلتا۔ وہ اس لیے کہ سورج غروب نہیں ہوتا اور رات نمودار نہیں ہوتی۔ ان دنوں میں یہاں ٹورسٹ کی تعداد حد سے زیادہ ہو جاتی ہے۔ لوگ اپنے تمام فنکشن انہیں دنوں میں کرتے ہیں۔ اس کے علاوہ دنیا بھر کے ماہرین یہاں اکھٹے ہو کر اس عجوبے کی ریسرچ کرتے ہیں۔

:کینیڈا

کینیڈا کے شمال مغربی حصے کی جانب ایک نیووک نامی شہر آباد ہے۔ جدھر گرمیوں کے موسم میں پورے 50 دن تک سورج غروب نہیں ہوتا۔ یہاں پر سورج پچاس دن تک غروب ہونے کا نام ہی نہیں لیتا۔ اس وجہ سے پھر یہاں کلچرل میلے، شکار اور مختلف تقریبات کا انعقاد کیا جاتا ہے۔ اسی وجہ سے یہاں سیاحوں کی بہت بڑی تعداد شرکت کرتی ہے۔ اس کے بعد پھر سردی کے موسم میں یہاں سورج ایک مہینے تک طلوع ہی نہیں ہوتا۔ جس کی وجہ سے پھر رات ہی رہتی ہے۔ لیکن لوگ اس مہینے کو بھی دل کھول کر انجوائے کرتے ہیں۔

:الاسکا

الاسکا کا ایک بہت چھوٹا سا قصبہ اس کے شمال میں موجود ہے۔ یہ سال بھر میں دو دفعہ پوری دنیا میں مشہور ہو جاتا ہے۔ اس جگہ جون اور کولائی کے درمیان میں سورج اپنی مکمل آب و تاب سے برستا ہے۔ ایک پل کے لیے بھی غروب ہونے کا نام نہیں لیتا اور دن رات تو کچھ لوگ بھول ہی جاتے ہیں۔ اس کے بعد نومبر کا مہینہ شروع ہوتے ہی سورج ایک دم سے غائب ہو جاتا ہے۔ پھر دو مہینے یہاں کے لوگ اندھیرے سے بھری رات میں گزارتے ہیں۔ ان دنوں یہاں سورج کا نام و نشان تک نہیں ہوتا۔

:ناروے

ناروے کا دنیا بھر میں آدھے سورج کی سر زمین سے جانا جاتا ہے۔ یہ ملک آرکیٹک سرکل کے اندر شمار ہوتا ہے۔ ناروے کی سر زمین کا ایک شہر سولباد ہے۔ جہاں مئی جون اور جولائی کے 76 دنوں تک سورج بلا ناغہ چمکتا ہے۔ ان دنوں میں یہاں سورج اپنی خوب طاقت دکھاتا ہے۔ اسی لیے لوگ پھر دن اور رات میں فرق اپنی گھڑیوں کی مدد سے کرتے ہیں۔ دنیا بھر کے سیاح ان تین مہینوں میں یہاں آ کر دل کھول کر انجوائے کرتے ہیں۔

اللہ کی رحمت سے ہمارا ملک پاکستان ایک ایسا ملک ہے، جہاں سال کے چاروں موسم آتے ہیں اور اپنی خوبصورتی بکھیرتے ہیں۔ اِس کے شہروں میں سورج ہر جگہ اپنی مکمل گرمی اور روشنی دیتا ہے۔ اس کے جانے کے بعد چاند بھی اپنا پورا جوہر دکھاتا ہے۔ تاکہ ہمارے ملک کا آسمان رات کو تاروں کی جگمگاہٹ سے گونج اُٹھے۔ لیکن دنیا کے کچھ ممالک ایسے بھی ہیں، جہاں انہیں یہ تمام نظارے دیکھنے کو نہیں ملتے۔ اگر وہاں سورج نمودار ہو جائے، تو پھر ڈوبنے کا نام نہیں لیتا۔ اور اگر ڈوب جائے تو پھر مہینوں تک اپنا دیدار نہیں کرواتا۔ آج کے اس آرٹیکل میں ہم آپ کو چند ایسے ممالک کے بارے میں بتائیں گے، جنہیں اس طرح کی صورتحال کا سامنا ہے۔

:آئس لینڈ

یہ ملک برطانیہ کے بعد دنیا کا سب سے بڑا ایک ایسا ملک ہے، جو جزیرے پر قائم ہے۔ اس ملک کے مناظر ایسے ہیں، کہ دیکھنے والوں کی جان ہلک میں اٹک جاتی ہے۔ اس ملک کی خوبصورتی اس کی لینڈ اسکیپ سر زمین اور دلفروش آبشاریں ہیں۔ لیکن جون کا مہینہ یہاں کے رہنے والوں کے لیے بہت سخت ہوتا ہے۔ کیونکہ اس مہینے میں سورج نہ دن کو غروب ہوتا ہے اور نہ ہی رات کو۔ سورج ن رات اپنی گرمی اس ملک میں خوب برساتا ہے۔

:فِن لینڈ

یہ ملک چھوٹے چھوٹے جزیروں پر مشتمل ہے۔ مگر اس کی سب سے خاص بات یہ ہے، گرمیوں کے موسم میں یہاں سورج 73 دن تک ٹس سے مس نہیں ہوتا۔ ان دنوں یہاں دن اور رات کا کچھ پتا نہیں چلتا۔ وہ اس لیے کہ سورج غروب نہیں ہوتا اور رات نمودار نہیں ہوتی۔ ان دنوں میں یہاں ٹورسٹ کی تعداد حد سے زیادہ ہو جاتی ہے۔ لوگ اپنے تمام فنکشن انہیں دنوں میں کرتے ہیں۔ اس کے علاوہ دنیا بھر کے ماہرین یہاں اکھٹے ہو کر اس عجوبے کی ریسرچ کرتے ہیں۔

:کینیڈا

کینیڈا کے شمال مغربی حصے کی جانب ایک نیووک نامی شہر آباد ہے۔ جدھر گرمیوں کے موسم میں پورے 50 دن تک سورج غروب نہیں ہوتا۔ یہاں پر سورج پچاس دن تک غروب ہونے کا نام ہی نہیں لیتا۔ اس وجہ سے پھر یہاں کلچرل میلے، شکار اور مختلف تقریبات کا انعقاد کیا جاتا ہے۔ اسی وجہ سے یہاں سیاحوں کی بہت بڑی تعداد شرکت کرتی ہے۔ اس کے بعد پھر سردی کے موسم میں یہاں سورج ایک مہینے تک طلوع ہی نہیں ہوتا۔ جس کی وجہ سے پھر رات ہی رہتی ہے۔ لیکن لوگ اس مہینے کو بھی دل کھول کر انجوائے کرتے ہیں۔

:الاسکا

الاسکا کا ایک بہت چھوٹا سا قصبہ اس کے شمال میں موجود ہے۔ یہ سال بھر میں دو دفعہ پوری دنیا میں مشہور ہو جاتا ہے۔ اس جگہ جون اور کولائی کے درمیان میں سورج اپنی مکمل آب و تاب سے برستا ہے۔ ایک پل کے لیے بھی غروب ہونے کا نام نہیں لیتا اور دن رات تو کچھ لوگ بھول ہی جاتے ہیں۔ اس کے بعد نومبر کا مہینہ شروع ہوتے ہی سورج ایک دم سے غائب ہو جاتا ہے۔ پھر دو مہینے یہاں کے لوگ اندھیرے سے بھری رات میں گزارتے ہیں۔ ان دنوں یہاں سورج کا نام و نشان تک نہیں ہوتا۔

:ناروے

ناروے کا دنیا بھر میں آدھے سورج کی سر زمین سے جانا جاتا ہے۔ یہ ملک آرکیٹک سرکل کے اندر شمار ہوتا ہے۔ ناروے کی سر زمین کا ایک شہر سولباد ہے۔ جہاں مئی جون اور جولائی کے 76 دنوں تک سورج بلا ناغہ چمکتا ہے۔ ان دنوں میں یہاں سورج اپنی خوب طاقت دکھاتا ہے۔ اسی لیے لوگ پھر دن اور رات میں فرق اپنی گھڑیوں کی مدد سے کرتے ہیں۔ دنیا بھر کے سیاح ان تین مہینوں میں یہاں آ کر دل کھول کر انجوائے کرتے ہیں۔

اللہ کی رحمت سے ہمارا ملک پاکستان ایک ایسا ملک ہے، جہاں سال کے چاروں موسم آتے ہیں اور اپنی خوبصورتی بکھیرتے ہیں۔ اِس کے شہروں میں سورج ہر جگہ اپنی مکمل گرمی اور روشنی دیتا ہے۔ اس کے جانے کے بعد چاند بھی اپنا پورا جوہر دکھاتا ہے۔ تاکہ ہمارے ملک کا آسمان رات کو تاروں کی جگمگاہٹ سے گونج اُٹھے۔ لیکن دنیا کے کچھ ممالک ایسے بھی ہیں، جہاں انہیں یہ تمام نظارے دیکھنے کو نہیں ملتے۔ اگر وہاں سورج نمودار ہو جائے، تو پھر ڈوبنے کا نام نہیں لیتا۔ اور اگر ڈوب جائے تو پھر مہینوں تک اپنا دیدار نہیں کرواتا۔ آج کے اس آرٹیکل میں ہم آپ کو چند ایسے ممالک کے بارے میں بتائیں گے، جنہیں اس طرح کی صورتحال کا سامنا ہے۔

:آئس لینڈ

یہ ملک برطانیہ کے بعد دنیا کا سب سے بڑا ایک ایسا ملک ہے، جو جزیرے پر قائم ہے۔ اس ملک کے مناظر ایسے ہیں، کہ دیکھنے والوں کی جان ہلک میں اٹک جاتی ہے۔ اس ملک کی خوبصورتی اس کی لینڈ اسکیپ سر زمین اور دلفروش آبشاریں ہیں۔ لیکن جون کا مہینہ یہاں کے رہنے والوں کے لیے بہت سخت ہوتا ہے۔ کیونکہ اس مہینے میں سورج نہ دن کو غروب ہوتا ہے اور نہ ہی رات کو۔ سورج ن رات اپنی گرمی اس ملک میں خوب برساتا ہے۔

:فِن لینڈ

یہ ملک چھوٹے چھوٹے جزیروں پر مشتمل ہے۔ مگر اس کی سب سے خاص بات یہ ہے، گرمیوں کے موسم میں یہاں سورج 73 دن تک ٹس سے مس نہیں ہوتا۔ ان دنوں یہاں دن اور رات کا کچھ پتا نہیں چلتا۔ وہ اس لیے کہ سورج غروب نہیں ہوتا اور رات نمودار نہیں ہوتی۔ ان دنوں میں یہاں ٹورسٹ کی تعداد حد سے زیادہ ہو جاتی ہے۔ لوگ اپنے تمام فنکشن انہیں دنوں میں کرتے ہیں۔ اس کے علاوہ دنیا بھر کے ماہرین یہاں اکھٹے ہو کر اس عجوبے کی ریسرچ کرتے ہیں۔

:کینیڈا

کینیڈا کے شمال مغربی حصے کی جانب ایک نیووک نامی شہر آباد ہے۔ جدھر گرمیوں کے موسم میں پورے 50 دن تک سورج غروب نہیں ہوتا۔ یہاں پر سورج پچاس دن تک غروب ہونے کا نام ہی نہیں لیتا۔ اس وجہ سے پھر یہاں کلچرل میلے، شکار اور مختلف تقریبات کا انعقاد کیا جاتا ہے۔ اسی وجہ سے یہاں سیاحوں کی بہت بڑی تعداد شرکت کرتی ہے۔ اس کے بعد پھر سردی کے موسم میں یہاں سورج ایک مہینے تک طلوع ہی نہیں ہوتا۔ جس کی وجہ سے پھر رات ہی رہتی ہے۔ لیکن لوگ اس مہینے کو بھی دل کھول کر انجوائے کرتے ہیں۔

:الاسکا

الاسکا کا ایک بہت چھوٹا سا قصبہ اس کے شمال میں موجود ہے۔ یہ سال بھر میں دو دفعہ پوری دنیا میں مشہور ہو جاتا ہے۔ اس جگہ جون اور کولائی کے درمیان میں سورج اپنی مکمل آب و تاب سے برستا ہے۔ ایک پل کے لیے بھی غروب ہونے کا نام نہیں لیتا اور دن رات تو کچھ لوگ بھول ہی جاتے ہیں۔ اس کے بعد نومبر کا مہینہ شروع ہوتے ہی سورج ایک دم سے غائب ہو جاتا ہے۔ پھر دو مہینے یہاں کے لوگ اندھیرے سے بھری رات میں گزارتے ہیں۔ ان دنوں یہاں سورج کا نام و نشان تک نہیں ہوتا۔

:ناروے

ناروے کا دنیا بھر میں آدھے سورج کی سر زمین سے جانا جاتا ہے۔ یہ ملک آرکیٹک سرکل کے اندر شمار ہوتا ہے۔ ناروے کی سر زمین کا ایک شہر سولباد ہے۔ جہاں مئی جون اور جولائی کے 76 دنوں تک سورج بلا ناغہ چمکتا ہے۔ ان دنوں میں یہاں سورج اپنی خوب طاقت دکھاتا ہے۔ اسی لیے لوگ پھر دن اور رات میں فرق اپنی گھڑیوں کی مدد سے کرتے ہیں۔ دنیا بھر کے سیاح ان تین مہینوں میں یہاں آ کر دل کھول کر انجوائے کرتے ہیں۔

Related Articles

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here

Stay Connected

22,046FansLike
2,986FollowersFollow
18,400SubscribersSubscribe

Latest Articles