22 C
Lahore
Sunday, October 17, 2021

پاکستانی مرد پہلی تنخوا ملنے پر، یہ 6 کام لازمی کرتے ہیں، جو کہ درست بھی ہیں اور غلط بھی

جب بھی کوئی اپنی زندگی کی پہلی نوکری جوائن کرتا ہے، تو اسے سب سے زیادہ اپنی پہلی تنخوا کے آنے کا انتظار ہوتا ہے۔ بہت سے لوگوں کی زندگی ان حالات میں سے گزر چکی ہے۔ لہذاً کچھ کو ان حالات کا ابھی سامنا ہے۔ آج کل کے نوجوانوں کا اِس دن کا بڑی بے صبری سے انتظار ہوتا ہے۔ مگر وہ یہ نہیں جانتے کہ زندگی کے ان حسین لمحوں کا یاد گار کیسے بنایا جائے۔ آج کے اس آرٹیکل میں ہم آپ کو 6 ایسے کام بتائیں گے، جو کہ ہر پاکستانی مرد اپنی پہلی تنخوا ملنے پر کرتا ہے۔

:آفس کولیگز کو دعوت

پاکستان کے بہت سے دفاتر میں یہ سلسلہ چلتا آ رہا ہے۔ جب بھی کسی نئے ملازم کی پہلی تنخوا اسے ملتی ہے، تو دفتر کے کولیگز کو پارٹی وغیرہ دینی پڑتی ہے۔ یہ قانون کسی بھی دفتر نے خود نہیں بنایا۔ بلکہ یہ دفتر میں کام کرنے والے سٹاف نے تشکیل دیا ہوا ہے۔ اور سٹاف ہی ان قوانین پر عمل بھی کرواتا ہے۔ جن پر عمل کرنا دفتر میں آنے والے ہر نئے فرد پر فرض ہوتا ہے۔ ایس صورتحال میں یہ بلکل نہیں دیکھا جاتا، کہ کیا یہ تنخوا آپ کی زندگی کی پہلی تنخوا ہے، یا پھر اس دفتر کی۔ انہیں تو بس اپنے قوانین پورے کروانے ہیں۔

:کسی کی مدد کرنا

کسی کی مدد کرنا ایک بہت اچھا عمل ہے۔ بہت سے پاکستانی اس طرح کے عمل کو فروغ بھی دیتے ہیں۔پاکستانی عوام میں سے بہت سے لوگ، غریب و مسکین کے لیے اپنی تنخوا کا کچھ حصہ وقف کرتے ہیں۔ اکثر جو لوگ اپنی پہلی تنخوا پر کسی غریب کی مدد کرتے ہیں۔ وہ پھر ہر ماہ ہی کسی نہ کسی غریب کی مدد کرنے کی جستجو میں رہتے ہیں۔ ایسا کرنے سے نیکیوں میں بہت زیادہ اضافہ بھی ہوتا ہے۔

:پہلی تنخواہ والدین کے ہاتھ پر رکھنا

ہر ماں باپ کے لیے وہ دن بہت ہی زیادہ خاص ہوتا ہے۔ جب پہلی مرتبہ ان کا بیٹا ان کے ہاتھ پر اپنی پہلی تنخوا رکھتا ہے۔ اور انہیں ان پیسوں کا حقدار ٹھہراتا ہے۔ بہت سے والدین اس موقعے پر خوش تو ہوتے ہیں، مگر وہ ان پیسوں کو اپنے ہاتھ میں نہیں رکھتے۔ بلکہ وہ پیسے بیٹے کو واپس کرتے ہیں، کہ اب اپنا خرچ اور اپنی ذمہ داریاں وہ خود اُٹھائے گا۔ مگر ہر نوجوان کو چاہیئے، کہ وہ پھر بھی اپنے والدین کے لیے کچھ نہ کچھ تحفہ ضرور خریدے اور والدین کو دے۔ تاکہ اس کی پہلی تنخوا کا دن اسے اور اس کے والدین کو ہمیشہ یاد رہے۔

:تھوڑی سی بچت

آج کل کے بہت سے نوجوان ایسے ہیں کہ جو پہلی تنخوا ملتے ہی، اسے مکمل طور پر خرچ کر لیتے ہیں۔ مگر بعض ایسے بھی ہیں، جو کہ اپنی تنخوا میں سے کچھ نہ کچھ لازمی بچا کر رکھتے ہیں۔ اس کے بعد پھر وہ عادی ہو جاتے ہیں، اور ہر تنخوا پر ہی تھوڑی سی رقم بچت کے طور پر رکھ لیتے ہیں۔ آہستہ آہستہ یہ تھوڑی سی بچت ایک کثیر رقم کی شکل اختیار کر لیتی ہے۔ جس سے مشکل وقت میں کسی کے سامنے ہاتھ نہیں پھیلانا پڑتا۔ لہذا آج کے نوجوانوں کو چاہیئے ،کہ وہ اپنی تنخوا کا تھوڑا سا حصہ لازمی طور پر بچت کر کے رکھیں۔

:دوستوں کو کھانے کی دعوت

کوئی بھی نوجوان خود کو جتنا مرضی کنٹرول کر لے۔ مگر پہلی تنخوا ملتے ہی وہ اپنے دوستوں کے درمیان جشن ضرور منائے گا۔ کیونکہ دوست تب تک جان کا پیچھا نہیں چھوڑتے، جب تک کہ انہیں پہلی تنخوا کی خوشی میں کوئی پارٹی وغیرہ نہ دی جائے۔ لہذاً ایسی صورتحال میں آپ کو چاہیئے، کہ اپنے اخراجات کو مدِنظر رکھتے ہوئے، ان تمام صورتحال کا سامنا کریں۔ جس کے بعد کہ آپ کا مہینہ بھی بغیر کسی مشکل کے گزر جائے۔

:کوئی کرنسی نوٹ محفوظ کرنا

ہر کسی کی زندگی میں پہلی تنخوا کا یادگار لمحہ دوبارہ کبھی بھی نہیں آتا۔ پاکستان کے بہت سے افراد ان لمحات کو یادگار بنانے کے لیے اپنی تنخوا کے پیسوں میں سے، کوئی ایک کرنسی نوٹ اپنے پاس ہمیشہ کے لیے محفوظ کر لیتے ہیں۔ تاکہ وہ پہلی تنخوا والے دن کو یادگار بنا سکیں۔ پہلی تنخوا میں سے رکھا ہوا کرنسی نوٹ، ہمیشہ کے لیے ان لمحات کو یاد کرنے میں مدد فراہم کرتا ہے۔

جب بھی کوئی اپنی زندگی کی پہلی نوکری جوائن کرتا ہے، تو اسے سب سے زیادہ اپنی پہلی تنخوا کے آنے کا انتظار ہوتا ہے۔ بہت سے لوگوں کی زندگی ان حالات میں سے گزر چکی ہے۔ لہذاً کچھ کو ان حالات کا ابھی سامنا ہے۔ آج کل کے نوجوانوں کا اِس دن کا بڑی بے صبری سے انتظار ہوتا ہے۔ مگر وہ یہ نہیں جانتے کہ زندگی کے ان حسین لمحوں کا یاد گار کیسے بنایا جائے۔ آج کے اس آرٹیکل میں ہم آپ کو 6 ایسے کام بتائیں گے، جو کہ ہر پاکستانی مرد اپنی پہلی تنخوا ملنے پر کرتا ہے۔

:آفس کولیگز کو دعوت

پاکستان کے بہت سے دفاتر میں یہ سلسلہ چلتا آ رہا ہے۔ جب بھی کسی نئے ملازم کی پہلی تنخوا اسے ملتی ہے، تو دفتر کے کولیگز کو پارٹی وغیرہ دینی پڑتی ہے۔ یہ قانون کسی بھی دفتر نے خود نہیں بنایا۔ بلکہ یہ دفتر میں کام کرنے والے سٹاف نے تشکیل دیا ہوا ہے۔ اور سٹاف ہی ان قوانین پر عمل بھی کرواتا ہے۔ جن پر عمل کرنا دفتر میں آنے والے ہر نئے فرد پر فرض ہوتا ہے۔ ایس صورتحال میں یہ بلکل نہیں دیکھا جاتا، کہ کیا یہ تنخوا آپ کی زندگی کی پہلی تنخوا ہے، یا پھر اس دفتر کی۔ انہیں تو بس اپنے قوانین پورے کروانے ہیں۔

:کسی کی مدد کرنا

کسی کی مدد کرنا ایک بہت اچھا عمل ہے۔ بہت سے پاکستانی اس طرح کے عمل کو فروغ بھی دیتے ہیں۔پاکستانی عوام میں سے بہت سے لوگ، غریب و مسکین کے لیے اپنی تنخوا کا کچھ حصہ وقف کرتے ہیں۔ اکثر جو لوگ اپنی پہلی تنخوا پر کسی غریب کی مدد کرتے ہیں۔ وہ پھر ہر ماہ ہی کسی نہ کسی غریب کی مدد کرنے کی جستجو میں رہتے ہیں۔ ایسا کرنے سے نیکیوں میں بہت زیادہ اضافہ بھی ہوتا ہے۔

:پہلی تنخواہ والدین کے ہاتھ پر رکھنا

ہر ماں باپ کے لیے وہ دن بہت ہی زیادہ خاص ہوتا ہے۔ جب پہلی مرتبہ ان کا بیٹا ان کے ہاتھ پر اپنی پہلی تنخوا رکھتا ہے۔ اور انہیں ان پیسوں کا حقدار ٹھہراتا ہے۔ بہت سے والدین اس موقعے پر خوش تو ہوتے ہیں، مگر وہ ان پیسوں کو اپنے ہاتھ میں نہیں رکھتے۔ بلکہ وہ پیسے بیٹے کو واپس کرتے ہیں، کہ اب اپنا خرچ اور اپنی ذمہ داریاں وہ خود اُٹھائے گا۔ مگر ہر نوجوان کو چاہیئے، کہ وہ پھر بھی اپنے والدین کے لیے کچھ نہ کچھ تحفہ ضرور خریدے اور والدین کو دے۔ تاکہ اس کی پہلی تنخوا کا دن اسے اور اس کے والدین کو ہمیشہ یاد رہے۔

:تھوڑی سی بچت

آج کل کے بہت سے نوجوان ایسے ہیں کہ جو پہلی تنخوا ملتے ہی، اسے مکمل طور پر خرچ کر لیتے ہیں۔ مگر بعض ایسے بھی ہیں، جو کہ اپنی تنخوا میں سے کچھ نہ کچھ لازمی بچا کر رکھتے ہیں۔ اس کے بعد پھر وہ عادی ہو جاتے ہیں، اور ہر تنخوا پر ہی تھوڑی سی رقم بچت کے طور پر رکھ لیتے ہیں۔ آہستہ آہستہ یہ تھوڑی سی بچت ایک کثیر رقم کی شکل اختیار کر لیتی ہے۔ جس سے مشکل وقت میں کسی کے سامنے ہاتھ نہیں پھیلانا پڑتا۔ لہذا آج کے نوجوانوں کو چاہیئے ،کہ وہ اپنی تنخوا کا تھوڑا سا حصہ لازمی طور پر بچت کر کے رکھیں۔

:دوستوں کو کھانے کی دعوت

کوئی بھی نوجوان خود کو جتنا مرضی کنٹرول کر لے۔ مگر پہلی تنخوا ملتے ہی وہ اپنے دوستوں کے درمیان جشن ضرور منائے گا۔ کیونکہ دوست تب تک جان کا پیچھا نہیں چھوڑتے، جب تک کہ انہیں پہلی تنخوا کی خوشی میں کوئی پارٹی وغیرہ نہ دی جائے۔ لہذاً ایسی صورتحال میں آپ کو چاہیئے، کہ اپنے اخراجات کو مدِنظر رکھتے ہوئے، ان تمام صورتحال کا سامنا کریں۔ جس کے بعد کہ آپ کا مہینہ بھی بغیر کسی مشکل کے گزر جائے۔

:کوئی کرنسی نوٹ محفوظ کرنا

ہر کسی کی زندگی میں پہلی تنخوا کا یادگار لمحہ دوبارہ کبھی بھی نہیں آتا۔ پاکستان کے بہت سے افراد ان لمحات کو یادگار بنانے کے لیے اپنی تنخوا کے پیسوں میں سے، کوئی ایک کرنسی نوٹ اپنے پاس ہمیشہ کے لیے محفوظ کر لیتے ہیں۔ تاکہ وہ پہلی تنخوا والے دن کو یادگار بنا سکیں۔ پہلی تنخوا میں سے رکھا ہوا کرنسی نوٹ، ہمیشہ کے لیے ان لمحات کو یاد کرنے میں مدد فراہم کرتا ہے۔

جب بھی کوئی اپنی زندگی کی پہلی نوکری جوائن کرتا ہے، تو اسے سب سے زیادہ اپنی پہلی تنخوا کے آنے کا انتظار ہوتا ہے۔ بہت سے لوگوں کی زندگی ان حالات میں سے گزر چکی ہے۔ لہذاً کچھ کو ان حالات کا ابھی سامنا ہے۔ آج کل کے نوجوانوں کا اِس دن کا بڑی بے صبری سے انتظار ہوتا ہے۔ مگر وہ یہ نہیں جانتے کہ زندگی کے ان حسین لمحوں کا یاد گار کیسے بنایا جائے۔ آج کے اس آرٹیکل میں ہم آپ کو 6 ایسے کام بتائیں گے، جو کہ ہر پاکستانی مرد اپنی پہلی تنخوا ملنے پر کرتا ہے۔

:آفس کولیگز کو دعوت

پاکستان کے بہت سے دفاتر میں یہ سلسلہ چلتا آ رہا ہے۔ جب بھی کسی نئے ملازم کی پہلی تنخوا اسے ملتی ہے، تو دفتر کے کولیگز کو پارٹی وغیرہ دینی پڑتی ہے۔ یہ قانون کسی بھی دفتر نے خود نہیں بنایا۔ بلکہ یہ دفتر میں کام کرنے والے سٹاف نے تشکیل دیا ہوا ہے۔ اور سٹاف ہی ان قوانین پر عمل بھی کرواتا ہے۔ جن پر عمل کرنا دفتر میں آنے والے ہر نئے فرد پر فرض ہوتا ہے۔ ایس صورتحال میں یہ بلکل نہیں دیکھا جاتا، کہ کیا یہ تنخوا آپ کی زندگی کی پہلی تنخوا ہے، یا پھر اس دفتر کی۔ انہیں تو بس اپنے قوانین پورے کروانے ہیں۔

:کسی کی مدد کرنا

کسی کی مدد کرنا ایک بہت اچھا عمل ہے۔ بہت سے پاکستانی اس طرح کے عمل کو فروغ بھی دیتے ہیں۔پاکستانی عوام میں سے بہت سے لوگ، غریب و مسکین کے لیے اپنی تنخوا کا کچھ حصہ وقف کرتے ہیں۔ اکثر جو لوگ اپنی پہلی تنخوا پر کسی غریب کی مدد کرتے ہیں۔ وہ پھر ہر ماہ ہی کسی نہ کسی غریب کی مدد کرنے کی جستجو میں رہتے ہیں۔ ایسا کرنے سے نیکیوں میں بہت زیادہ اضافہ بھی ہوتا ہے۔

:پہلی تنخواہ والدین کے ہاتھ پر رکھنا

ہر ماں باپ کے لیے وہ دن بہت ہی زیادہ خاص ہوتا ہے۔ جب پہلی مرتبہ ان کا بیٹا ان کے ہاتھ پر اپنی پہلی تنخوا رکھتا ہے۔ اور انہیں ان پیسوں کا حقدار ٹھہراتا ہے۔ بہت سے والدین اس موقعے پر خوش تو ہوتے ہیں، مگر وہ ان پیسوں کو اپنے ہاتھ میں نہیں رکھتے۔ بلکہ وہ پیسے بیٹے کو واپس کرتے ہیں، کہ اب اپنا خرچ اور اپنی ذمہ داریاں وہ خود اُٹھائے گا۔ مگر ہر نوجوان کو چاہیئے، کہ وہ پھر بھی اپنے والدین کے لیے کچھ نہ کچھ تحفہ ضرور خریدے اور والدین کو دے۔ تاکہ اس کی پہلی تنخوا کا دن اسے اور اس کے والدین کو ہمیشہ یاد رہے۔

:تھوڑی سی بچت

آج کل کے بہت سے نوجوان ایسے ہیں کہ جو پہلی تنخوا ملتے ہی، اسے مکمل طور پر خرچ کر لیتے ہیں۔ مگر بعض ایسے بھی ہیں، جو کہ اپنی تنخوا میں سے کچھ نہ کچھ لازمی بچا کر رکھتے ہیں۔ اس کے بعد پھر وہ عادی ہو جاتے ہیں، اور ہر تنخوا پر ہی تھوڑی سی رقم بچت کے طور پر رکھ لیتے ہیں۔ آہستہ آہستہ یہ تھوڑی سی بچت ایک کثیر رقم کی شکل اختیار کر لیتی ہے۔ جس سے مشکل وقت میں کسی کے سامنے ہاتھ نہیں پھیلانا پڑتا۔ لہذا آج کے نوجوانوں کو چاہیئے ،کہ وہ اپنی تنخوا کا تھوڑا سا حصہ لازمی طور پر بچت کر کے رکھیں۔

:دوستوں کو کھانے کی دعوت

کوئی بھی نوجوان خود کو جتنا مرضی کنٹرول کر لے۔ مگر پہلی تنخوا ملتے ہی وہ اپنے دوستوں کے درمیان جشن ضرور منائے گا۔ کیونکہ دوست تب تک جان کا پیچھا نہیں چھوڑتے، جب تک کہ انہیں پہلی تنخوا کی خوشی میں کوئی پارٹی وغیرہ نہ دی جائے۔ لہذاً ایسی صورتحال میں آپ کو چاہیئے، کہ اپنے اخراجات کو مدِنظر رکھتے ہوئے، ان تمام صورتحال کا سامنا کریں۔ جس کے بعد کہ آپ کا مہینہ بھی بغیر کسی مشکل کے گزر جائے۔

:کوئی کرنسی نوٹ محفوظ کرنا

ہر کسی کی زندگی میں پہلی تنخوا کا یادگار لمحہ دوبارہ کبھی بھی نہیں آتا۔ پاکستان کے بہت سے افراد ان لمحات کو یادگار بنانے کے لیے اپنی تنخوا کے پیسوں میں سے، کوئی ایک کرنسی نوٹ اپنے پاس ہمیشہ کے لیے محفوظ کر لیتے ہیں۔ تاکہ وہ پہلی تنخوا والے دن کو یادگار بنا سکیں۔ پہلی تنخوا میں سے رکھا ہوا کرنسی نوٹ، ہمیشہ کے لیے ان لمحات کو یاد کرنے میں مدد فراہم کرتا ہے۔

Related Articles

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here

Stay Connected

22,046FansLike
2,982FollowersFollow
18,400SubscribersSubscribe

Latest Articles