29 C
Lahore
Monday, October 18, 2021

پاکستان کے چند خوبصورت محل اور قلعے، جن کی تاریخ سے بہت سے پاکستانی نا واقف ہیں

پاکستان کی خوبصورت زمین قدرتی نظاروں سے بھری پڑی ہے۔ سب سے بڑی بات یہ ہے کہ ان نظاروں کو دیکھنے کے لیے، آپ کو کثیر رقم کی ضرورت بھی نہیں ہے۔ پاکستان کے قلعے اور محل پوری دنیا میں مشہور ہیں۔ جن پر مختلف دور میں مختلف بادشاہوں نے اپنی حکومت قائم کی، اور انہیں ایک نیا انداز دیا۔ یہ تمام مقامات اپنی بناوٹ اور نقش و نگار کی وجہ سے پوری دنیا میں مانے جاتے ہیں۔ آج کے اس آرٹیکل میں ہم آپ کو پاکستان کے کچھ مشہور محلوں اور قلعوں کے متعلق بہت سی باتیں بتائیں گے۔

:صادق گڑھ محل

صادق گڑھ کا یہ محل پوری دنیا میں بہت مشہور ہے۔ اس کی تعمیر بہت قدیم ہے۔ لیکن ابھی تک اس کی خوبصورتی برقرار ہے۔ اس محل کو پنجاب کے ضلع بہاولپور کے مشہور علاقے، ڈیرہ نواب صاحب میں 1882 میں بہاولپور کے چوتھے بادشاہ نواب صادق محمد خان نے تعمیر کروایا تھا۔ اس دور میں اس محل کو بنانے میں 15 لاکھ خرچ ہوئے تھے۔ اور اس کو تعمیر کرنے میں 10 سال کا عرصہ درکار ہوا تھا۔ صادق گڑھ محل کے اندر نہایت ہی خوبصورت باغ ہے۔ ساتھ ہی اس کے وسط میں ایک بلند و بالا گنبد بھی ابھی تک قائم ہے۔

:لال قلعہ مظفر آباد

لال قلعے کو پاکستان میں مظفر آباد قلعے کے نام سے بھی پکارا جاتا ہے۔ یہ مشہور قلعہ کشمیر کے ضلعے مظفر آباد میں دریائے کے قریب تعمیر کیا گیا ہے۔ دراصل اس قلعے کی تعمیر کا آغاز چک حکمرانوں نے کروایا تھا۔ لیکن اس کو اختتام تک سلطان مظفر خان لے کر آئے تھے۔ مغلوں کے دورِ حکومت میں یہ قلعہ اپنی خوبصورتی سے ہاتھ دھو بیٹھا تھا۔ وہ اس لیے کہ مغلوں کی زیادہ توجہ کابل، بدخشاں اور بخارا پر تھی۔اس کے بعد دُرانی حکمرانوں نے اسے پھر سے ایک قلعے کی شکل دی تھی۔ یہ قلعہ دریائے نیلم کے گرد تعمیر کیا گیا ہے، اور اس کا نقشہ نہایت ہی دلکش ہے۔

:فیض محل

فیض محل پاکستان کے چند خوبصورت اور منفرد نمونوں میں سے ایک ہے۔ صوبہ سندھ کے ضلع خیر پور میں فیض محل تعمیر کروایا گیا تھا۔ اس کے علاوہ اس محل کی تاریخ 200 سال قدیم ہے۔ دراصل فیض محل کو 1798 میں خیرپور کے شاہی گھرانے تالپور میرس نے تعمیر کروایا تھا۔ اس دور میں یہ گھرانا اپنی دولت کی بنا پر بہت مشہور تھا۔ اس محل کو مغلیہ آرٹ کا ایک بہترین نمونہ سمجھا جاتا ہے۔-

:شاہی قلعہ لاہور

لاہور شہر کی پہچان اور پوری دنیا میں مشہور لاہور کو شاہی قلعہ ہے۔ اس کو تعمیر کرنے والا مغلیہ دورِحکوت کا مشہور بادشاہ اکبر ہے۔ مغلوں، سکھوں اور انگریزوں نے اس قلعے کو سنبھالنے میں بہت اہم کردار ادا کیا ہے۔ شاہی قلعہ تقریباً 20 ایکڑ پر پھیلا ہوا ہے، اور اس کے 2 دروازے ہیں۔ پہلے دروازے کا نام عالمگیر دروازہ ہے، جسے بادشاہ اورنگزیب نے تعمیر کروایا تھا۔ دوسرا دروازہ مسجدی دروازہ ہے، اور اسے بادشاہ اکبر نے تعمیر کروایا تھا۔ مگر مسجدی دروازے کو اب کھولا نہیں جاتا۔ قلعے کے اندر آنے جانے کے لیے اب عالمگیر دروازے کا استعمال ہی کیا جاتا ہے۔

:نور محل

نور محل بھی بہت ہی خوبصورت محل ہے۔ اس کی تاریخ کا تعلق دراصل برانیہ دورِحکومت کے دوران بہاولپور کے شاہی گھرانے کے ایک نواب سے تھا۔ اسے 1872 میں بہاولپور کے نواب صبع صادق نے تعمیر کروایا تھا۔ صبع صادق نواب نے اس محل کی تعمیر اپنی بیوی کے لیے کوائی تھی۔ لیکن وہ اس محل میں صرف ایک رات کے لیے ہی رُکے تھے۔ وہ اس لیے کہ جب نواب کی زوجہ محترمہ نے نور محل کی بالکونی سے قریبی قبرستان کو دیکھا، تو انہوں نے وہاں رہنے سے انکار کر دیا۔ لہذاً اب اس محل پر پاکستانی آرمی کی حکومت ہے۔ لیکن عوام بھی اس محل کی سیر کے لیے آ سکتی ہے۔ اس کے علاوہ یہاں بیرونِ ممالک سے آئے گئے مہمانوں کی مہمان نوازی بھی کی جاتی ہے۔

پاکستان کی خوبصورت زمین قدرتی نظاروں سے بھری پڑی ہے۔ سب سے بڑی بات یہ ہے کہ ان نظاروں کو دیکھنے کے لیے، آپ کو کثیر رقم کی ضرورت بھی نہیں ہے۔ پاکستان کے قلعے اور محل پوری دنیا میں مشہور ہیں۔ جن پر مختلف دور میں مختلف بادشاہوں نے اپنی حکومت قائم کی، اور انہیں ایک نیا انداز دیا۔ یہ تمام مقامات اپنی بناوٹ اور نقش و نگار کی وجہ سے پوری دنیا میں مانے جاتے ہیں۔ آج کے اس آرٹیکل میں ہم آپ کو پاکستان کے کچھ مشہور محلوں اور قلعوں کے متعلق بہت سی باتیں بتائیں گے۔

:صادق گڑھ محل

صادق گڑھ کا یہ محل پوری دنیا میں بہت مشہور ہے۔ اس کی تعمیر بہت قدیم ہے۔ لیکن ابھی تک اس کی خوبصورتی برقرار ہے۔ اس محل کو پنجاب کے ضلع بہاولپور کے مشہور علاقے، ڈیرہ نواب صاحب میں 1882 میں بہاولپور کے چوتھے بادشاہ نواب صادق محمد خان نے تعمیر کروایا تھا۔ اس دور میں اس محل کو بنانے میں 15 لاکھ خرچ ہوئے تھے۔ اور اس کو تعمیر کرنے میں 10 سال کا عرصہ درکار ہوا تھا۔ صادق گڑھ محل کے اندر نہایت ہی خوبصورت باغ ہے۔ ساتھ ہی اس کے وسط میں ایک بلند و بالا گنبد بھی ابھی تک قائم ہے۔

:لال قلعہ مظفر آباد

لال قلعے کو پاکستان میں مظفر آباد قلعے کے نام سے بھی پکارا جاتا ہے۔ یہ مشہور قلعہ کشمیر کے ضلعے مظفر آباد میں دریائے کے قریب تعمیر کیا گیا ہے۔ دراصل اس قلعے کی تعمیر کا آغاز چک حکمرانوں نے کروایا تھا۔ لیکن اس کو اختتام تک سلطان مظفر خان لے کر آئے تھے۔ مغلوں کے دورِ حکومت میں یہ قلعہ اپنی خوبصورتی سے ہاتھ دھو بیٹھا تھا۔ وہ اس لیے کہ مغلوں کی زیادہ توجہ کابل، بدخشاں اور بخارا پر تھی۔اس کے بعد دُرانی حکمرانوں نے اسے پھر سے ایک قلعے کی شکل دی تھی۔ یہ قلعہ دریائے نیلم کے گرد تعمیر کیا گیا ہے، اور اس کا نقشہ نہایت ہی دلکش ہے۔

:فیض محل

فیض محل پاکستان کے چند خوبصورت اور منفرد نمونوں میں سے ایک ہے۔ صوبہ سندھ کے ضلع خیر پور میں فیض محل تعمیر کروایا گیا تھا۔ اس کے علاوہ اس محل کی تاریخ 200 سال قدیم ہے۔ دراصل فیض محل کو 1798 میں خیرپور کے شاہی گھرانے تالپور میرس نے تعمیر کروایا تھا۔ اس دور میں یہ گھرانا اپنی دولت کی بنا پر بہت مشہور تھا۔ اس محل کو مغلیہ آرٹ کا ایک بہترین نمونہ سمجھا جاتا ہے۔-

:شاہی قلعہ لاہور

لاہور شہر کی پہچان اور پوری دنیا میں مشہور لاہور کو شاہی قلعہ ہے۔ اس کو تعمیر کرنے والا مغلیہ دورِحکوت کا مشہور بادشاہ اکبر ہے۔ مغلوں، سکھوں اور انگریزوں نے اس قلعے کو سنبھالنے میں بہت اہم کردار ادا کیا ہے۔ شاہی قلعہ تقریباً 20 ایکڑ پر پھیلا ہوا ہے، اور اس کے 2 دروازے ہیں۔ پہلے دروازے کا نام عالمگیر دروازہ ہے، جسے بادشاہ اورنگزیب نے تعمیر کروایا تھا۔ دوسرا دروازہ مسجدی دروازہ ہے، اور اسے بادشاہ اکبر نے تعمیر کروایا تھا۔ مگر مسجدی دروازے کو اب کھولا نہیں جاتا۔ قلعے کے اندر آنے جانے کے لیے اب عالمگیر دروازے کا استعمال ہی کیا جاتا ہے۔

:نور محل

نور محل بھی بہت ہی خوبصورت محل ہے۔ اس کی تاریخ کا تعلق دراصل برانیہ دورِحکومت کے دوران بہاولپور کے شاہی گھرانے کے ایک نواب سے تھا۔ اسے 1872 میں بہاولپور کے نواب صبع صادق نے تعمیر کروایا تھا۔ صبع صادق نواب نے اس محل کی تعمیر اپنی بیوی کے لیے کوائی تھی۔ لیکن وہ اس محل میں صرف ایک رات کے لیے ہی رُکے تھے۔ وہ اس لیے کہ جب نواب کی زوجہ محترمہ نے نور محل کی بالکونی سے قریبی قبرستان کو دیکھا، تو انہوں نے وہاں رہنے سے انکار کر دیا۔ لہذاً اب اس محل پر پاکستانی آرمی کی حکومت ہے۔ لیکن عوام بھی اس محل کی سیر کے لیے آ سکتی ہے۔ اس کے علاوہ یہاں بیرونِ ممالک سے آئے گئے مہمانوں کی مہمان نوازی بھی کی جاتی ہے۔

پاکستان کی خوبصورت زمین قدرتی نظاروں سے بھری پڑی ہے۔ سب سے بڑی بات یہ ہے کہ ان نظاروں کو دیکھنے کے لیے، آپ کو کثیر رقم کی ضرورت بھی نہیں ہے۔ پاکستان کے قلعے اور محل پوری دنیا میں مشہور ہیں۔ جن پر مختلف دور میں مختلف بادشاہوں نے اپنی حکومت قائم کی، اور انہیں ایک نیا انداز دیا۔ یہ تمام مقامات اپنی بناوٹ اور نقش و نگار کی وجہ سے پوری دنیا میں مانے جاتے ہیں۔ آج کے اس آرٹیکل میں ہم آپ کو پاکستان کے کچھ مشہور محلوں اور قلعوں کے متعلق بہت سی باتیں بتائیں گے۔

:صادق گڑھ محل

صادق گڑھ کا یہ محل پوری دنیا میں بہت مشہور ہے۔ اس کی تعمیر بہت قدیم ہے۔ لیکن ابھی تک اس کی خوبصورتی برقرار ہے۔ اس محل کو پنجاب کے ضلع بہاولپور کے مشہور علاقے، ڈیرہ نواب صاحب میں 1882 میں بہاولپور کے چوتھے بادشاہ نواب صادق محمد خان نے تعمیر کروایا تھا۔ اس دور میں اس محل کو بنانے میں 15 لاکھ خرچ ہوئے تھے۔ اور اس کو تعمیر کرنے میں 10 سال کا عرصہ درکار ہوا تھا۔ صادق گڑھ محل کے اندر نہایت ہی خوبصورت باغ ہے۔ ساتھ ہی اس کے وسط میں ایک بلند و بالا گنبد بھی ابھی تک قائم ہے۔

:لال قلعہ مظفر آباد

لال قلعے کو پاکستان میں مظفر آباد قلعے کے نام سے بھی پکارا جاتا ہے۔ یہ مشہور قلعہ کشمیر کے ضلعے مظفر آباد میں دریائے کے قریب تعمیر کیا گیا ہے۔ دراصل اس قلعے کی تعمیر کا آغاز چک حکمرانوں نے کروایا تھا۔ لیکن اس کو اختتام تک سلطان مظفر خان لے کر آئے تھے۔ مغلوں کے دورِ حکومت میں یہ قلعہ اپنی خوبصورتی سے ہاتھ دھو بیٹھا تھا۔ وہ اس لیے کہ مغلوں کی زیادہ توجہ کابل، بدخشاں اور بخارا پر تھی۔اس کے بعد دُرانی حکمرانوں نے اسے پھر سے ایک قلعے کی شکل دی تھی۔ یہ قلعہ دریائے نیلم کے گرد تعمیر کیا گیا ہے، اور اس کا نقشہ نہایت ہی دلکش ہے۔

:فیض محل

فیض محل پاکستان کے چند خوبصورت اور منفرد نمونوں میں سے ایک ہے۔ صوبہ سندھ کے ضلع خیر پور میں فیض محل تعمیر کروایا گیا تھا۔ اس کے علاوہ اس محل کی تاریخ 200 سال قدیم ہے۔ دراصل فیض محل کو 1798 میں خیرپور کے شاہی گھرانے تالپور میرس نے تعمیر کروایا تھا۔ اس دور میں یہ گھرانا اپنی دولت کی بنا پر بہت مشہور تھا۔ اس محل کو مغلیہ آرٹ کا ایک بہترین نمونہ سمجھا جاتا ہے۔-

:شاہی قلعہ لاہور

لاہور شہر کی پہچان اور پوری دنیا میں مشہور لاہور کو شاہی قلعہ ہے۔ اس کو تعمیر کرنے والا مغلیہ دورِحکوت کا مشہور بادشاہ اکبر ہے۔ مغلوں، سکھوں اور انگریزوں نے اس قلعے کو سنبھالنے میں بہت اہم کردار ادا کیا ہے۔ شاہی قلعہ تقریباً 20 ایکڑ پر پھیلا ہوا ہے، اور اس کے 2 دروازے ہیں۔ پہلے دروازے کا نام عالمگیر دروازہ ہے، جسے بادشاہ اورنگزیب نے تعمیر کروایا تھا۔ دوسرا دروازہ مسجدی دروازہ ہے، اور اسے بادشاہ اکبر نے تعمیر کروایا تھا۔ مگر مسجدی دروازے کو اب کھولا نہیں جاتا۔ قلعے کے اندر آنے جانے کے لیے اب عالمگیر دروازے کا استعمال ہی کیا جاتا ہے۔

:نور محل

نور محل بھی بہت ہی خوبصورت محل ہے۔ اس کی تاریخ کا تعلق دراصل برانیہ دورِحکومت کے دوران بہاولپور کے شاہی گھرانے کے ایک نواب سے تھا۔ اسے 1872 میں بہاولپور کے نواب صبع صادق نے تعمیر کروایا تھا۔ صبع صادق نواب نے اس محل کی تعمیر اپنی بیوی کے لیے کوائی تھی۔ لیکن وہ اس محل میں صرف ایک رات کے لیے ہی رُکے تھے۔ وہ اس لیے کہ جب نواب کی زوجہ محترمہ نے نور محل کی بالکونی سے قریبی قبرستان کو دیکھا، تو انہوں نے وہاں رہنے سے انکار کر دیا۔ لہذاً اب اس محل پر پاکستانی آرمی کی حکومت ہے۔ لیکن عوام بھی اس محل کی سیر کے لیے آ سکتی ہے۔ اس کے علاوہ یہاں بیرونِ ممالک سے آئے گئے مہمانوں کی مہمان نوازی بھی کی جاتی ہے۔

Related Articles

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here

Stay Connected

22,046FansLike
2,985FollowersFollow
18,400SubscribersSubscribe

Latest Articles