25 C
Lahore
Tuesday, October 19, 2021

“قائداعظم کے پاکستان کی تلاش”

یہ ایک ناقابل تردید حقیقت ہے کہ تحریک پاکستان میں مسیحی راہنماؤں نے قائداعظم اور مسلم لیگ کا ہر سطح پر ساتھ دیا۔ تاریخ سے آشنا لوگ جانتے ہیں، کہ جب برطانوی حکومت کی طرف سے 3 جون 1947 کو پنجاب کے مستقبل کے بارے میں فیصلہ کیا گیا۔

:پاکستان کو بنانے میں اقلیتوں کی قربانیاں

وہ متحدہ پنجاب کی صورت میں پاکستان کا حصہ بنے گا یا اسے تقسیم کیا جائے گا۔ اس وقت مسیحی ممبران پنجاب اسمبلی دیوان بہادر ایس پی سنگھا، سی ای گبن اور فضل الہی نے قائداعظم کے کہنے پر مسلم لیگ اور متحدہ پنجاب کے حق میں ووٹ دیے۔ مسیحی راہنماؤں نے نہ صرف اسمبلی میں قائد اعظم اور مسلم لیگ کا ساتھ دیا، بلکہ باؤنڈری کمیشن کے سامنے پیش ہو کر زیادہ سے زیادہ علاقے پاکستان میں شامل کرنے کی سفارش کی۔

باؤنڈری کمیشن کے اجلاس 21 جولائی سے 31 جولائی 1947 تک لاہور ہائی کورٹ کی بلڈنگ میں ہوے۔ کمیشن کا کام اس بات کا احاطہ کرتا تھا کہ کونسے علاقے کس ملک میں شامل کیے جائیں۔ باؤنڈری کمیشن کے سامنے مسیحیوں کی نمائندگی مسٹر بینر جی اود دیوان بہادر ایس پی سنگھا نے کی۔ دیوان بہادر ایس پی سنگھا باؤنڈری کمیشن کے سامنے پیش ہوئے۔ اور مطالبہ کیا کہ مسیحیوں کی آبادی کی تعداد کو مسلمانوں کے ساتھ شمار کیا جائے۔اور زیادہ سے زیادہ علاقے پاکستان میں شامل کیے جائیں۔

:مسیحیوں نے مسلم لیگ کا بھرپور ساتھ دیا

مسیحی راہنماؤں کے بیانات، مغربی پنجاب لیجسلیٹو اسمبلی کے اجلاس میں مسلم لیگ کے ساتھ مل کر متحدہ پنجاب کے حق میں ووٹ ڈالنا۔ پھر باؤنڈری کمیشن کے سامنے دیوان بہادر ایس پی سنگھا کا بیان واضح کرتا ہے۔ کہ انہوں نے قائداعظم کا غیر مشروط ساتھ دیا۔

یہاں تک کہ انہوں نے برطانوی حکمرانوں اور باؤنڈری کمیشن سے اپنی قوم یعنی مسیحیوں کیے لئے کوئی مطالبہ نہیں کیا۔ بلکہ بڑے واضح انداز میں کہا کہ مسلمانوں کے تمام مطالبات ماننے کے لئے مسیحیوں کی آبادی کو مسلمانوں کے ساتھ شمار کیا جانا چاہیے۔ ( باؤنڈری کمیشن رپورٹس) اب اس سے بڑی اور فیاضیانہ مہربانی کیا ہو گی، کہ مسیحی راہنماؤں نے اپنی قوم کے لیے مطالبات پیش کرنے کی بجائے۔ مسلم لیگ کے مطالبات منوانے کی کوشش کرتے رہے۔

:مسیحیوں نے بانی پاکستان کے قدم کے ساتھ قدم ملایا

مسیحیوں نے تحریک میں قائداعظم کا ساتھ دیا۔ کیونکہ قائداعظم ایک روشن خیال، جدید اور جمہوری ریاست بنانا چاہتے تھے۔ جس کا اظہار انہوں نے 11 اگست 1947 کو پاکستان کی دستور ساز اسمبلی کے سامنے تقریر کرتے ہوئے کیا۔ قائداعظم نے کہا: “آپ آزاد ہیں۔ آپ اس مملکت پاکستان میں اپنی مسجدوں، اپنے مندروں اور اپنی عبادت گاہوں میں جانے کے لیے آزاد ہیں۔

ریاست کو اس سے کوئی غرض نہیں کہ آپ کا تعلق کس مذہب، ذات اور نسل سے ہے۔ قائداعظم کی یہ تقریر قائداعظم کے تصور ریاست کی بہترین ترجمان یے۔ کیونکہ یہ تقریر قائداعظم نے دستور ساز اسمبلی کے سامنے کی، جس نے آگے چل کر ملک کا آئین ترتیب دینا تھا۔

جب 1929 میں چائلڈ میرج ریسٹرینٹ بل اسمبلی میں پیش کیا گیا۔ تو اس بل نے ملک بھر کے بنیاد پرستوں کو مشتعل کر دیا۔ ملک بھر کے 74 بڑے علماء نے بل کے خلاف فتوے جاری کئے۔ قائداعظم نے اس انتہاپسندی اور شدت پسندی کی مخالفت اور مذہبی فتووں کی پرواہ نہ کرتے ہوئے بل کی حمایت کی۔

:بانی پاکستان مذہبی ریاست نہیں چاہتے تھے

اعتراض احسن کی کتاب ‘سندھ ساگر’ میں تحریر ہے، کہ قائداعظم نے قانون ساز اسمبلی میں چائلڈ میرج ریسٹرینٹ بل کی حمایت کرتے ہوئے کہا: “میں نہیں مانتا ان مروجہ ظالمانہ رسوم کو آسمانی تائید حاصل ہے۔ ہمیں ایک لمحہ کے لئے بھی ان فرسودہ رسومات کی اجازت نہیں دینی چاہیے۔
قائد اعظم نے 1948 میں امریکی عوام سے نشریاتی خطاب کرتے ھوے کہا کہ


“پاکستان مذہبی ریاست نہی ہو گئی”


اجیت جواد اپنے ریسرچ آرٹیکل ” سیکولر اور قوم پرست جناح “ میں لکھتے ھیں
قائد اعظم ایک محب وطن، قوم پرست اور سیکولر راہنما تھے
سٹینلے وولپرٹ اپنی کتاب ” جناح آف پاکستان ” لکھتے ھیں
“قائد اعظم مذہبی ریاست نہی چاہتے تھے”
دوسری طرف اسلامی جماعتوں نے قائداعظم، علامہ اقبال اور پاکستان بنانے کی مخالفت کرتی رہیں۔جماعت اسلامی ہو یا جمیعت علماء ھند یا پھر مجلس احرار یہ سبھی جماعتیں پاکستان بنانے کی مخالف رہیں۔ مسلم لیگ کو اور قائداعظم کو برصغیر کے مسلمانوں کا دشمن قرار دیتی رہیں۔ لیکن جب پاکستان کا قیام ہو گیا تو۔ ان اسلامی جماعتوں نے شور مچانا شروع کر دیا۔ کہ پاکستان میں لبرل ڈیموکریٹک نظام کسی صورت قبول نہیں کیا جائے گا۔

:قائداعظم پر مولویوں کا دباؤ

پاکستان کو اسلامی ریاست بنایا جائے گا۔ قائداعظم نے تو مولویوں کا دباؤ قبول نہیں کیا۔ لیکن ان کی وفات کے بعد وزیراعظم لیاقت علی خان مولویوں کے دباؤ میں آ گئے۔ مولانا شبیر احمد عثمانی کی سربراہی میں ایک کمپٹی تشکیل دی گئی، جس نے قرارداد مقاصد تیار کی۔ جسے 12 مارچ 1940 کو منظور کر کے ایک طرف قائداعظم کے تصور ریاست کو دفن کر دیا، اور دوسری طرف مذہبی اقلیتوں کو دوسرے درجے کے شہری بنا دیا گیا۔ یہاں پر یہ کہنا درست ہو گا کہ


“منزل انہیں ملی جو شریک کارواں نہ تھے”

پاکستانی حکمرانوں بالخصوص آمروں نے اپنے اپنے سیاسی مقاصد کے حصول کیلئے اسلام کو استعمال کیا۔ایوب خان نے مولویوں کے ساتھ اتحاد بنایا، اور اپنی غیر آئینی حکومت کی حمایت حاصل کی۔ اور اس کے عوض محکمہ اوقات بنایا اور مولویوں کو مسجدوں اور مزارات کا نگران بنایا گیا۔ انہوں نے مسجدوں اور مزارات سے فنڈز اکٹھا کرنا شروع کر دیا۔ جس کی بدولت یہ مضبوط سے مضبوط ھوتے گئے، اور حکومت اور حکمرانوں میں ان کا اثرورسوخ بڑھتا گیا۔ ندیم فاروق پراچہ اپنے ریسرچ آرٹیکل

(پاکستان آئیڈیالوجی: ایک مختصر تاریخ)

میں تحریر کیا کہ “نظریہ پاکستان” کا لفظ پہلی دفعہ ایوب خان کے دور میں اسمبلی میں استعمال کیا گیا۔ اس سے پہلے تحریک پاکستان میں اس لفظ کا وجود تک نہیں تھا۔ یحییٰ خان نے نظریہ پاکستان ٹرسٹ بنایا۔ اور اس وقت کے وزیر اطلاعات شیر علی خان کو اس کا سربراہ بنایا۔ جس نے فوج کو ملک کی نظریاتی سرحدوں کا محافظ قرار دے دیا۔ ذوالفقار علی بھٹو اگرچہ ایک لبرل اور جمہوریت پر یقین رکھنے والے حکمران تھے۔

لیکن وہ بھی مولویوں کے دباؤ میں آ گئے، اور جمہوری پاکستان کو اسلامی جمہوریہ پاکستان کا نام دے دیا۔ احمدیوں کو غیر مسلم قرار دے کر، مولویوں کی طاقت کو تسلیم کر لیا گیا۔ اسلامی جماعتوں نے اسے اپنی بہت بڑی فتح قرار دیا۔ ضیاءالحق کے دور میں ملآ ملٹری الائنس وجود میں آیا۔ اور پاکستان کو ایک مذہبی ریاست میں تبدیل کر دیا گیا۔ اس دور میں ایک طرف تو مجلس شوری، شریعت کورٹس اور شریعت کونسل جیسے ادارے بنانے گئے، اور دوسری طرف دینی سیاسی جماعتوں کو حکومتی سرپرستی فراہم کی گئی۔

:اقلیتوں کو حقوق مہیا نہ ہونا

قرارداد مقاصد کو آئین کا حصہ بنا کر، ملک کی مذہبی اقلیتوں کو احساس محرومی میں دھکیل دیا گیا۔ ایک طرف تو تعلیمی نصاب میں سے ” تاریخ ” کو نکال کر “ مطالعہ پاکستان ” کو شامل کیا گیا۔ دوسری طرف یہ ثابت کرنے کی کوشش کی گئی، کہ تحریک پاکستان مذہب کے نام پر شروع ہوئی تھی۔ اس کا واحد مقصد ملک کو ایک مذہبی ریاست بنانا تھا۔

تعلیمی نصاب میں مذہب کے نام پر نفرت آمیز مواد شامل کیا گیا۔ اور اقلیتوں کو قابل نفرت بنا کر پیش کیا گیا۔ توہین رسالت کے قوانین بنایے گئے، اور اقلیتوں کو دائمی خوف میں مبتلا کر دیا گیا۔ اسی دور حکومت میں درجنوں کے حساب سے دینی جماعتیں وجود میں آئیں۔ ان میں سے کچھ ایسی بھی تھیں، جن کے باقاعدہ عسکری ونگز تھے۔ جنہوں نے نظریاتی غلبے کے لئے ایک دوسرے کو قتل کرنا شروع کر دیا۔ اس طرح قائداعظم کا پاکستان مذہبی ریاست میں تبدیل ہو کر، فرقہ واریت کی آغوش میں اتر گیا۔

:ضیاءالحق کے دور میں پھیلایا ہوا زہر

جنرل ضیاءالحق کے دور میں پھیلایا ہوا زہر، پاکستان کے جسم وجاں میں اس قدر سرایت کر چکا ہے۔ اسی وجہ سے ان کے بعد آنے والی حکومتیں بھی تریاق نہیں کر سکیں۔ کیونکہ ضیاءالحق کی سرپرستی کی وجہ سے یہ مذہبی جماعتیں اتنی طاقتور ہو چکی ہیں، کہ وہ اپنے مقاصد کے حصول کیلئے ہر آنے والی حکومت کو مجبور کرتی ہیں۔قائد اعظم کا تصور ریاست ترک کرنے کا نقصان یہ ہوا، کہ ملک مذہبی شدت پسندی کی طرف چلا گیا۔

جس کی وجہ سے ایک طرف تو ملک میں معاشی، معاشرتی اور سیاسی انصاف کا ناپید ہو گیا، اور دوسری طرف مذہبی اقلیتوں کو معاشرتی نفرت کی بھینٹ چڑھا دیا گیا۔ اور آج بھی مذہبی اقلیتوں کو معاشرتی نفرت کے ساتھ ساتھ امتیازی قوانین، جبری تبدیلی مذہب اور معاشی ناانصافی جیسے بڑے مسائل کا سامنا ہے۔

پاکستان کی مذہبی اقلیتیں، لبرل حلقے، سوشل آرگنائزیشن اور روشن خیال طبقے آج بھی قائداعظم کے پاکستان کے متلاشی ہیں۔ جہاں پر معاشی، معاشرتی اور سیاسی انصاف ہو۔ تمام شہر ی قانون کے سامنے برابر ہوں، اور جس میں مذہب کی بنیاد پر کسی کو کسی پر کوئی فوقیت حاصل نہ ہو۔

:مصنف

ایڈووکیٹ ریاض انجم

یہ ایک ناقابل تردید حقیقت ہے کہ تحریک پاکستان میں مسیحی راہنماؤں نے قائداعظم اور مسلم لیگ کا ہر سطح پر ساتھ دیا۔ تاریخ سے آشنا لوگ جانتے ہیں، کہ جب برطانوی حکومت کی طرف سے 3 جون 1947 کو پنجاب کے مستقبل کے بارے میں فیصلہ کیا گیا۔

:پاکستان کو بنانے میں اقلیتوں کی قربانیاں

وہ متحدہ پنجاب کی صورت میں پاکستان کا حصہ بنے گا یا اسے تقسیم کیا جائے گا۔ اس وقت مسیحی ممبران پنجاب اسمبلی دیوان بہادر ایس پی سنگھا، سی ای گبن اور فضل الہی نے قائداعظم کے کہنے پر مسلم لیگ اور متحدہ پنجاب کے حق میں ووٹ دیے۔ مسیحی راہنماؤں نے نہ صرف اسمبلی میں قائد اعظم اور مسلم لیگ کا ساتھ دیا، بلکہ باؤنڈری کمیشن کے سامنے پیش ہو کر زیادہ سے زیادہ علاقے پاکستان میں شامل کرنے کی سفارش کی۔

باؤنڈری کمیشن کے اجلاس 21 جولائی سے 31 جولائی 1947 تک لاہور ہائی کورٹ کی بلڈنگ میں ہوے۔ کمیشن کا کام اس بات کا احاطہ کرتا تھا کہ کونسے علاقے کس ملک میں شامل کیے جائیں۔ باؤنڈری کمیشن کے سامنے مسیحیوں کی نمائندگی مسٹر بینر جی اود دیوان بہادر ایس پی سنگھا نے کی۔ دیوان بہادر ایس پی سنگھا باؤنڈری کمیشن کے سامنے پیش ہوئے۔ اور مطالبہ کیا کہ مسیحیوں کی آبادی کی تعداد کو مسلمانوں کے ساتھ شمار کیا جائے۔اور زیادہ سے زیادہ علاقے پاکستان میں شامل کیے جائیں۔

:مسیحیوں نے مسلم لیگ کا بھرپور ساتھ دیا

مسیحی راہنماؤں کے بیانات، مغربی پنجاب لیجسلیٹو اسمبلی کے اجلاس میں مسلم لیگ کے ساتھ مل کر متحدہ پنجاب کے حق میں ووٹ ڈالنا۔ پھر باؤنڈری کمیشن کے سامنے دیوان بہادر ایس پی سنگھا کا بیان واضح کرتا ہے۔ کہ انہوں نے قائداعظم کا غیر مشروط ساتھ دیا۔

یہاں تک کہ انہوں نے برطانوی حکمرانوں اور باؤنڈری کمیشن سے اپنی قوم یعنی مسیحیوں کیے لئے کوئی مطالبہ نہیں کیا۔ بلکہ بڑے واضح انداز میں کہا کہ مسلمانوں کے تمام مطالبات ماننے کے لئے مسیحیوں کی آبادی کو مسلمانوں کے ساتھ شمار کیا جانا چاہیے۔ ( باؤنڈری کمیشن رپورٹس) اب اس سے بڑی اور فیاضیانہ مہربانی کیا ہو گی، کہ مسیحی راہنماؤں نے اپنی قوم کے لیے مطالبات پیش کرنے کی بجائے۔ مسلم لیگ کے مطالبات منوانے کی کوشش کرتے رہے۔

:مسیحیوں نے بانی پاکستان کے قدم کے ساتھ قدم ملایا

مسیحیوں نے تحریک میں قائداعظم کا ساتھ دیا۔ کیونکہ قائداعظم ایک روشن خیال، جدید اور جمہوری ریاست بنانا چاہتے تھے۔ جس کا اظہار انہوں نے 11 اگست 1947 کو پاکستان کی دستور ساز اسمبلی کے سامنے تقریر کرتے ہوئے کیا۔ قائداعظم نے کہا: “آپ آزاد ہیں۔ آپ اس مملکت پاکستان میں اپنی مسجدوں، اپنے مندروں اور اپنی عبادت گاہوں میں جانے کے لیے آزاد ہیں۔

ریاست کو اس سے کوئی غرض نہیں کہ آپ کا تعلق کس مذہب، ذات اور نسل سے ہے۔ قائداعظم کی یہ تقریر قائداعظم کے تصور ریاست کی بہترین ترجمان یے۔ کیونکہ یہ تقریر قائداعظم نے دستور ساز اسمبلی کے سامنے کی، جس نے آگے چل کر ملک کا آئین ترتیب دینا تھا۔

جب 1929 میں چائلڈ میرج ریسٹرینٹ بل اسمبلی میں پیش کیا گیا۔ تو اس بل نے ملک بھر کے بنیاد پرستوں کو مشتعل کر دیا۔ ملک بھر کے 74 بڑے علماء نے بل کے خلاف فتوے جاری کئے۔ قائداعظم نے اس انتہاپسندی اور شدت پسندی کی مخالفت اور مذہبی فتووں کی پرواہ نہ کرتے ہوئے بل کی حمایت کی۔

:بانی پاکستان مذہبی ریاست نہیں چاہتے تھے

اعتراض احسن کی کتاب ‘سندھ ساگر’ میں تحریر ہے، کہ قائداعظم نے قانون ساز اسمبلی میں چائلڈ میرج ریسٹرینٹ بل کی حمایت کرتے ہوئے کہا: “میں نہیں مانتا ان مروجہ ظالمانہ رسوم کو آسمانی تائید حاصل ہے۔ ہمیں ایک لمحہ کے لئے بھی ان فرسودہ رسومات کی اجازت نہیں دینی چاہیے۔
قائد اعظم نے 1948 میں امریکی عوام سے نشریاتی خطاب کرتے ھوے کہا کہ


“پاکستان مذہبی ریاست نہی ہو گئی”


اجیت جواد اپنے ریسرچ آرٹیکل ” سیکولر اور قوم پرست جناح “ میں لکھتے ھیں
قائد اعظم ایک محب وطن، قوم پرست اور سیکولر راہنما تھے
سٹینلے وولپرٹ اپنی کتاب ” جناح آف پاکستان ” لکھتے ھیں
“قائد اعظم مذہبی ریاست نہی چاہتے تھے”
دوسری طرف اسلامی جماعتوں نے قائداعظم، علامہ اقبال اور پاکستان بنانے کی مخالفت کرتی رہیں۔جماعت اسلامی ہو یا جمیعت علماء ھند یا پھر مجلس احرار یہ سبھی جماعتیں پاکستان بنانے کی مخالف رہیں۔ مسلم لیگ کو اور قائداعظم کو برصغیر کے مسلمانوں کا دشمن قرار دیتی رہیں۔ لیکن جب پاکستان کا قیام ہو گیا تو۔ ان اسلامی جماعتوں نے شور مچانا شروع کر دیا۔ کہ پاکستان میں لبرل ڈیموکریٹک نظام کسی صورت قبول نہیں کیا جائے گا۔

:قائداعظم پر مولویوں کا دباؤ

پاکستان کو اسلامی ریاست بنایا جائے گا۔ قائداعظم نے تو مولویوں کا دباؤ قبول نہیں کیا۔ لیکن ان کی وفات کے بعد وزیراعظم لیاقت علی خان مولویوں کے دباؤ میں آ گئے۔ مولانا شبیر احمد عثمانی کی سربراہی میں ایک کمپٹی تشکیل دی گئی، جس نے قرارداد مقاصد تیار کی۔ جسے 12 مارچ 1940 کو منظور کر کے ایک طرف قائداعظم کے تصور ریاست کو دفن کر دیا، اور دوسری طرف مذہبی اقلیتوں کو دوسرے درجے کے شہری بنا دیا گیا۔ یہاں پر یہ کہنا درست ہو گا کہ


“منزل انہیں ملی جو شریک کارواں نہ تھے”

پاکستانی حکمرانوں بالخصوص آمروں نے اپنے اپنے سیاسی مقاصد کے حصول کیلئے اسلام کو استعمال کیا۔ایوب خان نے مولویوں کے ساتھ اتحاد بنایا، اور اپنی غیر آئینی حکومت کی حمایت حاصل کی۔ اور اس کے عوض محکمہ اوقات بنایا اور مولویوں کو مسجدوں اور مزارات کا نگران بنایا گیا۔ انہوں نے مسجدوں اور مزارات سے فنڈز اکٹھا کرنا شروع کر دیا۔ جس کی بدولت یہ مضبوط سے مضبوط ھوتے گئے، اور حکومت اور حکمرانوں میں ان کا اثرورسوخ بڑھتا گیا۔ ندیم فاروق پراچہ اپنے ریسرچ آرٹیکل

(پاکستان آئیڈیالوجی: ایک مختصر تاریخ)

میں تحریر کیا کہ “نظریہ پاکستان” کا لفظ پہلی دفعہ ایوب خان کے دور میں اسمبلی میں استعمال کیا گیا۔ اس سے پہلے تحریک پاکستان میں اس لفظ کا وجود تک نہیں تھا۔ یحییٰ خان نے نظریہ پاکستان ٹرسٹ بنایا۔ اور اس وقت کے وزیر اطلاعات شیر علی خان کو اس کا سربراہ بنایا۔ جس نے فوج کو ملک کی نظریاتی سرحدوں کا محافظ قرار دے دیا۔ ذوالفقار علی بھٹو اگرچہ ایک لبرل اور جمہوریت پر یقین رکھنے والے حکمران تھے۔

لیکن وہ بھی مولویوں کے دباؤ میں آ گئے، اور جمہوری پاکستان کو اسلامی جمہوریہ پاکستان کا نام دے دیا۔ احمدیوں کو غیر مسلم قرار دے کر، مولویوں کی طاقت کو تسلیم کر لیا گیا۔ اسلامی جماعتوں نے اسے اپنی بہت بڑی فتح قرار دیا۔ ضیاءالحق کے دور میں ملآ ملٹری الائنس وجود میں آیا۔ اور پاکستان کو ایک مذہبی ریاست میں تبدیل کر دیا گیا۔ اس دور میں ایک طرف تو مجلس شوری، شریعت کورٹس اور شریعت کونسل جیسے ادارے بنانے گئے، اور دوسری طرف دینی سیاسی جماعتوں کو حکومتی سرپرستی فراہم کی گئی۔

:اقلیتوں کو حقوق مہیا نہ ہونا

قرارداد مقاصد کو آئین کا حصہ بنا کر، ملک کی مذہبی اقلیتوں کو احساس محرومی میں دھکیل دیا گیا۔ ایک طرف تو تعلیمی نصاب میں سے ” تاریخ ” کو نکال کر “ مطالعہ پاکستان ” کو شامل کیا گیا۔ دوسری طرف یہ ثابت کرنے کی کوشش کی گئی، کہ تحریک پاکستان مذہب کے نام پر شروع ہوئی تھی۔ اس کا واحد مقصد ملک کو ایک مذہبی ریاست بنانا تھا۔

تعلیمی نصاب میں مذہب کے نام پر نفرت آمیز مواد شامل کیا گیا۔ اور اقلیتوں کو قابل نفرت بنا کر پیش کیا گیا۔ توہین رسالت کے قوانین بنایے گئے، اور اقلیتوں کو دائمی خوف میں مبتلا کر دیا گیا۔ اسی دور حکومت میں درجنوں کے حساب سے دینی جماعتیں وجود میں آئیں۔ ان میں سے کچھ ایسی بھی تھیں، جن کے باقاعدہ عسکری ونگز تھے۔ جنہوں نے نظریاتی غلبے کے لئے ایک دوسرے کو قتل کرنا شروع کر دیا۔ اس طرح قائداعظم کا پاکستان مذہبی ریاست میں تبدیل ہو کر، فرقہ واریت کی آغوش میں اتر گیا۔

:ضیاءالحق کے دور میں پھیلایا ہوا زہر

جنرل ضیاءالحق کے دور میں پھیلایا ہوا زہر، پاکستان کے جسم وجاں میں اس قدر سرایت کر چکا ہے۔ اسی وجہ سے ان کے بعد آنے والی حکومتیں بھی تریاق نہیں کر سکیں۔ کیونکہ ضیاءالحق کی سرپرستی کی وجہ سے یہ مذہبی جماعتیں اتنی طاقتور ہو چکی ہیں، کہ وہ اپنے مقاصد کے حصول کیلئے ہر آنے والی حکومت کو مجبور کرتی ہیں۔قائد اعظم کا تصور ریاست ترک کرنے کا نقصان یہ ہوا، کہ ملک مذہبی شدت پسندی کی طرف چلا گیا۔

جس کی وجہ سے ایک طرف تو ملک میں معاشی، معاشرتی اور سیاسی انصاف کا ناپید ہو گیا، اور دوسری طرف مذہبی اقلیتوں کو معاشرتی نفرت کی بھینٹ چڑھا دیا گیا۔ اور آج بھی مذہبی اقلیتوں کو معاشرتی نفرت کے ساتھ ساتھ امتیازی قوانین، جبری تبدیلی مذہب اور معاشی ناانصافی جیسے بڑے مسائل کا سامنا ہے۔

پاکستان کی مذہبی اقلیتیں، لبرل حلقے، سوشل آرگنائزیشن اور روشن خیال طبقے آج بھی قائداعظم کے پاکستان کے متلاشی ہیں۔ جہاں پر معاشی، معاشرتی اور سیاسی انصاف ہو۔ تمام شہر ی قانون کے سامنے برابر ہوں، اور جس میں مذہب کی بنیاد پر کسی کو کسی پر کوئی فوقیت حاصل نہ ہو۔

:مصنف

ایڈووکیٹ ریاض انجم

یہ ایک ناقابل تردید حقیقت ہے کہ تحریک پاکستان میں مسیحی راہنماؤں نے قائداعظم اور مسلم لیگ کا ہر سطح پر ساتھ دیا۔ تاریخ سے آشنا لوگ جانتے ہیں، کہ جب برطانوی حکومت کی طرف سے 3 جون 1947 کو پنجاب کے مستقبل کے بارے میں فیصلہ کیا گیا۔

:پاکستان کو بنانے میں اقلیتوں کی قربانیاں

وہ متحدہ پنجاب کی صورت میں پاکستان کا حصہ بنے گا یا اسے تقسیم کیا جائے گا۔ اس وقت مسیحی ممبران پنجاب اسمبلی دیوان بہادر ایس پی سنگھا، سی ای گبن اور فضل الہی نے قائداعظم کے کہنے پر مسلم لیگ اور متحدہ پنجاب کے حق میں ووٹ دیے۔ مسیحی راہنماؤں نے نہ صرف اسمبلی میں قائد اعظم اور مسلم لیگ کا ساتھ دیا، بلکہ باؤنڈری کمیشن کے سامنے پیش ہو کر زیادہ سے زیادہ علاقے پاکستان میں شامل کرنے کی سفارش کی۔

باؤنڈری کمیشن کے اجلاس 21 جولائی سے 31 جولائی 1947 تک لاہور ہائی کورٹ کی بلڈنگ میں ہوے۔ کمیشن کا کام اس بات کا احاطہ کرتا تھا کہ کونسے علاقے کس ملک میں شامل کیے جائیں۔ باؤنڈری کمیشن کے سامنے مسیحیوں کی نمائندگی مسٹر بینر جی اود دیوان بہادر ایس پی سنگھا نے کی۔ دیوان بہادر ایس پی سنگھا باؤنڈری کمیشن کے سامنے پیش ہوئے۔ اور مطالبہ کیا کہ مسیحیوں کی آبادی کی تعداد کو مسلمانوں کے ساتھ شمار کیا جائے۔اور زیادہ سے زیادہ علاقے پاکستان میں شامل کیے جائیں۔

:مسیحیوں نے مسلم لیگ کا بھرپور ساتھ دیا

مسیحی راہنماؤں کے بیانات، مغربی پنجاب لیجسلیٹو اسمبلی کے اجلاس میں مسلم لیگ کے ساتھ مل کر متحدہ پنجاب کے حق میں ووٹ ڈالنا۔ پھر باؤنڈری کمیشن کے سامنے دیوان بہادر ایس پی سنگھا کا بیان واضح کرتا ہے۔ کہ انہوں نے قائداعظم کا غیر مشروط ساتھ دیا۔

یہاں تک کہ انہوں نے برطانوی حکمرانوں اور باؤنڈری کمیشن سے اپنی قوم یعنی مسیحیوں کیے لئے کوئی مطالبہ نہیں کیا۔ بلکہ بڑے واضح انداز میں کہا کہ مسلمانوں کے تمام مطالبات ماننے کے لئے مسیحیوں کی آبادی کو مسلمانوں کے ساتھ شمار کیا جانا چاہیے۔ ( باؤنڈری کمیشن رپورٹس) اب اس سے بڑی اور فیاضیانہ مہربانی کیا ہو گی، کہ مسیحی راہنماؤں نے اپنی قوم کے لیے مطالبات پیش کرنے کی بجائے۔ مسلم لیگ کے مطالبات منوانے کی کوشش کرتے رہے۔

:مسیحیوں نے بانی پاکستان کے قدم کے ساتھ قدم ملایا

مسیحیوں نے تحریک میں قائداعظم کا ساتھ دیا۔ کیونکہ قائداعظم ایک روشن خیال، جدید اور جمہوری ریاست بنانا چاہتے تھے۔ جس کا اظہار انہوں نے 11 اگست 1947 کو پاکستان کی دستور ساز اسمبلی کے سامنے تقریر کرتے ہوئے کیا۔ قائداعظم نے کہا: “آپ آزاد ہیں۔ آپ اس مملکت پاکستان میں اپنی مسجدوں، اپنے مندروں اور اپنی عبادت گاہوں میں جانے کے لیے آزاد ہیں۔

ریاست کو اس سے کوئی غرض نہیں کہ آپ کا تعلق کس مذہب، ذات اور نسل سے ہے۔ قائداعظم کی یہ تقریر قائداعظم کے تصور ریاست کی بہترین ترجمان یے۔ کیونکہ یہ تقریر قائداعظم نے دستور ساز اسمبلی کے سامنے کی، جس نے آگے چل کر ملک کا آئین ترتیب دینا تھا۔

جب 1929 میں چائلڈ میرج ریسٹرینٹ بل اسمبلی میں پیش کیا گیا۔ تو اس بل نے ملک بھر کے بنیاد پرستوں کو مشتعل کر دیا۔ ملک بھر کے 74 بڑے علماء نے بل کے خلاف فتوے جاری کئے۔ قائداعظم نے اس انتہاپسندی اور شدت پسندی کی مخالفت اور مذہبی فتووں کی پرواہ نہ کرتے ہوئے بل کی حمایت کی۔

:بانی پاکستان مذہبی ریاست نہیں چاہتے تھے

اعتراض احسن کی کتاب ‘سندھ ساگر’ میں تحریر ہے، کہ قائداعظم نے قانون ساز اسمبلی میں چائلڈ میرج ریسٹرینٹ بل کی حمایت کرتے ہوئے کہا: “میں نہیں مانتا ان مروجہ ظالمانہ رسوم کو آسمانی تائید حاصل ہے۔ ہمیں ایک لمحہ کے لئے بھی ان فرسودہ رسومات کی اجازت نہیں دینی چاہیے۔
قائد اعظم نے 1948 میں امریکی عوام سے نشریاتی خطاب کرتے ھوے کہا کہ


“پاکستان مذہبی ریاست نہی ہو گئی”


اجیت جواد اپنے ریسرچ آرٹیکل ” سیکولر اور قوم پرست جناح “ میں لکھتے ھیں
قائد اعظم ایک محب وطن، قوم پرست اور سیکولر راہنما تھے
سٹینلے وولپرٹ اپنی کتاب ” جناح آف پاکستان ” لکھتے ھیں
“قائد اعظم مذہبی ریاست نہی چاہتے تھے”
دوسری طرف اسلامی جماعتوں نے قائداعظم، علامہ اقبال اور پاکستان بنانے کی مخالفت کرتی رہیں۔جماعت اسلامی ہو یا جمیعت علماء ھند یا پھر مجلس احرار یہ سبھی جماعتیں پاکستان بنانے کی مخالف رہیں۔ مسلم لیگ کو اور قائداعظم کو برصغیر کے مسلمانوں کا دشمن قرار دیتی رہیں۔ لیکن جب پاکستان کا قیام ہو گیا تو۔ ان اسلامی جماعتوں نے شور مچانا شروع کر دیا۔ کہ پاکستان میں لبرل ڈیموکریٹک نظام کسی صورت قبول نہیں کیا جائے گا۔

:قائداعظم پر مولویوں کا دباؤ

پاکستان کو اسلامی ریاست بنایا جائے گا۔ قائداعظم نے تو مولویوں کا دباؤ قبول نہیں کیا۔ لیکن ان کی وفات کے بعد وزیراعظم لیاقت علی خان مولویوں کے دباؤ میں آ گئے۔ مولانا شبیر احمد عثمانی کی سربراہی میں ایک کمپٹی تشکیل دی گئی، جس نے قرارداد مقاصد تیار کی۔ جسے 12 مارچ 1940 کو منظور کر کے ایک طرف قائداعظم کے تصور ریاست کو دفن کر دیا، اور دوسری طرف مذہبی اقلیتوں کو دوسرے درجے کے شہری بنا دیا گیا۔ یہاں پر یہ کہنا درست ہو گا کہ


“منزل انہیں ملی جو شریک کارواں نہ تھے”

پاکستانی حکمرانوں بالخصوص آمروں نے اپنے اپنے سیاسی مقاصد کے حصول کیلئے اسلام کو استعمال کیا۔ایوب خان نے مولویوں کے ساتھ اتحاد بنایا، اور اپنی غیر آئینی حکومت کی حمایت حاصل کی۔ اور اس کے عوض محکمہ اوقات بنایا اور مولویوں کو مسجدوں اور مزارات کا نگران بنایا گیا۔ انہوں نے مسجدوں اور مزارات سے فنڈز اکٹھا کرنا شروع کر دیا۔ جس کی بدولت یہ مضبوط سے مضبوط ھوتے گئے، اور حکومت اور حکمرانوں میں ان کا اثرورسوخ بڑھتا گیا۔ ندیم فاروق پراچہ اپنے ریسرچ آرٹیکل

(پاکستان آئیڈیالوجی: ایک مختصر تاریخ)

میں تحریر کیا کہ “نظریہ پاکستان” کا لفظ پہلی دفعہ ایوب خان کے دور میں اسمبلی میں استعمال کیا گیا۔ اس سے پہلے تحریک پاکستان میں اس لفظ کا وجود تک نہیں تھا۔ یحییٰ خان نے نظریہ پاکستان ٹرسٹ بنایا۔ اور اس وقت کے وزیر اطلاعات شیر علی خان کو اس کا سربراہ بنایا۔ جس نے فوج کو ملک کی نظریاتی سرحدوں کا محافظ قرار دے دیا۔ ذوالفقار علی بھٹو اگرچہ ایک لبرل اور جمہوریت پر یقین رکھنے والے حکمران تھے۔

لیکن وہ بھی مولویوں کے دباؤ میں آ گئے، اور جمہوری پاکستان کو اسلامی جمہوریہ پاکستان کا نام دے دیا۔ احمدیوں کو غیر مسلم قرار دے کر، مولویوں کی طاقت کو تسلیم کر لیا گیا۔ اسلامی جماعتوں نے اسے اپنی بہت بڑی فتح قرار دیا۔ ضیاءالحق کے دور میں ملآ ملٹری الائنس وجود میں آیا۔ اور پاکستان کو ایک مذہبی ریاست میں تبدیل کر دیا گیا۔ اس دور میں ایک طرف تو مجلس شوری، شریعت کورٹس اور شریعت کونسل جیسے ادارے بنانے گئے، اور دوسری طرف دینی سیاسی جماعتوں کو حکومتی سرپرستی فراہم کی گئی۔

:اقلیتوں کو حقوق مہیا نہ ہونا

قرارداد مقاصد کو آئین کا حصہ بنا کر، ملک کی مذہبی اقلیتوں کو احساس محرومی میں دھکیل دیا گیا۔ ایک طرف تو تعلیمی نصاب میں سے ” تاریخ ” کو نکال کر “ مطالعہ پاکستان ” کو شامل کیا گیا۔ دوسری طرف یہ ثابت کرنے کی کوشش کی گئی، کہ تحریک پاکستان مذہب کے نام پر شروع ہوئی تھی۔ اس کا واحد مقصد ملک کو ایک مذہبی ریاست بنانا تھا۔

تعلیمی نصاب میں مذہب کے نام پر نفرت آمیز مواد شامل کیا گیا۔ اور اقلیتوں کو قابل نفرت بنا کر پیش کیا گیا۔ توہین رسالت کے قوانین بنایے گئے، اور اقلیتوں کو دائمی خوف میں مبتلا کر دیا گیا۔ اسی دور حکومت میں درجنوں کے حساب سے دینی جماعتیں وجود میں آئیں۔ ان میں سے کچھ ایسی بھی تھیں، جن کے باقاعدہ عسکری ونگز تھے۔ جنہوں نے نظریاتی غلبے کے لئے ایک دوسرے کو قتل کرنا شروع کر دیا۔ اس طرح قائداعظم کا پاکستان مذہبی ریاست میں تبدیل ہو کر، فرقہ واریت کی آغوش میں اتر گیا۔

:ضیاءالحق کے دور میں پھیلایا ہوا زہر

جنرل ضیاءالحق کے دور میں پھیلایا ہوا زہر، پاکستان کے جسم وجاں میں اس قدر سرایت کر چکا ہے۔ اسی وجہ سے ان کے بعد آنے والی حکومتیں بھی تریاق نہیں کر سکیں۔ کیونکہ ضیاءالحق کی سرپرستی کی وجہ سے یہ مذہبی جماعتیں اتنی طاقتور ہو چکی ہیں، کہ وہ اپنے مقاصد کے حصول کیلئے ہر آنے والی حکومت کو مجبور کرتی ہیں۔قائد اعظم کا تصور ریاست ترک کرنے کا نقصان یہ ہوا، کہ ملک مذہبی شدت پسندی کی طرف چلا گیا۔

جس کی وجہ سے ایک طرف تو ملک میں معاشی، معاشرتی اور سیاسی انصاف کا ناپید ہو گیا، اور دوسری طرف مذہبی اقلیتوں کو معاشرتی نفرت کی بھینٹ چڑھا دیا گیا۔ اور آج بھی مذہبی اقلیتوں کو معاشرتی نفرت کے ساتھ ساتھ امتیازی قوانین، جبری تبدیلی مذہب اور معاشی ناانصافی جیسے بڑے مسائل کا سامنا ہے۔

پاکستان کی مذہبی اقلیتیں، لبرل حلقے، سوشل آرگنائزیشن اور روشن خیال طبقے آج بھی قائداعظم کے پاکستان کے متلاشی ہیں۔ جہاں پر معاشی، معاشرتی اور سیاسی انصاف ہو۔ تمام شہر ی قانون کے سامنے برابر ہوں، اور جس میں مذہب کی بنیاد پر کسی کو کسی پر کوئی فوقیت حاصل نہ ہو۔

:مصنف

ایڈووکیٹ ریاض انجم

Related Articles

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here

Stay Connected

22,046FansLike
2,984FollowersFollow
18,400SubscribersSubscribe

Latest Articles