30 C
Lahore
Tuesday, October 19, 2021

صوبہ پنجاب میں جیل قیدیوں کو بیویوں کے ہمراہ رہنے کی اجازت

لاہور تازہ ترین۔ 13 مارچ2021ء صوبہ پنجاب میں جیل قیدیوں کی بیوی کو جیل میں ساتھ رہنے کی اجازت مل گئی ، قیدیوں کو بیوی کے ہمراہ جیل کے فیملی ہومز میں رہائش کی سہولت فراہم کی جائے گی۔ تفصیلات کے مطابق اس حوالے سے محکمہ داخلہ پنجاب کی طرف سے ایک اعلامیہ بھی جاری کر دیا گیا ہے ، اعلامیہ کے مطابق بیوی کو قیدی خاوند کے ساتھ ہر 3 ماہ کے بعد 3 روز تک رہنے کی اجازت حاصل ہو گی جب کہ اس دورانیے میں قیدی کا 5 سال تک کا بچہ بھی اپنے والدین کے ساتھ رہ پائے گا۔واضع رہے کہ فیملی ہومز میں رہنے کے لیے قیدی یا اس کی بیوی کو درخواست جعمع کروانی ہو گی جس پر متعلقہ ڈپٹی کمشنر نکاح نامے کی تصدیق کرے گا اور پھراس کے بعد فیملی ہومز کے استعمال کی اجازت دے گا اور فیملی ہومز صرف اور صرف سزا کے طور پر قیدی ہی استعمال کرنے کے حامل ہوں گے جب کہ قیدی کو اپنی بیوی کے ہمراہ رہنے کے حکمنامے پر عملدرآمد فوری طور پر کیا جائے گا۔

محکمہ داخلہ پنجاب کے اہلکاروں نے بتایا کہ اس ضمن میں جیلوں میں فیملی ہومز تعمیر کر لیے گئے ہیں جس میں ایک کمرہ ، کچن اور باتھ روم کی سہولت موجود ہے۔جب کہ حال ہی میں وزیر اعظم عمران خان کی طرف سے جیلوں میں قید خواتین کی بدترین حالت کو بہتر بنانے کے لیے ممکنہ اقدامات کی بھی ہدایت کی گئی تھی ، اس ضمن میں وزیر اعظم عمران خان نے بیان کیا کہ معمولی جرائم میں قید خواتین کو گھر کے پاس جیلوں میں شفٹ کیا جائے۔ اس حوالے سے وزیراعظم سے وفاقی وزیر انسانی حقوق شیریں مزاری نے ملاقات فرمائی اور جیلوں میں قید خواتین کو ریلیف فراہم کرنے کیلئے درخواست پیش کیں ، جس کے بعد وزیر اعظم عمران خان نے جیلوں میں قید خواتین کی بری حالت کا نوٹس لیتے ہوئے شیریں مزاری کو ہدایت کی کہ سفارشات پر فوری طور پر عملدرآمد کے لیے اٹارنی جنرل سے مشورہ کیا جائے ، کیوں کہ بہتر معاشروں کی پہچان انسانی حقوق کے تحفظ کو عمل میں لانے سے ہی ہوتی ہے ، اسی سبب سے تمام قیدیوں کو ہر طرح کے بنیادی انسانی حقوق کی فراہمی ہر صورت یقینی بنائی جائے۔

لاہور تازہ ترین۔ 13 مارچ2021ء صوبہ پنجاب میں جیل قیدیوں کی بیوی کو جیل میں ساتھ رہنے کی اجازت مل گئی ، قیدیوں کو بیوی کے ہمراہ جیل کے فیملی ہومز میں رہائش کی سہولت فراہم کی جائے گی۔ تفصیلات کے مطابق اس حوالے سے محکمہ داخلہ پنجاب کی طرف سے ایک اعلامیہ بھی جاری کر دیا گیا ہے ، اعلامیہ کے مطابق بیوی کو قیدی خاوند کے ساتھ ہر 3 ماہ کے بعد 3 روز تک رہنے کی اجازت حاصل ہو گی جب کہ اس دورانیے میں قیدی کا 5 سال تک کا بچہ بھی اپنے والدین کے ساتھ رہ پائے گا۔واضع رہے کہ فیملی ہومز میں رہنے کے لیے قیدی یا اس کی بیوی کو درخواست جعمع کروانی ہو گی جس پر متعلقہ ڈپٹی کمشنر نکاح نامے کی تصدیق کرے گا اور پھراس کے بعد فیملی ہومز کے استعمال کی اجازت دے گا اور فیملی ہومز صرف اور صرف سزا کے طور پر قیدی ہی استعمال کرنے کے حامل ہوں گے جب کہ قیدی کو اپنی بیوی کے ہمراہ رہنے کے حکمنامے پر عملدرآمد فوری طور پر کیا جائے گا۔

محکمہ داخلہ پنجاب کے اہلکاروں نے بتایا کہ اس ضمن میں جیلوں میں فیملی ہومز تعمیر کر لیے گئے ہیں جس میں ایک کمرہ ، کچن اور باتھ روم کی سہولت موجود ہے۔جب کہ حال ہی میں وزیر اعظم عمران خان کی طرف سے جیلوں میں قید خواتین کی بدترین حالت کو بہتر بنانے کے لیے ممکنہ اقدامات کی بھی ہدایت کی گئی تھی ، اس ضمن میں وزیر اعظم عمران خان نے بیان کیا کہ معمولی جرائم میں قید خواتین کو گھر کے پاس جیلوں میں شفٹ کیا جائے۔ اس حوالے سے وزیراعظم سے وفاقی وزیر انسانی حقوق شیریں مزاری نے ملاقات فرمائی اور جیلوں میں قید خواتین کو ریلیف فراہم کرنے کیلئے درخواست پیش کیں ، جس کے بعد وزیر اعظم عمران خان نے جیلوں میں قید خواتین کی بری حالت کا نوٹس لیتے ہوئے شیریں مزاری کو ہدایت کی کہ سفارشات پر فوری طور پر عملدرآمد کے لیے اٹارنی جنرل سے مشورہ کیا جائے ، کیوں کہ بہتر معاشروں کی پہچان انسانی حقوق کے تحفظ کو عمل میں لانے سے ہی ہوتی ہے ، اسی سبب سے تمام قیدیوں کو ہر طرح کے بنیادی انسانی حقوق کی فراہمی ہر صورت یقینی بنائی جائے۔

لاہور تازہ ترین۔ 13 مارچ2021ء صوبہ پنجاب میں جیل قیدیوں کی بیوی کو جیل میں ساتھ رہنے کی اجازت مل گئی ، قیدیوں کو بیوی کے ہمراہ جیل کے فیملی ہومز میں رہائش کی سہولت فراہم کی جائے گی۔ تفصیلات کے مطابق اس حوالے سے محکمہ داخلہ پنجاب کی طرف سے ایک اعلامیہ بھی جاری کر دیا گیا ہے ، اعلامیہ کے مطابق بیوی کو قیدی خاوند کے ساتھ ہر 3 ماہ کے بعد 3 روز تک رہنے کی اجازت حاصل ہو گی جب کہ اس دورانیے میں قیدی کا 5 سال تک کا بچہ بھی اپنے والدین کے ساتھ رہ پائے گا۔واضع رہے کہ فیملی ہومز میں رہنے کے لیے قیدی یا اس کی بیوی کو درخواست جعمع کروانی ہو گی جس پر متعلقہ ڈپٹی کمشنر نکاح نامے کی تصدیق کرے گا اور پھراس کے بعد فیملی ہومز کے استعمال کی اجازت دے گا اور فیملی ہومز صرف اور صرف سزا کے طور پر قیدی ہی استعمال کرنے کے حامل ہوں گے جب کہ قیدی کو اپنی بیوی کے ہمراہ رہنے کے حکمنامے پر عملدرآمد فوری طور پر کیا جائے گا۔

محکمہ داخلہ پنجاب کے اہلکاروں نے بتایا کہ اس ضمن میں جیلوں میں فیملی ہومز تعمیر کر لیے گئے ہیں جس میں ایک کمرہ ، کچن اور باتھ روم کی سہولت موجود ہے۔جب کہ حال ہی میں وزیر اعظم عمران خان کی طرف سے جیلوں میں قید خواتین کی بدترین حالت کو بہتر بنانے کے لیے ممکنہ اقدامات کی بھی ہدایت کی گئی تھی ، اس ضمن میں وزیر اعظم عمران خان نے بیان کیا کہ معمولی جرائم میں قید خواتین کو گھر کے پاس جیلوں میں شفٹ کیا جائے۔ اس حوالے سے وزیراعظم سے وفاقی وزیر انسانی حقوق شیریں مزاری نے ملاقات فرمائی اور جیلوں میں قید خواتین کو ریلیف فراہم کرنے کیلئے درخواست پیش کیں ، جس کے بعد وزیر اعظم عمران خان نے جیلوں میں قید خواتین کی بری حالت کا نوٹس لیتے ہوئے شیریں مزاری کو ہدایت کی کہ سفارشات پر فوری طور پر عملدرآمد کے لیے اٹارنی جنرل سے مشورہ کیا جائے ، کیوں کہ بہتر معاشروں کی پہچان انسانی حقوق کے تحفظ کو عمل میں لانے سے ہی ہوتی ہے ، اسی سبب سے تمام قیدیوں کو ہر طرح کے بنیادی انسانی حقوق کی فراہمی ہر صورت یقینی بنائی جائے۔

Related Articles

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here

Stay Connected

22,046FansLike
2,986FollowersFollow
18,400SubscribersSubscribe

Latest Articles