25.9 C
Lahore
Monday, October 18, 2021

کیا ٹرین بنا پٹریوں کے چل سکتی ہے؟

کیا آپ ٹرین کو بنا پٹریوں کے چلنا دیکھنا چاہیں گے۔یقیناً نہیں کیونکہ اس طرح کے خیالات کو سوچ کر ہی ڈر لگتا ہے۔ یہ نا ممکن ہے کہ ٹرین بغیر پٹریوں کے چلے۔ ٹرین کسی بھی ملک کی ہو۔ لیکن وہ پٹریوں پر چلتی ہی خوبصورت لگتی ہے۔ لیکن اب چین کچھ ایسا کرنے جا رہا ہے، جو آج سے پہلے دنیا میں کسی ملک نے نہیں کیا۔

چین دنیا کے فرسٹ ورلڈ ملکوں میں شامل ہے۔ چین آئے دن نئی ایجادات کر کے دنیا میں اپنا لوہا منواتا ہے۔اب چین ایک ایسا کارنامہ انجام دینے کو ہے جو دنیا کے لیے ایک عجوبہ ہے۔

چینی ذرائع ابلاغ کے مطابق چین میں بنا پٹریوں کے چلنے والی ٹرین پر کام جاری ہے۔ یہ ٹرین آٹو میٹک ہے یعنی کے ٹرین بغیر ڈرائیور کے بھی چل سکتی ہے۔ ٹرین کا نقشہ ایک کار اور بس کو مدِنظر رکھتے ہوئے بنایا گیا ہے۔اس میں 500 مسافر با آسانی سفر کر سکتے ہیں۔

چین نے اس منصوبے کا نام (اے آر ٹی) رکھا ہے۔ (اے آر ٹی) منصوبے کا آغاز سال 2017 میں چین کے صوبے زو زو میں کیا گیا تھا۔چائنہ نے اس ٹرین کو سمارٹ بس کے نام سے نوازا ہے۔

ٹرین میں 3 سے 5 بوگیاں لگائی گئی ہیں۔ہر ایک بوگی میں 100 افراد آسانی سے بیٹھ سکتے ہیں۔اس ٹرین کو اگر ڈرائیور نہ بھی چالائے، تو بھی یہ چلے گی۔ لیکن ڈرائیور بھی اسے اپنی مرضی سے چلا سکتا ہے۔

دو سے تین میل کے سفر کے لیے ٹرین کو صرف 20 سیکنڈ کے لیے چارج کرنا ہو گا۔ اگر ٹرین 16 میل کا سفر کرے گی تو اس کے لیے اسے صرف 20 منٹ چارج کرنا ہو گا۔

کیا آپ ٹرین کو بنا پٹریوں کے چلنا دیکھنا چاہیں گے۔یقیناً نہیں کیونکہ اس طرح کے خیالات کو سوچ کر ہی ڈر لگتا ہے۔ یہ نا ممکن ہے کہ ٹرین بغیر پٹریوں کے چلے۔ ٹرین کسی بھی ملک کی ہو۔ لیکن وہ پٹریوں پر چلتی ہی خوبصورت لگتی ہے۔ لیکن اب چین کچھ ایسا کرنے جا رہا ہے، جو آج سے پہلے دنیا میں کسی ملک نے نہیں کیا۔

چین دنیا کے فرسٹ ورلڈ ملکوں میں شامل ہے۔ چین آئے دن نئی ایجادات کر کے دنیا میں اپنا لوہا منواتا ہے۔اب چین ایک ایسا کارنامہ انجام دینے کو ہے جو دنیا کے لیے ایک عجوبہ ہے۔

چینی ذرائع ابلاغ کے مطابق چین میں بنا پٹریوں کے چلنے والی ٹرین پر کام جاری ہے۔ یہ ٹرین آٹو میٹک ہے یعنی کے ٹرین بغیر ڈرائیور کے بھی چل سکتی ہے۔ ٹرین کا نقشہ ایک کار اور بس کو مدِنظر رکھتے ہوئے بنایا گیا ہے۔اس میں 500 مسافر با آسانی سفر کر سکتے ہیں۔

چین نے اس منصوبے کا نام (اے آر ٹی) رکھا ہے۔ (اے آر ٹی) منصوبے کا آغاز سال 2017 میں چین کے صوبے زو زو میں کیا گیا تھا۔چائنہ نے اس ٹرین کو سمارٹ بس کے نام سے نوازا ہے۔

ٹرین میں 3 سے 5 بوگیاں لگائی گئی ہیں۔ہر ایک بوگی میں 100 افراد آسانی سے بیٹھ سکتے ہیں۔اس ٹرین کو اگر ڈرائیور نہ بھی چالائے، تو بھی یہ چلے گی۔ لیکن ڈرائیور بھی اسے اپنی مرضی سے چلا سکتا ہے۔

دو سے تین میل کے سفر کے لیے ٹرین کو صرف 20 سیکنڈ کے لیے چارج کرنا ہو گا۔ اگر ٹرین 16 میل کا سفر کرے گی تو اس کے لیے اسے صرف 20 منٹ چارج کرنا ہو گا۔

کیا آپ ٹرین کو بنا پٹریوں کے چلنا دیکھنا چاہیں گے۔یقیناً نہیں کیونکہ اس طرح کے خیالات کو سوچ کر ہی ڈر لگتا ہے۔ یہ نا ممکن ہے کہ ٹرین بغیر پٹریوں کے چلے۔ ٹرین کسی بھی ملک کی ہو۔ لیکن وہ پٹریوں پر چلتی ہی خوبصورت لگتی ہے۔ لیکن اب چین کچھ ایسا کرنے جا رہا ہے، جو آج سے پہلے دنیا میں کسی ملک نے نہیں کیا۔

چین دنیا کے فرسٹ ورلڈ ملکوں میں شامل ہے۔ چین آئے دن نئی ایجادات کر کے دنیا میں اپنا لوہا منواتا ہے۔اب چین ایک ایسا کارنامہ انجام دینے کو ہے جو دنیا کے لیے ایک عجوبہ ہے۔

چینی ذرائع ابلاغ کے مطابق چین میں بنا پٹریوں کے چلنے والی ٹرین پر کام جاری ہے۔ یہ ٹرین آٹو میٹک ہے یعنی کے ٹرین بغیر ڈرائیور کے بھی چل سکتی ہے۔ ٹرین کا نقشہ ایک کار اور بس کو مدِنظر رکھتے ہوئے بنایا گیا ہے۔اس میں 500 مسافر با آسانی سفر کر سکتے ہیں۔

چین نے اس منصوبے کا نام (اے آر ٹی) رکھا ہے۔ (اے آر ٹی) منصوبے کا آغاز سال 2017 میں چین کے صوبے زو زو میں کیا گیا تھا۔چائنہ نے اس ٹرین کو سمارٹ بس کے نام سے نوازا ہے۔

ٹرین میں 3 سے 5 بوگیاں لگائی گئی ہیں۔ہر ایک بوگی میں 100 افراد آسانی سے بیٹھ سکتے ہیں۔اس ٹرین کو اگر ڈرائیور نہ بھی چالائے، تو بھی یہ چلے گی۔ لیکن ڈرائیور بھی اسے اپنی مرضی سے چلا سکتا ہے۔

دو سے تین میل کے سفر کے لیے ٹرین کو صرف 20 سیکنڈ کے لیے چارج کرنا ہو گا۔ اگر ٹرین 16 میل کا سفر کرے گی تو اس کے لیے اسے صرف 20 منٹ چارج کرنا ہو گا۔

Related Articles

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here

Stay Connected

22,046FansLike
2,984FollowersFollow
18,400SubscribersSubscribe

Latest Articles