30 C
Lahore
Tuesday, October 19, 2021

ہوسڑی سے نابالغ بچي اٹھا لی گئی۔ تبدیلی مذہب سرٹیفیکٹ بھی ماں باپ کے پاس پہنچنے کا خدشہ

سوشل میڈیا پر گردش کرتی خبر کے مطابق سندھ کے علاقے ہوسڑی سے بھی 13 سالہ نابالغ بچي پوجا میگھواڑ کو اٹھا لیا گیا جو کہ بظاہر آسان جنسی زیادتی کا شکار اور زنا کے بعد تبدیلیِ مذہب کے دیگر واقعا ت کی نوعیت کا کیس لگ رہا ہے، سواشل میڈیا پر ہوتی آرائ کے مطابق تبدیلی مذہب کا سرٹیفیکٹ کسی بھی وقت ماں باپ کے پاس پہنچنے کا خدشہ ھے۔

۔ سوشل میڈیا پر بہت سے لوگ اس واقع پر افسوس کا اظہار کر رہے ہیں اور کہہ رہے ہیں کہ اگر یہی تبلیغ ہے تو اللہ بچائے۔ یہ تبلیغ نہیں بلکہ جرم ھے

واضح رہے کہ اس کے ساتھ ساتھ ملک میں زنا، جبر اور زیادتی کے دیگر واقعات بھی سامنے آئے ہیں۔ ان واقعات میں غیر مذاہب کی کمسن لڑکیوں کو اغواہ کر کے جنسی درندگی کا شکار کرکے مذہب تبدیل کردیا جاتا ہے۔ سول سوسائٹی کے ساتھ ساتھ سوشل میڈیا پر بھی اس طرح کے واقعات کو روکنے کے لیے بہت سی تحریکیں چلائی جا رہی ہیں۔

بہت سے افراد کا کہنا ہے کہ مذہب کی تبدیلی ایسی کسی بچی سے کیسے قبول کی جائے جو اپنا کوئی بھی فیصلہ خود نہیں کر سکتی اور اس کے پاس تو اس کا اپنا شناختی کارڈ تک موجود نہیں۔ پھر بھی یہ بات بھی قابلِ غور ہے کی صرف کمسن لڑکیاں ہی کیوں اسلام قبول کر رہی ہیں، لڑکے کیوں نہیں؟

اگر کوئی مرد کمسن لڑکیوں سے مذہب قبول کروا ہی لے تو بھی کیا ان کمسن بچیوں سے جنسی زیادتی اور شادی کرنا ضروری ہے جب کہ ریاست نیا و پرانا پاکستان کے قوانین کے مطابق نا بالغ افراد سے شادی غیر قانونی ہے۔ مزہب تبدیل کروانے والا مرد ایسی بچیوں کو بہن یا بیٹی کیوں نہیں بنا لیتا؟

کیا اسلام میں ایسا کوئی رشتہ بنانے پر ممانعت ہے یا یہ کوئی شرعی گناہ ہے؟ بالکل نہیں، بلکہ سچائی یہ ہے کی ایسے اشخاص کا اسلام سے دور دور تک کوئی لینا دینا نہیں ہوتا، یہ تو بس اپنے جرم کو چھپانے اور زنا جیسے گھنونے جرم کی سزا سے بچنے کے لیے اسلام کا سہارا لے لیتے ہیں؟ ایسے لوگ مذھب کو ڈھال کے طور پر استعمال کرتے ھیں اپنی ھوس پوری کرنےکے لئے اور ثواب بھی سمجھتے ھیں۔ خدا ایسے لوگوں کو ھدایت نصیب فرمائے

کیا کبھی سوچا ہے کہ ان بچیوں کے ماں باپ اور ان کے خاندان پر اس بات کا کیا اثر ہوتا ہو گا۔ ریاست میں اقلیتیں خود کو کتنا غیر محفوظ تصور کرتی ہیں۔

ایمان اور انصاف کا تقاضا ہے کہ ان افراد کو جبری تبدیلیِ مزہب کی تو شائید کوئی سزا نا دی جا سکے، مگر کیا نابالغ لڑکیوں کو اغوا کرکے زنا بالجبر اور دیگر جنسی تعلقات قائم کرنے کے جرائم میں سزا نہیں دی جانی چاہیے؟ کیا ریاستِ مدینہ کی طرز پر ابھرتی نئے پاکستان میں ایسا کوئی قانون باقی بچا ہے جو مظلوم کو انصاف اور ظالم کو سزا دلوا سکے؟

انسانی حقوق کی نمائندہ تنظیم سنٹر فار ہیومین رائسٹس ایجوکیشن اور رواداری تحریک کے چئیرمین سیمسن سلامت نے بھی اس قسم کے جبر اور ظلم کو روکنے کی اپیل کی ہے اور اس جبر کو روکنے کے لیے قانون سازی کا مطالبہ کیا ہے۔

سوشل میڈیا پر گردش کرتی خبر کے مطابق سندھ کے علاقے ہوسڑی سے بھی 13 سالہ نابالغ بچي پوجا میگھواڑ کو اٹھا لیا گیا جو کہ بظاہر آسان جنسی زیادتی کا شکار اور زنا کے بعد تبدیلیِ مذہب کے دیگر واقعا ت کی نوعیت کا کیس لگ رہا ہے، سواشل میڈیا پر ہوتی آرائ کے مطابق تبدیلی مذہب کا سرٹیفیکٹ کسی بھی وقت ماں باپ کے پاس پہنچنے کا خدشہ ھے۔

۔ سوشل میڈیا پر بہت سے لوگ اس واقع پر افسوس کا اظہار کر رہے ہیں اور کہہ رہے ہیں کہ اگر یہی تبلیغ ہے تو اللہ بچائے۔ یہ تبلیغ نہیں بلکہ جرم ھے

واضح رہے کہ اس کے ساتھ ساتھ ملک میں زنا، جبر اور زیادتی کے دیگر واقعات بھی سامنے آئے ہیں۔ ان واقعات میں غیر مذاہب کی کمسن لڑکیوں کو اغواہ کر کے جنسی درندگی کا شکار کرکے مذہب تبدیل کردیا جاتا ہے۔ سول سوسائٹی کے ساتھ ساتھ سوشل میڈیا پر بھی اس طرح کے واقعات کو روکنے کے لیے بہت سی تحریکیں چلائی جا رہی ہیں۔

بہت سے افراد کا کہنا ہے کہ مذہب کی تبدیلی ایسی کسی بچی سے کیسے قبول کی جائے جو اپنا کوئی بھی فیصلہ خود نہیں کر سکتی اور اس کے پاس تو اس کا اپنا شناختی کارڈ تک موجود نہیں۔ پھر بھی یہ بات بھی قابلِ غور ہے کی صرف کمسن لڑکیاں ہی کیوں اسلام قبول کر رہی ہیں، لڑکے کیوں نہیں؟

اگر کوئی مرد کمسن لڑکیوں سے مذہب قبول کروا ہی لے تو بھی کیا ان کمسن بچیوں سے جنسی زیادتی اور شادی کرنا ضروری ہے جب کہ ریاست نیا و پرانا پاکستان کے قوانین کے مطابق نا بالغ افراد سے شادی غیر قانونی ہے۔ مزہب تبدیل کروانے والا مرد ایسی بچیوں کو بہن یا بیٹی کیوں نہیں بنا لیتا؟

کیا اسلام میں ایسا کوئی رشتہ بنانے پر ممانعت ہے یا یہ کوئی شرعی گناہ ہے؟ بالکل نہیں، بلکہ سچائی یہ ہے کی ایسے اشخاص کا اسلام سے دور دور تک کوئی لینا دینا نہیں ہوتا، یہ تو بس اپنے جرم کو چھپانے اور زنا جیسے گھنونے جرم کی سزا سے بچنے کے لیے اسلام کا سہارا لے لیتے ہیں؟ ایسے لوگ مذھب کو ڈھال کے طور پر استعمال کرتے ھیں اپنی ھوس پوری کرنےکے لئے اور ثواب بھی سمجھتے ھیں۔ خدا ایسے لوگوں کو ھدایت نصیب فرمائے

کیا کبھی سوچا ہے کہ ان بچیوں کے ماں باپ اور ان کے خاندان پر اس بات کا کیا اثر ہوتا ہو گا۔ ریاست میں اقلیتیں خود کو کتنا غیر محفوظ تصور کرتی ہیں۔

ایمان اور انصاف کا تقاضا ہے کہ ان افراد کو جبری تبدیلیِ مزہب کی تو شائید کوئی سزا نا دی جا سکے، مگر کیا نابالغ لڑکیوں کو اغوا کرکے زنا بالجبر اور دیگر جنسی تعلقات قائم کرنے کے جرائم میں سزا نہیں دی جانی چاہیے؟ کیا ریاستِ مدینہ کی طرز پر ابھرتی نئے پاکستان میں ایسا کوئی قانون باقی بچا ہے جو مظلوم کو انصاف اور ظالم کو سزا دلوا سکے؟

انسانی حقوق کی نمائندہ تنظیم سنٹر فار ہیومین رائسٹس ایجوکیشن اور رواداری تحریک کے چئیرمین سیمسن سلامت نے بھی اس قسم کے جبر اور ظلم کو روکنے کی اپیل کی ہے اور اس جبر کو روکنے کے لیے قانون سازی کا مطالبہ کیا ہے۔

سوشل میڈیا پر گردش کرتی خبر کے مطابق سندھ کے علاقے ہوسڑی سے بھی 13 سالہ نابالغ بچي پوجا میگھواڑ کو اٹھا لیا گیا جو کہ بظاہر آسان جنسی زیادتی کا شکار اور زنا کے بعد تبدیلیِ مذہب کے دیگر واقعا ت کی نوعیت کا کیس لگ رہا ہے، سواشل میڈیا پر ہوتی آرائ کے مطابق تبدیلی مذہب کا سرٹیفیکٹ کسی بھی وقت ماں باپ کے پاس پہنچنے کا خدشہ ھے۔

۔ سوشل میڈیا پر بہت سے لوگ اس واقع پر افسوس کا اظہار کر رہے ہیں اور کہہ رہے ہیں کہ اگر یہی تبلیغ ہے تو اللہ بچائے۔ یہ تبلیغ نہیں بلکہ جرم ھے

واضح رہے کہ اس کے ساتھ ساتھ ملک میں زنا، جبر اور زیادتی کے دیگر واقعات بھی سامنے آئے ہیں۔ ان واقعات میں غیر مذاہب کی کمسن لڑکیوں کو اغواہ کر کے جنسی درندگی کا شکار کرکے مذہب تبدیل کردیا جاتا ہے۔ سول سوسائٹی کے ساتھ ساتھ سوشل میڈیا پر بھی اس طرح کے واقعات کو روکنے کے لیے بہت سی تحریکیں چلائی جا رہی ہیں۔

بہت سے افراد کا کہنا ہے کہ مذہب کی تبدیلی ایسی کسی بچی سے کیسے قبول کی جائے جو اپنا کوئی بھی فیصلہ خود نہیں کر سکتی اور اس کے پاس تو اس کا اپنا شناختی کارڈ تک موجود نہیں۔ پھر بھی یہ بات بھی قابلِ غور ہے کی صرف کمسن لڑکیاں ہی کیوں اسلام قبول کر رہی ہیں، لڑکے کیوں نہیں؟

اگر کوئی مرد کمسن لڑکیوں سے مذہب قبول کروا ہی لے تو بھی کیا ان کمسن بچیوں سے جنسی زیادتی اور شادی کرنا ضروری ہے جب کہ ریاست نیا و پرانا پاکستان کے قوانین کے مطابق نا بالغ افراد سے شادی غیر قانونی ہے۔ مزہب تبدیل کروانے والا مرد ایسی بچیوں کو بہن یا بیٹی کیوں نہیں بنا لیتا؟

کیا اسلام میں ایسا کوئی رشتہ بنانے پر ممانعت ہے یا یہ کوئی شرعی گناہ ہے؟ بالکل نہیں، بلکہ سچائی یہ ہے کی ایسے اشخاص کا اسلام سے دور دور تک کوئی لینا دینا نہیں ہوتا، یہ تو بس اپنے جرم کو چھپانے اور زنا جیسے گھنونے جرم کی سزا سے بچنے کے لیے اسلام کا سہارا لے لیتے ہیں؟ ایسے لوگ مذھب کو ڈھال کے طور پر استعمال کرتے ھیں اپنی ھوس پوری کرنےکے لئے اور ثواب بھی سمجھتے ھیں۔ خدا ایسے لوگوں کو ھدایت نصیب فرمائے

کیا کبھی سوچا ہے کہ ان بچیوں کے ماں باپ اور ان کے خاندان پر اس بات کا کیا اثر ہوتا ہو گا۔ ریاست میں اقلیتیں خود کو کتنا غیر محفوظ تصور کرتی ہیں۔

ایمان اور انصاف کا تقاضا ہے کہ ان افراد کو جبری تبدیلیِ مزہب کی تو شائید کوئی سزا نا دی جا سکے، مگر کیا نابالغ لڑکیوں کو اغوا کرکے زنا بالجبر اور دیگر جنسی تعلقات قائم کرنے کے جرائم میں سزا نہیں دی جانی چاہیے؟ کیا ریاستِ مدینہ کی طرز پر ابھرتی نئے پاکستان میں ایسا کوئی قانون باقی بچا ہے جو مظلوم کو انصاف اور ظالم کو سزا دلوا سکے؟

انسانی حقوق کی نمائندہ تنظیم سنٹر فار ہیومین رائسٹس ایجوکیشن اور رواداری تحریک کے چئیرمین سیمسن سلامت نے بھی اس قسم کے جبر اور ظلم کو روکنے کی اپیل کی ہے اور اس جبر کو روکنے کے لیے قانون سازی کا مطالبہ کیا ہے۔

Related Articles

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here

Stay Connected

22,046FansLike
2,986FollowersFollow
18,400SubscribersSubscribe

Latest Articles