25 C
Lahore
Tuesday, October 19, 2021

سپریم کورٹ نے اقلیتوں کے حقوق کیس کی سماعت دو ہفتوں کیلئے ملتوی کر دی۔

معززعدالت نے کرک مندر میں سمادھی کی از سر نو تعمیر سے متعلق رپورٹ طلب کر تے ہوئے حکم دیا ہے کہ کرک مندر واقعہ میں ملوث ملزمان کے کیخلاف قانون کے مطابق کارروائی جاری رکھی جائے

اسلام آباد (تازہ ترین) سپریم کورٹ نے  اقلیتوں کے حقوق کے از خود نوٹس کیس کی سماعت دو ہفتوں کیلئے ملتوی کر دی ہے ۔ عدالت عظمی  نے کرک مندر میں سمادھی کی از سر نو تعمیر سے متعلق رپورٹ طلب کر تے ہوئے حکم دیا ہے کہ اس واقعہ میں ملوث ملزمان کے کیخلاف قانون کے مطابق کارروائی جاری رکھی جائے۔ مزید ازاں سپریم کورٹ نے متروکہ وقف املاک بورڈ کی  جانب سے دیئے گیے 38 ملین کی خطیر رقم سے متعلق ہندو کونسل سے رپورٹ طلب کرتے ہوئے سوال کیا کہ پاکستان ہندو کونسل بتائے کہ 38 یہ ملین روپے کہاں خرچ ہوئے؟

 عدالت عظمی نے یہ بھی حکم دیا ہے کہ  پاکستان ہندو کونسل اپنے اکائونٹس کی تفصیلات متروکہ وقف املاک بورڈ کو فراہم کرے، اس کے ساتھ ساتھ اقلیتی کمیشن کو چیئرمین متروکہ وقف املاک  بورڈ کی رپورٹ پر بھی اپنا جواب جمع  کرانے کا حکم بھی دیا ہے ۔

واضح رہے کہ سپریم کورٹ نے ملتان میں  پرلاب مندر  کی بحالی اور سکیورٹی کے احکامات پر آئندہ سماعت تک عملدرآمد رپورٹ بھی طلب کر لی ہے ۔

 اس کے ساتھ ساتھ سپریم کورٹ نے کٹاس راج مندر کمپلکس کا انتظام پنجاب حکومت سے متروکہ وقف املاک بورڈ کو سونپنے کا حکم دیتے ہوئے حکم دیا ہے کہ وفاقی حکومت کٹاس راج مندر کا انتظام پنجاب حکومت سے متروکہ وقف املاک بورڈ کے حوالے کرے اور وفاقی حکومت کٹاس راج مندر کمپلکس کی متروکہ وقف املاک بورڈ کو حوالگی دو ہفتوں میں یقینی بنائے۔

یہاں یہ بات بھی قابل ذکر ہے کہ سپریم کورٹ نے ملک بھر میں یکساں نصاب سے متعلق محکمہ تعلیم کی جانب سے جمع کرائی گئی رپورٹ واپس کرتے ہوئے حکم دیا ہے کہ محکمہ تعلیم کی رپورٹ عدالتی حکم کے مطابق نہیں۔ سیکرٹری تعلیم کی دستخط شدہ رپورٹ جمع کرائی جائے اور آئندہ سماعت پر وفاقی سیکرٹری تعلیم  ذاتی حیثیت میں عدالت کے رو برو پیش ہوں۔

  عدالت نے یہ بھی حکم دیا ہے کہ چیئرمین متروکہ وقف املاک بورڈ  تمام مندر وں سمادھیز اور گردواروں سے متعلق تفصیلی رپورٹ جمع کرائیں، متروکہ وقف املاک بورڈ کے زیر انتظام املاک اور اس سے حاصل ہونے والی آمدن کا مکمل ریکارڈ بھی جمع کرایا جائے اور چیئرمین متروکہ وقف املاک بورڈ آئندہ سماعت پر  تفصیلی رپورٹ کے ہمراہ خود بھی  ذاتی حیثیت میں پیش ہوں۔

پیر کو چیف جسٹس گلزار احمد کی سربراہی میں تین رکنی بنچ نے مزکورہ بالا کیس پر سماعت کی ۔ دوران سماعت چیف جسٹس گلزار احمد  نے کہا کہ کے پی کے حکومت نے اپنے خرچ پر کرک مندر سمادھی کی تعمیر شروع کی ہے، کیا کرک مندر واقعہ کے ملزمان سے پیسے ریکور کر لیے گئے۔ جس پر ایڈوکیٹ جنرل کے پی کے نے عدالت کو بتایا کہ ملزمان سے پیسے ریکور کرنے کیلئے نوٹس جاری کر دئیے گئے ہیں۔ جسٹس اعجاز الاحسن نے ریمارکس دیئے کہ قانون کے مطابق ملوث ملزمان سے جلد پیسے ریکور کریں ۔

دوران سماعت چیف جسٹس گلزار احمد  نے ملتان پرلاب مندر کی سکیورٹی کے اقدامات سے متعلق پیش رفت کے بارے میں بھی پوچھا۔ جس پر ایڈیشنل ایڈوکیٹ جنرل پنجاب فیصل چوہدری نے عدالت کو بتایا کہ پرلاب مندر میں ہولی کا تہوار 26 مارچ کو منانے کا کہا گیا، 26 مارچ کو اپوزیشن نے لانگ مارچ کا اعلان کر رکھا ہے، سیاسی ماحول کی وجہ سے سیکیورٹی کی فراہمی میں مسائل ہو سکتے ہیں، پنجاب حکومت نے تمام معاملات کو مدنظر رکھنا ہے،چیف سیکرٹری پرلاب مندر کے حوالے سے خط لکھ دیا ہے ۔ چیف جسٹس گلزار احمد نے ریمارکس دیے کہ چیف سیکرٹری پنجاب نہ خود آئے نہ عدالتی حکم پر عمل ہوا،سیکرٹری کا کام احکامات پر عملدرآمد یقینی بنانا ہوتا ہے، سیکرٹری نے خط لکھ کر کونسا تیر مار لیا ہے ،اب 100 سال پرانا زمانہ نہیں کہ خط لکھ کر بیٹھے رہیں۔

 -عدالت عظمی نے پرلاب مندر ملتان کی بحالی اور سکیورٹی کے احکامات پر عملدرآمد سے متعلق رپورٹ طلب کر  لی ہے ۔  سپریم کورٹ نے کٹاس راج مندر کمپلکس کا انتظام پنجاب حکومت سے متروکہ وقف املاک بورڈ کو دینے کا حکم دیتے ہوئے قرار دیا ہے کہ وفاقی حکومت کٹاس راج مندر کا انتظام پنجاب حکومت سے متروکہ وقف املاک بورڈ کے حوالے کرے،وفاقی حکومت کٹاس راج مندر کمپلکس کی متروکہ وقف املاک بورڈ کو حوالگی دو ہفتوں میں یقینی بنائے۔ سپریم کورٹ نے ملک بھر میں یکساں نصاب سے متعلق محکمہ تعلیم کی جانب سے جمع کروائی گئی رپورٹ واپس کرتے ہوئے قرار دیا ہے کہ محکمہ تعلیم کی رپورٹ عدالتی حکم کے مطابق نہیں،دو ہفتوں میں سیکرٹری تعلیم کی دستخط شدہ رپورٹ جمع کرائی جائے۔ سپریم کورٹ نے آئندہ سماعت پر وفاقی سیکرٹری تعلیم کو بھی ذاتی حیثیت میں طلب کر لیا ہے ۔

معززعدالت نے کرک مندر میں سمادھی کی از سر نو تعمیر سے متعلق رپورٹ طلب کر تے ہوئے حکم دیا ہے کہ کرک مندر واقعہ میں ملوث ملزمان کے کیخلاف قانون کے مطابق کارروائی جاری رکھی جائے

اسلام آباد (تازہ ترین) سپریم کورٹ نے  اقلیتوں کے حقوق کے از خود نوٹس کیس کی سماعت دو ہفتوں کیلئے ملتوی کر دی ہے ۔ عدالت عظمی  نے کرک مندر میں سمادھی کی از سر نو تعمیر سے متعلق رپورٹ طلب کر تے ہوئے حکم دیا ہے کہ اس واقعہ میں ملوث ملزمان کے کیخلاف قانون کے مطابق کارروائی جاری رکھی جائے۔ مزید ازاں سپریم کورٹ نے متروکہ وقف املاک بورڈ کی  جانب سے دیئے گیے 38 ملین کی خطیر رقم سے متعلق ہندو کونسل سے رپورٹ طلب کرتے ہوئے سوال کیا کہ پاکستان ہندو کونسل بتائے کہ 38 یہ ملین روپے کہاں خرچ ہوئے؟

 عدالت عظمی نے یہ بھی حکم دیا ہے کہ  پاکستان ہندو کونسل اپنے اکائونٹس کی تفصیلات متروکہ وقف املاک بورڈ کو فراہم کرے، اس کے ساتھ ساتھ اقلیتی کمیشن کو چیئرمین متروکہ وقف املاک  بورڈ کی رپورٹ پر بھی اپنا جواب جمع  کرانے کا حکم بھی دیا ہے ۔

واضح رہے کہ سپریم کورٹ نے ملتان میں  پرلاب مندر  کی بحالی اور سکیورٹی کے احکامات پر آئندہ سماعت تک عملدرآمد رپورٹ بھی طلب کر لی ہے ۔

 اس کے ساتھ ساتھ سپریم کورٹ نے کٹاس راج مندر کمپلکس کا انتظام پنجاب حکومت سے متروکہ وقف املاک بورڈ کو سونپنے کا حکم دیتے ہوئے حکم دیا ہے کہ وفاقی حکومت کٹاس راج مندر کا انتظام پنجاب حکومت سے متروکہ وقف املاک بورڈ کے حوالے کرے اور وفاقی حکومت کٹاس راج مندر کمپلکس کی متروکہ وقف املاک بورڈ کو حوالگی دو ہفتوں میں یقینی بنائے۔

یہاں یہ بات بھی قابل ذکر ہے کہ سپریم کورٹ نے ملک بھر میں یکساں نصاب سے متعلق محکمہ تعلیم کی جانب سے جمع کرائی گئی رپورٹ واپس کرتے ہوئے حکم دیا ہے کہ محکمہ تعلیم کی رپورٹ عدالتی حکم کے مطابق نہیں۔ سیکرٹری تعلیم کی دستخط شدہ رپورٹ جمع کرائی جائے اور آئندہ سماعت پر وفاقی سیکرٹری تعلیم  ذاتی حیثیت میں عدالت کے رو برو پیش ہوں۔

  عدالت نے یہ بھی حکم دیا ہے کہ چیئرمین متروکہ وقف املاک بورڈ  تمام مندر وں سمادھیز اور گردواروں سے متعلق تفصیلی رپورٹ جمع کرائیں، متروکہ وقف املاک بورڈ کے زیر انتظام املاک اور اس سے حاصل ہونے والی آمدن کا مکمل ریکارڈ بھی جمع کرایا جائے اور چیئرمین متروکہ وقف املاک بورڈ آئندہ سماعت پر  تفصیلی رپورٹ کے ہمراہ خود بھی  ذاتی حیثیت میں پیش ہوں۔

پیر کو چیف جسٹس گلزار احمد کی سربراہی میں تین رکنی بنچ نے مزکورہ بالا کیس پر سماعت کی ۔ دوران سماعت چیف جسٹس گلزار احمد  نے کہا کہ کے پی کے حکومت نے اپنے خرچ پر کرک مندر سمادھی کی تعمیر شروع کی ہے، کیا کرک مندر واقعہ کے ملزمان سے پیسے ریکور کر لیے گئے۔ جس پر ایڈوکیٹ جنرل کے پی کے نے عدالت کو بتایا کہ ملزمان سے پیسے ریکور کرنے کیلئے نوٹس جاری کر دئیے گئے ہیں۔ جسٹس اعجاز الاحسن نے ریمارکس دیئے کہ قانون کے مطابق ملوث ملزمان سے جلد پیسے ریکور کریں ۔

دوران سماعت چیف جسٹس گلزار احمد  نے ملتان پرلاب مندر کی سکیورٹی کے اقدامات سے متعلق پیش رفت کے بارے میں بھی پوچھا۔ جس پر ایڈیشنل ایڈوکیٹ جنرل پنجاب فیصل چوہدری نے عدالت کو بتایا کہ پرلاب مندر میں ہولی کا تہوار 26 مارچ کو منانے کا کہا گیا، 26 مارچ کو اپوزیشن نے لانگ مارچ کا اعلان کر رکھا ہے، سیاسی ماحول کی وجہ سے سیکیورٹی کی فراہمی میں مسائل ہو سکتے ہیں، پنجاب حکومت نے تمام معاملات کو مدنظر رکھنا ہے،چیف سیکرٹری پرلاب مندر کے حوالے سے خط لکھ دیا ہے ۔ چیف جسٹس گلزار احمد نے ریمارکس دیے کہ چیف سیکرٹری پنجاب نہ خود آئے نہ عدالتی حکم پر عمل ہوا،سیکرٹری کا کام احکامات پر عملدرآمد یقینی بنانا ہوتا ہے، سیکرٹری نے خط لکھ کر کونسا تیر مار لیا ہے ،اب 100 سال پرانا زمانہ نہیں کہ خط لکھ کر بیٹھے رہیں۔

 -عدالت عظمی نے پرلاب مندر ملتان کی بحالی اور سکیورٹی کے احکامات پر عملدرآمد سے متعلق رپورٹ طلب کر  لی ہے ۔  سپریم کورٹ نے کٹاس راج مندر کمپلکس کا انتظام پنجاب حکومت سے متروکہ وقف املاک بورڈ کو دینے کا حکم دیتے ہوئے قرار دیا ہے کہ وفاقی حکومت کٹاس راج مندر کا انتظام پنجاب حکومت سے متروکہ وقف املاک بورڈ کے حوالے کرے،وفاقی حکومت کٹاس راج مندر کمپلکس کی متروکہ وقف املاک بورڈ کو حوالگی دو ہفتوں میں یقینی بنائے۔ سپریم کورٹ نے ملک بھر میں یکساں نصاب سے متعلق محکمہ تعلیم کی جانب سے جمع کروائی گئی رپورٹ واپس کرتے ہوئے قرار دیا ہے کہ محکمہ تعلیم کی رپورٹ عدالتی حکم کے مطابق نہیں،دو ہفتوں میں سیکرٹری تعلیم کی دستخط شدہ رپورٹ جمع کرائی جائے۔ سپریم کورٹ نے آئندہ سماعت پر وفاقی سیکرٹری تعلیم کو بھی ذاتی حیثیت میں طلب کر لیا ہے ۔

معززعدالت نے کرک مندر میں سمادھی کی از سر نو تعمیر سے متعلق رپورٹ طلب کر تے ہوئے حکم دیا ہے کہ کرک مندر واقعہ میں ملوث ملزمان کے کیخلاف قانون کے مطابق کارروائی جاری رکھی جائے

اسلام آباد (تازہ ترین) سپریم کورٹ نے  اقلیتوں کے حقوق کے از خود نوٹس کیس کی سماعت دو ہفتوں کیلئے ملتوی کر دی ہے ۔ عدالت عظمی  نے کرک مندر میں سمادھی کی از سر نو تعمیر سے متعلق رپورٹ طلب کر تے ہوئے حکم دیا ہے کہ اس واقعہ میں ملوث ملزمان کے کیخلاف قانون کے مطابق کارروائی جاری رکھی جائے۔ مزید ازاں سپریم کورٹ نے متروکہ وقف املاک بورڈ کی  جانب سے دیئے گیے 38 ملین کی خطیر رقم سے متعلق ہندو کونسل سے رپورٹ طلب کرتے ہوئے سوال کیا کہ پاکستان ہندو کونسل بتائے کہ 38 یہ ملین روپے کہاں خرچ ہوئے؟

 عدالت عظمی نے یہ بھی حکم دیا ہے کہ  پاکستان ہندو کونسل اپنے اکائونٹس کی تفصیلات متروکہ وقف املاک بورڈ کو فراہم کرے، اس کے ساتھ ساتھ اقلیتی کمیشن کو چیئرمین متروکہ وقف املاک  بورڈ کی رپورٹ پر بھی اپنا جواب جمع  کرانے کا حکم بھی دیا ہے ۔

واضح رہے کہ سپریم کورٹ نے ملتان میں  پرلاب مندر  کی بحالی اور سکیورٹی کے احکامات پر آئندہ سماعت تک عملدرآمد رپورٹ بھی طلب کر لی ہے ۔

 اس کے ساتھ ساتھ سپریم کورٹ نے کٹاس راج مندر کمپلکس کا انتظام پنجاب حکومت سے متروکہ وقف املاک بورڈ کو سونپنے کا حکم دیتے ہوئے حکم دیا ہے کہ وفاقی حکومت کٹاس راج مندر کا انتظام پنجاب حکومت سے متروکہ وقف املاک بورڈ کے حوالے کرے اور وفاقی حکومت کٹاس راج مندر کمپلکس کی متروکہ وقف املاک بورڈ کو حوالگی دو ہفتوں میں یقینی بنائے۔

یہاں یہ بات بھی قابل ذکر ہے کہ سپریم کورٹ نے ملک بھر میں یکساں نصاب سے متعلق محکمہ تعلیم کی جانب سے جمع کرائی گئی رپورٹ واپس کرتے ہوئے حکم دیا ہے کہ محکمہ تعلیم کی رپورٹ عدالتی حکم کے مطابق نہیں۔ سیکرٹری تعلیم کی دستخط شدہ رپورٹ جمع کرائی جائے اور آئندہ سماعت پر وفاقی سیکرٹری تعلیم  ذاتی حیثیت میں عدالت کے رو برو پیش ہوں۔

  عدالت نے یہ بھی حکم دیا ہے کہ چیئرمین متروکہ وقف املاک بورڈ  تمام مندر وں سمادھیز اور گردواروں سے متعلق تفصیلی رپورٹ جمع کرائیں، متروکہ وقف املاک بورڈ کے زیر انتظام املاک اور اس سے حاصل ہونے والی آمدن کا مکمل ریکارڈ بھی جمع کرایا جائے اور چیئرمین متروکہ وقف املاک بورڈ آئندہ سماعت پر  تفصیلی رپورٹ کے ہمراہ خود بھی  ذاتی حیثیت میں پیش ہوں۔

پیر کو چیف جسٹس گلزار احمد کی سربراہی میں تین رکنی بنچ نے مزکورہ بالا کیس پر سماعت کی ۔ دوران سماعت چیف جسٹس گلزار احمد  نے کہا کہ کے پی کے حکومت نے اپنے خرچ پر کرک مندر سمادھی کی تعمیر شروع کی ہے، کیا کرک مندر واقعہ کے ملزمان سے پیسے ریکور کر لیے گئے۔ جس پر ایڈوکیٹ جنرل کے پی کے نے عدالت کو بتایا کہ ملزمان سے پیسے ریکور کرنے کیلئے نوٹس جاری کر دئیے گئے ہیں۔ جسٹس اعجاز الاحسن نے ریمارکس دیئے کہ قانون کے مطابق ملوث ملزمان سے جلد پیسے ریکور کریں ۔

دوران سماعت چیف جسٹس گلزار احمد  نے ملتان پرلاب مندر کی سکیورٹی کے اقدامات سے متعلق پیش رفت کے بارے میں بھی پوچھا۔ جس پر ایڈیشنل ایڈوکیٹ جنرل پنجاب فیصل چوہدری نے عدالت کو بتایا کہ پرلاب مندر میں ہولی کا تہوار 26 مارچ کو منانے کا کہا گیا، 26 مارچ کو اپوزیشن نے لانگ مارچ کا اعلان کر رکھا ہے، سیاسی ماحول کی وجہ سے سیکیورٹی کی فراہمی میں مسائل ہو سکتے ہیں، پنجاب حکومت نے تمام معاملات کو مدنظر رکھنا ہے،چیف سیکرٹری پرلاب مندر کے حوالے سے خط لکھ دیا ہے ۔ چیف جسٹس گلزار احمد نے ریمارکس دیے کہ چیف سیکرٹری پنجاب نہ خود آئے نہ عدالتی حکم پر عمل ہوا،سیکرٹری کا کام احکامات پر عملدرآمد یقینی بنانا ہوتا ہے، سیکرٹری نے خط لکھ کر کونسا تیر مار لیا ہے ،اب 100 سال پرانا زمانہ نہیں کہ خط لکھ کر بیٹھے رہیں۔

 -عدالت عظمی نے پرلاب مندر ملتان کی بحالی اور سکیورٹی کے احکامات پر عملدرآمد سے متعلق رپورٹ طلب کر  لی ہے ۔  سپریم کورٹ نے کٹاس راج مندر کمپلکس کا انتظام پنجاب حکومت سے متروکہ وقف املاک بورڈ کو دینے کا حکم دیتے ہوئے قرار دیا ہے کہ وفاقی حکومت کٹاس راج مندر کا انتظام پنجاب حکومت سے متروکہ وقف املاک بورڈ کے حوالے کرے،وفاقی حکومت کٹاس راج مندر کمپلکس کی متروکہ وقف املاک بورڈ کو حوالگی دو ہفتوں میں یقینی بنائے۔ سپریم کورٹ نے ملک بھر میں یکساں نصاب سے متعلق محکمہ تعلیم کی جانب سے جمع کروائی گئی رپورٹ واپس کرتے ہوئے قرار دیا ہے کہ محکمہ تعلیم کی رپورٹ عدالتی حکم کے مطابق نہیں،دو ہفتوں میں سیکرٹری تعلیم کی دستخط شدہ رپورٹ جمع کرائی جائے۔ سپریم کورٹ نے آئندہ سماعت پر وفاقی سیکرٹری تعلیم کو بھی ذاتی حیثیت میں طلب کر لیا ہے ۔

Related Articles

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here

Stay Connected

22,046FansLike
2,984FollowersFollow
18,400SubscribersSubscribe

Latest Articles