26 C
Lahore
Tuesday, October 19, 2021

سعودی عرب میں مقیم افراد اپنے بیوی بچوں کو اپنے پاس کیسے بلا سکتے ہیں؟

سعودی عرب میں مقیم غیر ملکی باشندے جب اپنے کام اور روزگار سے مطمئن ہو جاتے ہیں تو ان کی پہلی خواہش ہوتی ہےوہ اپنے بیوی بچوں کو اپنے پاس بلایں۔ اس لیے جب وہ اپنے اس ارادے کو عملی جامہ پہنانا چاہتے ہیں تو عموما سرکاری حکام کو درخواست دینے سے اس منصوبہ بندی کا آغاز کیا جاتا ہے۔
 الرجل میگزین میں شائع ہونے والی ایک رپورٹ کے مطابق بہت سے لوگ یہ نہیں جانتے ہیں کہ انہیں ’فیملی ویزے ‘ کے لیے کن دستاویزات کی ضرورت ہے۔ نیز وہ گھر والوں کو لانے کے لیے کتنی فیس ادا کریں گے۔
اس لیے ہم آپ کو سعودی عرب میں مقیم افراد کے لیے بیوی بچوں کو لانے کی شرائط کے بارے میں بتائیں گے۔
سعودی حکومت نے درخواست جمع کروانے کا طریقہ کار اوراس کے لیے قواعد و ضوابط وضع کیے ہیں۔ آپ رہائشی درخواست کا فارم براہ راست یا وزارت داخلہ کی سرکاری ویب سائٹ کے ذریعہ جمع کروا سکتے ہیں۔

بچوں یا بیوی کو سعودی عرب میں بلانے کے قواعدوضوابط

سعودی عرب میں مقیم افراد اپنی اہلیہ اور بچوں کو ان قواعدوضوابط کے مطابق بلا سکتے ہیں۔1
 درخواست دینے والوں کا تعلق ایسے پیشہ سے ہونا چاہیے جنہیں ’فیملی سٹیٹس‘ جاری کیا جاتا ہے۔2
 مملکت کے موجودہ نظام کے مطابق جن افراد کو درخواست جمع کروانے کی اجازت ہے، وہ یہ ہیں۔ طبی عملے کے افراد جیسے ڈاکٹرز، انجینئرنگ کے شعبے میں کام کرنے والے جیسے انجینئرز اسی طرح فیکلٹی اور شعبہ تعلیم سے وابستہ افراد جیسے اساتذہ انتظامی عہدوں پر کام کرنے والے کارکن جیسے مارکیٹنگ کا سٹاف، اکاؤنٹنٹ اور دیگر نجی شعبوں میں کام کرنے والے کچھ کارکنوں کو اہلیہ اور بچوں کو بلانے کی اجازت نہیں ہے، جیسے مزدور، بڑھئی، پلمبر، ڈرائیوراور باورچی وغیرہ۔3
یہ ضروری ہے کہ اہلیہ کا پاسپورٹ اس کے اپنے ملک سے بنا ہو۔ کوئی اور طریقہ کار آبائی وطن کے پاسپورٹ کا متبادل نہیں بن سکتا ہے۔4
 جس نے ایک سے زیادہ شادیاں کی ہوں اسے سعودی عرب میں صرف ایک بیوی لانے کی اجازت ہے۔ اس لیے اسے کسی ایک بیوی کا انتخاب کرنا چاہیے۔5
جو اپنی بیوی کو لانا چاہتا ہے اسے اس بات کو یقینی بنانا ہوگا کہ وہ اس کیٹیگری میں شامل ہے، جنہیں اپنی بیوی کو لانے کی اجازت ہے۔6
 درخواست دینے والے شخص کی سعودی عرب میں اہلیہ بلانے کی درخواست جمع کرواتے وقت’اقامہ ‘ کارڈ کی مدت کم از کم  90 دن سے زیادہ ہونی چاہیے۔7
 رہائشیوں کو 18 سال یا اس سے زیادہ عمر کے بچوں کے لیے درخواست جمع کرانے کی اجازت نہیں ہے۔8
اہلیہ کو بلانے کے لیے درخواست کے ساتھ ضروری کاغذات
بیوی اور بچوں کے  پاسپورٹس کی کاپیاں ساتھ لگائیں۔ رہائشی کو یہ کاغذات تیار کرنے کی ضرورت ہے۔1
سعودی سفارت خانے، قونصل خانے یا وزارت خارجہ کے ذریعے منظور شدہ پیشے سے ملتا جلتا اہلیت کا سرٹیفکیٹ پیش کریں۔  نکاح نامہ وزارت خارجہ اور سعودی قونصل خانے سے تصدیق شدہ ہو۔2
بچوں کے پیدائش کے سرٹیفیکیٹ وزارت خارجہ سے منظور شدہ ہوں۔3
شوہر کے اقامہ کی کاپی، آجر یا کمپنی کی جانب سے  جاری کردہ تنخواہ سرٹیفیکیٹ جو کہ چیمبر آف کامرس سے تصدیق شدہ ہو۔4
اگر شوہر اکاؤنٹنٹ یا انجینئر ہے تو اسے سعودی اکاؤنٹنٹ یا انجینئرنگ کونسل سے اپنے پیشے کا مصدقہ سرٹیفیکیٹ بھی جمع کرانا ہوگا جس میں اسے فیملی سٹیٹس ہولڈرظاہر کیا گیا ہو۔5
بیوی اور بچوں کی تصاویر پیش کریں۔ یہ تصویریں نئی، واضح اور سفید پس منظر کے ساتھ ہوں اور ان کا سائز 4*6 ہو۔6
کار آمد پاسپورٹ کی کاپی7
 بینک کے ذریعے 2000 ریال فیس ادا کرنے کے بعد ادائیگی کی رسید ہمراہ لگائیں۔8

رہائشی کو لازمی طور پر درخواست پرنٹ کرنا ہو گی اور درکار معلومات کو پُر کرنا ہوگا۔ آجر کے  دستخط کروائیں اور ایوانِ تجارت سے تصدیق کروائی جائے۔

’ابشر‘ الیکٹرانک پلیٹ فارم پر بکنگ کرنا

سعودی عرب نے حال ہی میں وزارت داخلہ کی ویب سائٹ ’ابشر‘ کے ذریعے مملکت میں مقیم افراد کو اپنی بیویوں کو لانے کے طریقہ کار کی سہولت فراہم کی ہے۔

بیوی کے ویزے کے لیے درخواست جمع کروانے کا طریقہ مندرجہ ذیل ہے۔
سعودی وزارت داخلہ کی ویب سائٹ کھولیں۔1
ابشر ویب سائٹ میں لاگ ان کریں اوراکاؤنٹ بنائیں۔2
استقدام کے آپشن کا انتخاب کریں۔3
ویزا جاری کرنا‘ کی خدمت کا انتخاب کریں۔4
اس کے بعد شوہر کا ڈیٹا درج کرنے اور اس کے بارے میں معلومات فراہم کرنا ہو گی۔5
تمام اعداد و شمار کو مکمل کرنے اور ان کو پیش کرنے کے بعد درخواست کی تصدیق کی جائے گی۔6
درخواست کا جواب ۳۰ دن کے اند دیا جاے گا۔ ۳۰ دن کے اند درخواست کا جواب نا ملنے پر اسے منسوخ تصور کیا جاے گا۔ ایسی صورت میں جب درخواست منسوخ کردی گئی ہو اور 30 دن کے اندر اس کا جواب نہیں ملتا تو ایک اور درخواست بھی جمع کرائی جا سکتی ہے۔7
اگر درخواست منظور ہوجاتی ہے تو ویزے سے متعلق معلومات پر مشتمل ایک ٹیکسٹ میسج اس فون پر بھیجا جائے گا، جو درخواست میں لکھا گیا ہو۔8
تاہم اس سارے سلسلے میں آپ سے گزارش ہے کہ الیکٹرانک فارم ضرور پرنٹ کریں۔9

بیوی کی آمد کی فیس

یہ بات یاد رکھیے کہ سعودی عرب میں بیوی کو لانے کی فیس دو ہزار سعودی ریال ہے۔ مگر اس کے علاوہ سعودی عرب میں داخلے کی فیس بھی دو ہزار ریال ہے، یعنی آپ کو کل چار ہزار ریال ادا کرنا ہوں گے۔ ملک میں داخل ہونے کی فیس ایک ہی بار لی جائے گی۔

سعودی عرب میں مقیم غیر ملکی باشندے جب اپنے کام اور روزگار سے مطمئن ہو جاتے ہیں تو ان کی پہلی خواہش ہوتی ہےوہ اپنے بیوی بچوں کو اپنے پاس بلایں۔ اس لیے جب وہ اپنے اس ارادے کو عملی جامہ پہنانا چاہتے ہیں تو عموما سرکاری حکام کو درخواست دینے سے اس منصوبہ بندی کا آغاز کیا جاتا ہے۔
 الرجل میگزین میں شائع ہونے والی ایک رپورٹ کے مطابق بہت سے لوگ یہ نہیں جانتے ہیں کہ انہیں ’فیملی ویزے ‘ کے لیے کن دستاویزات کی ضرورت ہے۔ نیز وہ گھر والوں کو لانے کے لیے کتنی فیس ادا کریں گے۔
اس لیے ہم آپ کو سعودی عرب میں مقیم افراد کے لیے بیوی بچوں کو لانے کی شرائط کے بارے میں بتائیں گے۔
سعودی حکومت نے درخواست جمع کروانے کا طریقہ کار اوراس کے لیے قواعد و ضوابط وضع کیے ہیں۔ آپ رہائشی درخواست کا فارم براہ راست یا وزارت داخلہ کی سرکاری ویب سائٹ کے ذریعہ جمع کروا سکتے ہیں۔

بچوں یا بیوی کو سعودی عرب میں بلانے کے قواعدوضوابط

سعودی عرب میں مقیم افراد اپنی اہلیہ اور بچوں کو ان قواعدوضوابط کے مطابق بلا سکتے ہیں۔1
 درخواست دینے والوں کا تعلق ایسے پیشہ سے ہونا چاہیے جنہیں ’فیملی سٹیٹس‘ جاری کیا جاتا ہے۔2
 مملکت کے موجودہ نظام کے مطابق جن افراد کو درخواست جمع کروانے کی اجازت ہے، وہ یہ ہیں۔ طبی عملے کے افراد جیسے ڈاکٹرز، انجینئرنگ کے شعبے میں کام کرنے والے جیسے انجینئرز اسی طرح فیکلٹی اور شعبہ تعلیم سے وابستہ افراد جیسے اساتذہ انتظامی عہدوں پر کام کرنے والے کارکن جیسے مارکیٹنگ کا سٹاف، اکاؤنٹنٹ اور دیگر نجی شعبوں میں کام کرنے والے کچھ کارکنوں کو اہلیہ اور بچوں کو بلانے کی اجازت نہیں ہے، جیسے مزدور، بڑھئی، پلمبر، ڈرائیوراور باورچی وغیرہ۔3
یہ ضروری ہے کہ اہلیہ کا پاسپورٹ اس کے اپنے ملک سے بنا ہو۔ کوئی اور طریقہ کار آبائی وطن کے پاسپورٹ کا متبادل نہیں بن سکتا ہے۔4
 جس نے ایک سے زیادہ شادیاں کی ہوں اسے سعودی عرب میں صرف ایک بیوی لانے کی اجازت ہے۔ اس لیے اسے کسی ایک بیوی کا انتخاب کرنا چاہیے۔5
جو اپنی بیوی کو لانا چاہتا ہے اسے اس بات کو یقینی بنانا ہوگا کہ وہ اس کیٹیگری میں شامل ہے، جنہیں اپنی بیوی کو لانے کی اجازت ہے۔6
 درخواست دینے والے شخص کی سعودی عرب میں اہلیہ بلانے کی درخواست جمع کرواتے وقت’اقامہ ‘ کارڈ کی مدت کم از کم  90 دن سے زیادہ ہونی چاہیے۔7
 رہائشیوں کو 18 سال یا اس سے زیادہ عمر کے بچوں کے لیے درخواست جمع کرانے کی اجازت نہیں ہے۔8
اہلیہ کو بلانے کے لیے درخواست کے ساتھ ضروری کاغذات
بیوی اور بچوں کے  پاسپورٹس کی کاپیاں ساتھ لگائیں۔ رہائشی کو یہ کاغذات تیار کرنے کی ضرورت ہے۔1
سعودی سفارت خانے، قونصل خانے یا وزارت خارجہ کے ذریعے منظور شدہ پیشے سے ملتا جلتا اہلیت کا سرٹیفکیٹ پیش کریں۔  نکاح نامہ وزارت خارجہ اور سعودی قونصل خانے سے تصدیق شدہ ہو۔2
بچوں کے پیدائش کے سرٹیفیکیٹ وزارت خارجہ سے منظور شدہ ہوں۔3
شوہر کے اقامہ کی کاپی، آجر یا کمپنی کی جانب سے  جاری کردہ تنخواہ سرٹیفیکیٹ جو کہ چیمبر آف کامرس سے تصدیق شدہ ہو۔4
اگر شوہر اکاؤنٹنٹ یا انجینئر ہے تو اسے سعودی اکاؤنٹنٹ یا انجینئرنگ کونسل سے اپنے پیشے کا مصدقہ سرٹیفیکیٹ بھی جمع کرانا ہوگا جس میں اسے فیملی سٹیٹس ہولڈرظاہر کیا گیا ہو۔5
بیوی اور بچوں کی تصاویر پیش کریں۔ یہ تصویریں نئی، واضح اور سفید پس منظر کے ساتھ ہوں اور ان کا سائز 4*6 ہو۔6
کار آمد پاسپورٹ کی کاپی7
 بینک کے ذریعے 2000 ریال فیس ادا کرنے کے بعد ادائیگی کی رسید ہمراہ لگائیں۔8

رہائشی کو لازمی طور پر درخواست پرنٹ کرنا ہو گی اور درکار معلومات کو پُر کرنا ہوگا۔ آجر کے  دستخط کروائیں اور ایوانِ تجارت سے تصدیق کروائی جائے۔

’ابشر‘ الیکٹرانک پلیٹ فارم پر بکنگ کرنا

سعودی عرب نے حال ہی میں وزارت داخلہ کی ویب سائٹ ’ابشر‘ کے ذریعے مملکت میں مقیم افراد کو اپنی بیویوں کو لانے کے طریقہ کار کی سہولت فراہم کی ہے۔

بیوی کے ویزے کے لیے درخواست جمع کروانے کا طریقہ مندرجہ ذیل ہے۔
سعودی وزارت داخلہ کی ویب سائٹ کھولیں۔1
ابشر ویب سائٹ میں لاگ ان کریں اوراکاؤنٹ بنائیں۔2
استقدام کے آپشن کا انتخاب کریں۔3
ویزا جاری کرنا‘ کی خدمت کا انتخاب کریں۔4
اس کے بعد شوہر کا ڈیٹا درج کرنے اور اس کے بارے میں معلومات فراہم کرنا ہو گی۔5
تمام اعداد و شمار کو مکمل کرنے اور ان کو پیش کرنے کے بعد درخواست کی تصدیق کی جائے گی۔6
درخواست کا جواب ۳۰ دن کے اند دیا جاے گا۔ ۳۰ دن کے اند درخواست کا جواب نا ملنے پر اسے منسوخ تصور کیا جاے گا۔ ایسی صورت میں جب درخواست منسوخ کردی گئی ہو اور 30 دن کے اندر اس کا جواب نہیں ملتا تو ایک اور درخواست بھی جمع کرائی جا سکتی ہے۔7
اگر درخواست منظور ہوجاتی ہے تو ویزے سے متعلق معلومات پر مشتمل ایک ٹیکسٹ میسج اس فون پر بھیجا جائے گا، جو درخواست میں لکھا گیا ہو۔8
تاہم اس سارے سلسلے میں آپ سے گزارش ہے کہ الیکٹرانک فارم ضرور پرنٹ کریں۔9

بیوی کی آمد کی فیس

یہ بات یاد رکھیے کہ سعودی عرب میں بیوی کو لانے کی فیس دو ہزار سعودی ریال ہے۔ مگر اس کے علاوہ سعودی عرب میں داخلے کی فیس بھی دو ہزار ریال ہے، یعنی آپ کو کل چار ہزار ریال ادا کرنا ہوں گے۔ ملک میں داخل ہونے کی فیس ایک ہی بار لی جائے گی۔

سعودی عرب میں مقیم غیر ملکی باشندے جب اپنے کام اور روزگار سے مطمئن ہو جاتے ہیں تو ان کی پہلی خواہش ہوتی ہےوہ اپنے بیوی بچوں کو اپنے پاس بلایں۔ اس لیے جب وہ اپنے اس ارادے کو عملی جامہ پہنانا چاہتے ہیں تو عموما سرکاری حکام کو درخواست دینے سے اس منصوبہ بندی کا آغاز کیا جاتا ہے۔
 الرجل میگزین میں شائع ہونے والی ایک رپورٹ کے مطابق بہت سے لوگ یہ نہیں جانتے ہیں کہ انہیں ’فیملی ویزے ‘ کے لیے کن دستاویزات کی ضرورت ہے۔ نیز وہ گھر والوں کو لانے کے لیے کتنی فیس ادا کریں گے۔
اس لیے ہم آپ کو سعودی عرب میں مقیم افراد کے لیے بیوی بچوں کو لانے کی شرائط کے بارے میں بتائیں گے۔
سعودی حکومت نے درخواست جمع کروانے کا طریقہ کار اوراس کے لیے قواعد و ضوابط وضع کیے ہیں۔ آپ رہائشی درخواست کا فارم براہ راست یا وزارت داخلہ کی سرکاری ویب سائٹ کے ذریعہ جمع کروا سکتے ہیں۔

بچوں یا بیوی کو سعودی عرب میں بلانے کے قواعدوضوابط

سعودی عرب میں مقیم افراد اپنی اہلیہ اور بچوں کو ان قواعدوضوابط کے مطابق بلا سکتے ہیں۔1
 درخواست دینے والوں کا تعلق ایسے پیشہ سے ہونا چاہیے جنہیں ’فیملی سٹیٹس‘ جاری کیا جاتا ہے۔2
 مملکت کے موجودہ نظام کے مطابق جن افراد کو درخواست جمع کروانے کی اجازت ہے، وہ یہ ہیں۔ طبی عملے کے افراد جیسے ڈاکٹرز، انجینئرنگ کے شعبے میں کام کرنے والے جیسے انجینئرز اسی طرح فیکلٹی اور شعبہ تعلیم سے وابستہ افراد جیسے اساتذہ انتظامی عہدوں پر کام کرنے والے کارکن جیسے مارکیٹنگ کا سٹاف، اکاؤنٹنٹ اور دیگر نجی شعبوں میں کام کرنے والے کچھ کارکنوں کو اہلیہ اور بچوں کو بلانے کی اجازت نہیں ہے، جیسے مزدور، بڑھئی، پلمبر، ڈرائیوراور باورچی وغیرہ۔3
یہ ضروری ہے کہ اہلیہ کا پاسپورٹ اس کے اپنے ملک سے بنا ہو۔ کوئی اور طریقہ کار آبائی وطن کے پاسپورٹ کا متبادل نہیں بن سکتا ہے۔4
 جس نے ایک سے زیادہ شادیاں کی ہوں اسے سعودی عرب میں صرف ایک بیوی لانے کی اجازت ہے۔ اس لیے اسے کسی ایک بیوی کا انتخاب کرنا چاہیے۔5
جو اپنی بیوی کو لانا چاہتا ہے اسے اس بات کو یقینی بنانا ہوگا کہ وہ اس کیٹیگری میں شامل ہے، جنہیں اپنی بیوی کو لانے کی اجازت ہے۔6
 درخواست دینے والے شخص کی سعودی عرب میں اہلیہ بلانے کی درخواست جمع کرواتے وقت’اقامہ ‘ کارڈ کی مدت کم از کم  90 دن سے زیادہ ہونی چاہیے۔7
 رہائشیوں کو 18 سال یا اس سے زیادہ عمر کے بچوں کے لیے درخواست جمع کرانے کی اجازت نہیں ہے۔8
اہلیہ کو بلانے کے لیے درخواست کے ساتھ ضروری کاغذات
بیوی اور بچوں کے  پاسپورٹس کی کاپیاں ساتھ لگائیں۔ رہائشی کو یہ کاغذات تیار کرنے کی ضرورت ہے۔1
سعودی سفارت خانے، قونصل خانے یا وزارت خارجہ کے ذریعے منظور شدہ پیشے سے ملتا جلتا اہلیت کا سرٹیفکیٹ پیش کریں۔  نکاح نامہ وزارت خارجہ اور سعودی قونصل خانے سے تصدیق شدہ ہو۔2
بچوں کے پیدائش کے سرٹیفیکیٹ وزارت خارجہ سے منظور شدہ ہوں۔3
شوہر کے اقامہ کی کاپی، آجر یا کمپنی کی جانب سے  جاری کردہ تنخواہ سرٹیفیکیٹ جو کہ چیمبر آف کامرس سے تصدیق شدہ ہو۔4
اگر شوہر اکاؤنٹنٹ یا انجینئر ہے تو اسے سعودی اکاؤنٹنٹ یا انجینئرنگ کونسل سے اپنے پیشے کا مصدقہ سرٹیفیکیٹ بھی جمع کرانا ہوگا جس میں اسے فیملی سٹیٹس ہولڈرظاہر کیا گیا ہو۔5
بیوی اور بچوں کی تصاویر پیش کریں۔ یہ تصویریں نئی، واضح اور سفید پس منظر کے ساتھ ہوں اور ان کا سائز 4*6 ہو۔6
کار آمد پاسپورٹ کی کاپی7
 بینک کے ذریعے 2000 ریال فیس ادا کرنے کے بعد ادائیگی کی رسید ہمراہ لگائیں۔8

رہائشی کو لازمی طور پر درخواست پرنٹ کرنا ہو گی اور درکار معلومات کو پُر کرنا ہوگا۔ آجر کے  دستخط کروائیں اور ایوانِ تجارت سے تصدیق کروائی جائے۔

’ابشر‘ الیکٹرانک پلیٹ فارم پر بکنگ کرنا

سعودی عرب نے حال ہی میں وزارت داخلہ کی ویب سائٹ ’ابشر‘ کے ذریعے مملکت میں مقیم افراد کو اپنی بیویوں کو لانے کے طریقہ کار کی سہولت فراہم کی ہے۔

بیوی کے ویزے کے لیے درخواست جمع کروانے کا طریقہ مندرجہ ذیل ہے۔
سعودی وزارت داخلہ کی ویب سائٹ کھولیں۔1
ابشر ویب سائٹ میں لاگ ان کریں اوراکاؤنٹ بنائیں۔2
استقدام کے آپشن کا انتخاب کریں۔3
ویزا جاری کرنا‘ کی خدمت کا انتخاب کریں۔4
اس کے بعد شوہر کا ڈیٹا درج کرنے اور اس کے بارے میں معلومات فراہم کرنا ہو گی۔5
تمام اعداد و شمار کو مکمل کرنے اور ان کو پیش کرنے کے بعد درخواست کی تصدیق کی جائے گی۔6
درخواست کا جواب ۳۰ دن کے اند دیا جاے گا۔ ۳۰ دن کے اند درخواست کا جواب نا ملنے پر اسے منسوخ تصور کیا جاے گا۔ ایسی صورت میں جب درخواست منسوخ کردی گئی ہو اور 30 دن کے اندر اس کا جواب نہیں ملتا تو ایک اور درخواست بھی جمع کرائی جا سکتی ہے۔7
اگر درخواست منظور ہوجاتی ہے تو ویزے سے متعلق معلومات پر مشتمل ایک ٹیکسٹ میسج اس فون پر بھیجا جائے گا، جو درخواست میں لکھا گیا ہو۔8
تاہم اس سارے سلسلے میں آپ سے گزارش ہے کہ الیکٹرانک فارم ضرور پرنٹ کریں۔9

بیوی کی آمد کی فیس

یہ بات یاد رکھیے کہ سعودی عرب میں بیوی کو لانے کی فیس دو ہزار سعودی ریال ہے۔ مگر اس کے علاوہ سعودی عرب میں داخلے کی فیس بھی دو ہزار ریال ہے، یعنی آپ کو کل چار ہزار ریال ادا کرنا ہوں گے۔ ملک میں داخل ہونے کی فیس ایک ہی بار لی جائے گی۔

Related Articles

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here

Stay Connected

22,046FansLike
2,984FollowersFollow
18,400SubscribersSubscribe

Latest Articles