25 C
Lahore
Tuesday, October 19, 2021

چغتائی لیب پر پابندی عائد کرنے کا مطالبہ

غلط بلڈ گروپ کی رپورٹ سے مریضہ کے گردے فیل، موت واقع

لاہور (تازہ ترین) : مائیکروبلاگنگ ویب سائٹ ٹویٹر پر ایک صارف نے اپنے پیغام میں بتایا کہ چغتائی لیب نے مریضہ کرن کا بلڈ گروپ غلط بتایا اور اس رپورٹ کی بنیاد پر سرجیمیڈ اسپتال میں مریضہ کو غلط بلڈ گروپ کی ٹرانسفیوژن کی گئی، اس سے کرن کے دونوں گردے کام کرنا چھوڑ گئے اور وہ جان کی بازی ہار گئی۔

اس ٹویٹ کے بعد سے ہی سوشل میڈیا پر #BanChughtaiLab کا ہیش ٹیگ ٹرینڈ کر رہا ہے جسے استعمال کرتے ہوئے ٹویٹر صارفین نے مجرمانہ غفلت برتنے اور اس کے نتیجے میں ہونے والی ہلاکت کا ذمہ دار چغتائی لیب کو ٹھہراتے ہوئے اس لیبارٹری کو فوری پر بند کرنے اور اس پر پابندی عائد کرنے کا مطالبہ کر دیا ہے۔

واضح رہے کہ بلڈ ٹرانسفیوژن مختلف طبی وجوہات کی بناء پر کی جاتی ہے بالخصوص جب مریض کے خون کے اجزاء ضائع ہوجاتے ہیں۔ جبکہ ہیمولیٹک ٹرانسفیوژن اس وقت ہوتی ہے جب مریض کا خون ٹرانسفیوژ کیے جانے والے خون سے مطابقت نا رکھے یعنی جب مریض کا بلڈ گروپ ٹرانسفیوژ کیے جانے والے بلڈ گروپ سے مختلف ہو۔

مختلف بلڈ گروپ کا خون لگنے سے منتقل ہونے والے خون کے سرخ خلیوں پر قوت مدافعت حملہ آور ہوتی ہے اور یہی اس کے جان لیوا ہونے کی وجہ بنتی ہے، کرن کے ساتھ بھی یہی ہوا۔

 علاج کی تشخیص کی غرض سے لیبارٹری اور اسپتال آنے والے کرن چغتائی لیبارٹری انتظامیہ کی مجرمانہ غفلت کا نشانہ بنی ۔ چغتائی لیب کی رپورٹ میں کرن کا بلڈ گروپ AB+ بتایا گیا جو کہ غلط تھا ، کرن کا اصل بلڈ گروپ B+ تھا ، سرجیمیڈ اسپتال کے ڈاکٹرز نے چغتائی لیب کی رپورٹ کی بنیاد پر کرن کو AB+ بلڈ گروپ کا خون لگا دیا جس سے اُس کے دونوں گردے فیل ہو گئے ۔

صارفین نے اس واقعہ پر شدید غم و غصے کا اظہار کیا ہے اور فوری طور پر چغتائی لیب کو بند کرنے اور اس پر پابندی لگانے کا مطالبہ کیا ہے۔ صارفین کا کہنا ہے کہ چغتائی لیب جیسی بڑی لیبارٹری کی طرف سے اس قسم کی غفلت برتنا انتہائی تشویشناک بات ہے۔

صارفین نے پنجاب حکومت اور ہیلتھ کمیشن سے بھی چغتائی لیب کے خلاف ایکشن لینے اور سخت کارروائی کرنے کا مطالبہ کیا۔
https://twitter.com/arslankhalid300/status/1361550094210859008?ref_src=twsrc%5Etfw%7Ctwcamp%5Etweetembed%7Ctwterm%5E1361550094210859008%7Ctwgr%5E%7Ctwcon%5Es1_&ref_url=https%3A%2F%2Fwww.urdupoint.com%2Fdaily%2Flivenews%2F2021-02-16%2Fnews-2730277.html

اس ٹویٹر ٹرینڈ کو فالو کرنے والے ایک صارف نے اسپتال کے ڈاکٹرز اور لیب انتظامیہ کے خلاف ایف آئی آر درج کرنے کا بھی مطالبہ کیا۔

دوسری جانب جب میڈیا کی طرف سے چغتائی لیب کے ڈائریکٹر ڈاکٹر عمر چغتائی سے رابطہ کیا گیا تو انہوں نے اس ضمن میں کوئی بھی مؤقف دینے سے انکار کر دیا اور کہا کہ فی الحال وہ اس معاملے کو میڈیا پر ڈسکس نہیں کر سکتے۔ اس معاملے میں کتنی سچائی ہے یہ بات چغتائی لیب کے باقاعدہ مؤقف آنے پر ہی پتہ چلے گی، لہذاہ ابھی اس بارے میں کچھ بھی کہنا قبل از وقت ہے۔

غلط بلڈ گروپ کی رپورٹ سے مریضہ کے گردے فیل، موت واقع

لاہور (تازہ ترین) : مائیکروبلاگنگ ویب سائٹ ٹویٹر پر ایک صارف نے اپنے پیغام میں بتایا کہ چغتائی لیب نے مریضہ کرن کا بلڈ گروپ غلط بتایا اور اس رپورٹ کی بنیاد پر سرجیمیڈ اسپتال میں مریضہ کو غلط بلڈ گروپ کی ٹرانسفیوژن کی گئی، اس سے کرن کے دونوں گردے کام کرنا چھوڑ گئے اور وہ جان کی بازی ہار گئی۔

اس ٹویٹ کے بعد سے ہی سوشل میڈیا پر #BanChughtaiLab کا ہیش ٹیگ ٹرینڈ کر رہا ہے جسے استعمال کرتے ہوئے ٹویٹر صارفین نے مجرمانہ غفلت برتنے اور اس کے نتیجے میں ہونے والی ہلاکت کا ذمہ دار چغتائی لیب کو ٹھہراتے ہوئے اس لیبارٹری کو فوری پر بند کرنے اور اس پر پابندی عائد کرنے کا مطالبہ کر دیا ہے۔

واضح رہے کہ بلڈ ٹرانسفیوژن مختلف طبی وجوہات کی بناء پر کی جاتی ہے بالخصوص جب مریض کے خون کے اجزاء ضائع ہوجاتے ہیں۔ جبکہ ہیمولیٹک ٹرانسفیوژن اس وقت ہوتی ہے جب مریض کا خون ٹرانسفیوژ کیے جانے والے خون سے مطابقت نا رکھے یعنی جب مریض کا بلڈ گروپ ٹرانسفیوژ کیے جانے والے بلڈ گروپ سے مختلف ہو۔

مختلف بلڈ گروپ کا خون لگنے سے منتقل ہونے والے خون کے سرخ خلیوں پر قوت مدافعت حملہ آور ہوتی ہے اور یہی اس کے جان لیوا ہونے کی وجہ بنتی ہے، کرن کے ساتھ بھی یہی ہوا۔

 علاج کی تشخیص کی غرض سے لیبارٹری اور اسپتال آنے والے کرن چغتائی لیبارٹری انتظامیہ کی مجرمانہ غفلت کا نشانہ بنی ۔ چغتائی لیب کی رپورٹ میں کرن کا بلڈ گروپ AB+ بتایا گیا جو کہ غلط تھا ، کرن کا اصل بلڈ گروپ B+ تھا ، سرجیمیڈ اسپتال کے ڈاکٹرز نے چغتائی لیب کی رپورٹ کی بنیاد پر کرن کو AB+ بلڈ گروپ کا خون لگا دیا جس سے اُس کے دونوں گردے فیل ہو گئے ۔

صارفین نے اس واقعہ پر شدید غم و غصے کا اظہار کیا ہے اور فوری طور پر چغتائی لیب کو بند کرنے اور اس پر پابندی لگانے کا مطالبہ کیا ہے۔ صارفین کا کہنا ہے کہ چغتائی لیب جیسی بڑی لیبارٹری کی طرف سے اس قسم کی غفلت برتنا انتہائی تشویشناک بات ہے۔

صارفین نے پنجاب حکومت اور ہیلتھ کمیشن سے بھی چغتائی لیب کے خلاف ایکشن لینے اور سخت کارروائی کرنے کا مطالبہ کیا۔
https://twitter.com/arslankhalid300/status/1361550094210859008?ref_src=twsrc%5Etfw%7Ctwcamp%5Etweetembed%7Ctwterm%5E1361550094210859008%7Ctwgr%5E%7Ctwcon%5Es1_&ref_url=https%3A%2F%2Fwww.urdupoint.com%2Fdaily%2Flivenews%2F2021-02-16%2Fnews-2730277.html

اس ٹویٹر ٹرینڈ کو فالو کرنے والے ایک صارف نے اسپتال کے ڈاکٹرز اور لیب انتظامیہ کے خلاف ایف آئی آر درج کرنے کا بھی مطالبہ کیا۔

دوسری جانب جب میڈیا کی طرف سے چغتائی لیب کے ڈائریکٹر ڈاکٹر عمر چغتائی سے رابطہ کیا گیا تو انہوں نے اس ضمن میں کوئی بھی مؤقف دینے سے انکار کر دیا اور کہا کہ فی الحال وہ اس معاملے کو میڈیا پر ڈسکس نہیں کر سکتے۔ اس معاملے میں کتنی سچائی ہے یہ بات چغتائی لیب کے باقاعدہ مؤقف آنے پر ہی پتہ چلے گی، لہذاہ ابھی اس بارے میں کچھ بھی کہنا قبل از وقت ہے۔

غلط بلڈ گروپ کی رپورٹ سے مریضہ کے گردے فیل، موت واقع

لاہور (تازہ ترین) : مائیکروبلاگنگ ویب سائٹ ٹویٹر پر ایک صارف نے اپنے پیغام میں بتایا کہ چغتائی لیب نے مریضہ کرن کا بلڈ گروپ غلط بتایا اور اس رپورٹ کی بنیاد پر سرجیمیڈ اسپتال میں مریضہ کو غلط بلڈ گروپ کی ٹرانسفیوژن کی گئی، اس سے کرن کے دونوں گردے کام کرنا چھوڑ گئے اور وہ جان کی بازی ہار گئی۔

اس ٹویٹ کے بعد سے ہی سوشل میڈیا پر #BanChughtaiLab کا ہیش ٹیگ ٹرینڈ کر رہا ہے جسے استعمال کرتے ہوئے ٹویٹر صارفین نے مجرمانہ غفلت برتنے اور اس کے نتیجے میں ہونے والی ہلاکت کا ذمہ دار چغتائی لیب کو ٹھہراتے ہوئے اس لیبارٹری کو فوری پر بند کرنے اور اس پر پابندی عائد کرنے کا مطالبہ کر دیا ہے۔

واضح رہے کہ بلڈ ٹرانسفیوژن مختلف طبی وجوہات کی بناء پر کی جاتی ہے بالخصوص جب مریض کے خون کے اجزاء ضائع ہوجاتے ہیں۔ جبکہ ہیمولیٹک ٹرانسفیوژن اس وقت ہوتی ہے جب مریض کا خون ٹرانسفیوژ کیے جانے والے خون سے مطابقت نا رکھے یعنی جب مریض کا بلڈ گروپ ٹرانسفیوژ کیے جانے والے بلڈ گروپ سے مختلف ہو۔

مختلف بلڈ گروپ کا خون لگنے سے منتقل ہونے والے خون کے سرخ خلیوں پر قوت مدافعت حملہ آور ہوتی ہے اور یہی اس کے جان لیوا ہونے کی وجہ بنتی ہے، کرن کے ساتھ بھی یہی ہوا۔

 علاج کی تشخیص کی غرض سے لیبارٹری اور اسپتال آنے والے کرن چغتائی لیبارٹری انتظامیہ کی مجرمانہ غفلت کا نشانہ بنی ۔ چغتائی لیب کی رپورٹ میں کرن کا بلڈ گروپ AB+ بتایا گیا جو کہ غلط تھا ، کرن کا اصل بلڈ گروپ B+ تھا ، سرجیمیڈ اسپتال کے ڈاکٹرز نے چغتائی لیب کی رپورٹ کی بنیاد پر کرن کو AB+ بلڈ گروپ کا خون لگا دیا جس سے اُس کے دونوں گردے فیل ہو گئے ۔

صارفین نے اس واقعہ پر شدید غم و غصے کا اظہار کیا ہے اور فوری طور پر چغتائی لیب کو بند کرنے اور اس پر پابندی لگانے کا مطالبہ کیا ہے۔ صارفین کا کہنا ہے کہ چغتائی لیب جیسی بڑی لیبارٹری کی طرف سے اس قسم کی غفلت برتنا انتہائی تشویشناک بات ہے۔

صارفین نے پنجاب حکومت اور ہیلتھ کمیشن سے بھی چغتائی لیب کے خلاف ایکشن لینے اور سخت کارروائی کرنے کا مطالبہ کیا۔
https://twitter.com/arslankhalid300/status/1361550094210859008?ref_src=twsrc%5Etfw%7Ctwcamp%5Etweetembed%7Ctwterm%5E1361550094210859008%7Ctwgr%5E%7Ctwcon%5Es1_&ref_url=https%3A%2F%2Fwww.urdupoint.com%2Fdaily%2Flivenews%2F2021-02-16%2Fnews-2730277.html

اس ٹویٹر ٹرینڈ کو فالو کرنے والے ایک صارف نے اسپتال کے ڈاکٹرز اور لیب انتظامیہ کے خلاف ایف آئی آر درج کرنے کا بھی مطالبہ کیا۔

دوسری جانب جب میڈیا کی طرف سے چغتائی لیب کے ڈائریکٹر ڈاکٹر عمر چغتائی سے رابطہ کیا گیا تو انہوں نے اس ضمن میں کوئی بھی مؤقف دینے سے انکار کر دیا اور کہا کہ فی الحال وہ اس معاملے کو میڈیا پر ڈسکس نہیں کر سکتے۔ اس معاملے میں کتنی سچائی ہے یہ بات چغتائی لیب کے باقاعدہ مؤقف آنے پر ہی پتہ چلے گی، لہذاہ ابھی اس بارے میں کچھ بھی کہنا قبل از وقت ہے۔

Related Articles

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here

Stay Connected

22,046FansLike
2,984FollowersFollow
18,400SubscribersSubscribe

Latest Articles