26 C
Lahore
Tuesday, October 19, 2021

فرعون کا ایسا مقبرہ جسے دریافت کرنے والے تمام لوگ فرعون کی بد دعا سے مارے گئے

مصر ایک ایسا قدیم ملک ہے جہاں بہت سی پُرانی چیزیں آئے روز دریافت ہوتی رہتی ہیں۔ جو لوگ قدیمی چیزوں کی تلاش میں رہتے ہیں، وہ مصر میں ہی زیادہ قیام کرنا پسند کرتے ہیں۔ اسی لیے آثارِقدیمہ کے ماہرین بھی مصر سے بہت سی چیزیں دریافت کر چکے ہیں۔ اور ابھی تک دریافت کرنے میں لگے ہوئے ہیں۔

مصر سے سب سے زیادہ پُرانی چیزوں کی تلاش کی تعداد فرعون کی ممی اور اس کے مقبروں کی ہے۔

مگر مصر سے ایک ایسا خزانہ بھی تلاش ہوا ہے۔ جس کو ڈھونڈنے والے تمام لوگ ہی اب اس دنیا میں نہیں ہیں۔

:مقبرے کی تلاش

سن 1922ء میں مصر کے شہر لگثر کے نزدیک سے۔ توتن خامن نامی فرعون کا یک مقبرہ تلاش کیا گیا تھا۔ اس ریسرچ میں بہت سے لوگوں کی تعداد شامل تھی۔ اس مقبرے پر مصر کی زبان میں کچھ لکھا ہوا تھا، جسے تب تو ان ماہرین نے نہیں دیکھا تھا۔ اسی لیے وہ اس کا مطلب بھی اس وقت سمجھ نہیں پائے۔

وہ تحریر دراصل موت کی خبر تھی۔ جب ماہرین نے اس قدیم تحریر کا ترجمعہ کیا تھا، وہ حیران رہ گئے۔ کیونکہ لکھا ہوا تھا کہ جس نے بھی سوئے ہوئے فرعون کو جگانے کی کوشش کی وہ اپنی جان سے ہاتھ دھو بیٹھے گا۔

حقیقتاً ہوا بھی ایسا ہی، کیونکہ جتنے بھی لوگ اس ریسرچ کا حصہ تھے۔ چاہے اس نے تابوت کو ہاتھ ہی لگایا ہو۔ وہ اس ریسرچ کے چند سالوں بعد ہی اپنی زندگی کو کھو بیٹھا۔ کوئی بھی اپنی آئی نہیں مرا بلکہ کسی نہ کسی حادثے کو شکار ہی ہوا۔

ان لوگوں کے کئی ساتھیوں کا کہنا تھا۔ کہ ان میں سے 15 یا 17 لوگ، تو اس ریسرچ کے 5 سے 6 سال بعد ہی وفات پا گیا۔۔

:جارج ایڈورڈ کی موت کا قصہ

ان میں سے سب سے عجیب موت تو برطانیہ کے مشہور اشرفیہ اور ماہرین جارج ایڈورڈ کی تھی۔ جارج ایڈورڈ کو ایسے پروجیکٹوں میں بھی بہت دلچسپی تھی۔ اسی لیے اس ریسرچ کے تمام اخراجات بھی جارج ایڈورڈ ہی دیکھ رہے، تمام پیسے وہی لگا رہے تھے۔

جب فرعون کی ممی کی دریافت ہوئی۔ تو اس کے کچھ مہینوں بعد ہی جارج ایڈورڈ ایک بہت خطرناک بیماری کی ضد میں آ گئے۔ اسی لیے وہ اس وبا کی وجہ سے موت کا شکار ہو گئے۔ حالانکہ ان کی زوجہ بھی اس خطرناک بیماری کا شکار ہوئی تھی۔ مگر وہ چند ماہ بعد ہی صحت یاب ہو گئیں اور ان کی عمر بھی بہت زیادہ تھی۔

اس دریاقفت میں جتنے افراد بھی شامل تھے، ان کی موت آج تک ایک سوالیہ نشان ہی بنی ہوئی ہے۔ وہ یا تو کسی بیماری میں مبتلا ہو گئے یا پھر روڈ ایکسیڈنٹ میں مارے گئے۔ اسی لیے آج تک کئی ماہرین اسی کھوج میں لگے ہوئے ہیں، کہ کیا ان کی موت اس تحریر کی وجہ سے ہوئی ہے۔ یا پھر انہیں مرنا ہی اس طرح تھا۔

مصر ایک ایسا قدیم ملک ہے جہاں بہت سی پُرانی چیزیں آئے روز دریافت ہوتی رہتی ہیں۔ جو لوگ قدیمی چیزوں کی تلاش میں رہتے ہیں، وہ مصر میں ہی زیادہ قیام کرنا پسند کرتے ہیں۔ اسی لیے آثارِقدیمہ کے ماہرین بھی مصر سے بہت سی چیزیں دریافت کر چکے ہیں۔ اور ابھی تک دریافت کرنے میں لگے ہوئے ہیں۔

مصر سے سب سے زیادہ پُرانی چیزوں کی تلاش کی تعداد فرعون کی ممی اور اس کے مقبروں کی ہے۔

مگر مصر سے ایک ایسا خزانہ بھی تلاش ہوا ہے۔ جس کو ڈھونڈنے والے تمام لوگ ہی اب اس دنیا میں نہیں ہیں۔

:مقبرے کی تلاش

سن 1922ء میں مصر کے شہر لگثر کے نزدیک سے۔ توتن خامن نامی فرعون کا یک مقبرہ تلاش کیا گیا تھا۔ اس ریسرچ میں بہت سے لوگوں کی تعداد شامل تھی۔ اس مقبرے پر مصر کی زبان میں کچھ لکھا ہوا تھا، جسے تب تو ان ماہرین نے نہیں دیکھا تھا۔ اسی لیے وہ اس کا مطلب بھی اس وقت سمجھ نہیں پائے۔

وہ تحریر دراصل موت کی خبر تھی۔ جب ماہرین نے اس قدیم تحریر کا ترجمعہ کیا تھا، وہ حیران رہ گئے۔ کیونکہ لکھا ہوا تھا کہ جس نے بھی سوئے ہوئے فرعون کو جگانے کی کوشش کی وہ اپنی جان سے ہاتھ دھو بیٹھے گا۔

حقیقتاً ہوا بھی ایسا ہی، کیونکہ جتنے بھی لوگ اس ریسرچ کا حصہ تھے۔ چاہے اس نے تابوت کو ہاتھ ہی لگایا ہو۔ وہ اس ریسرچ کے چند سالوں بعد ہی اپنی زندگی کو کھو بیٹھا۔ کوئی بھی اپنی آئی نہیں مرا بلکہ کسی نہ کسی حادثے کو شکار ہی ہوا۔

ان لوگوں کے کئی ساتھیوں کا کہنا تھا۔ کہ ان میں سے 15 یا 17 لوگ، تو اس ریسرچ کے 5 سے 6 سال بعد ہی وفات پا گیا۔۔

:جارج ایڈورڈ کی موت کا قصہ

ان میں سے سب سے عجیب موت تو برطانیہ کے مشہور اشرفیہ اور ماہرین جارج ایڈورڈ کی تھی۔ جارج ایڈورڈ کو ایسے پروجیکٹوں میں بھی بہت دلچسپی تھی۔ اسی لیے اس ریسرچ کے تمام اخراجات بھی جارج ایڈورڈ ہی دیکھ رہے، تمام پیسے وہی لگا رہے تھے۔

جب فرعون کی ممی کی دریافت ہوئی۔ تو اس کے کچھ مہینوں بعد ہی جارج ایڈورڈ ایک بہت خطرناک بیماری کی ضد میں آ گئے۔ اسی لیے وہ اس وبا کی وجہ سے موت کا شکار ہو گئے۔ حالانکہ ان کی زوجہ بھی اس خطرناک بیماری کا شکار ہوئی تھی۔ مگر وہ چند ماہ بعد ہی صحت یاب ہو گئیں اور ان کی عمر بھی بہت زیادہ تھی۔

اس دریاقفت میں جتنے افراد بھی شامل تھے، ان کی موت آج تک ایک سوالیہ نشان ہی بنی ہوئی ہے۔ وہ یا تو کسی بیماری میں مبتلا ہو گئے یا پھر روڈ ایکسیڈنٹ میں مارے گئے۔ اسی لیے آج تک کئی ماہرین اسی کھوج میں لگے ہوئے ہیں، کہ کیا ان کی موت اس تحریر کی وجہ سے ہوئی ہے۔ یا پھر انہیں مرنا ہی اس طرح تھا۔

مصر ایک ایسا قدیم ملک ہے جہاں بہت سی پُرانی چیزیں آئے روز دریافت ہوتی رہتی ہیں۔ جو لوگ قدیمی چیزوں کی تلاش میں رہتے ہیں، وہ مصر میں ہی زیادہ قیام کرنا پسند کرتے ہیں۔ اسی لیے آثارِقدیمہ کے ماہرین بھی مصر سے بہت سی چیزیں دریافت کر چکے ہیں۔ اور ابھی تک دریافت کرنے میں لگے ہوئے ہیں۔

مصر سے سب سے زیادہ پُرانی چیزوں کی تلاش کی تعداد فرعون کی ممی اور اس کے مقبروں کی ہے۔

مگر مصر سے ایک ایسا خزانہ بھی تلاش ہوا ہے۔ جس کو ڈھونڈنے والے تمام لوگ ہی اب اس دنیا میں نہیں ہیں۔

:مقبرے کی تلاش

سن 1922ء میں مصر کے شہر لگثر کے نزدیک سے۔ توتن خامن نامی فرعون کا یک مقبرہ تلاش کیا گیا تھا۔ اس ریسرچ میں بہت سے لوگوں کی تعداد شامل تھی۔ اس مقبرے پر مصر کی زبان میں کچھ لکھا ہوا تھا، جسے تب تو ان ماہرین نے نہیں دیکھا تھا۔ اسی لیے وہ اس کا مطلب بھی اس وقت سمجھ نہیں پائے۔

وہ تحریر دراصل موت کی خبر تھی۔ جب ماہرین نے اس قدیم تحریر کا ترجمعہ کیا تھا، وہ حیران رہ گئے۔ کیونکہ لکھا ہوا تھا کہ جس نے بھی سوئے ہوئے فرعون کو جگانے کی کوشش کی وہ اپنی جان سے ہاتھ دھو بیٹھے گا۔

حقیقتاً ہوا بھی ایسا ہی، کیونکہ جتنے بھی لوگ اس ریسرچ کا حصہ تھے۔ چاہے اس نے تابوت کو ہاتھ ہی لگایا ہو۔ وہ اس ریسرچ کے چند سالوں بعد ہی اپنی زندگی کو کھو بیٹھا۔ کوئی بھی اپنی آئی نہیں مرا بلکہ کسی نہ کسی حادثے کو شکار ہی ہوا۔

ان لوگوں کے کئی ساتھیوں کا کہنا تھا۔ کہ ان میں سے 15 یا 17 لوگ، تو اس ریسرچ کے 5 سے 6 سال بعد ہی وفات پا گیا۔۔

:جارج ایڈورڈ کی موت کا قصہ

ان میں سے سب سے عجیب موت تو برطانیہ کے مشہور اشرفیہ اور ماہرین جارج ایڈورڈ کی تھی۔ جارج ایڈورڈ کو ایسے پروجیکٹوں میں بھی بہت دلچسپی تھی۔ اسی لیے اس ریسرچ کے تمام اخراجات بھی جارج ایڈورڈ ہی دیکھ رہے، تمام پیسے وہی لگا رہے تھے۔

جب فرعون کی ممی کی دریافت ہوئی۔ تو اس کے کچھ مہینوں بعد ہی جارج ایڈورڈ ایک بہت خطرناک بیماری کی ضد میں آ گئے۔ اسی لیے وہ اس وبا کی وجہ سے موت کا شکار ہو گئے۔ حالانکہ ان کی زوجہ بھی اس خطرناک بیماری کا شکار ہوئی تھی۔ مگر وہ چند ماہ بعد ہی صحت یاب ہو گئیں اور ان کی عمر بھی بہت زیادہ تھی۔

اس دریاقفت میں جتنے افراد بھی شامل تھے، ان کی موت آج تک ایک سوالیہ نشان ہی بنی ہوئی ہے۔ وہ یا تو کسی بیماری میں مبتلا ہو گئے یا پھر روڈ ایکسیڈنٹ میں مارے گئے۔ اسی لیے آج تک کئی ماہرین اسی کھوج میں لگے ہوئے ہیں، کہ کیا ان کی موت اس تحریر کی وجہ سے ہوئی ہے۔ یا پھر انہیں مرنا ہی اس طرح تھا۔

Related Articles

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here

Stay Connected

22,046FansLike
2,984FollowersFollow
18,400SubscribersSubscribe

Latest Articles