25 C
Lahore
Tuesday, October 19, 2021

پاکستانی مرد ملازمت والی یا گھریلو لڑکی سے شادی کرنا چاہتے ہیں

شادی کے لیے لڑکوں والوں کی مرضی پوچھی جائے، تو انہیں ہمیشہ گھریلو لڑکی کی تلاش ہوتی ہے۔ وہ ایسی لڑکی چاہتے ہیں، جو کھانا پکانا جانتی ہو، تمام گھریلو کام ذمہ داری سے کرتی ہو۔ اسی کے ساتھ ساتھ پرھی کھی بھی ہونی چاہیئے تاکہ بچوں کی تربیت اچھے طریقے سے کر سکے۔ مگر آج کے نوجوان مہنگائی سے پریشان ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ بیوی ایسی ہو جو گھر گرہستی بھی سنبھالے، اور ساتھ ہی نوکری بھی کرے۔ تاکہ گھر کے اخراجات بھی با آسانی پورے ہو سکیں۔ آج ہم آپ کو اس آٹیکل میں بتائیں گے، کہ پاکستانی مرد کس طرح کی لڑکیوں سے شادی کرنا چاہتے ہیں۔

The girls are sitting

:مجھے تو گھریلو بیوی ہی چاہئیے

مرد حضرات سے جب یہ سوال کیا گیا۔ تو جوابوں کی اکثریت یہ تھی کہ پاکستانی مرد چاہتے ہیں کہ بیوی گھریلو ہو۔ وہ اس لیے کہ گھر کے اخراجات پورے کرنا ہمارا کام ہے۔ اور گھر میں بچوں کی تربیت کرنا اور تمام گھریلو کام کرنا بیویوں کی ذمہ داری ہے۔ بعض کا کہنا تھا، کہ بیویی جس جگہ کام کرتی ہو۔ اس دفتر کا ماحول ویسٹرن بلکل بھی نہیں ہونا چاہیئے۔ ایک مرد کا تو یہ کہنا تھا کہ وہ نہیں چاہتے کہ کوئی غیر مرد میری بیوی کو دیکھے۔ اس لیے میں چاہتا ہوں کہ میری بیوی بلکل گھریلو ہونی چاہیئے۔

The woman is working in the kitchen

:میں پڑھا لکھا ہوں تو بیوی بھی پڑھی لکھی ہو

کچھ نے تو گھریلو بیویوں سے شادی کرنا چاہا۔ مگر کچھ کا کہنا تھا کہ اگر ہم پڑھے لکھے ہیں، تو ہماری بیوی بھی پڑھی لکھی ہونی چاہیئے۔ تاکہ دونوں کی سوچ ایک جیسی ہو، اور ایک دوسرے کو سمجھ سکیں۔ اور اپنے گھر کو ایک خوشحال گھر بنا سکیں۔ لیکن کچھ مردوں نے ڈاکٹر بیویوں سے دور رہنا بہتر سمجھا۔

The woman is working in the office

:خواتین اس بارے میں کیا کہتی ہیں

مردوں کے بعد خواتین سے بھی اس کے متعلق سوالات کیے گئے۔ جس میں ایک خاتون کا کہنا تھا، کہ اگر مرد تعلیم یافتہ ہے، تو اسے بیوی بھی تعلیم یافتہ چاہیئے ہو گی۔ لیک اگر وہ شکی ہے، تو اسے بیوی گھریلو ہی چاہیئے ہو گی۔ کچھ خواتین کا کہنا تھا، کہ ان میں اتنی ہمت ہے کہ وہ گھر گہستی بھی سنبھال سکیں اور باہر کہیں ملازمت بھی کر سکیں۔ اس لیے اگر لڑکی نوکری کی خواہش ظاہر کرتی ہے، تو اسے اجازت دے دینی چاہیئے۔ اس فیصلے میں گھر والوں کو بھی سنجیدہ ہونا چاہیئے۔

The girl is thinking

:خواتین کی حقیقی ذمہ داریاں

ہمارے معاشرے مٰں اکثر پیشہ وارانہ کواتین کو پسند نہیں کیا جاتا۔ اس کی سب سے بڑی وجہ یہ ہے کہ، اسلامی تعلیمات کے مطابق گھر کے اخراجات پورے کرنے کی ذمہ داری اللہ تعالیٰ نے مرد پر فرض کی ہے۔ جبکہ گھر کی ذمہ داریوں پر پورا اترنا عورت کی ذمہ داری ہے۔ لیکن اسلام میں یہ ہرگز نہیں کہا گیا، کہ عورت اپنی صلاحیتوں کو نہ آزمائے۔

شادی کے لیے لڑکوں والوں کی مرضی پوچھی جائے، تو انہیں ہمیشہ گھریلو لڑکی کی تلاش ہوتی ہے۔ وہ ایسی لڑکی چاہتے ہیں، جو کھانا پکانا جانتی ہو، تمام گھریلو کام ذمہ داری سے کرتی ہو۔ اسی کے ساتھ ساتھ پرھی کھی بھی ہونی چاہیئے تاکہ بچوں کی تربیت اچھے طریقے سے کر سکے۔ مگر آج کے نوجوان مہنگائی سے پریشان ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ بیوی ایسی ہو جو گھر گرہستی بھی سنبھالے، اور ساتھ ہی نوکری بھی کرے۔ تاکہ گھر کے اخراجات بھی با آسانی پورے ہو سکیں۔ آج ہم آپ کو اس آٹیکل میں بتائیں گے، کہ پاکستانی مرد کس طرح کی لڑکیوں سے شادی کرنا چاہتے ہیں۔

The girls are sitting

:مجھے تو گھریلو بیوی ہی چاہئیے

مرد حضرات سے جب یہ سوال کیا گیا۔ تو جوابوں کی اکثریت یہ تھی کہ پاکستانی مرد چاہتے ہیں کہ بیوی گھریلو ہو۔ وہ اس لیے کہ گھر کے اخراجات پورے کرنا ہمارا کام ہے۔ اور گھر میں بچوں کی تربیت کرنا اور تمام گھریلو کام کرنا بیویوں کی ذمہ داری ہے۔ بعض کا کہنا تھا، کہ بیویی جس جگہ کام کرتی ہو۔ اس دفتر کا ماحول ویسٹرن بلکل بھی نہیں ہونا چاہیئے۔ ایک مرد کا تو یہ کہنا تھا کہ وہ نہیں چاہتے کہ کوئی غیر مرد میری بیوی کو دیکھے۔ اس لیے میں چاہتا ہوں کہ میری بیوی بلکل گھریلو ہونی چاہیئے۔

The woman is working in the kitchen

:میں پڑھا لکھا ہوں تو بیوی بھی پڑھی لکھی ہو

کچھ نے تو گھریلو بیویوں سے شادی کرنا چاہا۔ مگر کچھ کا کہنا تھا کہ اگر ہم پڑھے لکھے ہیں، تو ہماری بیوی بھی پڑھی لکھی ہونی چاہیئے۔ تاکہ دونوں کی سوچ ایک جیسی ہو، اور ایک دوسرے کو سمجھ سکیں۔ اور اپنے گھر کو ایک خوشحال گھر بنا سکیں۔ لیکن کچھ مردوں نے ڈاکٹر بیویوں سے دور رہنا بہتر سمجھا۔

The woman is working in the office

:خواتین اس بارے میں کیا کہتی ہیں

مردوں کے بعد خواتین سے بھی اس کے متعلق سوالات کیے گئے۔ جس میں ایک خاتون کا کہنا تھا، کہ اگر مرد تعلیم یافتہ ہے، تو اسے بیوی بھی تعلیم یافتہ چاہیئے ہو گی۔ لیک اگر وہ شکی ہے، تو اسے بیوی گھریلو ہی چاہیئے ہو گی۔ کچھ خواتین کا کہنا تھا، کہ ان میں اتنی ہمت ہے کہ وہ گھر گہستی بھی سنبھال سکیں اور باہر کہیں ملازمت بھی کر سکیں۔ اس لیے اگر لڑکی نوکری کی خواہش ظاہر کرتی ہے، تو اسے اجازت دے دینی چاہیئے۔ اس فیصلے میں گھر والوں کو بھی سنجیدہ ہونا چاہیئے۔

The girl is thinking

:خواتین کی حقیقی ذمہ داریاں

ہمارے معاشرے مٰں اکثر پیشہ وارانہ کواتین کو پسند نہیں کیا جاتا۔ اس کی سب سے بڑی وجہ یہ ہے کہ، اسلامی تعلیمات کے مطابق گھر کے اخراجات پورے کرنے کی ذمہ داری اللہ تعالیٰ نے مرد پر فرض کی ہے۔ جبکہ گھر کی ذمہ داریوں پر پورا اترنا عورت کی ذمہ داری ہے۔ لیکن اسلام میں یہ ہرگز نہیں کہا گیا، کہ عورت اپنی صلاحیتوں کو نہ آزمائے۔

شادی کے لیے لڑکوں والوں کی مرضی پوچھی جائے، تو انہیں ہمیشہ گھریلو لڑکی کی تلاش ہوتی ہے۔ وہ ایسی لڑکی چاہتے ہیں، جو کھانا پکانا جانتی ہو، تمام گھریلو کام ذمہ داری سے کرتی ہو۔ اسی کے ساتھ ساتھ پرھی کھی بھی ہونی چاہیئے تاکہ بچوں کی تربیت اچھے طریقے سے کر سکے۔ مگر آج کے نوجوان مہنگائی سے پریشان ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ بیوی ایسی ہو جو گھر گرہستی بھی سنبھالے، اور ساتھ ہی نوکری بھی کرے۔ تاکہ گھر کے اخراجات بھی با آسانی پورے ہو سکیں۔ آج ہم آپ کو اس آٹیکل میں بتائیں گے، کہ پاکستانی مرد کس طرح کی لڑکیوں سے شادی کرنا چاہتے ہیں۔

The girls are sitting

:مجھے تو گھریلو بیوی ہی چاہئیے

مرد حضرات سے جب یہ سوال کیا گیا۔ تو جوابوں کی اکثریت یہ تھی کہ پاکستانی مرد چاہتے ہیں کہ بیوی گھریلو ہو۔ وہ اس لیے کہ گھر کے اخراجات پورے کرنا ہمارا کام ہے۔ اور گھر میں بچوں کی تربیت کرنا اور تمام گھریلو کام کرنا بیویوں کی ذمہ داری ہے۔ بعض کا کہنا تھا، کہ بیویی جس جگہ کام کرتی ہو۔ اس دفتر کا ماحول ویسٹرن بلکل بھی نہیں ہونا چاہیئے۔ ایک مرد کا تو یہ کہنا تھا کہ وہ نہیں چاہتے کہ کوئی غیر مرد میری بیوی کو دیکھے۔ اس لیے میں چاہتا ہوں کہ میری بیوی بلکل گھریلو ہونی چاہیئے۔

The woman is working in the kitchen

:میں پڑھا لکھا ہوں تو بیوی بھی پڑھی لکھی ہو

کچھ نے تو گھریلو بیویوں سے شادی کرنا چاہا۔ مگر کچھ کا کہنا تھا کہ اگر ہم پڑھے لکھے ہیں، تو ہماری بیوی بھی پڑھی لکھی ہونی چاہیئے۔ تاکہ دونوں کی سوچ ایک جیسی ہو، اور ایک دوسرے کو سمجھ سکیں۔ اور اپنے گھر کو ایک خوشحال گھر بنا سکیں۔ لیکن کچھ مردوں نے ڈاکٹر بیویوں سے دور رہنا بہتر سمجھا۔

The woman is working in the office

:خواتین اس بارے میں کیا کہتی ہیں

مردوں کے بعد خواتین سے بھی اس کے متعلق سوالات کیے گئے۔ جس میں ایک خاتون کا کہنا تھا، کہ اگر مرد تعلیم یافتہ ہے، تو اسے بیوی بھی تعلیم یافتہ چاہیئے ہو گی۔ لیک اگر وہ شکی ہے، تو اسے بیوی گھریلو ہی چاہیئے ہو گی۔ کچھ خواتین کا کہنا تھا، کہ ان میں اتنی ہمت ہے کہ وہ گھر گہستی بھی سنبھال سکیں اور باہر کہیں ملازمت بھی کر سکیں۔ اس لیے اگر لڑکی نوکری کی خواہش ظاہر کرتی ہے، تو اسے اجازت دے دینی چاہیئے۔ اس فیصلے میں گھر والوں کو بھی سنجیدہ ہونا چاہیئے۔

The girl is thinking

:خواتین کی حقیقی ذمہ داریاں

ہمارے معاشرے مٰں اکثر پیشہ وارانہ کواتین کو پسند نہیں کیا جاتا۔ اس کی سب سے بڑی وجہ یہ ہے کہ، اسلامی تعلیمات کے مطابق گھر کے اخراجات پورے کرنے کی ذمہ داری اللہ تعالیٰ نے مرد پر فرض کی ہے۔ جبکہ گھر کی ذمہ داریوں پر پورا اترنا عورت کی ذمہ داری ہے۔ لیکن اسلام میں یہ ہرگز نہیں کہا گیا، کہ عورت اپنی صلاحیتوں کو نہ آزمائے۔

Related Articles

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here

Stay Connected

22,046FansLike
2,984FollowersFollow
18,400SubscribersSubscribe

Latest Articles