25.9 C
Lahore
Sunday, October 17, 2021

پٹرول پمپ پر کام کرنے والی پہلی پاکستانی لڑکی کی عجیب و غریب داستان

:پٹرول پمپ پر کام کرنے والی پہلی لڑکی

پچھلے کئی روز سے سوشل میڈیا پر سعدیہ نامی لڑکی کے بہت چرچے ہو رہے ہیں۔ اس لڑکی کی ایک ویڈیو سوشل میڈیا پر وائرل ہوئی ہے۔ جس میں وہ ایک پٹرول پمپ پر گاڑیوں میں پٹرول ڈالتی ہوئی دکھائی دیتی ہیں۔ سعدیہ پاکستان کی پہلی ایسی لڑکی ہیں، جو پٹرول پمپ پر یہ کام کر رہی ہیں۔ اس سے پہلے مرد حضرات کا ہی اس کام پر راج تھا۔

سعدیہ کی اس ویڈیو کو دیکھنے کے بعد، پاکستان کی بہت سی لڑکیوں کا حوصلہ بلند ہوا ہے، کہ وہ بھی اس کام میں شمولیت اختیار کر سکتی ہیں۔

:پٹرول پمپ پر کام کرنے کی وجہ

لیکن سعدیہ کی اس حوصلہ افزا ویڈیو کے بعد ایک اور ویڈیو منظرِعام پر آئی ہے۔ جس نے ہر دل کو دکھی کر دیا ہے۔

تفصیل کے بعد پتہ چلا ہے کہ سعدیہ کے والد وفات پا گئے ہیں۔ اس کے دو بھائی ہیں، جو کہ اپنی بیویوں کو لے کر علیدہ ہو گئے ہیں۔ سعدیہ اپنی بیمار ماں اور ایک 4 سال کے یتیم کزن کے ساتھ ایک گھر میں رہتی ہیں۔ جس کا کرایہ مہینا 9 ہزار ہے۔

سعدیہ اپنے گھر میں اکیلی کمانے والی ہیں۔ ان کی والدہ سانس کے مرض میں مبتلا ہیں، اور روزانہ کی ادویات کا خرچہ 600 سے 900 تک کا ہے۔ ایک دن جب والدہ کی طبعیت بہت ناساز تھی، تو سعدیہ جس پٹرول پمپ پر کام کرتی ہیں، ان سے کچھ پیسے اڈوانس مانگے۔ لیکن پمپ والوں نے صاف انکار کر دیا۔

:سعدیہ عزت کی قیمت پر نوکری نہیں کرانا چاہتی

جس کے باعث سعدیہ کو والدہ کے کہنے پر مجبوراً یہ نوکری چھوڑنی پڑی۔ سعدیہ انٹر پاس ہیں۔ کام چھوڑنے کے بعد سعدیہ نے بہت سی جگہ پر نوکری کے لیے اپلائے کیا۔ مگر انہیں اپنی مشکلات کو ختم کرنے کے لیے کسی نے بھی سہارا نہ دیا۔ ایک دو جگہ انٹرویو کے لیے بلایا گیا، تو اکیلی لڑکی کو دیکھ کر انہیں ہراساں کرنے کی کوشش کی گئی۔ اس لیے انہوں نے وہاں کام کرنا مناسب نہ سمجھا۔

ویڈیو میں سعدیہ روتے ہوئے اپنی داستان کو بیان کر رہی ہیں۔ سعدیہ نے کہا میں بھوک کے باعث مرنا پسند کروں گی، مگر اپنی عزت کی قیمت پر کسی قسم کا کوئی کام نہیں کرنا چاہتی۔

:وہ سخت محنت کرنے کے لیے تیار ہیں

ابھی چند دنوں پہلے جو لڑکی پٹرول پمپ پر کام کرتی تھی۔ اس کا کہنا ہے کہ وہ بے روز گار ہے۔ اس لیے وہ چاہتی ہے، کہ کوئی نیک بندہ اسے باعزت روز گار فراہم کردے۔ تاکہ وہ اپنے گھر کو چلانے کا بندوبست کر سکے۔

سعدیہ کو خود پر بہت یقین ہے۔ اس کا کہنا ہے کہ بس ایک دفعہ اسے کوئی کام مل جائے، تو دن رات محنت کر کے وہ اپنے گھر کو ایک خوشحال گھر بنا سکتی ہے۔

:پٹرول پمپ پر کام کرنے والی پہلی لڑکی

پچھلے کئی روز سے سوشل میڈیا پر سعدیہ نامی لڑکی کے بہت چرچے ہو رہے ہیں۔ اس لڑکی کی ایک ویڈیو سوشل میڈیا پر وائرل ہوئی ہے۔ جس میں وہ ایک پٹرول پمپ پر گاڑیوں میں پٹرول ڈالتی ہوئی دکھائی دیتی ہیں۔ سعدیہ پاکستان کی پہلی ایسی لڑکی ہیں، جو پٹرول پمپ پر یہ کام کر رہی ہیں۔ اس سے پہلے مرد حضرات کا ہی اس کام پر راج تھا۔

سعدیہ کی اس ویڈیو کو دیکھنے کے بعد، پاکستان کی بہت سی لڑکیوں کا حوصلہ بلند ہوا ہے، کہ وہ بھی اس کام میں شمولیت اختیار کر سکتی ہیں۔

:پٹرول پمپ پر کام کرنے کی وجہ

لیکن سعدیہ کی اس حوصلہ افزا ویڈیو کے بعد ایک اور ویڈیو منظرِعام پر آئی ہے۔ جس نے ہر دل کو دکھی کر دیا ہے۔

تفصیل کے بعد پتہ چلا ہے کہ سعدیہ کے والد وفات پا گئے ہیں۔ اس کے دو بھائی ہیں، جو کہ اپنی بیویوں کو لے کر علیدہ ہو گئے ہیں۔ سعدیہ اپنی بیمار ماں اور ایک 4 سال کے یتیم کزن کے ساتھ ایک گھر میں رہتی ہیں۔ جس کا کرایہ مہینا 9 ہزار ہے۔

سعدیہ اپنے گھر میں اکیلی کمانے والی ہیں۔ ان کی والدہ سانس کے مرض میں مبتلا ہیں، اور روزانہ کی ادویات کا خرچہ 600 سے 900 تک کا ہے۔ ایک دن جب والدہ کی طبعیت بہت ناساز تھی، تو سعدیہ جس پٹرول پمپ پر کام کرتی ہیں، ان سے کچھ پیسے اڈوانس مانگے۔ لیکن پمپ والوں نے صاف انکار کر دیا۔

:سعدیہ عزت کی قیمت پر نوکری نہیں کرانا چاہتی

جس کے باعث سعدیہ کو والدہ کے کہنے پر مجبوراً یہ نوکری چھوڑنی پڑی۔ سعدیہ انٹر پاس ہیں۔ کام چھوڑنے کے بعد سعدیہ نے بہت سی جگہ پر نوکری کے لیے اپلائے کیا۔ مگر انہیں اپنی مشکلات کو ختم کرنے کے لیے کسی نے بھی سہارا نہ دیا۔ ایک دو جگہ انٹرویو کے لیے بلایا گیا، تو اکیلی لڑکی کو دیکھ کر انہیں ہراساں کرنے کی کوشش کی گئی۔ اس لیے انہوں نے وہاں کام کرنا مناسب نہ سمجھا۔

ویڈیو میں سعدیہ روتے ہوئے اپنی داستان کو بیان کر رہی ہیں۔ سعدیہ نے کہا میں بھوک کے باعث مرنا پسند کروں گی، مگر اپنی عزت کی قیمت پر کسی قسم کا کوئی کام نہیں کرنا چاہتی۔

:وہ سخت محنت کرنے کے لیے تیار ہیں

ابھی چند دنوں پہلے جو لڑکی پٹرول پمپ پر کام کرتی تھی۔ اس کا کہنا ہے کہ وہ بے روز گار ہے۔ اس لیے وہ چاہتی ہے، کہ کوئی نیک بندہ اسے باعزت روز گار فراہم کردے۔ تاکہ وہ اپنے گھر کو چلانے کا بندوبست کر سکے۔

سعدیہ کو خود پر بہت یقین ہے۔ اس کا کہنا ہے کہ بس ایک دفعہ اسے کوئی کام مل جائے، تو دن رات محنت کر کے وہ اپنے گھر کو ایک خوشحال گھر بنا سکتی ہے۔

:پٹرول پمپ پر کام کرنے والی پہلی لڑکی

پچھلے کئی روز سے سوشل میڈیا پر سعدیہ نامی لڑکی کے بہت چرچے ہو رہے ہیں۔ اس لڑکی کی ایک ویڈیو سوشل میڈیا پر وائرل ہوئی ہے۔ جس میں وہ ایک پٹرول پمپ پر گاڑیوں میں پٹرول ڈالتی ہوئی دکھائی دیتی ہیں۔ سعدیہ پاکستان کی پہلی ایسی لڑکی ہیں، جو پٹرول پمپ پر یہ کام کر رہی ہیں۔ اس سے پہلے مرد حضرات کا ہی اس کام پر راج تھا۔

سعدیہ کی اس ویڈیو کو دیکھنے کے بعد، پاکستان کی بہت سی لڑکیوں کا حوصلہ بلند ہوا ہے، کہ وہ بھی اس کام میں شمولیت اختیار کر سکتی ہیں۔

:پٹرول پمپ پر کام کرنے کی وجہ

لیکن سعدیہ کی اس حوصلہ افزا ویڈیو کے بعد ایک اور ویڈیو منظرِعام پر آئی ہے۔ جس نے ہر دل کو دکھی کر دیا ہے۔

تفصیل کے بعد پتہ چلا ہے کہ سعدیہ کے والد وفات پا گئے ہیں۔ اس کے دو بھائی ہیں، جو کہ اپنی بیویوں کو لے کر علیدہ ہو گئے ہیں۔ سعدیہ اپنی بیمار ماں اور ایک 4 سال کے یتیم کزن کے ساتھ ایک گھر میں رہتی ہیں۔ جس کا کرایہ مہینا 9 ہزار ہے۔

سعدیہ اپنے گھر میں اکیلی کمانے والی ہیں۔ ان کی والدہ سانس کے مرض میں مبتلا ہیں، اور روزانہ کی ادویات کا خرچہ 600 سے 900 تک کا ہے۔ ایک دن جب والدہ کی طبعیت بہت ناساز تھی، تو سعدیہ جس پٹرول پمپ پر کام کرتی ہیں، ان سے کچھ پیسے اڈوانس مانگے۔ لیکن پمپ والوں نے صاف انکار کر دیا۔

:سعدیہ عزت کی قیمت پر نوکری نہیں کرانا چاہتی

جس کے باعث سعدیہ کو والدہ کے کہنے پر مجبوراً یہ نوکری چھوڑنی پڑی۔ سعدیہ انٹر پاس ہیں۔ کام چھوڑنے کے بعد سعدیہ نے بہت سی جگہ پر نوکری کے لیے اپلائے کیا۔ مگر انہیں اپنی مشکلات کو ختم کرنے کے لیے کسی نے بھی سہارا نہ دیا۔ ایک دو جگہ انٹرویو کے لیے بلایا گیا، تو اکیلی لڑکی کو دیکھ کر انہیں ہراساں کرنے کی کوشش کی گئی۔ اس لیے انہوں نے وہاں کام کرنا مناسب نہ سمجھا۔

ویڈیو میں سعدیہ روتے ہوئے اپنی داستان کو بیان کر رہی ہیں۔ سعدیہ نے کہا میں بھوک کے باعث مرنا پسند کروں گی، مگر اپنی عزت کی قیمت پر کسی قسم کا کوئی کام نہیں کرنا چاہتی۔

:وہ سخت محنت کرنے کے لیے تیار ہیں

ابھی چند دنوں پہلے جو لڑکی پٹرول پمپ پر کام کرتی تھی۔ اس کا کہنا ہے کہ وہ بے روز گار ہے۔ اس لیے وہ چاہتی ہے، کہ کوئی نیک بندہ اسے باعزت روز گار فراہم کردے۔ تاکہ وہ اپنے گھر کو چلانے کا بندوبست کر سکے۔

سعدیہ کو خود پر بہت یقین ہے۔ اس کا کہنا ہے کہ بس ایک دفعہ اسے کوئی کام مل جائے، تو دن رات محنت کر کے وہ اپنے گھر کو ایک خوشحال گھر بنا سکتی ہے۔

Related Articles

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here

Stay Connected

22,046FansLike
2,984FollowersFollow
18,400SubscribersSubscribe

Latest Articles