25 C
Lahore
Tuesday, October 19, 2021

نیب قیامت تک کرپشن ثابت نہیں کرسکتا. شہبازشریف

لندن کے اخبار میں غلط خبر شائع کروا کر پاکستان کو بدنام کرنے کی کوشش کی گئی.مسلم لیگ نون کے صدر کی احتساب عدالت میں گفتگو

لاہور(ا نٹرنیشنل پریس ایجنسی) مسلم لیگ (ن) کے صدر اوراپوزیشن لیڈر قومی اسمبلی میں شہباز شریف نے عدالت میں کہا ہے کہ نیب قیامت تک بھی ان کے خلاف کرپشن ثابت نہیں کرسکتا. احتساب عدالت لاہور کے جج جواد الحسن نے شہباز شریف خاندان و دیگر کے خلاف منی لانڈرنگ ریفرنس کی سماعت کی۔ نیب کی جانب سے ایک گواہ پیش کیا گیا جس نے اپنا بیان ریکارد کرایا تاہم شہباز شریف کے وکیل طبعیت ناسازی کی وجہ سے پیش نہیں ہوے۔

جیل حکام نے اپوزیشن لیڈر شہباز شریف، حمزہ شہباز اور دیگر ملزمان کو عدالت میں روبرو پیش کیا. سماعت کے دوران شہباز شریف نے روسٹرم پر آکر بیان دیا اور کہا کہ ان کے سالڈ ویسٹ مینجمنٹ سے متعلق بیان کی کسی ادارے نے ترید نہیں کی انہوں نے یہ بھی دعویٰ کیا کہ نیب ان کے خلاف قیامت تک کرپشن ثابت نہیں کرسکتا، نیب والے الٹے بھی ہو جائیں تو بھی کرپشن کا ایک دھیلا ثابت نہیں کر سکیں گے.

 قومی اسمبلی میں اپوزیشن لیڈرشہباز شریف نے کہا کہ ان کے خلاف لندن کے اخبار میں غلط خبر شائع کرائی گئی اور پاکستان کو بدنام کرنے کی کوشش کی گئی، جس شخص نے ایسا کیا اس کا نام نہیں لوں گا‘بعد ازاں ان کی بیان کے بعد احتساب عدالت نے نیب کے گواہوں کو جرح کے لیے طلب کرلیا، ساتھ ہی شہباز شریف اور حمزہ شہباز کے جوڈیشل ریمانڈ میں 26 جنوری تک توسیع کردی.یاد رہے کہ 17 اگست 2020 کو نیب نے احتساب عدالت میں شہباز شریف، ان کی اہلیہ، دو بیٹوں، بیٹیوں اور دیگر افراد کے خلاف منی لانڈرنگ کا 8 ارب روپے کا ریفرنس دائر کیا تھا اس ریفرنس میں مجموعی طور پر 20 لوگوں کو نامزد کیا گیا جس میں 4 منظوری دینے والے یاسر مشتاق، محمد مشتاق، شاہد رفیق اور احمد محمود بھی شامل ہیں. تاہم مرکزی ملزمان میں شہباز شریف کی اہلیہ نصرت، ان کے بیٹے حمزہ شہباز (پنجاب اسمبلی میں اپوزیشن لیڈر)، سلمان شہباز (مفرور) اور ان کی بیٹیاں رابعہ عمران اور جویریہ علی ہیں ریفرنس میں بنیادی طور پر شہباز شریف پر الزام عائد کیا گیا کہ وہ اپنے خاندان کے اراکین اور بے نامی دار کے نام پر رکھے ہوئے اثاثوں سے فائدہ اٹھا رہے ہیں جن کے پاس اس طرح کے اثاثوں کے حصول کے لیے کوئی وسائل نہیں تھے.ریفررنس میں کہا گیا کہ ملزمان نے بدعنوانی اور کرپٹ سرگرمیوں کے جرائم کا ارتکاب کیا جیسا کہ قومی احتساب آرڈیننس 1999 کی دفعات اور منی لانڈرنگ ایکٹ 2010 میں درج کیا گیا تھا اور عدالت سے درخواست کی گئی کہ انہیں قانون کے تحت سزا دے۔

لندن کے اخبار میں غلط خبر شائع کروا کر پاکستان کو بدنام کرنے کی کوشش کی گئی.مسلم لیگ نون کے صدر کی احتساب عدالت میں گفتگو

لاہور(ا نٹرنیشنل پریس ایجنسی) مسلم لیگ (ن) کے صدر اوراپوزیشن لیڈر قومی اسمبلی میں شہباز شریف نے عدالت میں کہا ہے کہ نیب قیامت تک بھی ان کے خلاف کرپشن ثابت نہیں کرسکتا. احتساب عدالت لاہور کے جج جواد الحسن نے شہباز شریف خاندان و دیگر کے خلاف منی لانڈرنگ ریفرنس کی سماعت کی۔ نیب کی جانب سے ایک گواہ پیش کیا گیا جس نے اپنا بیان ریکارد کرایا تاہم شہباز شریف کے وکیل طبعیت ناسازی کی وجہ سے پیش نہیں ہوے۔

جیل حکام نے اپوزیشن لیڈر شہباز شریف، حمزہ شہباز اور دیگر ملزمان کو عدالت میں روبرو پیش کیا. سماعت کے دوران شہباز شریف نے روسٹرم پر آکر بیان دیا اور کہا کہ ان کے سالڈ ویسٹ مینجمنٹ سے متعلق بیان کی کسی ادارے نے ترید نہیں کی انہوں نے یہ بھی دعویٰ کیا کہ نیب ان کے خلاف قیامت تک کرپشن ثابت نہیں کرسکتا، نیب والے الٹے بھی ہو جائیں تو بھی کرپشن کا ایک دھیلا ثابت نہیں کر سکیں گے.

 قومی اسمبلی میں اپوزیشن لیڈرشہباز شریف نے کہا کہ ان کے خلاف لندن کے اخبار میں غلط خبر شائع کرائی گئی اور پاکستان کو بدنام کرنے کی کوشش کی گئی، جس شخص نے ایسا کیا اس کا نام نہیں لوں گا‘بعد ازاں ان کی بیان کے بعد احتساب عدالت نے نیب کے گواہوں کو جرح کے لیے طلب کرلیا، ساتھ ہی شہباز شریف اور حمزہ شہباز کے جوڈیشل ریمانڈ میں 26 جنوری تک توسیع کردی.یاد رہے کہ 17 اگست 2020 کو نیب نے احتساب عدالت میں شہباز شریف، ان کی اہلیہ، دو بیٹوں، بیٹیوں اور دیگر افراد کے خلاف منی لانڈرنگ کا 8 ارب روپے کا ریفرنس دائر کیا تھا اس ریفرنس میں مجموعی طور پر 20 لوگوں کو نامزد کیا گیا جس میں 4 منظوری دینے والے یاسر مشتاق، محمد مشتاق، شاہد رفیق اور احمد محمود بھی شامل ہیں. تاہم مرکزی ملزمان میں شہباز شریف کی اہلیہ نصرت، ان کے بیٹے حمزہ شہباز (پنجاب اسمبلی میں اپوزیشن لیڈر)، سلمان شہباز (مفرور) اور ان کی بیٹیاں رابعہ عمران اور جویریہ علی ہیں ریفرنس میں بنیادی طور پر شہباز شریف پر الزام عائد کیا گیا کہ وہ اپنے خاندان کے اراکین اور بے نامی دار کے نام پر رکھے ہوئے اثاثوں سے فائدہ اٹھا رہے ہیں جن کے پاس اس طرح کے اثاثوں کے حصول کے لیے کوئی وسائل نہیں تھے.ریفررنس میں کہا گیا کہ ملزمان نے بدعنوانی اور کرپٹ سرگرمیوں کے جرائم کا ارتکاب کیا جیسا کہ قومی احتساب آرڈیننس 1999 کی دفعات اور منی لانڈرنگ ایکٹ 2010 میں درج کیا گیا تھا اور عدالت سے درخواست کی گئی کہ انہیں قانون کے تحت سزا دے۔

لندن کے اخبار میں غلط خبر شائع کروا کر پاکستان کو بدنام کرنے کی کوشش کی گئی.مسلم لیگ نون کے صدر کی احتساب عدالت میں گفتگو

لاہور(ا نٹرنیشنل پریس ایجنسی) مسلم لیگ (ن) کے صدر اوراپوزیشن لیڈر قومی اسمبلی میں شہباز شریف نے عدالت میں کہا ہے کہ نیب قیامت تک بھی ان کے خلاف کرپشن ثابت نہیں کرسکتا. احتساب عدالت لاہور کے جج جواد الحسن نے شہباز شریف خاندان و دیگر کے خلاف منی لانڈرنگ ریفرنس کی سماعت کی۔ نیب کی جانب سے ایک گواہ پیش کیا گیا جس نے اپنا بیان ریکارد کرایا تاہم شہباز شریف کے وکیل طبعیت ناسازی کی وجہ سے پیش نہیں ہوے۔

جیل حکام نے اپوزیشن لیڈر شہباز شریف، حمزہ شہباز اور دیگر ملزمان کو عدالت میں روبرو پیش کیا. سماعت کے دوران شہباز شریف نے روسٹرم پر آکر بیان دیا اور کہا کہ ان کے سالڈ ویسٹ مینجمنٹ سے متعلق بیان کی کسی ادارے نے ترید نہیں کی انہوں نے یہ بھی دعویٰ کیا کہ نیب ان کے خلاف قیامت تک کرپشن ثابت نہیں کرسکتا، نیب والے الٹے بھی ہو جائیں تو بھی کرپشن کا ایک دھیلا ثابت نہیں کر سکیں گے.

 قومی اسمبلی میں اپوزیشن لیڈرشہباز شریف نے کہا کہ ان کے خلاف لندن کے اخبار میں غلط خبر شائع کرائی گئی اور پاکستان کو بدنام کرنے کی کوشش کی گئی، جس شخص نے ایسا کیا اس کا نام نہیں لوں گا‘بعد ازاں ان کی بیان کے بعد احتساب عدالت نے نیب کے گواہوں کو جرح کے لیے طلب کرلیا، ساتھ ہی شہباز شریف اور حمزہ شہباز کے جوڈیشل ریمانڈ میں 26 جنوری تک توسیع کردی.یاد رہے کہ 17 اگست 2020 کو نیب نے احتساب عدالت میں شہباز شریف، ان کی اہلیہ، دو بیٹوں، بیٹیوں اور دیگر افراد کے خلاف منی لانڈرنگ کا 8 ارب روپے کا ریفرنس دائر کیا تھا اس ریفرنس میں مجموعی طور پر 20 لوگوں کو نامزد کیا گیا جس میں 4 منظوری دینے والے یاسر مشتاق، محمد مشتاق، شاہد رفیق اور احمد محمود بھی شامل ہیں. تاہم مرکزی ملزمان میں شہباز شریف کی اہلیہ نصرت، ان کے بیٹے حمزہ شہباز (پنجاب اسمبلی میں اپوزیشن لیڈر)، سلمان شہباز (مفرور) اور ان کی بیٹیاں رابعہ عمران اور جویریہ علی ہیں ریفرنس میں بنیادی طور پر شہباز شریف پر الزام عائد کیا گیا کہ وہ اپنے خاندان کے اراکین اور بے نامی دار کے نام پر رکھے ہوئے اثاثوں سے فائدہ اٹھا رہے ہیں جن کے پاس اس طرح کے اثاثوں کے حصول کے لیے کوئی وسائل نہیں تھے.ریفررنس میں کہا گیا کہ ملزمان نے بدعنوانی اور کرپٹ سرگرمیوں کے جرائم کا ارتکاب کیا جیسا کہ قومی احتساب آرڈیننس 1999 کی دفعات اور منی لانڈرنگ ایکٹ 2010 میں درج کیا گیا تھا اور عدالت سے درخواست کی گئی کہ انہیں قانون کے تحت سزا دے۔

Related Articles

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here

Stay Connected

22,046FansLike
2,984FollowersFollow
18,400SubscribersSubscribe

Latest Articles