26 C
Lahore
Tuesday, October 19, 2021

اپنی ہی بیٹی کو زیادتی کے بعد قتل کر دینے والےسفاک شخص کو 3 بار سزائے موت

مجرم نے 9 سالہ معصوم بیٹی کو جنسی حوس کا نشانہ بنانے کے بعد گلا دبا کر قتل کر ڈالا

چونیاں (تازہ ترین) اپنی ہی بیٹی کو زیادتی کے بعد قتل کردینے والے درندہ صفت سفاک شخص کو 3 بار سزائے موت کا حکم سنا دیا گیا، مجرم نے 9 سالہ معصوم بیٹی کو درندگی کا نشانہ بنانے کے بعد گلا دبا کر قتل کر ڈالا تھا۔ تفصیلات کے مطابق اپنی ہی معصوم بیٹی کیساتھ جنسی زیادتی اور قتل کے گھناونے جرائم میں ملوث سفاک شخص کو عدالت نے عبرت ناک سزا سنا دی۔ عدالت عظمی نے پنجاب کی تحصیل چونیاں میں پیش آئے اس دلخراش واقعے کا فیصلہ دیا۔

چونیاں میں ظالم درندے نے پہلے اپنی 9 سالہ بیٹی کو جنسی حوس اور زیادتی کا نشانہ بنایا اور پھر جرم کا پردہ فاش ہونے کے ڈر سے بیٹی کو گلا دبا کر قتل کر ڈالا۔ درندہ صفت انسان نے بیٹی کو گھر سے دور ویرانے میں لے جا کر ظلم و بربریت کا نشانہ بنایی جبکہ بچی بخوشی اپنے باپ کے ساتھ کھیلنے کی غرض سے گھر سے گئی لیکن اسے کیا پتا تھا کہ اس کی عزت اس کے اپنے ہی باپ کے ہاتھوں تار تار ہونے والی ہے اور یہ اس کا آخری دن ہے۔ تاہم اس واقع کے بعد پولیس نے مجرم کو گرفتار کر لیا۔

پولیس کی رپورٹ کے مطابق یہ واقعہ ایک سال پہلے پیش آیا تھا جس کی پولیس کی جانب سے موثر انداز میں تفتیش کی گئی تھی جس کے نتیجے میں عدالت عظمی نے مجرم کو 3 مرتبہ پھانسی دینے کی عبرت نام سزا سنائی۔ اس کے ساتھ ساتھ عدالت نے مجرم کو 25 لاکھ روپے جرمانہ ادا کرنے کا بھی حکم دیا ہے۔

 عدالت کے اس فیصلے پر عوام نے اطمینان کا اظہار کیا ہے۔ لوگوں کا کہنا ہے کہ وحشت سے بھرے جنسی درندوں کو ایسی ہی عبرت ناک سزائیں دینی چاہییں تاکہ ملک میں جنسی زیادتی کے کیسز پر قابو پایا جا سکے گا۔

واضح رہے کہ ملک بھر میں گزشتہ چند ماہ کے دوران رپورٹ ہونے والے جنسی زیادتی کے کیسز کی شرح میں تشویش ناک حد تک اضافہ ہوا ہے۔ لاہور موٹروے زیادتی کیس کے بعد ملک بھر میں عوام نے ایک مہم شروع کی جس میں مطالبہ کیا گیا کہ جنسی زیادتی ملزمان کو سرعام پھانسی یا سخت ترین سزائیں دی جائیں۔

 وزیراعظم کے ساتھ ساتھ کئی اور وزراء نے بھی اس مطالبے کی حمایت کی ہے۔ عوامی مہم کے نتیجہ میں جنسی زیادتی کے بڑھتے واقعات کی روک تھام کیلئے وفاقی کابینہ نے’’کسٹریشن قانون‘‘ فوری نافذ کرنے کی منظوری دے دی ہے۔

مجرم نے 9 سالہ معصوم بیٹی کو جنسی حوس کا نشانہ بنانے کے بعد گلا دبا کر قتل کر ڈالا

چونیاں (تازہ ترین) اپنی ہی بیٹی کو زیادتی کے بعد قتل کردینے والے درندہ صفت سفاک شخص کو 3 بار سزائے موت کا حکم سنا دیا گیا، مجرم نے 9 سالہ معصوم بیٹی کو درندگی کا نشانہ بنانے کے بعد گلا دبا کر قتل کر ڈالا تھا۔ تفصیلات کے مطابق اپنی ہی معصوم بیٹی کیساتھ جنسی زیادتی اور قتل کے گھناونے جرائم میں ملوث سفاک شخص کو عدالت نے عبرت ناک سزا سنا دی۔ عدالت عظمی نے پنجاب کی تحصیل چونیاں میں پیش آئے اس دلخراش واقعے کا فیصلہ دیا۔

چونیاں میں ظالم درندے نے پہلے اپنی 9 سالہ بیٹی کو جنسی حوس اور زیادتی کا نشانہ بنایا اور پھر جرم کا پردہ فاش ہونے کے ڈر سے بیٹی کو گلا دبا کر قتل کر ڈالا۔ درندہ صفت انسان نے بیٹی کو گھر سے دور ویرانے میں لے جا کر ظلم و بربریت کا نشانہ بنایی جبکہ بچی بخوشی اپنے باپ کے ساتھ کھیلنے کی غرض سے گھر سے گئی لیکن اسے کیا پتا تھا کہ اس کی عزت اس کے اپنے ہی باپ کے ہاتھوں تار تار ہونے والی ہے اور یہ اس کا آخری دن ہے۔ تاہم اس واقع کے بعد پولیس نے مجرم کو گرفتار کر لیا۔

پولیس کی رپورٹ کے مطابق یہ واقعہ ایک سال پہلے پیش آیا تھا جس کی پولیس کی جانب سے موثر انداز میں تفتیش کی گئی تھی جس کے نتیجے میں عدالت عظمی نے مجرم کو 3 مرتبہ پھانسی دینے کی عبرت نام سزا سنائی۔ اس کے ساتھ ساتھ عدالت نے مجرم کو 25 لاکھ روپے جرمانہ ادا کرنے کا بھی حکم دیا ہے۔

 عدالت کے اس فیصلے پر عوام نے اطمینان کا اظہار کیا ہے۔ لوگوں کا کہنا ہے کہ وحشت سے بھرے جنسی درندوں کو ایسی ہی عبرت ناک سزائیں دینی چاہییں تاکہ ملک میں جنسی زیادتی کے کیسز پر قابو پایا جا سکے گا۔

واضح رہے کہ ملک بھر میں گزشتہ چند ماہ کے دوران رپورٹ ہونے والے جنسی زیادتی کے کیسز کی شرح میں تشویش ناک حد تک اضافہ ہوا ہے۔ لاہور موٹروے زیادتی کیس کے بعد ملک بھر میں عوام نے ایک مہم شروع کی جس میں مطالبہ کیا گیا کہ جنسی زیادتی ملزمان کو سرعام پھانسی یا سخت ترین سزائیں دی جائیں۔

 وزیراعظم کے ساتھ ساتھ کئی اور وزراء نے بھی اس مطالبے کی حمایت کی ہے۔ عوامی مہم کے نتیجہ میں جنسی زیادتی کے بڑھتے واقعات کی روک تھام کیلئے وفاقی کابینہ نے’’کسٹریشن قانون‘‘ فوری نافذ کرنے کی منظوری دے دی ہے۔

مجرم نے 9 سالہ معصوم بیٹی کو جنسی حوس کا نشانہ بنانے کے بعد گلا دبا کر قتل کر ڈالا

چونیاں (تازہ ترین) اپنی ہی بیٹی کو زیادتی کے بعد قتل کردینے والے درندہ صفت سفاک شخص کو 3 بار سزائے موت کا حکم سنا دیا گیا، مجرم نے 9 سالہ معصوم بیٹی کو درندگی کا نشانہ بنانے کے بعد گلا دبا کر قتل کر ڈالا تھا۔ تفصیلات کے مطابق اپنی ہی معصوم بیٹی کیساتھ جنسی زیادتی اور قتل کے گھناونے جرائم میں ملوث سفاک شخص کو عدالت نے عبرت ناک سزا سنا دی۔ عدالت عظمی نے پنجاب کی تحصیل چونیاں میں پیش آئے اس دلخراش واقعے کا فیصلہ دیا۔

چونیاں میں ظالم درندے نے پہلے اپنی 9 سالہ بیٹی کو جنسی حوس اور زیادتی کا نشانہ بنایا اور پھر جرم کا پردہ فاش ہونے کے ڈر سے بیٹی کو گلا دبا کر قتل کر ڈالا۔ درندہ صفت انسان نے بیٹی کو گھر سے دور ویرانے میں لے جا کر ظلم و بربریت کا نشانہ بنایی جبکہ بچی بخوشی اپنے باپ کے ساتھ کھیلنے کی غرض سے گھر سے گئی لیکن اسے کیا پتا تھا کہ اس کی عزت اس کے اپنے ہی باپ کے ہاتھوں تار تار ہونے والی ہے اور یہ اس کا آخری دن ہے۔ تاہم اس واقع کے بعد پولیس نے مجرم کو گرفتار کر لیا۔

پولیس کی رپورٹ کے مطابق یہ واقعہ ایک سال پہلے پیش آیا تھا جس کی پولیس کی جانب سے موثر انداز میں تفتیش کی گئی تھی جس کے نتیجے میں عدالت عظمی نے مجرم کو 3 مرتبہ پھانسی دینے کی عبرت نام سزا سنائی۔ اس کے ساتھ ساتھ عدالت نے مجرم کو 25 لاکھ روپے جرمانہ ادا کرنے کا بھی حکم دیا ہے۔

 عدالت کے اس فیصلے پر عوام نے اطمینان کا اظہار کیا ہے۔ لوگوں کا کہنا ہے کہ وحشت سے بھرے جنسی درندوں کو ایسی ہی عبرت ناک سزائیں دینی چاہییں تاکہ ملک میں جنسی زیادتی کے کیسز پر قابو پایا جا سکے گا۔

واضح رہے کہ ملک بھر میں گزشتہ چند ماہ کے دوران رپورٹ ہونے والے جنسی زیادتی کے کیسز کی شرح میں تشویش ناک حد تک اضافہ ہوا ہے۔ لاہور موٹروے زیادتی کیس کے بعد ملک بھر میں عوام نے ایک مہم شروع کی جس میں مطالبہ کیا گیا کہ جنسی زیادتی ملزمان کو سرعام پھانسی یا سخت ترین سزائیں دی جائیں۔

 وزیراعظم کے ساتھ ساتھ کئی اور وزراء نے بھی اس مطالبے کی حمایت کی ہے۔ عوامی مہم کے نتیجہ میں جنسی زیادتی کے بڑھتے واقعات کی روک تھام کیلئے وفاقی کابینہ نے’’کسٹریشن قانون‘‘ فوری نافذ کرنے کی منظوری دے دی ہے۔

Related Articles

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here

Stay Connected

22,046FansLike
2,984FollowersFollow
18,400SubscribersSubscribe

Latest Articles