26 C
Lahore
Tuesday, October 19, 2021

پاکستان کے سابق صدر اور رہنما مسلم لیگ (ن) ممنون حسین رحلت فرما گئے

صدر ممنون حسین پاکستان کے 12 ویں صدر تھے۔ ملک پاکستان کی 70 سالہ تاریخ میں یہ پہلا موقع تھا۔ جب ایک صدر نے تمام صدارتی امور دوسرے صدر کو آئینی طریقے سے سونپے تھے۔ جب ممنون حسین صدر منتخب ہوئے تھے، تو انہیں یہ عہدہ پی پی پی کے رہنما آصف علی زرداری نے منتقل کیا تھا۔

:پاکستان کے بارہویں صدر

سابق صدر ممنون حسین پاکستان کے 12 ویں صدر تھے۔ ممنون حسین ایک مڈل کلاس فیملی سئ تعلق رکھتے تھے۔ وہ ایک تاجر تھے، اور سیاست میں بلکل بھی دلچسپی نہیں رکھتے تھے۔

ممنون حسین سن 1940 میں بھارت کے شہر آگرہ میں پیدا ہوئے تھے۔ پاکستان کے بننے کے بعد ان کا بھی خاندان دوسرے خاندانوں کی طرح پاکستان ہجرت کر کے آیا تھا۔

انسٹیٹیوٹ آف بزنس ایڈمنسٹریشن کراچی سے گریجویشن کی ڈگری حاصل کرنے والے ممنون حسین کا کہنا تھا۔ میں 1970 میں سیاسی طور پر مسلم لیگ ن میں شریک ہوا تھا۔

سن 1993 میں جب صدر غلام اسحاق خان نے میاں محمد نواز شریف کی حکومت برطرف کی تھی، اسی صورتحال میں ممنون حسین کی شریف خاندان کے ساتھ تعلقات مضبوط ہوئے تھے۔ اس کے بعد سندھ میں قائم مسلم لیگ ن کے صدر بھی منتخب ہوئے تھے۔

:شہباز شریف کا اظہار افسوس

سابق صدر ممنون حسین کی وفات پر مسلم لیگ ن کے صدر شہباز شریف نے نہایت رنج و غم کا اظہار کیا ہے۔ شہباز شریف نے بیان میں کہا کہ آج ہم پاکستان سے دلی محبت رکھنے والے ایک صاحب کردار اور دل میں درد رکھنے والے قیمتی شخص سے محروم ہو گئے ہیں۔

ان کا کہنا تھا کے صدر ممنون حسین نواز شریف کے ایک بالخصوص، وفادار اور نظریاتی دوست تھے۔ پارٹی کو جب بھی کسی مشکلات کا سامنا ہوتا تھا، تو وہ ہمت اور حوصلے کے ساتھ اپنا فرض ادا کرتے تھے۔ اور کبھی بھی کسی غلط فہمی کا شکار نہیں ہوئے تھے۔

شہباز شریف کا کہنا تھا، کہ سابق صدر ممنون حسین ہماری مشرقی روایات، مذہبی فلسفہ اور علمی تہذیب کی ایک بہت بڑی مثال تھے۔ وہ زبان کا لحاظ کرتے ہوئے، ادب کا بھی ایک گڑھ تھے۔ اسی کے ساتھ ساتھ انہیں علم سے بڑی محبت تھی۔

:گورنر کے عہدے پر فائض

سن 1997 میں ممنون حسین وزیراعلیٰ سندھ لیاقت جتوئی کے مشیر بھی تھے۔ اس کے بعد انہیں 1999 میں گورنر کے عہدے پر فائض کیا گیا تھا۔ لیکن گورنر بننے کے 6 مہینے بعد ہی نواز شریف کی حکومت برخاست کر دی گئی۔ جس کی وجہ سے انہیں عہدے سے ہٹا دیا گیا۔

ممنون حسین کراچی کی مشہور مارکیٹ جامع کلاتھ مارکیٹ بندر روڈ پر کپڑے کی تجارت کرتے تھے۔ ان کی رہائش بھی اسی علاقے میں ہی تھی، مگر بعد میں وہ ڈیفینس منتقل ہو گئے تھے۔

میاں نواز شریف کے دورِ اسیری اور جلا وطنی کے بعد ممنون حسین مسلم لیگ ن کے احتجاجوں میں بہت کم نظر آتے تھے۔

مگر جب میاں نواز شریف واپس پاکستان میں آئے، تو ایک دفعہ پھر ممنون حسین منظرعام پر آئے تھے۔ انہیں مسلم لیگ ن کے جلسوں پر بہت کم نظر آتے تھے۔ ان کی تقریریں سیاست پر نہیں ہوتیں تھیں، بلکہ وہ میاں محمد نواز شریف کی شخصیت پر زیادہ ترجیع دیتے تھے۔

:سوشل میڈیا رد عمل

سابق صدر کی وفات پر سوشل میڈیا کے صارفین نے بھی نہایت دکھ کے ساتھ اظہارِ افسوس کیا ہے۔ اس وقت پورے پاکستان کی سوشل میڈیا پر سابق صدر ممنون حسین ٹاپ ٹرینڈ میں شامل ہیں۔

مسلم لیگ ن کی رہنما مریم نواز نے بھی سابق صدر ممنون حسین کی وفات پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے، انہیں ایک ایماندار شخصیت قرار دیا ہے۔

کچھ صارفین نے پانامہ لیکس پر کی گئی ان کی تقریریں شئیر کی۔ تو کسی نے ان کی سیاسی زندگی کے بارے میں ذکر کیا، اور ان کی جمہوریت پسندی کی تعریف کی۔

سوشل میڈیا پر ایک صارف کا کہنا تھا کہ شاید کافی لوگ یہ نہیں جانتے کہ سابق صدر ممنون حسین نے ہی وزیراعظم نواز شریف سے حلف لیا تھا۔

صدر ممنون حسین پاکستان کے 12 ویں صدر تھے۔ ملک پاکستان کی 70 سالہ تاریخ میں یہ پہلا موقع تھا۔ جب ایک صدر نے تمام صدارتی امور دوسرے صدر کو آئینی طریقے سے سونپے تھے۔ جب ممنون حسین صدر منتخب ہوئے تھے، تو انہیں یہ عہدہ پی پی پی کے رہنما آصف علی زرداری نے منتقل کیا تھا۔

:پاکستان کے بارہویں صدر

سابق صدر ممنون حسین پاکستان کے 12 ویں صدر تھے۔ ممنون حسین ایک مڈل کلاس فیملی سئ تعلق رکھتے تھے۔ وہ ایک تاجر تھے، اور سیاست میں بلکل بھی دلچسپی نہیں رکھتے تھے۔

ممنون حسین سن 1940 میں بھارت کے شہر آگرہ میں پیدا ہوئے تھے۔ پاکستان کے بننے کے بعد ان کا بھی خاندان دوسرے خاندانوں کی طرح پاکستان ہجرت کر کے آیا تھا۔

انسٹیٹیوٹ آف بزنس ایڈمنسٹریشن کراچی سے گریجویشن کی ڈگری حاصل کرنے والے ممنون حسین کا کہنا تھا۔ میں 1970 میں سیاسی طور پر مسلم لیگ ن میں شریک ہوا تھا۔

سن 1993 میں جب صدر غلام اسحاق خان نے میاں محمد نواز شریف کی حکومت برطرف کی تھی، اسی صورتحال میں ممنون حسین کی شریف خاندان کے ساتھ تعلقات مضبوط ہوئے تھے۔ اس کے بعد سندھ میں قائم مسلم لیگ ن کے صدر بھی منتخب ہوئے تھے۔

:شہباز شریف کا اظہار افسوس

سابق صدر ممنون حسین کی وفات پر مسلم لیگ ن کے صدر شہباز شریف نے نہایت رنج و غم کا اظہار کیا ہے۔ شہباز شریف نے بیان میں کہا کہ آج ہم پاکستان سے دلی محبت رکھنے والے ایک صاحب کردار اور دل میں درد رکھنے والے قیمتی شخص سے محروم ہو گئے ہیں۔

ان کا کہنا تھا کے صدر ممنون حسین نواز شریف کے ایک بالخصوص، وفادار اور نظریاتی دوست تھے۔ پارٹی کو جب بھی کسی مشکلات کا سامنا ہوتا تھا، تو وہ ہمت اور حوصلے کے ساتھ اپنا فرض ادا کرتے تھے۔ اور کبھی بھی کسی غلط فہمی کا شکار نہیں ہوئے تھے۔

شہباز شریف کا کہنا تھا، کہ سابق صدر ممنون حسین ہماری مشرقی روایات، مذہبی فلسفہ اور علمی تہذیب کی ایک بہت بڑی مثال تھے۔ وہ زبان کا لحاظ کرتے ہوئے، ادب کا بھی ایک گڑھ تھے۔ اسی کے ساتھ ساتھ انہیں علم سے بڑی محبت تھی۔

:گورنر کے عہدے پر فائض

سن 1997 میں ممنون حسین وزیراعلیٰ سندھ لیاقت جتوئی کے مشیر بھی تھے۔ اس کے بعد انہیں 1999 میں گورنر کے عہدے پر فائض کیا گیا تھا۔ لیکن گورنر بننے کے 6 مہینے بعد ہی نواز شریف کی حکومت برخاست کر دی گئی۔ جس کی وجہ سے انہیں عہدے سے ہٹا دیا گیا۔

ممنون حسین کراچی کی مشہور مارکیٹ جامع کلاتھ مارکیٹ بندر روڈ پر کپڑے کی تجارت کرتے تھے۔ ان کی رہائش بھی اسی علاقے میں ہی تھی، مگر بعد میں وہ ڈیفینس منتقل ہو گئے تھے۔

میاں نواز شریف کے دورِ اسیری اور جلا وطنی کے بعد ممنون حسین مسلم لیگ ن کے احتجاجوں میں بہت کم نظر آتے تھے۔

مگر جب میاں نواز شریف واپس پاکستان میں آئے، تو ایک دفعہ پھر ممنون حسین منظرعام پر آئے تھے۔ انہیں مسلم لیگ ن کے جلسوں پر بہت کم نظر آتے تھے۔ ان کی تقریریں سیاست پر نہیں ہوتیں تھیں، بلکہ وہ میاں محمد نواز شریف کی شخصیت پر زیادہ ترجیع دیتے تھے۔

:سوشل میڈیا رد عمل

سابق صدر کی وفات پر سوشل میڈیا کے صارفین نے بھی نہایت دکھ کے ساتھ اظہارِ افسوس کیا ہے۔ اس وقت پورے پاکستان کی سوشل میڈیا پر سابق صدر ممنون حسین ٹاپ ٹرینڈ میں شامل ہیں۔

مسلم لیگ ن کی رہنما مریم نواز نے بھی سابق صدر ممنون حسین کی وفات پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے، انہیں ایک ایماندار شخصیت قرار دیا ہے۔

کچھ صارفین نے پانامہ لیکس پر کی گئی ان کی تقریریں شئیر کی۔ تو کسی نے ان کی سیاسی زندگی کے بارے میں ذکر کیا، اور ان کی جمہوریت پسندی کی تعریف کی۔

سوشل میڈیا پر ایک صارف کا کہنا تھا کہ شاید کافی لوگ یہ نہیں جانتے کہ سابق صدر ممنون حسین نے ہی وزیراعظم نواز شریف سے حلف لیا تھا۔

صدر ممنون حسین پاکستان کے 12 ویں صدر تھے۔ ملک پاکستان کی 70 سالہ تاریخ میں یہ پہلا موقع تھا۔ جب ایک صدر نے تمام صدارتی امور دوسرے صدر کو آئینی طریقے سے سونپے تھے۔ جب ممنون حسین صدر منتخب ہوئے تھے، تو انہیں یہ عہدہ پی پی پی کے رہنما آصف علی زرداری نے منتقل کیا تھا۔

:پاکستان کے بارہویں صدر

سابق صدر ممنون حسین پاکستان کے 12 ویں صدر تھے۔ ممنون حسین ایک مڈل کلاس فیملی سئ تعلق رکھتے تھے۔ وہ ایک تاجر تھے، اور سیاست میں بلکل بھی دلچسپی نہیں رکھتے تھے۔

ممنون حسین سن 1940 میں بھارت کے شہر آگرہ میں پیدا ہوئے تھے۔ پاکستان کے بننے کے بعد ان کا بھی خاندان دوسرے خاندانوں کی طرح پاکستان ہجرت کر کے آیا تھا۔

انسٹیٹیوٹ آف بزنس ایڈمنسٹریشن کراچی سے گریجویشن کی ڈگری حاصل کرنے والے ممنون حسین کا کہنا تھا۔ میں 1970 میں سیاسی طور پر مسلم لیگ ن میں شریک ہوا تھا۔

سن 1993 میں جب صدر غلام اسحاق خان نے میاں محمد نواز شریف کی حکومت برطرف کی تھی، اسی صورتحال میں ممنون حسین کی شریف خاندان کے ساتھ تعلقات مضبوط ہوئے تھے۔ اس کے بعد سندھ میں قائم مسلم لیگ ن کے صدر بھی منتخب ہوئے تھے۔

:شہباز شریف کا اظہار افسوس

سابق صدر ممنون حسین کی وفات پر مسلم لیگ ن کے صدر شہباز شریف نے نہایت رنج و غم کا اظہار کیا ہے۔ شہباز شریف نے بیان میں کہا کہ آج ہم پاکستان سے دلی محبت رکھنے والے ایک صاحب کردار اور دل میں درد رکھنے والے قیمتی شخص سے محروم ہو گئے ہیں۔

ان کا کہنا تھا کے صدر ممنون حسین نواز شریف کے ایک بالخصوص، وفادار اور نظریاتی دوست تھے۔ پارٹی کو جب بھی کسی مشکلات کا سامنا ہوتا تھا، تو وہ ہمت اور حوصلے کے ساتھ اپنا فرض ادا کرتے تھے۔ اور کبھی بھی کسی غلط فہمی کا شکار نہیں ہوئے تھے۔

شہباز شریف کا کہنا تھا، کہ سابق صدر ممنون حسین ہماری مشرقی روایات، مذہبی فلسفہ اور علمی تہذیب کی ایک بہت بڑی مثال تھے۔ وہ زبان کا لحاظ کرتے ہوئے، ادب کا بھی ایک گڑھ تھے۔ اسی کے ساتھ ساتھ انہیں علم سے بڑی محبت تھی۔

:گورنر کے عہدے پر فائض

سن 1997 میں ممنون حسین وزیراعلیٰ سندھ لیاقت جتوئی کے مشیر بھی تھے۔ اس کے بعد انہیں 1999 میں گورنر کے عہدے پر فائض کیا گیا تھا۔ لیکن گورنر بننے کے 6 مہینے بعد ہی نواز شریف کی حکومت برخاست کر دی گئی۔ جس کی وجہ سے انہیں عہدے سے ہٹا دیا گیا۔

ممنون حسین کراچی کی مشہور مارکیٹ جامع کلاتھ مارکیٹ بندر روڈ پر کپڑے کی تجارت کرتے تھے۔ ان کی رہائش بھی اسی علاقے میں ہی تھی، مگر بعد میں وہ ڈیفینس منتقل ہو گئے تھے۔

میاں نواز شریف کے دورِ اسیری اور جلا وطنی کے بعد ممنون حسین مسلم لیگ ن کے احتجاجوں میں بہت کم نظر آتے تھے۔

مگر جب میاں نواز شریف واپس پاکستان میں آئے، تو ایک دفعہ پھر ممنون حسین منظرعام پر آئے تھے۔ انہیں مسلم لیگ ن کے جلسوں پر بہت کم نظر آتے تھے۔ ان کی تقریریں سیاست پر نہیں ہوتیں تھیں، بلکہ وہ میاں محمد نواز شریف کی شخصیت پر زیادہ ترجیع دیتے تھے۔

:سوشل میڈیا رد عمل

سابق صدر کی وفات پر سوشل میڈیا کے صارفین نے بھی نہایت دکھ کے ساتھ اظہارِ افسوس کیا ہے۔ اس وقت پورے پاکستان کی سوشل میڈیا پر سابق صدر ممنون حسین ٹاپ ٹرینڈ میں شامل ہیں۔

مسلم لیگ ن کی رہنما مریم نواز نے بھی سابق صدر ممنون حسین کی وفات پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے، انہیں ایک ایماندار شخصیت قرار دیا ہے۔

کچھ صارفین نے پانامہ لیکس پر کی گئی ان کی تقریریں شئیر کی۔ تو کسی نے ان کی سیاسی زندگی کے بارے میں ذکر کیا، اور ان کی جمہوریت پسندی کی تعریف کی۔

سوشل میڈیا پر ایک صارف کا کہنا تھا کہ شاید کافی لوگ یہ نہیں جانتے کہ سابق صدر ممنون حسین نے ہی وزیراعظم نواز شریف سے حلف لیا تھا۔

Related Articles

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here

Stay Connected

22,046FansLike
2,984FollowersFollow
18,400SubscribersSubscribe

Latest Articles