25.9 C
Lahore
Sunday, October 17, 2021

اپنے پیاروں سے ملنے کے لیے جائیں، کہیں یہ نہ ہو کہ آپ کے جانے کا وقت آ جائے

:لیجنڈ “اشفاق احمد” کہتے ہیں

میں ایک فوتگی پر ذرا عجیب سی حالت میں بیٹھا ہوا تھا، کہ میری توجہ کچھ بچوں کو آپس میں بحچ کرتے سنا۔ اس جگہ کچھ نامولود بچے آپس میں عجیب سی باتیں کر رہے تھے۔ ان میں سے ایک بچے نے ایسی بات کی کہ میری تو سوچ ہی دنگ رہ گئی۔ وہ بچہ کہہ رہا تھا کہ
جب کوئی فوت ہوتا ہے تو بہت مزہ آتا ہے۔ ہم سب ایک دوسرے سے ملتے ہیں اور تمام رشتہ دار اکھٹے ہوتے ہیں۔ ان میں سے ایک کا کہنا تھا کہ

:اب پتہ نہیں کون فوت ھو گا

نانا ناصرالدین بہت ضحیف ھو چکے ہیں۔ انکی سفید داڑھی ہے، لگتا ہے کہ اب وہ وفات پائیں گے۔ اس گفتگو کے دوران ان میں جھگڑا کھڑا ہو گیا، اور وہ بحث کرنے لگے۔ ان میں سے کچھ کہ رہے تھے کہ پھوپھی زہرا فوت ہونگی، کیونکہ وہ بہت بوڑھی ہو چکی ہیں۔ جب وہ وفات پائیں گی تو ہم سب فیصل آباد جائیں گے، اور خوب مزے کریں گے۔

:اشفاق احمد کی وفات پر گورنر آئیں گے


معزز خواتین میں آپ کو بتانا چاہتا ہوں، کہ اس بحث میں میرا بھی نام شامل ہو گیا۔
میری بھانجی کی بیٹی ابھی بہت چھوٹی ہے۔ اس نے کہ کہ نانا اشفاق کی عمر بھی بہت زیادہ ہو چکی ہے۔
اور میں دنگ بھی اسی بات پر ہوا تھا۔ جو بچے میرے حمایتی تھے، ان کا کہنا تھ اکہ جب نانا اشفاق فوت ہونگے تو بہت ہجوم ہو گا۔ وہ اس لیے کہ ان کے جاننے والے بہت سے لوگ ہیں۔
جب بچوں کا جھگڑا حس سے زیادہ بڑھ گیا، تو وہ آپس میں تلخ کلامی پر اُتر آئے۔ اسی وقت ایک بچے نے کہ کہ، جب نانا اشفاق فوت ھونگے تو گورنر آئیں گے۔

اس پر ایک بچے نے اس کی بات کی حمایت نہ کی اور کہا، وہ خود نہیں آیئنگے بلکہ پھولوں کی چادر بھیجیں گے۔ کیونکہ گورنر ایک بہت مصروف آدمی ہوتا۔ اس کے ہاس اتنا وقت نہیں ہوتا کہ وہ تمھارے دادا نانا کے فوت ہونے پر آئے۔

:بچے دوبارہ ملنے کا پروگرام بنا رہے تھے

وہ تمام بچے بہت گہرے سوچ بچار اور سنجیدہ انداز میں دوبارہ سے ملنے کا پروگرام بنا رہے تھے۔ یہ بات عام ہے، جب ہم چھوٹے ہوتے تو ہمیں بھی اپنے دوستوں سے ملنے کی بہت آرزو ہوتی تھی۔


ہم سب اپنے رشتہ داروں کو بھول کر کام میں اتنا مصروف ہو گئے ہیں، کہ ہمیں اور کسی چیز کی فکر نہیں ہے۔
ہم سب چیزوں کے پیچھے بھاگتے رہتے ہیں، حالنکہ یہ چیزیں کچھ بھی نہیں دیتیں۔ رشتہ دار ہی ہے جو سکھ اور دکھ میں ساتھ ہوتے ہیں۔ لیکن ہم انھیں بہت کم توجہ دیتے ہیں۔

:رشتہ داروں سے فوتگی پر نہ ملیں

اسی لیے خدا کے لیے اپنے رشتوں کو مضبوط ترین بنائیں۔ ایسی سوچ کو بلکل ختم کر دیں کہ رشتہ داروں سے ملاقات صرف کسی فوتگی یا شادی پر ہی ہو گی۔ کیا آپ بھی اسی بات کا انتظار کرتے ہیں، کہ کوئی مرے تو پھر ہم اپنے رشتہ داروں سے ملاقات کریں گے۔

جب ہم کسی سے ملنے جائیں تو ہمارے دل میں ایک عجیب سے خوشی ہونی چاہیئے۔ کہ میں کسی اپنے سے ملنے جا رہا ہوں۔ مجھے اس سے اور کوئی دنیاوی غرض نہیں ہے۔ میں اُس سے اس لیے ملنے جا رہا ہوں کہ وہ مجھے بہت پیارا ہے۔ چاہے تھڑے وقت کے لیے جائیں، لیکن جائیں ضرور۔

(اشفاق احمد)

:لیجنڈ “اشفاق احمد” کہتے ہیں

میں ایک فوتگی پر ذرا عجیب سی حالت میں بیٹھا ہوا تھا، کہ میری توجہ کچھ بچوں کو آپس میں بحچ کرتے سنا۔ اس جگہ کچھ نامولود بچے آپس میں عجیب سی باتیں کر رہے تھے۔ ان میں سے ایک بچے نے ایسی بات کی کہ میری تو سوچ ہی دنگ رہ گئی۔ وہ بچہ کہہ رہا تھا کہ
جب کوئی فوت ہوتا ہے تو بہت مزہ آتا ہے۔ ہم سب ایک دوسرے سے ملتے ہیں اور تمام رشتہ دار اکھٹے ہوتے ہیں۔ ان میں سے ایک کا کہنا تھا کہ

:اب پتہ نہیں کون فوت ھو گا

نانا ناصرالدین بہت ضحیف ھو چکے ہیں۔ انکی سفید داڑھی ہے، لگتا ہے کہ اب وہ وفات پائیں گے۔ اس گفتگو کے دوران ان میں جھگڑا کھڑا ہو گیا، اور وہ بحث کرنے لگے۔ ان میں سے کچھ کہ رہے تھے کہ پھوپھی زہرا فوت ہونگی، کیونکہ وہ بہت بوڑھی ہو چکی ہیں۔ جب وہ وفات پائیں گی تو ہم سب فیصل آباد جائیں گے، اور خوب مزے کریں گے۔

:اشفاق احمد کی وفات پر گورنر آئیں گے


معزز خواتین میں آپ کو بتانا چاہتا ہوں، کہ اس بحث میں میرا بھی نام شامل ہو گیا۔
میری بھانجی کی بیٹی ابھی بہت چھوٹی ہے۔ اس نے کہ کہ نانا اشفاق کی عمر بھی بہت زیادہ ہو چکی ہے۔
اور میں دنگ بھی اسی بات پر ہوا تھا۔ جو بچے میرے حمایتی تھے، ان کا کہنا تھ اکہ جب نانا اشفاق فوت ہونگے تو بہت ہجوم ہو گا۔ وہ اس لیے کہ ان کے جاننے والے بہت سے لوگ ہیں۔
جب بچوں کا جھگڑا حس سے زیادہ بڑھ گیا، تو وہ آپس میں تلخ کلامی پر اُتر آئے۔ اسی وقت ایک بچے نے کہ کہ، جب نانا اشفاق فوت ھونگے تو گورنر آئیں گے۔

اس پر ایک بچے نے اس کی بات کی حمایت نہ کی اور کہا، وہ خود نہیں آیئنگے بلکہ پھولوں کی چادر بھیجیں گے۔ کیونکہ گورنر ایک بہت مصروف آدمی ہوتا۔ اس کے ہاس اتنا وقت نہیں ہوتا کہ وہ تمھارے دادا نانا کے فوت ہونے پر آئے۔

:بچے دوبارہ ملنے کا پروگرام بنا رہے تھے

وہ تمام بچے بہت گہرے سوچ بچار اور سنجیدہ انداز میں دوبارہ سے ملنے کا پروگرام بنا رہے تھے۔ یہ بات عام ہے، جب ہم چھوٹے ہوتے تو ہمیں بھی اپنے دوستوں سے ملنے کی بہت آرزو ہوتی تھی۔


ہم سب اپنے رشتہ داروں کو بھول کر کام میں اتنا مصروف ہو گئے ہیں، کہ ہمیں اور کسی چیز کی فکر نہیں ہے۔
ہم سب چیزوں کے پیچھے بھاگتے رہتے ہیں، حالنکہ یہ چیزیں کچھ بھی نہیں دیتیں۔ رشتہ دار ہی ہے جو سکھ اور دکھ میں ساتھ ہوتے ہیں۔ لیکن ہم انھیں بہت کم توجہ دیتے ہیں۔

:رشتہ داروں سے فوتگی پر نہ ملیں

اسی لیے خدا کے لیے اپنے رشتوں کو مضبوط ترین بنائیں۔ ایسی سوچ کو بلکل ختم کر دیں کہ رشتہ داروں سے ملاقات صرف کسی فوتگی یا شادی پر ہی ہو گی۔ کیا آپ بھی اسی بات کا انتظار کرتے ہیں، کہ کوئی مرے تو پھر ہم اپنے رشتہ داروں سے ملاقات کریں گے۔

جب ہم کسی سے ملنے جائیں تو ہمارے دل میں ایک عجیب سے خوشی ہونی چاہیئے۔ کہ میں کسی اپنے سے ملنے جا رہا ہوں۔ مجھے اس سے اور کوئی دنیاوی غرض نہیں ہے۔ میں اُس سے اس لیے ملنے جا رہا ہوں کہ وہ مجھے بہت پیارا ہے۔ چاہے تھڑے وقت کے لیے جائیں، لیکن جائیں ضرور۔

(اشفاق احمد)

:لیجنڈ “اشفاق احمد” کہتے ہیں

میں ایک فوتگی پر ذرا عجیب سی حالت میں بیٹھا ہوا تھا، کہ میری توجہ کچھ بچوں کو آپس میں بحچ کرتے سنا۔ اس جگہ کچھ نامولود بچے آپس میں عجیب سی باتیں کر رہے تھے۔ ان میں سے ایک بچے نے ایسی بات کی کہ میری تو سوچ ہی دنگ رہ گئی۔ وہ بچہ کہہ رہا تھا کہ
جب کوئی فوت ہوتا ہے تو بہت مزہ آتا ہے۔ ہم سب ایک دوسرے سے ملتے ہیں اور تمام رشتہ دار اکھٹے ہوتے ہیں۔ ان میں سے ایک کا کہنا تھا کہ

:اب پتہ نہیں کون فوت ھو گا

نانا ناصرالدین بہت ضحیف ھو چکے ہیں۔ انکی سفید داڑھی ہے، لگتا ہے کہ اب وہ وفات پائیں گے۔ اس گفتگو کے دوران ان میں جھگڑا کھڑا ہو گیا، اور وہ بحث کرنے لگے۔ ان میں سے کچھ کہ رہے تھے کہ پھوپھی زہرا فوت ہونگی، کیونکہ وہ بہت بوڑھی ہو چکی ہیں۔ جب وہ وفات پائیں گی تو ہم سب فیصل آباد جائیں گے، اور خوب مزے کریں گے۔

:اشفاق احمد کی وفات پر گورنر آئیں گے


معزز خواتین میں آپ کو بتانا چاہتا ہوں، کہ اس بحث میں میرا بھی نام شامل ہو گیا۔
میری بھانجی کی بیٹی ابھی بہت چھوٹی ہے۔ اس نے کہ کہ نانا اشفاق کی عمر بھی بہت زیادہ ہو چکی ہے۔
اور میں دنگ بھی اسی بات پر ہوا تھا۔ جو بچے میرے حمایتی تھے، ان کا کہنا تھ اکہ جب نانا اشفاق فوت ہونگے تو بہت ہجوم ہو گا۔ وہ اس لیے کہ ان کے جاننے والے بہت سے لوگ ہیں۔
جب بچوں کا جھگڑا حس سے زیادہ بڑھ گیا، تو وہ آپس میں تلخ کلامی پر اُتر آئے۔ اسی وقت ایک بچے نے کہ کہ، جب نانا اشفاق فوت ھونگے تو گورنر آئیں گے۔

اس پر ایک بچے نے اس کی بات کی حمایت نہ کی اور کہا، وہ خود نہیں آیئنگے بلکہ پھولوں کی چادر بھیجیں گے۔ کیونکہ گورنر ایک بہت مصروف آدمی ہوتا۔ اس کے ہاس اتنا وقت نہیں ہوتا کہ وہ تمھارے دادا نانا کے فوت ہونے پر آئے۔

:بچے دوبارہ ملنے کا پروگرام بنا رہے تھے

وہ تمام بچے بہت گہرے سوچ بچار اور سنجیدہ انداز میں دوبارہ سے ملنے کا پروگرام بنا رہے تھے۔ یہ بات عام ہے، جب ہم چھوٹے ہوتے تو ہمیں بھی اپنے دوستوں سے ملنے کی بہت آرزو ہوتی تھی۔


ہم سب اپنے رشتہ داروں کو بھول کر کام میں اتنا مصروف ہو گئے ہیں، کہ ہمیں اور کسی چیز کی فکر نہیں ہے۔
ہم سب چیزوں کے پیچھے بھاگتے رہتے ہیں، حالنکہ یہ چیزیں کچھ بھی نہیں دیتیں۔ رشتہ دار ہی ہے جو سکھ اور دکھ میں ساتھ ہوتے ہیں۔ لیکن ہم انھیں بہت کم توجہ دیتے ہیں۔

:رشتہ داروں سے فوتگی پر نہ ملیں

اسی لیے خدا کے لیے اپنے رشتوں کو مضبوط ترین بنائیں۔ ایسی سوچ کو بلکل ختم کر دیں کہ رشتہ داروں سے ملاقات صرف کسی فوتگی یا شادی پر ہی ہو گی۔ کیا آپ بھی اسی بات کا انتظار کرتے ہیں، کہ کوئی مرے تو پھر ہم اپنے رشتہ داروں سے ملاقات کریں گے۔

جب ہم کسی سے ملنے جائیں تو ہمارے دل میں ایک عجیب سے خوشی ہونی چاہیئے۔ کہ میں کسی اپنے سے ملنے جا رہا ہوں۔ مجھے اس سے اور کوئی دنیاوی غرض نہیں ہے۔ میں اُس سے اس لیے ملنے جا رہا ہوں کہ وہ مجھے بہت پیارا ہے۔ چاہے تھڑے وقت کے لیے جائیں، لیکن جائیں ضرور۔

(اشفاق احمد)

Related Articles

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here

Stay Connected

22,046FansLike
2,984FollowersFollow
18,400SubscribersSubscribe

Latest Articles