25 C
Lahore
Tuesday, October 19, 2021

لاہور مزنگ میں 20 سالہ لڑکی سے اجتماعی زیادتی کا دلخراش واقعہ، دوران تفتیش مزید انکشافات

متاثرہ لڑکی کے والد نے وزیراعظم سٹیزن پورٹل پر جائیداد پر قبضے کی شکایت دراج کروائی تھی جس کے بعد ملزمان نے معصوم لڑکی کی عزت تار تار کر ڈالی، پولیس جائیداد کا مسئلہ حل کروانے میں تاحال ناکام

لاہور (تازہ ترین) لاہور مزنگ میں 20 سالہ لڑکی سے اجتماعی زیادتی کا دلخراش واقعہ، دوران تفتیش مزید انکشافات۔ تفصیلات کے مطابق لاہور کے علاقہ مزنگ میں 20 سالہ لڑکی کے ساتھ مبینہ اجتماعی زیادتی کے افسوسناک واقعے کی تفتیش کے دوران مزید انکشافات سامنے آئے ہیں۔ پولیس نے لڑکی کی شکایت پر دو نامزد ملزمان احسان اور حسن کے خلاف مقدمہ درج کر کے انہیں گرفتار بھی کر لیا ۔اس واقعے کے حوالے سے متاثرہ لڑکی کے والد کی جانب سے پولیس کو دیے گئے بیان میں بتایا گیا کہ ملزمان ان کے آدھےگھر پر قابض ہیں اور پورے گھر پر قبضہ کرنے کی کوشش کر رہے تھے۔ ملزمان انہیں ڈراتے دھمکاتے رہتے تھے۔

اس تمام صورتحال میں گھرکاقبضہ چھڑانے کیلئے وزیراعظم پورٹل پر درخواست کی تو ملزمان بپھرگئے اور بیٹی کو زیادتی کا نشانہ بنا ڈالا۔جبکہ یہ بھی انکشاف ہوا ہے کہ پولیس نے ملزمان کیخلاف درج مقدمے میں جائیداد پر قبضے کے معاملے کا ذکر ہی نہیں کیا۔ متاثرہ خاندان کی جانب سے ناصرف اپنی بیٹی کو انصاف دلوانے بلکہ جائیداد کا تنازعہ بھی حل کروانے کا مطالبہ کیا جا رہا ہے۔ واضح رہے کہ ملک میں گزشتہ چند ماہ کے دوران رپورٹ ہونے والے جنسی زیادتی کیسز کی شرح میں تشویش ناک حد تک اضافہ ہوا ہے۔لاہور میں موٹروے زیادتی کیس کے بعد ملک بھر میں عوام نے ایک مہم شروع کی جس میں مطالبہ کیا گیا کہ جنسی زیادتی ملزمان کو سرعام پھانسی یا سخت ترین سزائیں دی جائیں۔ وزیراعظم اور کئی وزراء نے بھی اس مطالبے کی حمایت کی۔ عوامی مہم کے نتیجہ میں کچھ ہفتے قبل جنسی زیادتی کے بڑھتے واقعات کی روک تھام کیلئے وفاقی کابینہ نے’’کسٹریشن قانون‘‘ فوری نافذ کرنے کی منظوری دی تھی۔ کابینہ ارکان نے اتفاق کیا کہ کسٹریشن کی سزا کیلئےعالمی اداروں سے رائے لینے یا آمادگی کی ضرورت نہیں۔ ارکان نے رائے دی کہ بچوں اور خواتین سے زیادتی کے ملزمان رعایت کے مستحق نہیں۔

متاثرہ لڑکی کے والد نے وزیراعظم سٹیزن پورٹل پر جائیداد پر قبضے کی شکایت دراج کروائی تھی جس کے بعد ملزمان نے معصوم لڑکی کی عزت تار تار کر ڈالی، پولیس جائیداد کا مسئلہ حل کروانے میں تاحال ناکام

لاہور (تازہ ترین) لاہور مزنگ میں 20 سالہ لڑکی سے اجتماعی زیادتی کا دلخراش واقعہ، دوران تفتیش مزید انکشافات۔ تفصیلات کے مطابق لاہور کے علاقہ مزنگ میں 20 سالہ لڑکی کے ساتھ مبینہ اجتماعی زیادتی کے افسوسناک واقعے کی تفتیش کے دوران مزید انکشافات سامنے آئے ہیں۔ پولیس نے لڑکی کی شکایت پر دو نامزد ملزمان احسان اور حسن کے خلاف مقدمہ درج کر کے انہیں گرفتار بھی کر لیا ۔اس واقعے کے حوالے سے متاثرہ لڑکی کے والد کی جانب سے پولیس کو دیے گئے بیان میں بتایا گیا کہ ملزمان ان کے آدھےگھر پر قابض ہیں اور پورے گھر پر قبضہ کرنے کی کوشش کر رہے تھے۔ ملزمان انہیں ڈراتے دھمکاتے رہتے تھے۔

اس تمام صورتحال میں گھرکاقبضہ چھڑانے کیلئے وزیراعظم پورٹل پر درخواست کی تو ملزمان بپھرگئے اور بیٹی کو زیادتی کا نشانہ بنا ڈالا۔جبکہ یہ بھی انکشاف ہوا ہے کہ پولیس نے ملزمان کیخلاف درج مقدمے میں جائیداد پر قبضے کے معاملے کا ذکر ہی نہیں کیا۔ متاثرہ خاندان کی جانب سے ناصرف اپنی بیٹی کو انصاف دلوانے بلکہ جائیداد کا تنازعہ بھی حل کروانے کا مطالبہ کیا جا رہا ہے۔ واضح رہے کہ ملک میں گزشتہ چند ماہ کے دوران رپورٹ ہونے والے جنسی زیادتی کیسز کی شرح میں تشویش ناک حد تک اضافہ ہوا ہے۔لاہور میں موٹروے زیادتی کیس کے بعد ملک بھر میں عوام نے ایک مہم شروع کی جس میں مطالبہ کیا گیا کہ جنسی زیادتی ملزمان کو سرعام پھانسی یا سخت ترین سزائیں دی جائیں۔ وزیراعظم اور کئی وزراء نے بھی اس مطالبے کی حمایت کی۔ عوامی مہم کے نتیجہ میں کچھ ہفتے قبل جنسی زیادتی کے بڑھتے واقعات کی روک تھام کیلئے وفاقی کابینہ نے’’کسٹریشن قانون‘‘ فوری نافذ کرنے کی منظوری دی تھی۔ کابینہ ارکان نے اتفاق کیا کہ کسٹریشن کی سزا کیلئےعالمی اداروں سے رائے لینے یا آمادگی کی ضرورت نہیں۔ ارکان نے رائے دی کہ بچوں اور خواتین سے زیادتی کے ملزمان رعایت کے مستحق نہیں۔

متاثرہ لڑکی کے والد نے وزیراعظم سٹیزن پورٹل پر جائیداد پر قبضے کی شکایت دراج کروائی تھی جس کے بعد ملزمان نے معصوم لڑکی کی عزت تار تار کر ڈالی، پولیس جائیداد کا مسئلہ حل کروانے میں تاحال ناکام

لاہور (تازہ ترین) لاہور مزنگ میں 20 سالہ لڑکی سے اجتماعی زیادتی کا دلخراش واقعہ، دوران تفتیش مزید انکشافات۔ تفصیلات کے مطابق لاہور کے علاقہ مزنگ میں 20 سالہ لڑکی کے ساتھ مبینہ اجتماعی زیادتی کے افسوسناک واقعے کی تفتیش کے دوران مزید انکشافات سامنے آئے ہیں۔ پولیس نے لڑکی کی شکایت پر دو نامزد ملزمان احسان اور حسن کے خلاف مقدمہ درج کر کے انہیں گرفتار بھی کر لیا ۔اس واقعے کے حوالے سے متاثرہ لڑکی کے والد کی جانب سے پولیس کو دیے گئے بیان میں بتایا گیا کہ ملزمان ان کے آدھےگھر پر قابض ہیں اور پورے گھر پر قبضہ کرنے کی کوشش کر رہے تھے۔ ملزمان انہیں ڈراتے دھمکاتے رہتے تھے۔

اس تمام صورتحال میں گھرکاقبضہ چھڑانے کیلئے وزیراعظم پورٹل پر درخواست کی تو ملزمان بپھرگئے اور بیٹی کو زیادتی کا نشانہ بنا ڈالا۔جبکہ یہ بھی انکشاف ہوا ہے کہ پولیس نے ملزمان کیخلاف درج مقدمے میں جائیداد پر قبضے کے معاملے کا ذکر ہی نہیں کیا۔ متاثرہ خاندان کی جانب سے ناصرف اپنی بیٹی کو انصاف دلوانے بلکہ جائیداد کا تنازعہ بھی حل کروانے کا مطالبہ کیا جا رہا ہے۔ واضح رہے کہ ملک میں گزشتہ چند ماہ کے دوران رپورٹ ہونے والے جنسی زیادتی کیسز کی شرح میں تشویش ناک حد تک اضافہ ہوا ہے۔لاہور میں موٹروے زیادتی کیس کے بعد ملک بھر میں عوام نے ایک مہم شروع کی جس میں مطالبہ کیا گیا کہ جنسی زیادتی ملزمان کو سرعام پھانسی یا سخت ترین سزائیں دی جائیں۔ وزیراعظم اور کئی وزراء نے بھی اس مطالبے کی حمایت کی۔ عوامی مہم کے نتیجہ میں کچھ ہفتے قبل جنسی زیادتی کے بڑھتے واقعات کی روک تھام کیلئے وفاقی کابینہ نے’’کسٹریشن قانون‘‘ فوری نافذ کرنے کی منظوری دی تھی۔ کابینہ ارکان نے اتفاق کیا کہ کسٹریشن کی سزا کیلئےعالمی اداروں سے رائے لینے یا آمادگی کی ضرورت نہیں۔ ارکان نے رائے دی کہ بچوں اور خواتین سے زیادتی کے ملزمان رعایت کے مستحق نہیں۔

Related Articles

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here

Stay Connected

22,046FansLike
2,984FollowersFollow
18,400SubscribersSubscribe

Latest Articles