26 C
Lahore
Tuesday, October 19, 2021

وزیر اعظم کے گھر میں بھوت، وزیراعظم ہاؤس کی دل دہلا دینے والی داستانیں

آج آپ جاپان کے سرکاری وزیراعظم ہاؤس کی ایک ایسی عجیب داستان جانیں گے جسے سن کر آپ کا دل خوف کے عالم میں مبتلا ہو جائے گا

کہانی بلکل سچ ہے جاپان کا ایوانِ وزیراعظم دراصل ایک دہائی سے بلکل خالی ہے لیکن اس کے انتظامات کے لیے سال بہ سال بھاری قیمت خرچ ہوتی ہے، آخرکیوں اتنا آرام دہ اور ہر سہولت سے آراستہ سرکاری ہاؤس خالی ہے اسکے پیچھے ایک راز کی بات ہے۔

غیر ملکی ذرائع ابلاغ کے مطابق جاپانی وزیراعظم کی رہائش گاہ جو سرکار کی طرف سے حاصل ہوتی ہے سال 2012 سے بند ہے، جس کے متعلق کچھ عجیب قسم کی باتیں سننے کو مل رہی ہیں مگر ان باتوں میں کتنی سچائی ہے یہ تو وہاں مقیم لوگ ہی بیان کر سکتے ہیں۔

آئیں ان افواہوں کے بارے میں آپ کو آغاز سے بتاتے ہیں

اور پھر فوجی بغاوت کے خوف سے رہائش پذیر وزیراعظم کی آنکھ کھل جاتی تھی اور وہ ڈر کر نیند سے بیدار ہو جاتے تھے، لہزاً اسی لیے انھوں نے اس گھر سے کنارہ کیا اور اپنے گھر میں رہنا زیادہ بہتر سمجھا۔

ماضی کی اگر بات کی جائے تو یہ ایوان اس وقت خونی حویلی بن گیا جب 1932 میں فوجی بغاوت کی کوشش کے دوران اُس وقت کے وزیر اعظم کو بے دردی سے قتل کر دیا گیا تھا

اور پھر اس کے چار سال بعد ایک فوجی بغاوت کی چال بازی میں ایوان وزیراعظم گولیوں کی آوازوں سے لرز اٹھا تھا اور بعض نے بتایا کہ اس خون آلودہ عمارت میں اب بھی تاریخ کی یادیں موجود ہیں جن میں دیواروں پر گولیوں کے نشانات اور آگ سے ہونے والے نقصان کے ثبوت آج تک محفوظ ہیں۔

یاد رہے کہ اس خالی پڑے ایوان وزیراعظم کی دیکھ بھال پر ہر سال 16 کروڑ ین یعنی پاکستانی 22 کروڑ روپے سے زیادہ کی رقم خرچ ہوتی ہے، لہزاً ان بھوت پریت کی کہانیوں میں کتنا سچ اور کتنا جھوٹ ہے اس کے بارے میں بتانا مشکل ہے۔

آج آپ جاپان کے سرکاری وزیراعظم ہاؤس کی ایک ایسی عجیب داستان جانیں گے جسے سن کر آپ کا دل خوف کے عالم میں مبتلا ہو جائے گا

کہانی بلکل سچ ہے جاپان کا ایوانِ وزیراعظم دراصل ایک دہائی سے بلکل خالی ہے لیکن اس کے انتظامات کے لیے سال بہ سال بھاری قیمت خرچ ہوتی ہے، آخرکیوں اتنا آرام دہ اور ہر سہولت سے آراستہ سرکاری ہاؤس خالی ہے اسکے پیچھے ایک راز کی بات ہے۔

غیر ملکی ذرائع ابلاغ کے مطابق جاپانی وزیراعظم کی رہائش گاہ جو سرکار کی طرف سے حاصل ہوتی ہے سال 2012 سے بند ہے، جس کے متعلق کچھ عجیب قسم کی باتیں سننے کو مل رہی ہیں مگر ان باتوں میں کتنی سچائی ہے یہ تو وہاں مقیم لوگ ہی بیان کر سکتے ہیں۔

آئیں ان افواہوں کے بارے میں آپ کو آغاز سے بتاتے ہیں

اور پھر فوجی بغاوت کے خوف سے رہائش پذیر وزیراعظم کی آنکھ کھل جاتی تھی اور وہ ڈر کر نیند سے بیدار ہو جاتے تھے، لہزاً اسی لیے انھوں نے اس گھر سے کنارہ کیا اور اپنے گھر میں رہنا زیادہ بہتر سمجھا۔

ماضی کی اگر بات کی جائے تو یہ ایوان اس وقت خونی حویلی بن گیا جب 1932 میں فوجی بغاوت کی کوشش کے دوران اُس وقت کے وزیر اعظم کو بے دردی سے قتل کر دیا گیا تھا

اور پھر اس کے چار سال بعد ایک فوجی بغاوت کی چال بازی میں ایوان وزیراعظم گولیوں کی آوازوں سے لرز اٹھا تھا اور بعض نے بتایا کہ اس خون آلودہ عمارت میں اب بھی تاریخ کی یادیں موجود ہیں جن میں دیواروں پر گولیوں کے نشانات اور آگ سے ہونے والے نقصان کے ثبوت آج تک محفوظ ہیں۔

یاد رہے کہ اس خالی پڑے ایوان وزیراعظم کی دیکھ بھال پر ہر سال 16 کروڑ ین یعنی پاکستانی 22 کروڑ روپے سے زیادہ کی رقم خرچ ہوتی ہے، لہزاً ان بھوت پریت کی کہانیوں میں کتنا سچ اور کتنا جھوٹ ہے اس کے بارے میں بتانا مشکل ہے۔

آج آپ جاپان کے سرکاری وزیراعظم ہاؤس کی ایک ایسی عجیب داستان جانیں گے جسے سن کر آپ کا دل خوف کے عالم میں مبتلا ہو جائے گا

کہانی بلکل سچ ہے جاپان کا ایوانِ وزیراعظم دراصل ایک دہائی سے بلکل خالی ہے لیکن اس کے انتظامات کے لیے سال بہ سال بھاری قیمت خرچ ہوتی ہے، آخرکیوں اتنا آرام دہ اور ہر سہولت سے آراستہ سرکاری ہاؤس خالی ہے اسکے پیچھے ایک راز کی بات ہے۔

غیر ملکی ذرائع ابلاغ کے مطابق جاپانی وزیراعظم کی رہائش گاہ جو سرکار کی طرف سے حاصل ہوتی ہے سال 2012 سے بند ہے، جس کے متعلق کچھ عجیب قسم کی باتیں سننے کو مل رہی ہیں مگر ان باتوں میں کتنی سچائی ہے یہ تو وہاں مقیم لوگ ہی بیان کر سکتے ہیں۔

آئیں ان افواہوں کے بارے میں آپ کو آغاز سے بتاتے ہیں

اور پھر فوجی بغاوت کے خوف سے رہائش پذیر وزیراعظم کی آنکھ کھل جاتی تھی اور وہ ڈر کر نیند سے بیدار ہو جاتے تھے، لہزاً اسی لیے انھوں نے اس گھر سے کنارہ کیا اور اپنے گھر میں رہنا زیادہ بہتر سمجھا۔

ماضی کی اگر بات کی جائے تو یہ ایوان اس وقت خونی حویلی بن گیا جب 1932 میں فوجی بغاوت کی کوشش کے دوران اُس وقت کے وزیر اعظم کو بے دردی سے قتل کر دیا گیا تھا

اور پھر اس کے چار سال بعد ایک فوجی بغاوت کی چال بازی میں ایوان وزیراعظم گولیوں کی آوازوں سے لرز اٹھا تھا اور بعض نے بتایا کہ اس خون آلودہ عمارت میں اب بھی تاریخ کی یادیں موجود ہیں جن میں دیواروں پر گولیوں کے نشانات اور آگ سے ہونے والے نقصان کے ثبوت آج تک محفوظ ہیں۔

یاد رہے کہ اس خالی پڑے ایوان وزیراعظم کی دیکھ بھال پر ہر سال 16 کروڑ ین یعنی پاکستانی 22 کروڑ روپے سے زیادہ کی رقم خرچ ہوتی ہے، لہزاً ان بھوت پریت کی کہانیوں میں کتنا سچ اور کتنا جھوٹ ہے اس کے بارے میں بتانا مشکل ہے۔

Related Articles

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here

Stay Connected

22,046FansLike
2,984FollowersFollow
18,400SubscribersSubscribe

Latest Articles