30 C
Lahore
Tuesday, October 19, 2021

ہر دسواں پاکستانی شوہر یہ کام کرتا ہے، جس پر مفتی صاحب نے نکاح کو بے بنیاد قرار دے دیا

:شوہر نے ایسا کیا کام کیا

پاکستان کا ہر دسواں مرد یہ کام کرتا ہے۔ جس پر بیوی کو شدید مشکلات کا سامنا کرنا پرتا ہے۔ آج ہم آپ کو بتاتے ہیں، کہ وہ کون سا کام ہے۔ جس پر مولانہ صاحب نے نکاح کو ہی بے بنیاد قرار دے دیا۔ ملائیشیا سے تعلق رکھنے والے ایک مفتی صاحب نے، ایک نوجوان جوڑے کی طلاق کی بڑی وجہ بتا دی۔ رپورٹ کے مطابق کوالامپور کے ایک قصبے بانڈی میں ایک نوجوان اپنی بیوی کو لے کر عالمِ دین کے پاس آیا۔

نوجوان نے بتایا کہ اس نے سنگا پور میں ملازمت کے دوران، ایک فلپائنی خاتون سے کچھ تعلقات قائم کر لیے تھے۔ نوجوان کا کہنا تھا کہ ہم دونوں ایک ہی گھر میں رہتے تھے۔ اور اس دوران ہم دونوں میں کئی مرتبہ جسمانی تعلقات قائم ہوئے تھے۔ لیکن اب میں نوجوان اپنے کیے پر شرمندہ ہے۔ اور اس نے اپنی بیوی کو بھی ان سب باتوں سے آگاہ کر دیا ہے۔

:بیوی کس کشمکش میں مبتلا ہے

لیکن اس کی 24 سالہ بیوی نے یہ جاننا چاہا، کہ شوہر کی اس حرکت کی وجہ سے کیا، ابھی بھی ان دونوں کا نکاح قائم ہے۔ اور عالمِ دین نے کہا، کہ یہ ایک کبیرہ گناہ ہے۔ شوہر یا بیوی میں سے کوئی بھی یہ گناہ کرتا ہے، تو ان کا نکاح ناقص ہو جاتا ہے۔ اس لیے خاتون کو چاہیئے کہ وہ اپنے شوہر سے خلع لے لے۔

نوجوان رو رو کر عالمِ دین سے گزارش کرتا رہا، کہ اس معاملے کا کوئی نہ کوئی تو حل ہو گا۔ نوجوان کا کہنا تھا کہ وہ اپنی بیوی سے بہت پیار کرتا ہے۔ اور وہ اپنا گھر برباد نہیں کرنا چاہتا۔ لیکن مدرسے کے لوگوں نے اُسے کہا کہ اس سب کا ذمہ دار وہ خود ہے۔عالمِ دین کا کہنا تھا کہ اگر تم اپنی بیوی سے اس قدر محبت کرتے ہو۔ تو پھر یہ کام کیوں کیا۔ اس لیے اگر بیوی اس کے ساتھ رہنا چاہتی ہے، تو وہ بھی اس گناہ کا حصہ بن جائے گی۔ اس بات پر نوجوان کی اہلیہ نے اسی وقت اپنے شوہر کے خلاف خلع کی درخواست دائر کر دی۔

:شوہر نے ایسا کیا کام کیا

پاکستان کا ہر دسواں مرد یہ کام کرتا ہے۔ جس پر بیوی کو شدید مشکلات کا سامنا کرنا پرتا ہے۔ آج ہم آپ کو بتاتے ہیں، کہ وہ کون سا کام ہے۔ جس پر مولانہ صاحب نے نکاح کو ہی بے بنیاد قرار دے دیا۔ ملائیشیا سے تعلق رکھنے والے ایک مفتی صاحب نے، ایک نوجوان جوڑے کی طلاق کی بڑی وجہ بتا دی۔ رپورٹ کے مطابق کوالامپور کے ایک قصبے بانڈی میں ایک نوجوان اپنی بیوی کو لے کر عالمِ دین کے پاس آیا۔

نوجوان نے بتایا کہ اس نے سنگا پور میں ملازمت کے دوران، ایک فلپائنی خاتون سے کچھ تعلقات قائم کر لیے تھے۔ نوجوان کا کہنا تھا کہ ہم دونوں ایک ہی گھر میں رہتے تھے۔ اور اس دوران ہم دونوں میں کئی مرتبہ جسمانی تعلقات قائم ہوئے تھے۔ لیکن اب میں نوجوان اپنے کیے پر شرمندہ ہے۔ اور اس نے اپنی بیوی کو بھی ان سب باتوں سے آگاہ کر دیا ہے۔

:بیوی کس کشمکش میں مبتلا ہے

لیکن اس کی 24 سالہ بیوی نے یہ جاننا چاہا، کہ شوہر کی اس حرکت کی وجہ سے کیا، ابھی بھی ان دونوں کا نکاح قائم ہے۔ اور عالمِ دین نے کہا، کہ یہ ایک کبیرہ گناہ ہے۔ شوہر یا بیوی میں سے کوئی بھی یہ گناہ کرتا ہے، تو ان کا نکاح ناقص ہو جاتا ہے۔ اس لیے خاتون کو چاہیئے کہ وہ اپنے شوہر سے خلع لے لے۔

نوجوان رو رو کر عالمِ دین سے گزارش کرتا رہا، کہ اس معاملے کا کوئی نہ کوئی تو حل ہو گا۔ نوجوان کا کہنا تھا کہ وہ اپنی بیوی سے بہت پیار کرتا ہے۔ اور وہ اپنا گھر برباد نہیں کرنا چاہتا۔ لیکن مدرسے کے لوگوں نے اُسے کہا کہ اس سب کا ذمہ دار وہ خود ہے۔عالمِ دین کا کہنا تھا کہ اگر تم اپنی بیوی سے اس قدر محبت کرتے ہو۔ تو پھر یہ کام کیوں کیا۔ اس لیے اگر بیوی اس کے ساتھ رہنا چاہتی ہے، تو وہ بھی اس گناہ کا حصہ بن جائے گی۔ اس بات پر نوجوان کی اہلیہ نے اسی وقت اپنے شوہر کے خلاف خلع کی درخواست دائر کر دی۔

:شوہر نے ایسا کیا کام کیا

پاکستان کا ہر دسواں مرد یہ کام کرتا ہے۔ جس پر بیوی کو شدید مشکلات کا سامنا کرنا پرتا ہے۔ آج ہم آپ کو بتاتے ہیں، کہ وہ کون سا کام ہے۔ جس پر مولانہ صاحب نے نکاح کو ہی بے بنیاد قرار دے دیا۔ ملائیشیا سے تعلق رکھنے والے ایک مفتی صاحب نے، ایک نوجوان جوڑے کی طلاق کی بڑی وجہ بتا دی۔ رپورٹ کے مطابق کوالامپور کے ایک قصبے بانڈی میں ایک نوجوان اپنی بیوی کو لے کر عالمِ دین کے پاس آیا۔

نوجوان نے بتایا کہ اس نے سنگا پور میں ملازمت کے دوران، ایک فلپائنی خاتون سے کچھ تعلقات قائم کر لیے تھے۔ نوجوان کا کہنا تھا کہ ہم دونوں ایک ہی گھر میں رہتے تھے۔ اور اس دوران ہم دونوں میں کئی مرتبہ جسمانی تعلقات قائم ہوئے تھے۔ لیکن اب میں نوجوان اپنے کیے پر شرمندہ ہے۔ اور اس نے اپنی بیوی کو بھی ان سب باتوں سے آگاہ کر دیا ہے۔

:بیوی کس کشمکش میں مبتلا ہے

لیکن اس کی 24 سالہ بیوی نے یہ جاننا چاہا، کہ شوہر کی اس حرکت کی وجہ سے کیا، ابھی بھی ان دونوں کا نکاح قائم ہے۔ اور عالمِ دین نے کہا، کہ یہ ایک کبیرہ گناہ ہے۔ شوہر یا بیوی میں سے کوئی بھی یہ گناہ کرتا ہے، تو ان کا نکاح ناقص ہو جاتا ہے۔ اس لیے خاتون کو چاہیئے کہ وہ اپنے شوہر سے خلع لے لے۔

نوجوان رو رو کر عالمِ دین سے گزارش کرتا رہا، کہ اس معاملے کا کوئی نہ کوئی تو حل ہو گا۔ نوجوان کا کہنا تھا کہ وہ اپنی بیوی سے بہت پیار کرتا ہے۔ اور وہ اپنا گھر برباد نہیں کرنا چاہتا۔ لیکن مدرسے کے لوگوں نے اُسے کہا کہ اس سب کا ذمہ دار وہ خود ہے۔عالمِ دین کا کہنا تھا کہ اگر تم اپنی بیوی سے اس قدر محبت کرتے ہو۔ تو پھر یہ کام کیوں کیا۔ اس لیے اگر بیوی اس کے ساتھ رہنا چاہتی ہے، تو وہ بھی اس گناہ کا حصہ بن جائے گی۔ اس بات پر نوجوان کی اہلیہ نے اسی وقت اپنے شوہر کے خلاف خلع کی درخواست دائر کر دی۔

Related Articles

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here

Stay Connected

22,046FansLike
2,986FollowersFollow
18,400SubscribersSubscribe

Latest Articles