30 C
Lahore
Tuesday, October 19, 2021

نہ بادل ہوں گے نہ بارش ہو گی، 22 ویں صدی میں ہماری دنیا کیسی ہو گی؟

جب سے انسان نے سائنس اور ٹیکنالوجی کی دنیا میں قدم رکھا ہے۔ تب سے دنیا بہت تیزی سے چل رہی ہے۔ ایسا ہو سکتا ہے کہ ہمارے آنے والے کل میں آج کی بہت سی چیزیں ہمیں دکھائی بھی نہ دیں۔ ہم زیادہ دور نہیں جاتے، ہمارے بچپن کی ہی بات ہے کہ ہم وی سی آر پر فلمیں دیکھتے تھے۔ لیکن ہمارے بچے وی سی آر سے بلکل نا اقف ہیں۔ اسی لیے ہم اس بات سے واقف نہیں ہے کہ مستقبل میں ہماری دنیا میں کس طرح کی تبدیلیاں رونما ہو سکتی ہیں۔ مگر ماحول اور ٹیکنالوجہ پر نظر رکھتے ہوئے ہم نے اس بات کا اندازہ لگایا ہے کہ 2200 صدی میں ہماری دنیا کا نقشہ کس طرح کا نظر آئیگا۔ تو چلیں پھر آج ہم آپ کو مستقبل کی سیر کرواتے ہیں۔

The world is turning into a desert

:سفر بہت تیزی سے کرسکیں گے

بائیسویں صدی میں سفر کرنا بہت آسان ہے۔ کیونکہ اس دور میں ہوائی جہاز اور ٹرینیں تو ہوں گی، مگر اس کے علاوہ اُڑنے والی گاڑیاں بھی موجود ہوں گی۔ جس کی مدد سے سفر بہت آسان ہو جائے گا۔ آج کے دور میں بھی سفر کو تیز رفتار کرنے کی کوششیں جاری ہیں۔اس کے لیے انڈر گراؤنڈ سرنگیں بنائی جا رہی ہیں۔ اس کی مدد سے ہفتوں میں ہونے والا سفر صرف چند گھنٹوں میں مکمل ہو جائے گا۔

This train travels very fast

:جنگلات صرف قصے کہانیوں میں رہ جائیں گے

ابھی تک انسان پوری دنیا میں آدھے سے زیادہ جنگلات کو ختم کر چکا ہے۔ اگر جنگلات اسی طرح ختم ہوتے رہے، تو 2200 ویں صدی تک جنگلات بلکل ختم ہو چکے ہوں گے۔ اور جنگلات میں رہنے والے جانور بھی بھی اس دنیا سے بلکل ختم ہو جائیں گے۔ جو کہ ہماری دنیا کی خوبصورتی کے بہت خطرناک ہے۔

Deforestation is harmful to the world

:زمین کا بڑا حصہ صحرا بن چکا ہوگا

اگر گلوبل وارمنگ کے خلاف فوری کوئی اقدامات نہ کیے گئے، تو صرف جنگلات ہی نہیں بلکہ سمندر، دریا، جھیلیں اور یہاں تک کہ جن علاقوں میں انسانی رہائش ہے وہ بھی صحرا میں تبدیل ہوں جائیں گے۔ جہاں نہ جنگلات ہوں گے اور نہ ہی سمندر۔ اس کی وجہ سے بارشیں نہیں ہوں گی، جس کے باعث پوری دنیا کا درجہ حرارت بہت گرم ہو جائے گا۔ جس کی وجہ سے انسانی زندگی کا رہنا بہت مشکل ہو جائے گا۔

The land is getting dry

:بادل غائب ہوجائیں گے

انسان کے لیے دھوپ اور چھاؤں ایک بہت بڑی نعمت ہے۔ مگر آنے والی صدی میں انسان اپنی احمقانہ حرکات کی وجہ سے ان تمام نعمتوں سے محروم ہو جائے گا۔ جب زمین پر پانی نہیں ہو گا، تو آبی بخارات نہیں بنیں گے۔ جس کی وجہ سے بادل بلکل بھی نظر نہیں آئینگے۔

The clouds will disappear in the next century

جب سے انسان نے سائنس اور ٹیکنالوجی کی دنیا میں قدم رکھا ہے۔ تب سے دنیا بہت تیزی سے چل رہی ہے۔ ایسا ہو سکتا ہے کہ ہمارے آنے والے کل میں آج کی بہت سی چیزیں ہمیں دکھائی بھی نہ دیں۔ ہم زیادہ دور نہیں جاتے، ہمارے بچپن کی ہی بات ہے کہ ہم وی سی آر پر فلمیں دیکھتے تھے۔ لیکن ہمارے بچے وی سی آر سے بلکل نا اقف ہیں۔ اسی لیے ہم اس بات سے واقف نہیں ہے کہ مستقبل میں ہماری دنیا میں کس طرح کی تبدیلیاں رونما ہو سکتی ہیں۔ مگر ماحول اور ٹیکنالوجہ پر نظر رکھتے ہوئے ہم نے اس بات کا اندازہ لگایا ہے کہ 2200 صدی میں ہماری دنیا کا نقشہ کس طرح کا نظر آئیگا۔ تو چلیں پھر آج ہم آپ کو مستقبل کی سیر کرواتے ہیں۔

The world is turning into a desert

:سفر بہت تیزی سے کرسکیں گے

بائیسویں صدی میں سفر کرنا بہت آسان ہے۔ کیونکہ اس دور میں ہوائی جہاز اور ٹرینیں تو ہوں گی، مگر اس کے علاوہ اُڑنے والی گاڑیاں بھی موجود ہوں گی۔ جس کی مدد سے سفر بہت آسان ہو جائے گا۔ آج کے دور میں بھی سفر کو تیز رفتار کرنے کی کوششیں جاری ہیں۔اس کے لیے انڈر گراؤنڈ سرنگیں بنائی جا رہی ہیں۔ اس کی مدد سے ہفتوں میں ہونے والا سفر صرف چند گھنٹوں میں مکمل ہو جائے گا۔

This train travels very fast

:جنگلات صرف قصے کہانیوں میں رہ جائیں گے

ابھی تک انسان پوری دنیا میں آدھے سے زیادہ جنگلات کو ختم کر چکا ہے۔ اگر جنگلات اسی طرح ختم ہوتے رہے، تو 2200 ویں صدی تک جنگلات بلکل ختم ہو چکے ہوں گے۔ اور جنگلات میں رہنے والے جانور بھی بھی اس دنیا سے بلکل ختم ہو جائیں گے۔ جو کہ ہماری دنیا کی خوبصورتی کے بہت خطرناک ہے۔

Deforestation is harmful to the world

:زمین کا بڑا حصہ صحرا بن چکا ہوگا

اگر گلوبل وارمنگ کے خلاف فوری کوئی اقدامات نہ کیے گئے، تو صرف جنگلات ہی نہیں بلکہ سمندر، دریا، جھیلیں اور یہاں تک کہ جن علاقوں میں انسانی رہائش ہے وہ بھی صحرا میں تبدیل ہوں جائیں گے۔ جہاں نہ جنگلات ہوں گے اور نہ ہی سمندر۔ اس کی وجہ سے بارشیں نہیں ہوں گی، جس کے باعث پوری دنیا کا درجہ حرارت بہت گرم ہو جائے گا۔ جس کی وجہ سے انسانی زندگی کا رہنا بہت مشکل ہو جائے گا۔

The land is getting dry

:بادل غائب ہوجائیں گے

انسان کے لیے دھوپ اور چھاؤں ایک بہت بڑی نعمت ہے۔ مگر آنے والی صدی میں انسان اپنی احمقانہ حرکات کی وجہ سے ان تمام نعمتوں سے محروم ہو جائے گا۔ جب زمین پر پانی نہیں ہو گا، تو آبی بخارات نہیں بنیں گے۔ جس کی وجہ سے بادل بلکل بھی نظر نہیں آئینگے۔

The clouds will disappear in the next century

جب سے انسان نے سائنس اور ٹیکنالوجی کی دنیا میں قدم رکھا ہے۔ تب سے دنیا بہت تیزی سے چل رہی ہے۔ ایسا ہو سکتا ہے کہ ہمارے آنے والے کل میں آج کی بہت سی چیزیں ہمیں دکھائی بھی نہ دیں۔ ہم زیادہ دور نہیں جاتے، ہمارے بچپن کی ہی بات ہے کہ ہم وی سی آر پر فلمیں دیکھتے تھے۔ لیکن ہمارے بچے وی سی آر سے بلکل نا اقف ہیں۔ اسی لیے ہم اس بات سے واقف نہیں ہے کہ مستقبل میں ہماری دنیا میں کس طرح کی تبدیلیاں رونما ہو سکتی ہیں۔ مگر ماحول اور ٹیکنالوجہ پر نظر رکھتے ہوئے ہم نے اس بات کا اندازہ لگایا ہے کہ 2200 صدی میں ہماری دنیا کا نقشہ کس طرح کا نظر آئیگا۔ تو چلیں پھر آج ہم آپ کو مستقبل کی سیر کرواتے ہیں۔

The world is turning into a desert

:سفر بہت تیزی سے کرسکیں گے

بائیسویں صدی میں سفر کرنا بہت آسان ہے۔ کیونکہ اس دور میں ہوائی جہاز اور ٹرینیں تو ہوں گی، مگر اس کے علاوہ اُڑنے والی گاڑیاں بھی موجود ہوں گی۔ جس کی مدد سے سفر بہت آسان ہو جائے گا۔ آج کے دور میں بھی سفر کو تیز رفتار کرنے کی کوششیں جاری ہیں۔اس کے لیے انڈر گراؤنڈ سرنگیں بنائی جا رہی ہیں۔ اس کی مدد سے ہفتوں میں ہونے والا سفر صرف چند گھنٹوں میں مکمل ہو جائے گا۔

This train travels very fast

:جنگلات صرف قصے کہانیوں میں رہ جائیں گے

ابھی تک انسان پوری دنیا میں آدھے سے زیادہ جنگلات کو ختم کر چکا ہے۔ اگر جنگلات اسی طرح ختم ہوتے رہے، تو 2200 ویں صدی تک جنگلات بلکل ختم ہو چکے ہوں گے۔ اور جنگلات میں رہنے والے جانور بھی بھی اس دنیا سے بلکل ختم ہو جائیں گے۔ جو کہ ہماری دنیا کی خوبصورتی کے بہت خطرناک ہے۔

Deforestation is harmful to the world

:زمین کا بڑا حصہ صحرا بن چکا ہوگا

اگر گلوبل وارمنگ کے خلاف فوری کوئی اقدامات نہ کیے گئے، تو صرف جنگلات ہی نہیں بلکہ سمندر، دریا، جھیلیں اور یہاں تک کہ جن علاقوں میں انسانی رہائش ہے وہ بھی صحرا میں تبدیل ہوں جائیں گے۔ جہاں نہ جنگلات ہوں گے اور نہ ہی سمندر۔ اس کی وجہ سے بارشیں نہیں ہوں گی، جس کے باعث پوری دنیا کا درجہ حرارت بہت گرم ہو جائے گا۔ جس کی وجہ سے انسانی زندگی کا رہنا بہت مشکل ہو جائے گا۔

The land is getting dry

:بادل غائب ہوجائیں گے

انسان کے لیے دھوپ اور چھاؤں ایک بہت بڑی نعمت ہے۔ مگر آنے والی صدی میں انسان اپنی احمقانہ حرکات کی وجہ سے ان تمام نعمتوں سے محروم ہو جائے گا۔ جب زمین پر پانی نہیں ہو گا، تو آبی بخارات نہیں بنیں گے۔ جس کی وجہ سے بادل بلکل بھی نظر نہیں آئینگے۔

The clouds will disappear in the next century

Related Articles

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here

Stay Connected

22,046FansLike
2,986FollowersFollow
18,400SubscribersSubscribe

Latest Articles