30 C
Lahore
Tuesday, October 19, 2021

توہینِ رسالت یا ذاتی دُشمنی؟

توہین رسالت کا ایک اور واقعہ۔ دو مسیحی جوانوں کے خلاف مقدمہ درج ۔ فرسٹ نیوز نے ایف آئی آر کی کاپی حاصل کر لی۔

ہارون ایوب مسیح اور سلامت منشا مسیح نامی دو مسیحی لڑکوں کے خلاف ماڈل ٹائون میں 13 فروری 2021 کو مقدمہ درج کیا گیا ہے۔ ایف آئی آر کے متن میں یہ کہا گیا ہے کہ درخواست گزار ہارون احمد کاہنہ کا رہائشی ہے اور ماڈل ٹائون پارک میں اپنے دوستوں حارث خالد، ذاکر علی اور ذوالقرنین کے ہمراہ موجود تھے کہ ہارون ایوب اور سلامت منشا نامی افراد ان کے پاس آئے اورانہیں زندگی کا پانی نامی کتابچہ دیا اور عیسائیت کا پرچار شروع کر دیا اور حضورِاکرم اور قرآنِ پاک کی شان میں گستاخی کرنا شروع کردی۔

درخواست گذار کا مطالبہ ہے کہ نہ صرف ان دونوں افراد کے خلاف دانستہ طور پر مسلمانوں کے مذہبی جذبات مجروح کرنے کی غرض سے مذہبی فسادات، توہینِ رسالت، توہینِ قرآن، توہینِ اسلام کے اقدامات میں مقدمات درج کیےجائیں بلکہ مسیحی کتب پرنٹ اور پبلش کرنے والے منظم گروہ کو بھی گرفتار کر کے سخت سے سخت کاروائی عمل میں لائی جائے۔

جب کہ ملزمان سے ملی تفصیلات کے مطابق وہ دونوں ماڈل ٹائون پارک میں بائبل مقدس سیکھ رہے تھے۔ وہاں ہارون احمد نامی ایک مسلمان ان کے پاس آیا اور جب اس نے ان کے ہاتھ میں بائبل دیکھی تو اس نے ان پر چیخنا شروع کردیا اور کہا کہ پاکستان ایک اسلامی ملک ہے اورتم یہاں بائبل نہیں پڑھ سکتے نہ ہی کسی عوامی پارک میں تبلیغ کرسکتے ہو۔

اس کے جواب میں ایوب اور سلامت نے کہا کہ وہ تبلیغ نہیں کررہے ہیں بلکہ پارک کے اچھے اور صاف ماحول میں بائبل مقدس کا مطالعہ کررہے ہیں۔ اس بات پر ہارون احمد مزید مشتعل ہوگیا اور چیخ و پکار سے لوگوں کو جمع کرنے لگا اور سب کو بتانے لگا کہ ان دو مسیحی مردوں نے اسلام اور پیغمبر اسلام کی توہین کی ہے۔

اس کے بعد ہجوم نے ان دونوں کو زدوکوب کرنا شروع کیا، تھوڑی دیر پولیس آئی اور سلامت منشا مسیح کو گرفتار کرلیا جبکہ ہارون ایوب مسیح بھاگ نکلا۔

ان دونوں افراد پر دفعہ 295 اے ، بی اور سی کے تحت الزام عائد کیا گیا ہے۔ واضح رہے 295 اے پر 10 سال قید ، 295 بی پر 25 سال قید ہے جبکہ 295 سی سزائے موت کی حامل ہے۔

ہارون ایوب مسیح کی تلاش میں پولیس مختلف مقامات پر چھاپے مار رہی ہے اور اس کے اہل خانہ کو ہراساں کررہی ہے۔ ایوب مسیح ایک کرسچن انکلیو میں رہتے تھے اوریہ بھی شبہ ظاہر کیا جا رہا ہے کہ پورے مسیحی محلے پر اسلامی ہجوم حملہ کرسکتا ہے کیونکہ ایوب مسیح تاحال گرفتار نہیں ہوا ہے اورعلاقہ مکینوں کی جانب سے احتجاجی دبائو بڑھ رہا ہے۔

ملزمان کے مطابق انہوں نے کوئی جرم نہیں کیا۔ وہ صرف بائبل پڑھ رہے تھے مگرایک شخص کی ذاتی رنجش کی وجہ سے اس بات کو غلط رنگ دے دیا گیا اور ان کی ساری زندگی تباہ ہوگئی۔

جہاں اس سارے واقع میں دو مختلف دلائل سامنے آ رہے ہیں وہیں اس امر کی بھی ضرورت محسوس کی جارہی ہے کہ حکومت ریاست اور قانون کے معاملہ میں بِلا تفریق انصاف کو یقینی بنائے، اقلیتوں کو تحفظ فراہم کرے، اور الزامات غلط ثابت ہونے پر ایسے افراد کے خلاف بھی کاروائی یقینی بنائے جو ذاتی رنجش اور جھگڑوں کی بنا پر کسی شخص پر سنگین الزامات لگا کر زندگیاں تباہ کرنے کے مرتکب ہوں۔ واضح رہے کہ ماضی میں بھی مختلف گروہان اور افراد نے توہینِ مذہب، توہینِ قرآنِ پاک، توہینِ رسالت، اور مذہبی جذبات کی آڑ میں، 295 اے، بی، اور سی کے قوانین کو غلط استعمال کر کے ریاست اور اقلیتوں کو نقصان پہنچایا ہے۔

توہین رسالت کا ایک اور واقعہ۔ دو مسیحی جوانوں کے خلاف مقدمہ درج ۔ فرسٹ نیوز نے ایف آئی آر کی کاپی حاصل کر لی۔

ہارون ایوب مسیح اور سلامت منشا مسیح نامی دو مسیحی لڑکوں کے خلاف ماڈل ٹائون میں 13 فروری 2021 کو مقدمہ درج کیا گیا ہے۔ ایف آئی آر کے متن میں یہ کہا گیا ہے کہ درخواست گزار ہارون احمد کاہنہ کا رہائشی ہے اور ماڈل ٹائون پارک میں اپنے دوستوں حارث خالد، ذاکر علی اور ذوالقرنین کے ہمراہ موجود تھے کہ ہارون ایوب اور سلامت منشا نامی افراد ان کے پاس آئے اورانہیں زندگی کا پانی نامی کتابچہ دیا اور عیسائیت کا پرچار شروع کر دیا اور حضورِاکرم اور قرآنِ پاک کی شان میں گستاخی کرنا شروع کردی۔

درخواست گذار کا مطالبہ ہے کہ نہ صرف ان دونوں افراد کے خلاف دانستہ طور پر مسلمانوں کے مذہبی جذبات مجروح کرنے کی غرض سے مذہبی فسادات، توہینِ رسالت، توہینِ قرآن، توہینِ اسلام کے اقدامات میں مقدمات درج کیےجائیں بلکہ مسیحی کتب پرنٹ اور پبلش کرنے والے منظم گروہ کو بھی گرفتار کر کے سخت سے سخت کاروائی عمل میں لائی جائے۔

جب کہ ملزمان سے ملی تفصیلات کے مطابق وہ دونوں ماڈل ٹائون پارک میں بائبل مقدس سیکھ رہے تھے۔ وہاں ہارون احمد نامی ایک مسلمان ان کے پاس آیا اور جب اس نے ان کے ہاتھ میں بائبل دیکھی تو اس نے ان پر چیخنا شروع کردیا اور کہا کہ پاکستان ایک اسلامی ملک ہے اورتم یہاں بائبل نہیں پڑھ سکتے نہ ہی کسی عوامی پارک میں تبلیغ کرسکتے ہو۔

اس کے جواب میں ایوب اور سلامت نے کہا کہ وہ تبلیغ نہیں کررہے ہیں بلکہ پارک کے اچھے اور صاف ماحول میں بائبل مقدس کا مطالعہ کررہے ہیں۔ اس بات پر ہارون احمد مزید مشتعل ہوگیا اور چیخ و پکار سے لوگوں کو جمع کرنے لگا اور سب کو بتانے لگا کہ ان دو مسیحی مردوں نے اسلام اور پیغمبر اسلام کی توہین کی ہے۔

اس کے بعد ہجوم نے ان دونوں کو زدوکوب کرنا شروع کیا، تھوڑی دیر پولیس آئی اور سلامت منشا مسیح کو گرفتار کرلیا جبکہ ہارون ایوب مسیح بھاگ نکلا۔

ان دونوں افراد پر دفعہ 295 اے ، بی اور سی کے تحت الزام عائد کیا گیا ہے۔ واضح رہے 295 اے پر 10 سال قید ، 295 بی پر 25 سال قید ہے جبکہ 295 سی سزائے موت کی حامل ہے۔

ہارون ایوب مسیح کی تلاش میں پولیس مختلف مقامات پر چھاپے مار رہی ہے اور اس کے اہل خانہ کو ہراساں کررہی ہے۔ ایوب مسیح ایک کرسچن انکلیو میں رہتے تھے اوریہ بھی شبہ ظاہر کیا جا رہا ہے کہ پورے مسیحی محلے پر اسلامی ہجوم حملہ کرسکتا ہے کیونکہ ایوب مسیح تاحال گرفتار نہیں ہوا ہے اورعلاقہ مکینوں کی جانب سے احتجاجی دبائو بڑھ رہا ہے۔

ملزمان کے مطابق انہوں نے کوئی جرم نہیں کیا۔ وہ صرف بائبل پڑھ رہے تھے مگرایک شخص کی ذاتی رنجش کی وجہ سے اس بات کو غلط رنگ دے دیا گیا اور ان کی ساری زندگی تباہ ہوگئی۔

جہاں اس سارے واقع میں دو مختلف دلائل سامنے آ رہے ہیں وہیں اس امر کی بھی ضرورت محسوس کی جارہی ہے کہ حکومت ریاست اور قانون کے معاملہ میں بِلا تفریق انصاف کو یقینی بنائے، اقلیتوں کو تحفظ فراہم کرے، اور الزامات غلط ثابت ہونے پر ایسے افراد کے خلاف بھی کاروائی یقینی بنائے جو ذاتی رنجش اور جھگڑوں کی بنا پر کسی شخص پر سنگین الزامات لگا کر زندگیاں تباہ کرنے کے مرتکب ہوں۔ واضح رہے کہ ماضی میں بھی مختلف گروہان اور افراد نے توہینِ مذہب، توہینِ قرآنِ پاک، توہینِ رسالت، اور مذہبی جذبات کی آڑ میں، 295 اے، بی، اور سی کے قوانین کو غلط استعمال کر کے ریاست اور اقلیتوں کو نقصان پہنچایا ہے۔

توہین رسالت کا ایک اور واقعہ۔ دو مسیحی جوانوں کے خلاف مقدمہ درج ۔ فرسٹ نیوز نے ایف آئی آر کی کاپی حاصل کر لی۔

ہارون ایوب مسیح اور سلامت منشا مسیح نامی دو مسیحی لڑکوں کے خلاف ماڈل ٹائون میں 13 فروری 2021 کو مقدمہ درج کیا گیا ہے۔ ایف آئی آر کے متن میں یہ کہا گیا ہے کہ درخواست گزار ہارون احمد کاہنہ کا رہائشی ہے اور ماڈل ٹائون پارک میں اپنے دوستوں حارث خالد، ذاکر علی اور ذوالقرنین کے ہمراہ موجود تھے کہ ہارون ایوب اور سلامت منشا نامی افراد ان کے پاس آئے اورانہیں زندگی کا پانی نامی کتابچہ دیا اور عیسائیت کا پرچار شروع کر دیا اور حضورِاکرم اور قرآنِ پاک کی شان میں گستاخی کرنا شروع کردی۔

درخواست گذار کا مطالبہ ہے کہ نہ صرف ان دونوں افراد کے خلاف دانستہ طور پر مسلمانوں کے مذہبی جذبات مجروح کرنے کی غرض سے مذہبی فسادات، توہینِ رسالت، توہینِ قرآن، توہینِ اسلام کے اقدامات میں مقدمات درج کیےجائیں بلکہ مسیحی کتب پرنٹ اور پبلش کرنے والے منظم گروہ کو بھی گرفتار کر کے سخت سے سخت کاروائی عمل میں لائی جائے۔

جب کہ ملزمان سے ملی تفصیلات کے مطابق وہ دونوں ماڈل ٹائون پارک میں بائبل مقدس سیکھ رہے تھے۔ وہاں ہارون احمد نامی ایک مسلمان ان کے پاس آیا اور جب اس نے ان کے ہاتھ میں بائبل دیکھی تو اس نے ان پر چیخنا شروع کردیا اور کہا کہ پاکستان ایک اسلامی ملک ہے اورتم یہاں بائبل نہیں پڑھ سکتے نہ ہی کسی عوامی پارک میں تبلیغ کرسکتے ہو۔

اس کے جواب میں ایوب اور سلامت نے کہا کہ وہ تبلیغ نہیں کررہے ہیں بلکہ پارک کے اچھے اور صاف ماحول میں بائبل مقدس کا مطالعہ کررہے ہیں۔ اس بات پر ہارون احمد مزید مشتعل ہوگیا اور چیخ و پکار سے لوگوں کو جمع کرنے لگا اور سب کو بتانے لگا کہ ان دو مسیحی مردوں نے اسلام اور پیغمبر اسلام کی توہین کی ہے۔

اس کے بعد ہجوم نے ان دونوں کو زدوکوب کرنا شروع کیا، تھوڑی دیر پولیس آئی اور سلامت منشا مسیح کو گرفتار کرلیا جبکہ ہارون ایوب مسیح بھاگ نکلا۔

ان دونوں افراد پر دفعہ 295 اے ، بی اور سی کے تحت الزام عائد کیا گیا ہے۔ واضح رہے 295 اے پر 10 سال قید ، 295 بی پر 25 سال قید ہے جبکہ 295 سی سزائے موت کی حامل ہے۔

ہارون ایوب مسیح کی تلاش میں پولیس مختلف مقامات پر چھاپے مار رہی ہے اور اس کے اہل خانہ کو ہراساں کررہی ہے۔ ایوب مسیح ایک کرسچن انکلیو میں رہتے تھے اوریہ بھی شبہ ظاہر کیا جا رہا ہے کہ پورے مسیحی محلے پر اسلامی ہجوم حملہ کرسکتا ہے کیونکہ ایوب مسیح تاحال گرفتار نہیں ہوا ہے اورعلاقہ مکینوں کی جانب سے احتجاجی دبائو بڑھ رہا ہے۔

ملزمان کے مطابق انہوں نے کوئی جرم نہیں کیا۔ وہ صرف بائبل پڑھ رہے تھے مگرایک شخص کی ذاتی رنجش کی وجہ سے اس بات کو غلط رنگ دے دیا گیا اور ان کی ساری زندگی تباہ ہوگئی۔

جہاں اس سارے واقع میں دو مختلف دلائل سامنے آ رہے ہیں وہیں اس امر کی بھی ضرورت محسوس کی جارہی ہے کہ حکومت ریاست اور قانون کے معاملہ میں بِلا تفریق انصاف کو یقینی بنائے، اقلیتوں کو تحفظ فراہم کرے، اور الزامات غلط ثابت ہونے پر ایسے افراد کے خلاف بھی کاروائی یقینی بنائے جو ذاتی رنجش اور جھگڑوں کی بنا پر کسی شخص پر سنگین الزامات لگا کر زندگیاں تباہ کرنے کے مرتکب ہوں۔ واضح رہے کہ ماضی میں بھی مختلف گروہان اور افراد نے توہینِ مذہب، توہینِ قرآنِ پاک، توہینِ رسالت، اور مذہبی جذبات کی آڑ میں، 295 اے، بی، اور سی کے قوانین کو غلط استعمال کر کے ریاست اور اقلیتوں کو نقصان پہنچایا ہے۔

Related Articles

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here

Stay Connected

22,046FansLike
2,986FollowersFollow
18,400SubscribersSubscribe

Latest Articles