25 C
Lahore
Tuesday, October 19, 2021

کراچی: تباہ ہونے والے پی آئی اے طیارہ کے ملبے سےملنے والی خطیر رقم

اسلام آباد (تازہ ترین) :گذشتہ سال کراچی میں تباہ ہونے والی پی آئی اے طیارہ کے ملبے سے ملنے والی خطیر رقم کے تین دعویدار سامنے آنے کے باجود وہ رقم ان میں سے کسی کو بھی نہیں مل سکے گی اور وہ قومی خزانے میں جمع کروا دی جائے گی۔

اخباری رپورٹ کے مطابق 22 مئی 2020 کو پی آئی اے کی فلائٹ کراچی میں لینڈنگ کرتے ہوئے ائیرپورٹ کے قریب ماڈل کالونی کے مکانات پرکریش کر گئی جس میں 95 جانوں کا ضیاع ہوا۔

Rescue workers gather at the site of a passenger plane crash in a residential area near an airport in Karachi, Pakistan May 22, 2020. REUTERS/Akhtar Soomro

طیارے کے ملبے سے ایک سوٹ کیس ملا جس میں 3 کروڑ روپے سے زائد کی کرنسی موجود تھی جس میں کچھ ادھ جلی بھی تھی۔ جہاں بظاہر پہلا سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ یہ رقم لے جانے کس نے دی اور لے کر کون گیا؟ ائرپورٹ پر کسٹم حکام کو اس رقم کا پتا کیسے نہیں چل سکا؟ اور کس طرح کوئی شخص اتنی بڑی رقم لے جانے میں کامیاب ہو گیا۔ واضح رہے کہ ائیر پورٹ پراتنی بڑی رقم لے جانے پر نہ صرف پابندی ہے بلکہ یہ غیر قانونی بھی ہے۔

جہاں ان سوالوں کے جواب ملنا ابھی باقی ہیں وہیں اس رقم کے تین دعویدار سامنے آئے مگر کوئی بھی اصل رقم بتانے میں ناکام رہا۔ مگر کچھ ماہ بعد غالبا تینوں دعویداروں کو پی آئی اے کے عملے کی ملی بھگت سے اصل رقم کی مالیت کے بالکل درست اعداد و شمار معلوم ہو گئے جب کہ وہ رقم پی آئی اے کے لاکرز میں رکھی ہوئی تھی جس کے بعد تینوں دعویداروں نے دوبارہ پی آئی اے سے رابطہ کیا اور اصل اعداد و شمار بتائے مگر جب ان سے وہ کاغذات اور سرٹیفیکیٹ طلب کیے گئے تو جو رقم منتقلی کے لیے لازمی بنوانا ہوتا ہے تو تینوں افراد یہ ثبوت ظاہر کرنے میں ناکام رہے جس کے بعد فیصلہ کیا گیا کہ رقم اسٹیٹ بینک میں جمع کروا دی جائے گی۔

پی آئی اے ترجمان عبداللہ حفیظ کے مطابق بریف کیس میں موجود رقم کے تین دعویدار سامنے آئے تھے مگر وہ ضروری دستاویزات پیش کرنے میں ناکام رہے لہذا یہ فیصلہ کیا گیا کہ یہ رقم قومی خزانے میں جمع کروا دی جائے گی۔

یاد رہے کہ گذشتہ سال کراچی میں پی آئی اے کا طیارہ لینڈنگ کے دوران تباہ ہو گیا تھا۔ تحقیقاتی رپورٹ کے مطابق پہلی لینڈنگ پر طیارہ رن وے کے درمیان آکر ٹکراگیا تاہم پائلٹ اسے دوبارہ اڑا کر لے گیا رپورٹ میں ذکر گیا ہے کہ پہلی لینڈنگ کے بعد پائلٹ کو جہاز اڑانا نہیں چاہیے تھا، تاہم دوبارہ ٹیک آف کے بعد جہاز کو 17 منٹ تک فضا میں اڑایا گیا اور اسی دوران طیارے کے انجن فیل ہوگئےتھے. پی آئی اے کے ترجمان عبداللہ خفیظ نے برطانوی نشریاتی ادارے کو بتایا کہ رپورٹ کے مطابق طیارے میں فنی خرابی نہیں تھی بلکہ انسانی غلطی کی وجہ سے حادثہ پیش آیا۔

ابتدائی طور پر طیارے کے کاک پٹ کریو اور ایئر ٹریفک کنٹرولر کو اس ڈائریکٹ حادثے کا ذمہ دار قرار دیا گیا تھا جبکہ پی آئی اے اور سی اے اے کو بھی برابر کا ذمہ دار قرار دیا گیا تھا۔ تاہم تحقیقاتی رپورٹ میں بہت سے دیگر عوامل پربھی روشنی ڈالی گئی ہے۔

اسلام آباد (تازہ ترین) :گذشتہ سال کراچی میں تباہ ہونے والی پی آئی اے طیارہ کے ملبے سے ملنے والی خطیر رقم کے تین دعویدار سامنے آنے کے باجود وہ رقم ان میں سے کسی کو بھی نہیں مل سکے گی اور وہ قومی خزانے میں جمع کروا دی جائے گی۔

اخباری رپورٹ کے مطابق 22 مئی 2020 کو پی آئی اے کی فلائٹ کراچی میں لینڈنگ کرتے ہوئے ائیرپورٹ کے قریب ماڈل کالونی کے مکانات پرکریش کر گئی جس میں 95 جانوں کا ضیاع ہوا۔

Rescue workers gather at the site of a passenger plane crash in a residential area near an airport in Karachi, Pakistan May 22, 2020. REUTERS/Akhtar Soomro

طیارے کے ملبے سے ایک سوٹ کیس ملا جس میں 3 کروڑ روپے سے زائد کی کرنسی موجود تھی جس میں کچھ ادھ جلی بھی تھی۔ جہاں بظاہر پہلا سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ یہ رقم لے جانے کس نے دی اور لے کر کون گیا؟ ائرپورٹ پر کسٹم حکام کو اس رقم کا پتا کیسے نہیں چل سکا؟ اور کس طرح کوئی شخص اتنی بڑی رقم لے جانے میں کامیاب ہو گیا۔ واضح رہے کہ ائیر پورٹ پراتنی بڑی رقم لے جانے پر نہ صرف پابندی ہے بلکہ یہ غیر قانونی بھی ہے۔

جہاں ان سوالوں کے جواب ملنا ابھی باقی ہیں وہیں اس رقم کے تین دعویدار سامنے آئے مگر کوئی بھی اصل رقم بتانے میں ناکام رہا۔ مگر کچھ ماہ بعد غالبا تینوں دعویداروں کو پی آئی اے کے عملے کی ملی بھگت سے اصل رقم کی مالیت کے بالکل درست اعداد و شمار معلوم ہو گئے جب کہ وہ رقم پی آئی اے کے لاکرز میں رکھی ہوئی تھی جس کے بعد تینوں دعویداروں نے دوبارہ پی آئی اے سے رابطہ کیا اور اصل اعداد و شمار بتائے مگر جب ان سے وہ کاغذات اور سرٹیفیکیٹ طلب کیے گئے تو جو رقم منتقلی کے لیے لازمی بنوانا ہوتا ہے تو تینوں افراد یہ ثبوت ظاہر کرنے میں ناکام رہے جس کے بعد فیصلہ کیا گیا کہ رقم اسٹیٹ بینک میں جمع کروا دی جائے گی۔

پی آئی اے ترجمان عبداللہ حفیظ کے مطابق بریف کیس میں موجود رقم کے تین دعویدار سامنے آئے تھے مگر وہ ضروری دستاویزات پیش کرنے میں ناکام رہے لہذا یہ فیصلہ کیا گیا کہ یہ رقم قومی خزانے میں جمع کروا دی جائے گی۔

یاد رہے کہ گذشتہ سال کراچی میں پی آئی اے کا طیارہ لینڈنگ کے دوران تباہ ہو گیا تھا۔ تحقیقاتی رپورٹ کے مطابق پہلی لینڈنگ پر طیارہ رن وے کے درمیان آکر ٹکراگیا تاہم پائلٹ اسے دوبارہ اڑا کر لے گیا رپورٹ میں ذکر گیا ہے کہ پہلی لینڈنگ کے بعد پائلٹ کو جہاز اڑانا نہیں چاہیے تھا، تاہم دوبارہ ٹیک آف کے بعد جہاز کو 17 منٹ تک فضا میں اڑایا گیا اور اسی دوران طیارے کے انجن فیل ہوگئےتھے. پی آئی اے کے ترجمان عبداللہ خفیظ نے برطانوی نشریاتی ادارے کو بتایا کہ رپورٹ کے مطابق طیارے میں فنی خرابی نہیں تھی بلکہ انسانی غلطی کی وجہ سے حادثہ پیش آیا۔

ابتدائی طور پر طیارے کے کاک پٹ کریو اور ایئر ٹریفک کنٹرولر کو اس ڈائریکٹ حادثے کا ذمہ دار قرار دیا گیا تھا جبکہ پی آئی اے اور سی اے اے کو بھی برابر کا ذمہ دار قرار دیا گیا تھا۔ تاہم تحقیقاتی رپورٹ میں بہت سے دیگر عوامل پربھی روشنی ڈالی گئی ہے۔

اسلام آباد (تازہ ترین) :گذشتہ سال کراچی میں تباہ ہونے والی پی آئی اے طیارہ کے ملبے سے ملنے والی خطیر رقم کے تین دعویدار سامنے آنے کے باجود وہ رقم ان میں سے کسی کو بھی نہیں مل سکے گی اور وہ قومی خزانے میں جمع کروا دی جائے گی۔

اخباری رپورٹ کے مطابق 22 مئی 2020 کو پی آئی اے کی فلائٹ کراچی میں لینڈنگ کرتے ہوئے ائیرپورٹ کے قریب ماڈل کالونی کے مکانات پرکریش کر گئی جس میں 95 جانوں کا ضیاع ہوا۔

Rescue workers gather at the site of a passenger plane crash in a residential area near an airport in Karachi, Pakistan May 22, 2020. REUTERS/Akhtar Soomro

طیارے کے ملبے سے ایک سوٹ کیس ملا جس میں 3 کروڑ روپے سے زائد کی کرنسی موجود تھی جس میں کچھ ادھ جلی بھی تھی۔ جہاں بظاہر پہلا سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ یہ رقم لے جانے کس نے دی اور لے کر کون گیا؟ ائرپورٹ پر کسٹم حکام کو اس رقم کا پتا کیسے نہیں چل سکا؟ اور کس طرح کوئی شخص اتنی بڑی رقم لے جانے میں کامیاب ہو گیا۔ واضح رہے کہ ائیر پورٹ پراتنی بڑی رقم لے جانے پر نہ صرف پابندی ہے بلکہ یہ غیر قانونی بھی ہے۔

جہاں ان سوالوں کے جواب ملنا ابھی باقی ہیں وہیں اس رقم کے تین دعویدار سامنے آئے مگر کوئی بھی اصل رقم بتانے میں ناکام رہا۔ مگر کچھ ماہ بعد غالبا تینوں دعویداروں کو پی آئی اے کے عملے کی ملی بھگت سے اصل رقم کی مالیت کے بالکل درست اعداد و شمار معلوم ہو گئے جب کہ وہ رقم پی آئی اے کے لاکرز میں رکھی ہوئی تھی جس کے بعد تینوں دعویداروں نے دوبارہ پی آئی اے سے رابطہ کیا اور اصل اعداد و شمار بتائے مگر جب ان سے وہ کاغذات اور سرٹیفیکیٹ طلب کیے گئے تو جو رقم منتقلی کے لیے لازمی بنوانا ہوتا ہے تو تینوں افراد یہ ثبوت ظاہر کرنے میں ناکام رہے جس کے بعد فیصلہ کیا گیا کہ رقم اسٹیٹ بینک میں جمع کروا دی جائے گی۔

پی آئی اے ترجمان عبداللہ حفیظ کے مطابق بریف کیس میں موجود رقم کے تین دعویدار سامنے آئے تھے مگر وہ ضروری دستاویزات پیش کرنے میں ناکام رہے لہذا یہ فیصلہ کیا گیا کہ یہ رقم قومی خزانے میں جمع کروا دی جائے گی۔

یاد رہے کہ گذشتہ سال کراچی میں پی آئی اے کا طیارہ لینڈنگ کے دوران تباہ ہو گیا تھا۔ تحقیقاتی رپورٹ کے مطابق پہلی لینڈنگ پر طیارہ رن وے کے درمیان آکر ٹکراگیا تاہم پائلٹ اسے دوبارہ اڑا کر لے گیا رپورٹ میں ذکر گیا ہے کہ پہلی لینڈنگ کے بعد پائلٹ کو جہاز اڑانا نہیں چاہیے تھا، تاہم دوبارہ ٹیک آف کے بعد جہاز کو 17 منٹ تک فضا میں اڑایا گیا اور اسی دوران طیارے کے انجن فیل ہوگئےتھے. پی آئی اے کے ترجمان عبداللہ خفیظ نے برطانوی نشریاتی ادارے کو بتایا کہ رپورٹ کے مطابق طیارے میں فنی خرابی نہیں تھی بلکہ انسانی غلطی کی وجہ سے حادثہ پیش آیا۔

ابتدائی طور پر طیارے کے کاک پٹ کریو اور ایئر ٹریفک کنٹرولر کو اس ڈائریکٹ حادثے کا ذمہ دار قرار دیا گیا تھا جبکہ پی آئی اے اور سی اے اے کو بھی برابر کا ذمہ دار قرار دیا گیا تھا۔ تاہم تحقیقاتی رپورٹ میں بہت سے دیگر عوامل پربھی روشنی ڈالی گئی ہے۔

Related Articles

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here

Stay Connected

22,046FansLike
2,984FollowersFollow
18,400SubscribersSubscribe

Latest Articles