20 C
Lahore
Sunday, October 17, 2021

ایک ایسی لڑکی جو 18 سال کی عمر میں 144 سال کا جسم لیے اس دنیا سے رخصت ہو گئی

ہماری دنیا میں بہت سے عجوبے دیکھنے کو ملتے ہیں۔ لیکن کچھ چیزیں ایسی ہوتی ہیں، جن کے متعلق جان کر ہمارا دل بہت دکھی ہوتا ہے۔ اسی طرح آج سے اٹھارہ سال پہلے فوئیب لوئیس اسمتھ کے گھر میں پیدا ہونے والی اشانتی اسمتھ، اپنی ایک الگ پہچان رکھتی ہیں۔ اشانتی اسمتھ کے پیدا ہوتے ہی ڈاکٹروں نے اس کے والدین کو آگاہ کر دیا تھا، کہ آپ کی بچی ایک جینیٹک بیماری بنجامن میں مبتلا ہے۔

:اشانتی کس خطرناک بیماری میں مبتلا تھی

اس بیماری کے اثرات یہ ہوتے ہیں کہ بچہ ایک سال جیتا ہے، تو اس کا جسم آٹھ سال پُرانا لگتا ہے۔ یعنی جب اشانتی نے اپنی پہلی سالگرہ منائی تھی، تو اس کا جسم آٹھ سال کے بچے جتنا تھا۔ اسی لحاظ سے جب اشانتی اٹھارہ سال کی ہوئیں۔ تو ان کے جسمانی اعضا 144 سال کی بوڑھی عورت جیسے ہو چکے تھے۔

اشانتی کی ماں کا کہنا تھا کہ، اس بیماری نے صرف جسم پر اثر کیا تھا۔ دماغی لحاظ سے وہ بلکل ٹھیک تھی۔ وہ اپنی زندگی کے تمام لمحات کو بہت جوش سے انجوائے کرتی تھی۔ وہ ایک نارمل بچے کی طرح کھیلتی بھی تھی، اور اپنے جذبات کو بھی ظاہر کرتی تھی۔

Ashanti enjoyed her life very much

اشانتی نے اپنی اٹھارویں سالگرہ پر ایک تقریب منعقد کی، اور اپنی ماں کے ساتھ باہر ڈنر کرنے کے لیے بھی گئی تھیں۔ اشانتی کی ماں کا کہنا تھا کہ اشانتی جوڑوں کی درد میں مبتلا ہو گئی تھیں۔ اس کی ہڈیاں ایسی ہو چکی تھیں جیسے ایک بہت عمر رسیدہ خاتون کی ہڈیاں ہوتی ہیں۔

اشانتی کے کولہے کی ہڈی ٹوت چکی تھی، جیسے تین بار جوڑا گیا تھا۔ مگر اس کے چلنے پھرنے کے سبب سے وہ ہڈی بار بار اپنی جگہ سے ہل جاتی تھی۔ جس کی وجہ سے اشانتی کو چلنے میں بہت مسئلہ ہوتا تھا۔

جوڑوں کے مرض کے علاوہ اشانتی دل کے مرض میں بھی مبتلا ہو چکی تھی۔ اسی مرض کے باعث اس کی موت واقع ہوئی تھی۔اپنی 17 ویں سالگرہ کے چند دنوں بعد وہ ایک پارک میں تھی۔ اور اس نے کے ایف سی سے کھانا کھایا تھا۔ لیکن اچانک ہی اس کی طبیعت بہت ناساز ہو گئی۔ وہ اپنی دوست کے ہمراہ تھی اور اس نے فوراً اسے کہا، کہ مجھے میری ماں کے پاس لے کر چلو۔

:اشانتی کا اپنی ماں سے اظہارِ محبت

اس کے بعد 19 جولائی کو اشانتی نے اپنی زندگی کے آخری الفاظ ادا کیے، اور اپنی ماں کا ہاتھ تھامے اس نے کہا کہ ماں میں تم سے بہت پیار کرتی ہوں اور اب مجھے جانے دو۔ یہ ابھی کہنا ہی تھا کہ اشناتی نے اپنی آخری سانسیں لی، اور اس جہانِ فانی سے رُخصت ہو گئی۔

:اشانتی کی الوداعی تقریب کیسے منائی گئی

جس طرح اشانتی کی زندگی دوسروں سے مختلف تھی۔ اسی طرح اس کے گھر والوں نے اس کی موت کو بھی ایک الگ انداز کے ساتھ انجوائے کیا۔ اشانتی کی خواہش تھی کہ اس کے مرنے پر ایک شاندار تقریب منعقد کی جائے اور آسمان میں غبارے چھوڑے جائیں۔

Ashanti was much loved by her family

اس تقریب پر 300 لالٹین جلائی گئی اور آتش بازی کی گئی۔ ایک بڑی سی اسکرین لگائی گئی اور اس پر اشانتی کی زندگی کے چند حسین لمحات کی ویڈیوز چلائی گئی۔ اس ویڈیو میں ہر جگہ وہ ہنستی اور مسکراتی دکھائی دے رہی تھی۔ اشانتی نے اپنی 18 سال کی زندگی کو 144 سال کے جسم کے ساتھ مکمل کر لیا تھا، اور اب وہ اپنے چاہنے والوں کے ساتھ نہیں تھی۔

ہماری دنیا میں بہت سے عجوبے دیکھنے کو ملتے ہیں۔ لیکن کچھ چیزیں ایسی ہوتی ہیں، جن کے متعلق جان کر ہمارا دل بہت دکھی ہوتا ہے۔ اسی طرح آج سے اٹھارہ سال پہلے فوئیب لوئیس اسمتھ کے گھر میں پیدا ہونے والی اشانتی اسمتھ، اپنی ایک الگ پہچان رکھتی ہیں۔ اشانتی اسمتھ کے پیدا ہوتے ہی ڈاکٹروں نے اس کے والدین کو آگاہ کر دیا تھا، کہ آپ کی بچی ایک جینیٹک بیماری بنجامن میں مبتلا ہے۔

:اشانتی کس خطرناک بیماری میں مبتلا تھی

اس بیماری کے اثرات یہ ہوتے ہیں کہ بچہ ایک سال جیتا ہے، تو اس کا جسم آٹھ سال پُرانا لگتا ہے۔ یعنی جب اشانتی نے اپنی پہلی سالگرہ منائی تھی، تو اس کا جسم آٹھ سال کے بچے جتنا تھا۔ اسی لحاظ سے جب اشانتی اٹھارہ سال کی ہوئیں۔ تو ان کے جسمانی اعضا 144 سال کی بوڑھی عورت جیسے ہو چکے تھے۔

اشانتی کی ماں کا کہنا تھا کہ، اس بیماری نے صرف جسم پر اثر کیا تھا۔ دماغی لحاظ سے وہ بلکل ٹھیک تھی۔ وہ اپنی زندگی کے تمام لمحات کو بہت جوش سے انجوائے کرتی تھی۔ وہ ایک نارمل بچے کی طرح کھیلتی بھی تھی، اور اپنے جذبات کو بھی ظاہر کرتی تھی۔

Ashanti enjoyed her life very much

اشانتی نے اپنی اٹھارویں سالگرہ پر ایک تقریب منعقد کی، اور اپنی ماں کے ساتھ باہر ڈنر کرنے کے لیے بھی گئی تھیں۔ اشانتی کی ماں کا کہنا تھا کہ اشانتی جوڑوں کی درد میں مبتلا ہو گئی تھیں۔ اس کی ہڈیاں ایسی ہو چکی تھیں جیسے ایک بہت عمر رسیدہ خاتون کی ہڈیاں ہوتی ہیں۔

اشانتی کے کولہے کی ہڈی ٹوت چکی تھی، جیسے تین بار جوڑا گیا تھا۔ مگر اس کے چلنے پھرنے کے سبب سے وہ ہڈی بار بار اپنی جگہ سے ہل جاتی تھی۔ جس کی وجہ سے اشانتی کو چلنے میں بہت مسئلہ ہوتا تھا۔

جوڑوں کے مرض کے علاوہ اشانتی دل کے مرض میں بھی مبتلا ہو چکی تھی۔ اسی مرض کے باعث اس کی موت واقع ہوئی تھی۔اپنی 17 ویں سالگرہ کے چند دنوں بعد وہ ایک پارک میں تھی۔ اور اس نے کے ایف سی سے کھانا کھایا تھا۔ لیکن اچانک ہی اس کی طبیعت بہت ناساز ہو گئی۔ وہ اپنی دوست کے ہمراہ تھی اور اس نے فوراً اسے کہا، کہ مجھے میری ماں کے پاس لے کر چلو۔

:اشانتی کا اپنی ماں سے اظہارِ محبت

اس کے بعد 19 جولائی کو اشانتی نے اپنی زندگی کے آخری الفاظ ادا کیے، اور اپنی ماں کا ہاتھ تھامے اس نے کہا کہ ماں میں تم سے بہت پیار کرتی ہوں اور اب مجھے جانے دو۔ یہ ابھی کہنا ہی تھا کہ اشناتی نے اپنی آخری سانسیں لی، اور اس جہانِ فانی سے رُخصت ہو گئی۔

:اشانتی کی الوداعی تقریب کیسے منائی گئی

جس طرح اشانتی کی زندگی دوسروں سے مختلف تھی۔ اسی طرح اس کے گھر والوں نے اس کی موت کو بھی ایک الگ انداز کے ساتھ انجوائے کیا۔ اشانتی کی خواہش تھی کہ اس کے مرنے پر ایک شاندار تقریب منعقد کی جائے اور آسمان میں غبارے چھوڑے جائیں۔

Ashanti was much loved by her family

اس تقریب پر 300 لالٹین جلائی گئی اور آتش بازی کی گئی۔ ایک بڑی سی اسکرین لگائی گئی اور اس پر اشانتی کی زندگی کے چند حسین لمحات کی ویڈیوز چلائی گئی۔ اس ویڈیو میں ہر جگہ وہ ہنستی اور مسکراتی دکھائی دے رہی تھی۔ اشانتی نے اپنی 18 سال کی زندگی کو 144 سال کے جسم کے ساتھ مکمل کر لیا تھا، اور اب وہ اپنے چاہنے والوں کے ساتھ نہیں تھی۔

ہماری دنیا میں بہت سے عجوبے دیکھنے کو ملتے ہیں۔ لیکن کچھ چیزیں ایسی ہوتی ہیں، جن کے متعلق جان کر ہمارا دل بہت دکھی ہوتا ہے۔ اسی طرح آج سے اٹھارہ سال پہلے فوئیب لوئیس اسمتھ کے گھر میں پیدا ہونے والی اشانتی اسمتھ، اپنی ایک الگ پہچان رکھتی ہیں۔ اشانتی اسمتھ کے پیدا ہوتے ہی ڈاکٹروں نے اس کے والدین کو آگاہ کر دیا تھا، کہ آپ کی بچی ایک جینیٹک بیماری بنجامن میں مبتلا ہے۔

:اشانتی کس خطرناک بیماری میں مبتلا تھی

اس بیماری کے اثرات یہ ہوتے ہیں کہ بچہ ایک سال جیتا ہے، تو اس کا جسم آٹھ سال پُرانا لگتا ہے۔ یعنی جب اشانتی نے اپنی پہلی سالگرہ منائی تھی، تو اس کا جسم آٹھ سال کے بچے جتنا تھا۔ اسی لحاظ سے جب اشانتی اٹھارہ سال کی ہوئیں۔ تو ان کے جسمانی اعضا 144 سال کی بوڑھی عورت جیسے ہو چکے تھے۔

اشانتی کی ماں کا کہنا تھا کہ، اس بیماری نے صرف جسم پر اثر کیا تھا۔ دماغی لحاظ سے وہ بلکل ٹھیک تھی۔ وہ اپنی زندگی کے تمام لمحات کو بہت جوش سے انجوائے کرتی تھی۔ وہ ایک نارمل بچے کی طرح کھیلتی بھی تھی، اور اپنے جذبات کو بھی ظاہر کرتی تھی۔

Ashanti enjoyed her life very much

اشانتی نے اپنی اٹھارویں سالگرہ پر ایک تقریب منعقد کی، اور اپنی ماں کے ساتھ باہر ڈنر کرنے کے لیے بھی گئی تھیں۔ اشانتی کی ماں کا کہنا تھا کہ اشانتی جوڑوں کی درد میں مبتلا ہو گئی تھیں۔ اس کی ہڈیاں ایسی ہو چکی تھیں جیسے ایک بہت عمر رسیدہ خاتون کی ہڈیاں ہوتی ہیں۔

اشانتی کے کولہے کی ہڈی ٹوت چکی تھی، جیسے تین بار جوڑا گیا تھا۔ مگر اس کے چلنے پھرنے کے سبب سے وہ ہڈی بار بار اپنی جگہ سے ہل جاتی تھی۔ جس کی وجہ سے اشانتی کو چلنے میں بہت مسئلہ ہوتا تھا۔

جوڑوں کے مرض کے علاوہ اشانتی دل کے مرض میں بھی مبتلا ہو چکی تھی۔ اسی مرض کے باعث اس کی موت واقع ہوئی تھی۔اپنی 17 ویں سالگرہ کے چند دنوں بعد وہ ایک پارک میں تھی۔ اور اس نے کے ایف سی سے کھانا کھایا تھا۔ لیکن اچانک ہی اس کی طبیعت بہت ناساز ہو گئی۔ وہ اپنی دوست کے ہمراہ تھی اور اس نے فوراً اسے کہا، کہ مجھے میری ماں کے پاس لے کر چلو۔

:اشانتی کا اپنی ماں سے اظہارِ محبت

اس کے بعد 19 جولائی کو اشانتی نے اپنی زندگی کے آخری الفاظ ادا کیے، اور اپنی ماں کا ہاتھ تھامے اس نے کہا کہ ماں میں تم سے بہت پیار کرتی ہوں اور اب مجھے جانے دو۔ یہ ابھی کہنا ہی تھا کہ اشناتی نے اپنی آخری سانسیں لی، اور اس جہانِ فانی سے رُخصت ہو گئی۔

:اشانتی کی الوداعی تقریب کیسے منائی گئی

جس طرح اشانتی کی زندگی دوسروں سے مختلف تھی۔ اسی طرح اس کے گھر والوں نے اس کی موت کو بھی ایک الگ انداز کے ساتھ انجوائے کیا۔ اشانتی کی خواہش تھی کہ اس کے مرنے پر ایک شاندار تقریب منعقد کی جائے اور آسمان میں غبارے چھوڑے جائیں۔

Ashanti was much loved by her family

اس تقریب پر 300 لالٹین جلائی گئی اور آتش بازی کی گئی۔ ایک بڑی سی اسکرین لگائی گئی اور اس پر اشانتی کی زندگی کے چند حسین لمحات کی ویڈیوز چلائی گئی۔ اس ویڈیو میں ہر جگہ وہ ہنستی اور مسکراتی دکھائی دے رہی تھی۔ اشانتی نے اپنی 18 سال کی زندگی کو 144 سال کے جسم کے ساتھ مکمل کر لیا تھا، اور اب وہ اپنے چاہنے والوں کے ساتھ نہیں تھی۔

Related Articles

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here

Stay Connected

22,046FansLike
2,983FollowersFollow
18,400SubscribersSubscribe

Latest Articles