26 C
Lahore
Tuesday, October 19, 2021

بچے کو مسجد کی چھت پر زیادتی کر کے قتل کر دیا

تفصیلات کے مطابق پنو عاقل سندہ میں 13 سالا آفاق واگہو کو درندوں نے مسجد کی چھت پر زیادتی کر کے بے دردی سے قتل کر دیا۔ واضح رہے کہ ملک میں اس طرح کے بے شمار واقعات تقریبا ہر روز دیکھنے کو مل رہے ہیں۔ اسلامی معاشرے میں جہاں ایک طرف اسلامی ریاست اور ریاستِ مدینہ کی طرز کی حکومت کی بات ہوتی ہے وہیں اس طرح کے واقعات جہاں کمسن بچوں اور بچییوں سے مساجد اور مدارس کے اندر اس طرح کی درندگی کا ہونا انسانیت سوزی کی بات ہے۔

اس کے ساتھ ساتھ ملک میں زنا، جبر اور زیادتی کے دیگر واقعات بھی سامنے آئے ہیں۔ بہت سے واقعات میں غیر مذاہب کی کمسن لڑکیوں کو اغواہ کر کے جنسی درندگی کا شکار کرکے مذہب تبدیل کردیا جاتا ہے۔ سول سوسائٹی کے ساتھ ساتھ سوشل میڈیا پر بھی اس طرح کے واقعات کو روکنے کے لیے بہت سی تحریکیں چلائی جا رہی ہیں۔

بہت سے افراد کا کہنا ہے کہ مذہب کی تبدیلی ایسی کسی بچی سے کیسے قبول کی جائے جو اپنا کوئی بھی فیصلہ خود نہیں کر سکتی اور اس کے پاس تو اس کا اپنا شناختی کارڈ تک موجود نہیں۔ پھر بھی یہ بات بھی قابلِ غور ہے کی صرف کمسن لڑکیاں ہی کیوں اسلام قبول کر رہی ہیں، لڑکے کیوں نہیں؟

اگر کوئی مرد کمسن لڑکیوں سے مذہب قبول کروا ہی لے تو بھی کیا ان کمسن بچیوں سے جنسی زیادتی اور شادی کرنا ضروری ہے جب کہ ریاست نیا و پرانا پاکستان کے قوانین کے مطابق نا بالغ افراد سے شادی غیر قانونی ہے۔ مزہب تبدیل کروانے والا مرد ایسی بچیوں کو بہن یا بیٹی کیوں نہیں بنا لیتا؟

کیا اسلام میں ایسا کوئی رشتہ بنانے پر ممانعت ہے یا یہ کوئی شرعی گناہ ہے؟ بالکل نہیں، بلکہ سچائی یہ ہے کی ایسے اشخاص کا اسلام سے دور دور تک کوئی لینا دینا نہیں ہوتا، یہ تو بس اپنے جرم کو چھپانے اور زنا جیسے گھنونے جرم کی سزا سے بچنے کے لیے اسلام کا سہارا لے لیتے ہیں؟

کیا کبھی سوچا ہے کہ ان بچیوں کے ماں باپ اور ان کے خاندان پر اس بات کا کیا اثر ہوتا ہو گا۔ ریاست میں اقلیتیں خود کو کتنا غیر محفوظ تصور کرتی ہیں۔

ایمان اور انصاف کا تقاضا ہے کہ ان افراد کو جبری تبدیلیِ مزہب کی تو شائید کوئی سزا نا دی جا سکے، مگر کیا نابالغ لڑکیوں کو اغوا کرکے زنا بالجبر اور دیگر جنسی تعلقات قائم کرنے کے جرائم میں سزا نہیں دی جانی چاہیے؟ کیا ریاستِ مدینہ کی طرز پر ابھرتی نئے پاکستان میں ایسا کوئی قانون باقی بچا ہے جو مظلوم کو انصاف اور ظالم کو سزا دلوا سکے؟

انسانی حقوق کی نمائندہ تنظیم سنٹر فار ہیومین رائسٹس ایجوکیشن اور رواداری تحریک کے چئیرمین سیمسن سلامت نے بھی اس قسم کے جبر اور ظلم کو روکنے کی اپیل کی ہے اور اس جبر کو روکنے کے لیے قانون سازی کا مطالبہ کیا ہے۔

تفصیلات کے مطابق پنو عاقل سندہ میں 13 سالا آفاق واگہو کو درندوں نے مسجد کی چھت پر زیادتی کر کے بے دردی سے قتل کر دیا۔ واضح رہے کہ ملک میں اس طرح کے بے شمار واقعات تقریبا ہر روز دیکھنے کو مل رہے ہیں۔ اسلامی معاشرے میں جہاں ایک طرف اسلامی ریاست اور ریاستِ مدینہ کی طرز کی حکومت کی بات ہوتی ہے وہیں اس طرح کے واقعات جہاں کمسن بچوں اور بچییوں سے مساجد اور مدارس کے اندر اس طرح کی درندگی کا ہونا انسانیت سوزی کی بات ہے۔

اس کے ساتھ ساتھ ملک میں زنا، جبر اور زیادتی کے دیگر واقعات بھی سامنے آئے ہیں۔ بہت سے واقعات میں غیر مذاہب کی کمسن لڑکیوں کو اغواہ کر کے جنسی درندگی کا شکار کرکے مذہب تبدیل کردیا جاتا ہے۔ سول سوسائٹی کے ساتھ ساتھ سوشل میڈیا پر بھی اس طرح کے واقعات کو روکنے کے لیے بہت سی تحریکیں چلائی جا رہی ہیں۔

بہت سے افراد کا کہنا ہے کہ مذہب کی تبدیلی ایسی کسی بچی سے کیسے قبول کی جائے جو اپنا کوئی بھی فیصلہ خود نہیں کر سکتی اور اس کے پاس تو اس کا اپنا شناختی کارڈ تک موجود نہیں۔ پھر بھی یہ بات بھی قابلِ غور ہے کی صرف کمسن لڑکیاں ہی کیوں اسلام قبول کر رہی ہیں، لڑکے کیوں نہیں؟

اگر کوئی مرد کمسن لڑکیوں سے مذہب قبول کروا ہی لے تو بھی کیا ان کمسن بچیوں سے جنسی زیادتی اور شادی کرنا ضروری ہے جب کہ ریاست نیا و پرانا پاکستان کے قوانین کے مطابق نا بالغ افراد سے شادی غیر قانونی ہے۔ مزہب تبدیل کروانے والا مرد ایسی بچیوں کو بہن یا بیٹی کیوں نہیں بنا لیتا؟

کیا اسلام میں ایسا کوئی رشتہ بنانے پر ممانعت ہے یا یہ کوئی شرعی گناہ ہے؟ بالکل نہیں، بلکہ سچائی یہ ہے کی ایسے اشخاص کا اسلام سے دور دور تک کوئی لینا دینا نہیں ہوتا، یہ تو بس اپنے جرم کو چھپانے اور زنا جیسے گھنونے جرم کی سزا سے بچنے کے لیے اسلام کا سہارا لے لیتے ہیں؟

کیا کبھی سوچا ہے کہ ان بچیوں کے ماں باپ اور ان کے خاندان پر اس بات کا کیا اثر ہوتا ہو گا۔ ریاست میں اقلیتیں خود کو کتنا غیر محفوظ تصور کرتی ہیں۔

ایمان اور انصاف کا تقاضا ہے کہ ان افراد کو جبری تبدیلیِ مزہب کی تو شائید کوئی سزا نا دی جا سکے، مگر کیا نابالغ لڑکیوں کو اغوا کرکے زنا بالجبر اور دیگر جنسی تعلقات قائم کرنے کے جرائم میں سزا نہیں دی جانی چاہیے؟ کیا ریاستِ مدینہ کی طرز پر ابھرتی نئے پاکستان میں ایسا کوئی قانون باقی بچا ہے جو مظلوم کو انصاف اور ظالم کو سزا دلوا سکے؟

انسانی حقوق کی نمائندہ تنظیم سنٹر فار ہیومین رائسٹس ایجوکیشن اور رواداری تحریک کے چئیرمین سیمسن سلامت نے بھی اس قسم کے جبر اور ظلم کو روکنے کی اپیل کی ہے اور اس جبر کو روکنے کے لیے قانون سازی کا مطالبہ کیا ہے۔

تفصیلات کے مطابق پنو عاقل سندہ میں 13 سالا آفاق واگہو کو درندوں نے مسجد کی چھت پر زیادتی کر کے بے دردی سے قتل کر دیا۔ واضح رہے کہ ملک میں اس طرح کے بے شمار واقعات تقریبا ہر روز دیکھنے کو مل رہے ہیں۔ اسلامی معاشرے میں جہاں ایک طرف اسلامی ریاست اور ریاستِ مدینہ کی طرز کی حکومت کی بات ہوتی ہے وہیں اس طرح کے واقعات جہاں کمسن بچوں اور بچییوں سے مساجد اور مدارس کے اندر اس طرح کی درندگی کا ہونا انسانیت سوزی کی بات ہے۔

اس کے ساتھ ساتھ ملک میں زنا، جبر اور زیادتی کے دیگر واقعات بھی سامنے آئے ہیں۔ بہت سے واقعات میں غیر مذاہب کی کمسن لڑکیوں کو اغواہ کر کے جنسی درندگی کا شکار کرکے مذہب تبدیل کردیا جاتا ہے۔ سول سوسائٹی کے ساتھ ساتھ سوشل میڈیا پر بھی اس طرح کے واقعات کو روکنے کے لیے بہت سی تحریکیں چلائی جا رہی ہیں۔

بہت سے افراد کا کہنا ہے کہ مذہب کی تبدیلی ایسی کسی بچی سے کیسے قبول کی جائے جو اپنا کوئی بھی فیصلہ خود نہیں کر سکتی اور اس کے پاس تو اس کا اپنا شناختی کارڈ تک موجود نہیں۔ پھر بھی یہ بات بھی قابلِ غور ہے کی صرف کمسن لڑکیاں ہی کیوں اسلام قبول کر رہی ہیں، لڑکے کیوں نہیں؟

اگر کوئی مرد کمسن لڑکیوں سے مذہب قبول کروا ہی لے تو بھی کیا ان کمسن بچیوں سے جنسی زیادتی اور شادی کرنا ضروری ہے جب کہ ریاست نیا و پرانا پاکستان کے قوانین کے مطابق نا بالغ افراد سے شادی غیر قانونی ہے۔ مزہب تبدیل کروانے والا مرد ایسی بچیوں کو بہن یا بیٹی کیوں نہیں بنا لیتا؟

کیا اسلام میں ایسا کوئی رشتہ بنانے پر ممانعت ہے یا یہ کوئی شرعی گناہ ہے؟ بالکل نہیں، بلکہ سچائی یہ ہے کی ایسے اشخاص کا اسلام سے دور دور تک کوئی لینا دینا نہیں ہوتا، یہ تو بس اپنے جرم کو چھپانے اور زنا جیسے گھنونے جرم کی سزا سے بچنے کے لیے اسلام کا سہارا لے لیتے ہیں؟

کیا کبھی سوچا ہے کہ ان بچیوں کے ماں باپ اور ان کے خاندان پر اس بات کا کیا اثر ہوتا ہو گا۔ ریاست میں اقلیتیں خود کو کتنا غیر محفوظ تصور کرتی ہیں۔

ایمان اور انصاف کا تقاضا ہے کہ ان افراد کو جبری تبدیلیِ مزہب کی تو شائید کوئی سزا نا دی جا سکے، مگر کیا نابالغ لڑکیوں کو اغوا کرکے زنا بالجبر اور دیگر جنسی تعلقات قائم کرنے کے جرائم میں سزا نہیں دی جانی چاہیے؟ کیا ریاستِ مدینہ کی طرز پر ابھرتی نئے پاکستان میں ایسا کوئی قانون باقی بچا ہے جو مظلوم کو انصاف اور ظالم کو سزا دلوا سکے؟

انسانی حقوق کی نمائندہ تنظیم سنٹر فار ہیومین رائسٹس ایجوکیشن اور رواداری تحریک کے چئیرمین سیمسن سلامت نے بھی اس قسم کے جبر اور ظلم کو روکنے کی اپیل کی ہے اور اس جبر کو روکنے کے لیے قانون سازی کا مطالبہ کیا ہے۔

Related Articles

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here

Stay Connected

22,046FansLike
2,986FollowersFollow
18,400SubscribersSubscribe

Latest Articles