26 C
Lahore
Tuesday, October 19, 2021

اس طرح سے سوئیں گے، تو آپ کو امیر بننے سے کوئی نہیں روک سکتا، ماہرین کا انکشاف

ہر کوئی رات کو پُرسکون نیند حاصل کرنا چاہتا ہے۔ اسی لیے اکثر لوگ رات کو سوتے وقت اپنے بستر اور تکیے کو بہت اہمیت دیتے ہیں۔ لیکن ہر انسان کا سونے کا انداز دوسرے انسان سے مختلف ہوتا ہے۔ اور آج ہم آپ کو اس آرٹیکل میں سونے کے اندازوں کے متعلق بتائیں گے، کہ اگر آپ کا سونے کا انداز ایسا ہے۔ تو آپ کو بہت فوائد حاصل ہو سکتے ہیں۔

:سونے کے انداز اور کروڑ پتی بننے میں تعلق

یہ کہاوت تو ہر ایک نے سن رکھی ہو گی۔ کہ جو سوتا ہے، وہ کھوتا ہے۔ لیکن اب ماہرین نے ایک حیرت انگیز ریسرچ کی ہے، کہ انسان کا سونے کا طریقہ اس کی عملی زندگی پر بھی اثر انداز ہوتا ہے۔

Dreams of becoming a millionaire

ماہرین نے اس ریسرچ کے مطابق تجربے بھی کیے۔ اس تجربے میں 5438 افراد کے نمونے لیے گئے، اور ان کے سونے کے انداز پر تجربے کیے گئے۔ ان تجربوں کے نتائج درج ذیل ہیں۔

:آزادی اور سکون سے سونے والے

ماہرین نے اس طرح کے سونے کے انداز کو آزادانہ سونے کا طریقہ قرار دیا ہے۔ اس تجربے کے مطابق اس طرح کے انداز میں سونے والے بہت امیر ہوتے ہیں۔ ماہرین کا کہنا ہے، کہ اس طرح کے انداز میں سونے والے 29 فیصد انسان سالانہ تقریباً 75 ہزار ڈالر یعنی ایک کروڑ بیس لاکھ باآسانی کما لیتے ہیں۔ ساتھ ہی ماہرین کا یہ بھی کہنا تھا، کہ بے شک اس طرح سے سونا میڈیکل لحاظ سے ٹھیک نہیں ہے۔ کیونکہ اس طرح سونے سے کمر میں درد اور خراٹوں کی عادت پڑ جاتی ہے۔ لیکن امیر لوگوں کی یہ ایک بہت بڑی نشانی ہے۔

:فوجی انداز میں سونے والے

ماہرین کے سروے کے مطابق اس طرح سونے کا انداز 23 فیصد لوگوں کا من پسندیدہ انداز ہے۔ اور جو لوگ اس طرح سوتے ہیں۔ وہ دنیا میں کامیاب لوگوں کی فہرست میں دوسرے نمبر پر آتے ہیں۔ اس انداز میں لوگ جسم کو ایک دم سیدھا رکھتے ہیں، اور ان کے بازو جسم کے ساتھ لگے ہوئے ہوتے ہیں۔ وہ ایک دم الرٹ ہو کر سوتے ہیں۔ میڈیکل لحاظ سے اس طرح سونے والے افراد، کمر کے درد سے بھی محفوظ رہتے ہیں۔ اور جب وہ صبح کو اُٹھتے ہیں، تو ایک دم چاک و چوبند ہوتے ہیں۔

:بچوں کی طرح سونے والے

جو لوگ کامیاب ہوتے ہیں، ان می سے صرف 21 فیصد اس طرح سونے کی عادت کو ترجیع دیتے ہیں۔ حالانکہ یہ انداز سونے کے لحاظ سے بہت بہتر ہے۔ لیکن جو لوگ اس طرح سوتے ہیں، ان میں کامیابی کی شرح بہت کم پائی جاتی ہے۔ اس طرح کے لوگوں کی نیند تو بہت بہتر ہوتی ہے۔ لیکن وہ اپنے معاشرے میں زیادہ پیسے نہیں کما پاتے اور اپنی پریکٹیکل لائف میں زیادہ کامیاب نہیں ہوتے۔

:تکیے سے چپک کر سونے والے

ایسے لوگ جو سوتے وقت تکیے کو اپنی بانہوں میں لیتے ہیں، ان میں کامیابی کی شرح صرف 13 فیصد پائی جاتی ہے۔ اس کا صاف مطلب ہے، کہ ایسے لوگ اپنی عملی زندگی میں زیادہ کامیاب نہیں ہوتے۔ وہ کوشش تو بہت کرتے ہیں، لیکن یہ طریقہ ان کی کامیابی میں رکاوٹ بنتا ہے۔

:گہری سوچ کے انداز میں سونے والے

جو لوگ اس طرح سے سوتے ہیں، وہ بہت پرفیکٹ انداز میں سوتے ہیں۔ یہ لوگ ایک طرف کروٹ لے کر سوتے ہیں۔ انہیں دیکھ کر ایسا لگتا ہے، کہ جیسے وہ بہت گہری سوچ میں تھے اور انہیں نیند آ گئی ہے۔ لیکن ایسے افراد کی عملی زندگی میں کامیابی کی شرح صرف 9 فیصد ہوتی ہے، جو کہ بہت کم ہے-

:اسٹار فش پوزیشن

بانہوں کو پھیلا کر سونے کی عادت کو اسٹار فش پوزیشن کہتے ہیں۔ یہ پوزیشن سونے کی لحاظ کے مطابق بلکل بھی درست نہیں ہے، اور جو لوگ اس طرح سے سوتے ہیں، ان میں کامیابی کی شرح صرف 2 فیصد پائی جاتی ہے۔ جو لوگ اس طرح سے سوتے ہیں، جب وہ اُٹھتے ہیں۔ تو ان کی کمر میں درد بھی ہو سکتی ہے۔

ہر کوئی رات کو پُرسکون نیند حاصل کرنا چاہتا ہے۔ اسی لیے اکثر لوگ رات کو سوتے وقت اپنے بستر اور تکیے کو بہت اہمیت دیتے ہیں۔ لیکن ہر انسان کا سونے کا انداز دوسرے انسان سے مختلف ہوتا ہے۔ اور آج ہم آپ کو اس آرٹیکل میں سونے کے اندازوں کے متعلق بتائیں گے، کہ اگر آپ کا سونے کا انداز ایسا ہے۔ تو آپ کو بہت فوائد حاصل ہو سکتے ہیں۔

:سونے کے انداز اور کروڑ پتی بننے میں تعلق

یہ کہاوت تو ہر ایک نے سن رکھی ہو گی۔ کہ جو سوتا ہے، وہ کھوتا ہے۔ لیکن اب ماہرین نے ایک حیرت انگیز ریسرچ کی ہے، کہ انسان کا سونے کا طریقہ اس کی عملی زندگی پر بھی اثر انداز ہوتا ہے۔

Dreams of becoming a millionaire

ماہرین نے اس ریسرچ کے مطابق تجربے بھی کیے۔ اس تجربے میں 5438 افراد کے نمونے لیے گئے، اور ان کے سونے کے انداز پر تجربے کیے گئے۔ ان تجربوں کے نتائج درج ذیل ہیں۔

:آزادی اور سکون سے سونے والے

ماہرین نے اس طرح کے سونے کے انداز کو آزادانہ سونے کا طریقہ قرار دیا ہے۔ اس تجربے کے مطابق اس طرح کے انداز میں سونے والے بہت امیر ہوتے ہیں۔ ماہرین کا کہنا ہے، کہ اس طرح کے انداز میں سونے والے 29 فیصد انسان سالانہ تقریباً 75 ہزار ڈالر یعنی ایک کروڑ بیس لاکھ باآسانی کما لیتے ہیں۔ ساتھ ہی ماہرین کا یہ بھی کہنا تھا، کہ بے شک اس طرح سے سونا میڈیکل لحاظ سے ٹھیک نہیں ہے۔ کیونکہ اس طرح سونے سے کمر میں درد اور خراٹوں کی عادت پڑ جاتی ہے۔ لیکن امیر لوگوں کی یہ ایک بہت بڑی نشانی ہے۔

:فوجی انداز میں سونے والے

ماہرین کے سروے کے مطابق اس طرح سونے کا انداز 23 فیصد لوگوں کا من پسندیدہ انداز ہے۔ اور جو لوگ اس طرح سوتے ہیں۔ وہ دنیا میں کامیاب لوگوں کی فہرست میں دوسرے نمبر پر آتے ہیں۔ اس انداز میں لوگ جسم کو ایک دم سیدھا رکھتے ہیں، اور ان کے بازو جسم کے ساتھ لگے ہوئے ہوتے ہیں۔ وہ ایک دم الرٹ ہو کر سوتے ہیں۔ میڈیکل لحاظ سے اس طرح سونے والے افراد، کمر کے درد سے بھی محفوظ رہتے ہیں۔ اور جب وہ صبح کو اُٹھتے ہیں، تو ایک دم چاک و چوبند ہوتے ہیں۔

:بچوں کی طرح سونے والے

جو لوگ کامیاب ہوتے ہیں، ان می سے صرف 21 فیصد اس طرح سونے کی عادت کو ترجیع دیتے ہیں۔ حالانکہ یہ انداز سونے کے لحاظ سے بہت بہتر ہے۔ لیکن جو لوگ اس طرح سوتے ہیں، ان میں کامیابی کی شرح بہت کم پائی جاتی ہے۔ اس طرح کے لوگوں کی نیند تو بہت بہتر ہوتی ہے۔ لیکن وہ اپنے معاشرے میں زیادہ پیسے نہیں کما پاتے اور اپنی پریکٹیکل لائف میں زیادہ کامیاب نہیں ہوتے۔

:تکیے سے چپک کر سونے والے

ایسے لوگ جو سوتے وقت تکیے کو اپنی بانہوں میں لیتے ہیں، ان میں کامیابی کی شرح صرف 13 فیصد پائی جاتی ہے۔ اس کا صاف مطلب ہے، کہ ایسے لوگ اپنی عملی زندگی میں زیادہ کامیاب نہیں ہوتے۔ وہ کوشش تو بہت کرتے ہیں، لیکن یہ طریقہ ان کی کامیابی میں رکاوٹ بنتا ہے۔

:گہری سوچ کے انداز میں سونے والے

جو لوگ اس طرح سے سوتے ہیں، وہ بہت پرفیکٹ انداز میں سوتے ہیں۔ یہ لوگ ایک طرف کروٹ لے کر سوتے ہیں۔ انہیں دیکھ کر ایسا لگتا ہے، کہ جیسے وہ بہت گہری سوچ میں تھے اور انہیں نیند آ گئی ہے۔ لیکن ایسے افراد کی عملی زندگی میں کامیابی کی شرح صرف 9 فیصد ہوتی ہے، جو کہ بہت کم ہے-

:اسٹار فش پوزیشن

بانہوں کو پھیلا کر سونے کی عادت کو اسٹار فش پوزیشن کہتے ہیں۔ یہ پوزیشن سونے کی لحاظ کے مطابق بلکل بھی درست نہیں ہے، اور جو لوگ اس طرح سے سوتے ہیں، ان میں کامیابی کی شرح صرف 2 فیصد پائی جاتی ہے۔ جو لوگ اس طرح سے سوتے ہیں، جب وہ اُٹھتے ہیں۔ تو ان کی کمر میں درد بھی ہو سکتی ہے۔

ہر کوئی رات کو پُرسکون نیند حاصل کرنا چاہتا ہے۔ اسی لیے اکثر لوگ رات کو سوتے وقت اپنے بستر اور تکیے کو بہت اہمیت دیتے ہیں۔ لیکن ہر انسان کا سونے کا انداز دوسرے انسان سے مختلف ہوتا ہے۔ اور آج ہم آپ کو اس آرٹیکل میں سونے کے اندازوں کے متعلق بتائیں گے، کہ اگر آپ کا سونے کا انداز ایسا ہے۔ تو آپ کو بہت فوائد حاصل ہو سکتے ہیں۔

:سونے کے انداز اور کروڑ پتی بننے میں تعلق

یہ کہاوت تو ہر ایک نے سن رکھی ہو گی۔ کہ جو سوتا ہے، وہ کھوتا ہے۔ لیکن اب ماہرین نے ایک حیرت انگیز ریسرچ کی ہے، کہ انسان کا سونے کا طریقہ اس کی عملی زندگی پر بھی اثر انداز ہوتا ہے۔

Dreams of becoming a millionaire

ماہرین نے اس ریسرچ کے مطابق تجربے بھی کیے۔ اس تجربے میں 5438 افراد کے نمونے لیے گئے، اور ان کے سونے کے انداز پر تجربے کیے گئے۔ ان تجربوں کے نتائج درج ذیل ہیں۔

:آزادی اور سکون سے سونے والے

ماہرین نے اس طرح کے سونے کے انداز کو آزادانہ سونے کا طریقہ قرار دیا ہے۔ اس تجربے کے مطابق اس طرح کے انداز میں سونے والے بہت امیر ہوتے ہیں۔ ماہرین کا کہنا ہے، کہ اس طرح کے انداز میں سونے والے 29 فیصد انسان سالانہ تقریباً 75 ہزار ڈالر یعنی ایک کروڑ بیس لاکھ باآسانی کما لیتے ہیں۔ ساتھ ہی ماہرین کا یہ بھی کہنا تھا، کہ بے شک اس طرح سے سونا میڈیکل لحاظ سے ٹھیک نہیں ہے۔ کیونکہ اس طرح سونے سے کمر میں درد اور خراٹوں کی عادت پڑ جاتی ہے۔ لیکن امیر لوگوں کی یہ ایک بہت بڑی نشانی ہے۔

:فوجی انداز میں سونے والے

ماہرین کے سروے کے مطابق اس طرح سونے کا انداز 23 فیصد لوگوں کا من پسندیدہ انداز ہے۔ اور جو لوگ اس طرح سوتے ہیں۔ وہ دنیا میں کامیاب لوگوں کی فہرست میں دوسرے نمبر پر آتے ہیں۔ اس انداز میں لوگ جسم کو ایک دم سیدھا رکھتے ہیں، اور ان کے بازو جسم کے ساتھ لگے ہوئے ہوتے ہیں۔ وہ ایک دم الرٹ ہو کر سوتے ہیں۔ میڈیکل لحاظ سے اس طرح سونے والے افراد، کمر کے درد سے بھی محفوظ رہتے ہیں۔ اور جب وہ صبح کو اُٹھتے ہیں، تو ایک دم چاک و چوبند ہوتے ہیں۔

:بچوں کی طرح سونے والے

جو لوگ کامیاب ہوتے ہیں، ان می سے صرف 21 فیصد اس طرح سونے کی عادت کو ترجیع دیتے ہیں۔ حالانکہ یہ انداز سونے کے لحاظ سے بہت بہتر ہے۔ لیکن جو لوگ اس طرح سوتے ہیں، ان میں کامیابی کی شرح بہت کم پائی جاتی ہے۔ اس طرح کے لوگوں کی نیند تو بہت بہتر ہوتی ہے۔ لیکن وہ اپنے معاشرے میں زیادہ پیسے نہیں کما پاتے اور اپنی پریکٹیکل لائف میں زیادہ کامیاب نہیں ہوتے۔

:تکیے سے چپک کر سونے والے

ایسے لوگ جو سوتے وقت تکیے کو اپنی بانہوں میں لیتے ہیں، ان میں کامیابی کی شرح صرف 13 فیصد پائی جاتی ہے۔ اس کا صاف مطلب ہے، کہ ایسے لوگ اپنی عملی زندگی میں زیادہ کامیاب نہیں ہوتے۔ وہ کوشش تو بہت کرتے ہیں، لیکن یہ طریقہ ان کی کامیابی میں رکاوٹ بنتا ہے۔

:گہری سوچ کے انداز میں سونے والے

جو لوگ اس طرح سے سوتے ہیں، وہ بہت پرفیکٹ انداز میں سوتے ہیں۔ یہ لوگ ایک طرف کروٹ لے کر سوتے ہیں۔ انہیں دیکھ کر ایسا لگتا ہے، کہ جیسے وہ بہت گہری سوچ میں تھے اور انہیں نیند آ گئی ہے۔ لیکن ایسے افراد کی عملی زندگی میں کامیابی کی شرح صرف 9 فیصد ہوتی ہے، جو کہ بہت کم ہے-

:اسٹار فش پوزیشن

بانہوں کو پھیلا کر سونے کی عادت کو اسٹار فش پوزیشن کہتے ہیں۔ یہ پوزیشن سونے کی لحاظ کے مطابق بلکل بھی درست نہیں ہے، اور جو لوگ اس طرح سے سوتے ہیں، ان میں کامیابی کی شرح صرف 2 فیصد پائی جاتی ہے۔ جو لوگ اس طرح سے سوتے ہیں، جب وہ اُٹھتے ہیں۔ تو ان کی کمر میں درد بھی ہو سکتی ہے۔

Related Articles

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here

Stay Connected

22,046FansLike
2,984FollowersFollow
18,400SubscribersSubscribe

Latest Articles