30 C
Lahore
Tuesday, October 19, 2021

ایسی تیزرفتار ٹرین جو حیرت میں ڈال دے

ہر ترقی یافتہ ملک میں ٹرین کا ہونا لازمی ہے،اور اس کو بہت اہمیت بھی حاصل ہے۔لوگ دفاتر اور بچوں کو سکول چھوڑنے کے لیے، ٹرین کا استعمال لازمی کرتے ہیں۔

چین تو پچھلے کئی سالوں سے اپنے ملک میں ٹرین کا نظام بہتر بنانے کی کوشش میں لگا ہوا ہے۔لیکن چائنہ اب دنیا میں ٹرین کا تیز ترین نظام بنانے والا پہلا ملک بن گیا ہے۔

چائنہ نے ٹرین کا منفرد ٹریک بنایا ہے، جس پر ٹرین 620 کلو میٹر فی گھنٹہ کی رفتار سے دوڑے گی۔اس کا زیادہ تر کام گزشتہ پانچ سالوں میں ہی مکمل کرلیا گیا تھا۔

جو کام باقی رہ گیا ہے، وہ 2021 میں ہی مکمل کر لیا جائے گا۔ اسی کے ساتھ ساتھ 2035 میں اس ٹریک کو دو گنا بڑھا دیا جائے گا۔

چائنہ نے اس ٹریک کو بنانے کے لیے جاپان اور امریکہ کی ٹیکنالوجی کا استعمال کیا ہے۔ ان میں بومبارڈئیر، آلسٹوم اور مٹسوبشی جیسی مشہور کمپنیوں نے چائنہ کے ساتھ بھرپور تعاون کیا۔ اس طرح سے چین نے دنیا کا سب سے بہترین ٹرین نظام قائم کیا۔

:ٹرین کے اصول اور کرایہ

ریلوے ٹریک کے ماہر سمتھ نے بیان کیا کہ، برطانیہ تو ابھی اس ٹریک کے بارے میں سوچ رہا تھا۔ لیکن چائنہ نے اسے مکمل بھی کر لیا ہے۔ٹرین کے سفر کے مطلق بتایا گیا، کہ صارفین کو صرف ایک مرتبہ بکنگ کروانی ہو گی۔

اس کے بعد آپ جب ٹرین میں داخل ہوں گے۔ تو صرف دروازے پر اپنا شناختی کارڈ یا پاسپورٹ سوائپ کرنا ہو گا۔ اس عمل کے بعد آپ سفر سے لطف اندوز ہو سکتے ہیں۔اس ٹرین کا کرایہ صرف 13 ڈالر ہے۔

ہر ترقی یافتہ ملک میں ٹرین کا ہونا لازمی ہے،اور اس کو بہت اہمیت بھی حاصل ہے۔لوگ دفاتر اور بچوں کو سکول چھوڑنے کے لیے، ٹرین کا استعمال لازمی کرتے ہیں۔

چین تو پچھلے کئی سالوں سے اپنے ملک میں ٹرین کا نظام بہتر بنانے کی کوشش میں لگا ہوا ہے۔لیکن چائنہ اب دنیا میں ٹرین کا تیز ترین نظام بنانے والا پہلا ملک بن گیا ہے۔

چائنہ نے ٹرین کا منفرد ٹریک بنایا ہے، جس پر ٹرین 620 کلو میٹر فی گھنٹہ کی رفتار سے دوڑے گی۔اس کا زیادہ تر کام گزشتہ پانچ سالوں میں ہی مکمل کرلیا گیا تھا۔

جو کام باقی رہ گیا ہے، وہ 2021 میں ہی مکمل کر لیا جائے گا۔ اسی کے ساتھ ساتھ 2035 میں اس ٹریک کو دو گنا بڑھا دیا جائے گا۔

چائنہ نے اس ٹریک کو بنانے کے لیے جاپان اور امریکہ کی ٹیکنالوجی کا استعمال کیا ہے۔ ان میں بومبارڈئیر، آلسٹوم اور مٹسوبشی جیسی مشہور کمپنیوں نے چائنہ کے ساتھ بھرپور تعاون کیا۔ اس طرح سے چین نے دنیا کا سب سے بہترین ٹرین نظام قائم کیا۔

:ٹرین کے اصول اور کرایہ

ریلوے ٹریک کے ماہر سمتھ نے بیان کیا کہ، برطانیہ تو ابھی اس ٹریک کے بارے میں سوچ رہا تھا۔ لیکن چائنہ نے اسے مکمل بھی کر لیا ہے۔ٹرین کے سفر کے مطلق بتایا گیا، کہ صارفین کو صرف ایک مرتبہ بکنگ کروانی ہو گی۔

اس کے بعد آپ جب ٹرین میں داخل ہوں گے۔ تو صرف دروازے پر اپنا شناختی کارڈ یا پاسپورٹ سوائپ کرنا ہو گا۔ اس عمل کے بعد آپ سفر سے لطف اندوز ہو سکتے ہیں۔اس ٹرین کا کرایہ صرف 13 ڈالر ہے۔

ہر ترقی یافتہ ملک میں ٹرین کا ہونا لازمی ہے،اور اس کو بہت اہمیت بھی حاصل ہے۔لوگ دفاتر اور بچوں کو سکول چھوڑنے کے لیے، ٹرین کا استعمال لازمی کرتے ہیں۔

چین تو پچھلے کئی سالوں سے اپنے ملک میں ٹرین کا نظام بہتر بنانے کی کوشش میں لگا ہوا ہے۔لیکن چائنہ اب دنیا میں ٹرین کا تیز ترین نظام بنانے والا پہلا ملک بن گیا ہے۔

چائنہ نے ٹرین کا منفرد ٹریک بنایا ہے، جس پر ٹرین 620 کلو میٹر فی گھنٹہ کی رفتار سے دوڑے گی۔اس کا زیادہ تر کام گزشتہ پانچ سالوں میں ہی مکمل کرلیا گیا تھا۔

جو کام باقی رہ گیا ہے، وہ 2021 میں ہی مکمل کر لیا جائے گا۔ اسی کے ساتھ ساتھ 2035 میں اس ٹریک کو دو گنا بڑھا دیا جائے گا۔

چائنہ نے اس ٹریک کو بنانے کے لیے جاپان اور امریکہ کی ٹیکنالوجی کا استعمال کیا ہے۔ ان میں بومبارڈئیر، آلسٹوم اور مٹسوبشی جیسی مشہور کمپنیوں نے چائنہ کے ساتھ بھرپور تعاون کیا۔ اس طرح سے چین نے دنیا کا سب سے بہترین ٹرین نظام قائم کیا۔

:ٹرین کے اصول اور کرایہ

ریلوے ٹریک کے ماہر سمتھ نے بیان کیا کہ، برطانیہ تو ابھی اس ٹریک کے بارے میں سوچ رہا تھا۔ لیکن چائنہ نے اسے مکمل بھی کر لیا ہے۔ٹرین کے سفر کے مطلق بتایا گیا، کہ صارفین کو صرف ایک مرتبہ بکنگ کروانی ہو گی۔

اس کے بعد آپ جب ٹرین میں داخل ہوں گے۔ تو صرف دروازے پر اپنا شناختی کارڈ یا پاسپورٹ سوائپ کرنا ہو گا۔ اس عمل کے بعد آپ سفر سے لطف اندوز ہو سکتے ہیں۔اس ٹرین کا کرایہ صرف 13 ڈالر ہے۔

Related Articles

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here

Stay Connected

22,046FansLike
2,986FollowersFollow
18,400SubscribersSubscribe

Latest Articles