25 C
Lahore
Tuesday, October 19, 2021

جو لڑکیاں بیڈروم میں یہ کام کرتی ہیں،ان میں موٹاپے کی شرح زیادہ پائی جاتی ہے

یہ کون سا کام ہے؟

جو لڑکیاں اپنے بیڈ روم میں یہ کام کرتی ہیں، وہ بہت جلدی موٹاپے کا شکار ہو جاتی ہیں۔ نوجوان لڑکیاں جتنا زیادہ ٹی وی کو دیکھتی ہیں، وہ اتنا زیادہ موٹاپے کا شکار ہوتیں ہیں۔ کیونکہ جتنی دیر تک وہ ٹی وی پر توجہ دیتی ہیں۔ اسی حساب سے ان کے جسم پر چربی کا عمل بھی تیز ہو جاتا ہے۔ اس کے علاوہ لڑکوں میں لڑکیوں کی نسبت موٹاپا کم پایا جاتا ہے۔

تحقیق کے مطابق

اس کی ایک بڑی وجہ یہ بھی ہو سکتی ہے، کہ لڑکیاں لڑکوں کی طرح کثرت کرنے میں زیادہ متحرک نہیں ہوتیں۔ اس کے مطابق یونیورسٹی کالج لندن کی ایک تازہ ترین تحقیق میں بتایا گیا ہے، کہ جن بچوں کے کمروں میں ٹی وی موجود ہوتا ہے۔ ان میں موٹاپا بھی زیادہ پایا جاتا ہے۔ اس لیے جو لڑکیاں اپنے کمروں میں ٹی وی زیادہ دیکھتی ہیں۔ وہ دوسری لڑکیوں کی نسبت موٹاپے کا شکار زیادہ ہوتیں ہیں۔

اس تحقیق کے مطابق 12500 بچوں کی ٹی وی دیکھنے کی عادات کی جانچ پڑتال کی گئی۔ اور تجربے کے بعد ماہرین کا کہنا تھا، کہ جو لڑکیاں 7 سال کی عمر میں ٹی وی زیادہ دیکھتی تھیں۔ وہ جب 11 سال کی عمر کو پہنچی، تو وہ 30 فیصد موٹاپے کا شکار ہو چکی تھیں۔ اور لڑکوں میں بھی موٹاپے کی شرح پائی گئی۔ لیکن وہ لڑکیوں کی شرح سے دس فیصد کم تھی۔

احتیاطی تدابیر

یو سی ایل انسٹیٹیوٹ آف ایپی ڈیمیالوجی اینڈ ہیلتھ کیئر کی ماہرین ڈاکٹر آنجا ہیلمان نے بیان کیا، کہ یہ ریسرچ بلکل درست ہے۔ جن بچوں کے بیڈروم میں ٹی وی موجود ہوتا ہے، وہ موٹاپے کی ضد میں بہت زیادہ پائے جاتے ہیں۔ زیادہ تر کم عمر لڑکیاں بیڈ روم میں ٹی وی پر زیادہ توجہ دیتی ہیں۔ اس لیے وہ کھیل کود میں زیادہ توجہ نہیں دیتی، اور موٹاپے کی شکار ہو جاتی ہیں۔

ان صورتحال کے بعد سب سے بڑی مشکلات یہ ہوتیں ہیں، کہ جو لڑکیاں کم عمری میں ہی موٹاپے کا شکار ہو جاتیں ہیں۔ ان کی عمر جب بڑھتی ہے، تو وہ موٹاپے کی موضی مرض میں مبتلا ہو جاتی ہیں۔ اس لیے ماہرین کا کہنا ہے، والدین کو چاہیئے اپنے نو عمر بچوں کو ٹی وی دکھانے کا ایک محدود وقت رکھیں۔ اور لڑکیوں کے بیڈروم میں تو ٹی وی ہر گز نہ رکھیں۔

یہ کون سا کام ہے؟

جو لڑکیاں اپنے بیڈ روم میں یہ کام کرتی ہیں، وہ بہت جلدی موٹاپے کا شکار ہو جاتی ہیں۔ نوجوان لڑکیاں جتنا زیادہ ٹی وی کو دیکھتی ہیں، وہ اتنا زیادہ موٹاپے کا شکار ہوتیں ہیں۔ کیونکہ جتنی دیر تک وہ ٹی وی پر توجہ دیتی ہیں۔ اسی حساب سے ان کے جسم پر چربی کا عمل بھی تیز ہو جاتا ہے۔ اس کے علاوہ لڑکوں میں لڑکیوں کی نسبت موٹاپا کم پایا جاتا ہے۔

تحقیق کے مطابق

اس کی ایک بڑی وجہ یہ بھی ہو سکتی ہے، کہ لڑکیاں لڑکوں کی طرح کثرت کرنے میں زیادہ متحرک نہیں ہوتیں۔ اس کے مطابق یونیورسٹی کالج لندن کی ایک تازہ ترین تحقیق میں بتایا گیا ہے، کہ جن بچوں کے کمروں میں ٹی وی موجود ہوتا ہے۔ ان میں موٹاپا بھی زیادہ پایا جاتا ہے۔ اس لیے جو لڑکیاں اپنے کمروں میں ٹی وی زیادہ دیکھتی ہیں۔ وہ دوسری لڑکیوں کی نسبت موٹاپے کا شکار زیادہ ہوتیں ہیں۔

اس تحقیق کے مطابق 12500 بچوں کی ٹی وی دیکھنے کی عادات کی جانچ پڑتال کی گئی۔ اور تجربے کے بعد ماہرین کا کہنا تھا، کہ جو لڑکیاں 7 سال کی عمر میں ٹی وی زیادہ دیکھتی تھیں۔ وہ جب 11 سال کی عمر کو پہنچی، تو وہ 30 فیصد موٹاپے کا شکار ہو چکی تھیں۔ اور لڑکوں میں بھی موٹاپے کی شرح پائی گئی۔ لیکن وہ لڑکیوں کی شرح سے دس فیصد کم تھی۔

احتیاطی تدابیر

یو سی ایل انسٹیٹیوٹ آف ایپی ڈیمیالوجی اینڈ ہیلتھ کیئر کی ماہرین ڈاکٹر آنجا ہیلمان نے بیان کیا، کہ یہ ریسرچ بلکل درست ہے۔ جن بچوں کے بیڈروم میں ٹی وی موجود ہوتا ہے، وہ موٹاپے کی ضد میں بہت زیادہ پائے جاتے ہیں۔ زیادہ تر کم عمر لڑکیاں بیڈ روم میں ٹی وی پر زیادہ توجہ دیتی ہیں۔ اس لیے وہ کھیل کود میں زیادہ توجہ نہیں دیتی، اور موٹاپے کی شکار ہو جاتی ہیں۔

ان صورتحال کے بعد سب سے بڑی مشکلات یہ ہوتیں ہیں، کہ جو لڑکیاں کم عمری میں ہی موٹاپے کا شکار ہو جاتیں ہیں۔ ان کی عمر جب بڑھتی ہے، تو وہ موٹاپے کی موضی مرض میں مبتلا ہو جاتی ہیں۔ اس لیے ماہرین کا کہنا ہے، والدین کو چاہیئے اپنے نو عمر بچوں کو ٹی وی دکھانے کا ایک محدود وقت رکھیں۔ اور لڑکیوں کے بیڈروم میں تو ٹی وی ہر گز نہ رکھیں۔

یہ کون سا کام ہے؟

جو لڑکیاں اپنے بیڈ روم میں یہ کام کرتی ہیں، وہ بہت جلدی موٹاپے کا شکار ہو جاتی ہیں۔ نوجوان لڑکیاں جتنا زیادہ ٹی وی کو دیکھتی ہیں، وہ اتنا زیادہ موٹاپے کا شکار ہوتیں ہیں۔ کیونکہ جتنی دیر تک وہ ٹی وی پر توجہ دیتی ہیں۔ اسی حساب سے ان کے جسم پر چربی کا عمل بھی تیز ہو جاتا ہے۔ اس کے علاوہ لڑکوں میں لڑکیوں کی نسبت موٹاپا کم پایا جاتا ہے۔

تحقیق کے مطابق

اس کی ایک بڑی وجہ یہ بھی ہو سکتی ہے، کہ لڑکیاں لڑکوں کی طرح کثرت کرنے میں زیادہ متحرک نہیں ہوتیں۔ اس کے مطابق یونیورسٹی کالج لندن کی ایک تازہ ترین تحقیق میں بتایا گیا ہے، کہ جن بچوں کے کمروں میں ٹی وی موجود ہوتا ہے۔ ان میں موٹاپا بھی زیادہ پایا جاتا ہے۔ اس لیے جو لڑکیاں اپنے کمروں میں ٹی وی زیادہ دیکھتی ہیں۔ وہ دوسری لڑکیوں کی نسبت موٹاپے کا شکار زیادہ ہوتیں ہیں۔

اس تحقیق کے مطابق 12500 بچوں کی ٹی وی دیکھنے کی عادات کی جانچ پڑتال کی گئی۔ اور تجربے کے بعد ماہرین کا کہنا تھا، کہ جو لڑکیاں 7 سال کی عمر میں ٹی وی زیادہ دیکھتی تھیں۔ وہ جب 11 سال کی عمر کو پہنچی، تو وہ 30 فیصد موٹاپے کا شکار ہو چکی تھیں۔ اور لڑکوں میں بھی موٹاپے کی شرح پائی گئی۔ لیکن وہ لڑکیوں کی شرح سے دس فیصد کم تھی۔

احتیاطی تدابیر

یو سی ایل انسٹیٹیوٹ آف ایپی ڈیمیالوجی اینڈ ہیلتھ کیئر کی ماہرین ڈاکٹر آنجا ہیلمان نے بیان کیا، کہ یہ ریسرچ بلکل درست ہے۔ جن بچوں کے بیڈروم میں ٹی وی موجود ہوتا ہے، وہ موٹاپے کی ضد میں بہت زیادہ پائے جاتے ہیں۔ زیادہ تر کم عمر لڑکیاں بیڈ روم میں ٹی وی پر زیادہ توجہ دیتی ہیں۔ اس لیے وہ کھیل کود میں زیادہ توجہ نہیں دیتی، اور موٹاپے کی شکار ہو جاتی ہیں۔

ان صورتحال کے بعد سب سے بڑی مشکلات یہ ہوتیں ہیں، کہ جو لڑکیاں کم عمری میں ہی موٹاپے کا شکار ہو جاتیں ہیں۔ ان کی عمر جب بڑھتی ہے، تو وہ موٹاپے کی موضی مرض میں مبتلا ہو جاتی ہیں۔ اس لیے ماہرین کا کہنا ہے، والدین کو چاہیئے اپنے نو عمر بچوں کو ٹی وی دکھانے کا ایک محدود وقت رکھیں۔ اور لڑکیوں کے بیڈروم میں تو ٹی وی ہر گز نہ رکھیں۔

Related Articles

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here

Stay Connected

22,046FansLike
2,984FollowersFollow
18,400SubscribersSubscribe

Latest Articles