31 C
Lahore
Sunday, October 17, 2021

باربی کیو کی دوکان پر ویٹرینگ کرنے والا لڑکا گریجوویشن تک کیسے پہنچا

کیا آپ نے کبھی سوچا ہے کہ یونیورسٹی کے طالب علموں کو پلیٹ میں باربی کیو پیش کرنے ولا عام سا ویٹر ایک دن پاکستان کی نامی گرامی یونیورسٹی سے گریجویشن کر لے۔

:والد کی وفات کے بعد ویٹر کی نوکری کرنی پڑی

انصار علی کا تعلق پنجاب کے علاقے ننکانہ صاحب سے ہے۔ علی انصاری کو نویں جماعت میں والد کی وفات کی وجہ سے اسکول چھوڑنا پڑا۔ ہر وقت محنت اور پریشانی کے باوجود انصار علی کے چہرے پر ہر وقت مسکراہٹ ہی رہتی تھی۔ انصار علی نے بتایا کہ مجھے یاد ہے، کہ میں اسکول میں اپنی تعلیم کی وجہ سے بہت پسند کیا جاتا تھا۔ بے شک میں ویٹر ہی تھا، مگر مجھے میرے دوست اور اساتذہ بہت اہمیت دیتے تھے۔ میرے دل میں ہمیشہ یہی خیال ہوتا تھا، کہ پھر کیا ہوا کہ میرے حالات ٹھیک نہیں ہیں۔ مگر میں پھر بھی طالب علموں کو سن سکتا ہوں، اور ان سے بہت کچھ سیکھ سکتا ہوں۔

:یونیورسٹی کے طالب علموں کی مدد

 سالار خان جو کہ 2014-2015 میں لمز یونیورسٹی میں طلبہ کے صدر تھے۔ سالار خان انصار علی کے متعلق بتاتے ہوئے کہتے ہیں۔ انصار کی ہر وقت مسکرہٹ کو دیکھ کر کوئی بھی یہ اندازہ نہیں لگا سکتا تھا کہ وہ اندر سے کتنا دکھی ہے۔ اس لیے انصار کی پڑھنے کی لگن کو دیکھتے ہوئے۔ میں نے اور میرے دوستوں نے انصار کو پڑھانے کا ارادہ کیا۔ ہم سب نے پیسے اکھٹے کیے اور انصار کو خوشخبری سنائی کہ وہ اپنی تعلیم کو پھر سے شروع کر سکتا ہے۔

تعلیم کو پھر سے شروع کرنے کے لیے انصار کو اپنی والدہ سے اجازت لینی تھی۔ پھر وہ اپنے گھر گیا، اور اس کی والدہ جانتی تھی کہ وہ پڑھنے میں بہت اچھا ہے۔ اس میں ابھی تک وہ سرٹیفیکیٹ پڑا ہوا ہے۔ جو اسے پانچویں جماعت میں اسکول میں اول آنے پر ملا تھا۔ لہذاً انصار کی والدہ نے اسے تعلیم حاصل کرنے کی اجازت دے دی۔ مگر انصار کے پاس گھر چلانے کے لیے کوئی پیسے موجود نہیں تھے، اور یہ ایک بہت بڑی پریشانی تھی۔ اس مشکل میں بھی یونیورسٹی کے دوستوں نے اس کا ساتھ دیا۔ اسے اپنے گھر کا خرچہ چلانے کے لیے ہر ماہ یونیورسٹی کے لڑکوں کی جانب سے 30 ہزار دیا جاتا تھا، اور ساتھ ہی اس کی تعلیم کا بھی سارا خرچہ وہی اُٹھاتے تھے۔

:میں نے کمرے میں لکھ کر لٹکایا تھا کہ مجھے 800 نمبر لانے ہیں

انصار کو یونیورسٹی میں داخلہ لینے کے لیے 800 نمبر حاصل کرنے تھے۔ انصار کا اس کے متعلق کہنا تھا، کہ میں نے اپنے کمرے میں لکھ کر لگا دیا تھا کہ مجھے ہر حال میں میں 800 نمبر حاصل کرنے ہیں۔ اس ان تھک محنت کے بعد انصار کو ایک بڑی کامیابی حاصل ہوئی۔ وہ لڑکا جو کبھی ایک ویٹر کی ڈیوٹی کرتا تھا۔ اس نے انٹر میں 800 سے بھی زیادہ نمبر حاصل کیے۔ اس کی بنا پر اسے زیبسٹ یونیورسٹی میں اسکالرشپ دی گئی، اور اس کا ایڈمیشن بھی زیبسٹ یونیورسٹی میں ہو گیا۔

:انصار کا پیغام

اب انصار زیبسٹ یونیورسٹی میں اکاؤنٹنگ اور فنانس میں بیچلر کر رہے ہیں، جو کہ دو ماہ بعد ختم ہو جائے گا۔ انصار کا محنت کرنے والے بچوں کو کہنا تھا، کہ ہمیں زندگی میں کبھی بھی ہمت نہیں ہارنی چاہیئے اور اپنی زندگی کے مقصد پر مکمل توجہ دہنی چاہیئے۔

کیا آپ نے کبھی سوچا ہے کہ یونیورسٹی کے طالب علموں کو پلیٹ میں باربی کیو پیش کرنے ولا عام سا ویٹر ایک دن پاکستان کی نامی گرامی یونیورسٹی سے گریجویشن کر لے۔

:والد کی وفات کے بعد ویٹر کی نوکری کرنی پڑی

انصار علی کا تعلق پنجاب کے علاقے ننکانہ صاحب سے ہے۔ علی انصاری کو نویں جماعت میں والد کی وفات کی وجہ سے اسکول چھوڑنا پڑا۔ ہر وقت محنت اور پریشانی کے باوجود انصار علی کے چہرے پر ہر وقت مسکراہٹ ہی رہتی تھی۔ انصار علی نے بتایا کہ مجھے یاد ہے، کہ میں اسکول میں اپنی تعلیم کی وجہ سے بہت پسند کیا جاتا تھا۔ بے شک میں ویٹر ہی تھا، مگر مجھے میرے دوست اور اساتذہ بہت اہمیت دیتے تھے۔ میرے دل میں ہمیشہ یہی خیال ہوتا تھا، کہ پھر کیا ہوا کہ میرے حالات ٹھیک نہیں ہیں۔ مگر میں پھر بھی طالب علموں کو سن سکتا ہوں، اور ان سے بہت کچھ سیکھ سکتا ہوں۔

:یونیورسٹی کے طالب علموں کی مدد

 سالار خان جو کہ 2014-2015 میں لمز یونیورسٹی میں طلبہ کے صدر تھے۔ سالار خان انصار علی کے متعلق بتاتے ہوئے کہتے ہیں۔ انصار کی ہر وقت مسکرہٹ کو دیکھ کر کوئی بھی یہ اندازہ نہیں لگا سکتا تھا کہ وہ اندر سے کتنا دکھی ہے۔ اس لیے انصار کی پڑھنے کی لگن کو دیکھتے ہوئے۔ میں نے اور میرے دوستوں نے انصار کو پڑھانے کا ارادہ کیا۔ ہم سب نے پیسے اکھٹے کیے اور انصار کو خوشخبری سنائی کہ وہ اپنی تعلیم کو پھر سے شروع کر سکتا ہے۔

تعلیم کو پھر سے شروع کرنے کے لیے انصار کو اپنی والدہ سے اجازت لینی تھی۔ پھر وہ اپنے گھر گیا، اور اس کی والدہ جانتی تھی کہ وہ پڑھنے میں بہت اچھا ہے۔ اس میں ابھی تک وہ سرٹیفیکیٹ پڑا ہوا ہے۔ جو اسے پانچویں جماعت میں اسکول میں اول آنے پر ملا تھا۔ لہذاً انصار کی والدہ نے اسے تعلیم حاصل کرنے کی اجازت دے دی۔ مگر انصار کے پاس گھر چلانے کے لیے کوئی پیسے موجود نہیں تھے، اور یہ ایک بہت بڑی پریشانی تھی۔ اس مشکل میں بھی یونیورسٹی کے دوستوں نے اس کا ساتھ دیا۔ اسے اپنے گھر کا خرچہ چلانے کے لیے ہر ماہ یونیورسٹی کے لڑکوں کی جانب سے 30 ہزار دیا جاتا تھا، اور ساتھ ہی اس کی تعلیم کا بھی سارا خرچہ وہی اُٹھاتے تھے۔

:میں نے کمرے میں لکھ کر لٹکایا تھا کہ مجھے 800 نمبر لانے ہیں

انصار کو یونیورسٹی میں داخلہ لینے کے لیے 800 نمبر حاصل کرنے تھے۔ انصار کا اس کے متعلق کہنا تھا، کہ میں نے اپنے کمرے میں لکھ کر لگا دیا تھا کہ مجھے ہر حال میں میں 800 نمبر حاصل کرنے ہیں۔ اس ان تھک محنت کے بعد انصار کو ایک بڑی کامیابی حاصل ہوئی۔ وہ لڑکا جو کبھی ایک ویٹر کی ڈیوٹی کرتا تھا۔ اس نے انٹر میں 800 سے بھی زیادہ نمبر حاصل کیے۔ اس کی بنا پر اسے زیبسٹ یونیورسٹی میں اسکالرشپ دی گئی، اور اس کا ایڈمیشن بھی زیبسٹ یونیورسٹی میں ہو گیا۔

:انصار کا پیغام

اب انصار زیبسٹ یونیورسٹی میں اکاؤنٹنگ اور فنانس میں بیچلر کر رہے ہیں، جو کہ دو ماہ بعد ختم ہو جائے گا۔ انصار کا محنت کرنے والے بچوں کو کہنا تھا، کہ ہمیں زندگی میں کبھی بھی ہمت نہیں ہارنی چاہیئے اور اپنی زندگی کے مقصد پر مکمل توجہ دہنی چاہیئے۔

کیا آپ نے کبھی سوچا ہے کہ یونیورسٹی کے طالب علموں کو پلیٹ میں باربی کیو پیش کرنے ولا عام سا ویٹر ایک دن پاکستان کی نامی گرامی یونیورسٹی سے گریجویشن کر لے۔

:والد کی وفات کے بعد ویٹر کی نوکری کرنی پڑی

انصار علی کا تعلق پنجاب کے علاقے ننکانہ صاحب سے ہے۔ علی انصاری کو نویں جماعت میں والد کی وفات کی وجہ سے اسکول چھوڑنا پڑا۔ ہر وقت محنت اور پریشانی کے باوجود انصار علی کے چہرے پر ہر وقت مسکراہٹ ہی رہتی تھی۔ انصار علی نے بتایا کہ مجھے یاد ہے، کہ میں اسکول میں اپنی تعلیم کی وجہ سے بہت پسند کیا جاتا تھا۔ بے شک میں ویٹر ہی تھا، مگر مجھے میرے دوست اور اساتذہ بہت اہمیت دیتے تھے۔ میرے دل میں ہمیشہ یہی خیال ہوتا تھا، کہ پھر کیا ہوا کہ میرے حالات ٹھیک نہیں ہیں۔ مگر میں پھر بھی طالب علموں کو سن سکتا ہوں، اور ان سے بہت کچھ سیکھ سکتا ہوں۔

:یونیورسٹی کے طالب علموں کی مدد

 سالار خان جو کہ 2014-2015 میں لمز یونیورسٹی میں طلبہ کے صدر تھے۔ سالار خان انصار علی کے متعلق بتاتے ہوئے کہتے ہیں۔ انصار کی ہر وقت مسکرہٹ کو دیکھ کر کوئی بھی یہ اندازہ نہیں لگا سکتا تھا کہ وہ اندر سے کتنا دکھی ہے۔ اس لیے انصار کی پڑھنے کی لگن کو دیکھتے ہوئے۔ میں نے اور میرے دوستوں نے انصار کو پڑھانے کا ارادہ کیا۔ ہم سب نے پیسے اکھٹے کیے اور انصار کو خوشخبری سنائی کہ وہ اپنی تعلیم کو پھر سے شروع کر سکتا ہے۔

تعلیم کو پھر سے شروع کرنے کے لیے انصار کو اپنی والدہ سے اجازت لینی تھی۔ پھر وہ اپنے گھر گیا، اور اس کی والدہ جانتی تھی کہ وہ پڑھنے میں بہت اچھا ہے۔ اس میں ابھی تک وہ سرٹیفیکیٹ پڑا ہوا ہے۔ جو اسے پانچویں جماعت میں اسکول میں اول آنے پر ملا تھا۔ لہذاً انصار کی والدہ نے اسے تعلیم حاصل کرنے کی اجازت دے دی۔ مگر انصار کے پاس گھر چلانے کے لیے کوئی پیسے موجود نہیں تھے، اور یہ ایک بہت بڑی پریشانی تھی۔ اس مشکل میں بھی یونیورسٹی کے دوستوں نے اس کا ساتھ دیا۔ اسے اپنے گھر کا خرچہ چلانے کے لیے ہر ماہ یونیورسٹی کے لڑکوں کی جانب سے 30 ہزار دیا جاتا تھا، اور ساتھ ہی اس کی تعلیم کا بھی سارا خرچہ وہی اُٹھاتے تھے۔

:میں نے کمرے میں لکھ کر لٹکایا تھا کہ مجھے 800 نمبر لانے ہیں

انصار کو یونیورسٹی میں داخلہ لینے کے لیے 800 نمبر حاصل کرنے تھے۔ انصار کا اس کے متعلق کہنا تھا، کہ میں نے اپنے کمرے میں لکھ کر لگا دیا تھا کہ مجھے ہر حال میں میں 800 نمبر حاصل کرنے ہیں۔ اس ان تھک محنت کے بعد انصار کو ایک بڑی کامیابی حاصل ہوئی۔ وہ لڑکا جو کبھی ایک ویٹر کی ڈیوٹی کرتا تھا۔ اس نے انٹر میں 800 سے بھی زیادہ نمبر حاصل کیے۔ اس کی بنا پر اسے زیبسٹ یونیورسٹی میں اسکالرشپ دی گئی، اور اس کا ایڈمیشن بھی زیبسٹ یونیورسٹی میں ہو گیا۔

:انصار کا پیغام

اب انصار زیبسٹ یونیورسٹی میں اکاؤنٹنگ اور فنانس میں بیچلر کر رہے ہیں، جو کہ دو ماہ بعد ختم ہو جائے گا۔ انصار کا محنت کرنے والے بچوں کو کہنا تھا، کہ ہمیں زندگی میں کبھی بھی ہمت نہیں ہارنی چاہیئے اور اپنی زندگی کے مقصد پر مکمل توجہ دہنی چاہیئے۔

Related Articles

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here

Stay Connected

22,046FansLike
2,984FollowersFollow
18,400SubscribersSubscribe

Latest Articles