25 C
Lahore
Tuesday, October 19, 2021

نیپا وائرس: کورونا وائرس کے بعد دوسرا بڑا خطرناک اور مہلک وائرس جس سے ایشیا کو خطرہ

نیپا وائرس چمگادڑوں (فروٹ بیٹ) سے پھیل سکتا ہے

تین جنوری 2020 کو سپاپرن وچارا پلوسادی اپنی ایک ڈلیوری کا انتظار کر رہی تھیں۔ وہ جہاں رہتی تھیں وہاں یہ بات مشہور ہو چکی تھی کہ چین کے شہر ووہان میں سانس کی ایک بیماری لوگوں کو بڑے پیمانے پرشدید متاثر کر رہی ہے۔ چینی کیلنڈر پر نئے سال کی آمد آمد تھی اور بہت سے چینی سیاح سیر و تفریح کی غرض سے پڑوسی ملک تھائی لینڈ کا رُخ کر رہے تھے۔

سانس کی اس نامعلوم بیماری کی وجہ سے احتیاطً تھائی لینڈ حکام نے ووہان سے آنے والے مسافروں کی ائرپورٹ پر ہی سکریننگ شروع کر دی تھی۔ مسافروں کے نمونے لیبارٹریوں میں بھیجے جا رہے تھے تاکہ ٹیسٹنگ کے عمل سے حقیقت تک پہنچا جا سکے۔ سپاپرن کی لیبارٹری بھی ان لیبارٹریوں میں شامل تھی جہاں یہ نمونے ٹیسٹ کیے جا رہے تھے۔

سپاپرن وائرس پر تحقیق کی ماہر ہیں اور بنکاک میں ’تھائی ریڈ کراس‘ میں متعدی امراض اور صحت سے متعلق ایک سینٹر چلاتی ہیں۔ گذشتہ دس برسوں سے وہ دنیا بھر میں جانوروں سے انسانوں کو منتقل ہو سکنے والے امراض کے بارے میں پیش گوئی کرنے، ان کا پتا لگانے، اور انھیں روکنے کے لیے کام کرنے والے ماہرین کے گروہ میں شامل ہیں۔

سپاپرن اور ان کی ٹیم نے بہت سارے جانوروں کے مختلف نمونے اکھٹے کیے۔ تاہم ان کی مرکزی توجہ چمگادڑوں پر تھی جسے کورونا وائرس کی بہت سی اقسام کو منتقل کرنے کا ذمہ دار ٹھہرایا جاتا ہے۔

لیبارٹری میں تحقیقاتی کام کرتے ہوئے سپاپرن اور ان کی ٹیم جلد ہی سانس کی اس پراسرار مرض کو سمجھ گئے، چین سے باہر کووڈ 19 کے ایک کیس کا پتا لگا لیا گیا۔ اٹیم کو یہ معلوم ہوگیا کہ یہ اس بیماری کا باعث بننے والا وائرس انسانوں میں پیدا نہیں ہوا تھا۔ یہ ممکنہ طور پر کورونا وائرس ہے جو پہلے ہی چمگادڑوں میں پایا گیا تھا۔

شکر تھا کہ جلد ہی معلومات مل گئیں اور حکومت تیزی سے مریضوں کو قرنطینہ کرنے اور شہریوں کو آگاہی فراہم کرنے کے قابل ہوگئی۔ اندازاً سات کروڑ آبادی کے ملک تھائی لینڈ میں تین جنوری 2021 یعنی ایک سال بعد کورونا وائرس کے 8955 کیسز سامنے آئے ہیں اور اموات کی مجموعی تعداد 65 بتائی گئی ہے۔

مگر ابھی بھی جب دنیا کووڈ 19 سے نمٹنے کی کوشش کر رہی ہے،وہاں وچارا پلوسادی اگلی ممکنہ عالمی وبا کی تیاریاں کر رہی ہیں جو کہ انتہای خطرناک ہے۔

یہاں یہ بات قابل ذکر ہے کہ ایشیا میں زور پکڑنے والے وبائی امراض کی ایک بڑی تعداد موجود ہے۔ برساتی علاقوں میں حیاتیاتی تنوع پائی جاتی ہے جس کا مطلب یہ ہے کہ یہاں بیماری کا باعث بننے والےعناصر کی شدید بھرمار ہے۔ جس سے کسی بھی نئے وائرس کے پھیلنے کے امکانات بہت حد تک بڑھ جاتے ہیں۔ انسانوں کی آبادی کے بڑھنے، اور ان کے آپس میں اور جنگلی جانوروں سے مزید رابطوں سے اس کا خطرہ مزید بڑھ جاتا ہے۔

سپاپرن نے اپنے کیریئر میں ہزاروں چمگادڑوں پر تحقیق کی ہے اور کئی نئے وائرس دریافت کیے ہیں۔ تھقیق کے دوران انھوں نے کئی قسم کے کورونا وائرس ڈھونڈ نکالے ہیں اور ایسے دوسرے وائرس بھی جو انسانوں میں منتقل ہو سکتے ہیں۔

ان سب میں ’نیپا‘ وائرس بھی شامل ہے جو چمگادڑوں سے پھیلتا ہے۔ سپاپرن اور ان کی ٹیم کا کہنا ہے کہ ’یہ ایک بڑی تشویش کا باعث ہے کیونکہ اس کا فی الحال کوئی علاج نہیں ہے۔۔۔ اور اس وائرس سے ہلاکتوں کی شرح بہت زیادہ ہے۔‘نیپا وائرس سے ہلاکتوں کی شرح 40 سے 75 فیصد تک ہے (یعنی ہر 100 متاثرہ افراد میں سے 40 سے 75 افراد ہلاک ہو سکتے ہیں)، تاہم ہلاکتوں کی شرح کا انحصار اس بات پر بھی ہے کہ یہ وبا کس علاقے میں پھوٹتی ہے۔

سپاپرن وہ واحد انسان نہیں ہیں جسے اس وائرس نے پریشان کر رکھا ہے۔ سال عالمی ادارہ صحت ہر سال بیماری پھیلانے والے پیتھوجینز (جرثوموں) کی ایک فہرست کا جائزہ لیتا ہے اور فیصلہ کرتا ہے کہ کن بیماریوں کے حوالے سے عوامی صحت کی ایمرجنسی لگائی جا سکتی ہے تاکہ تحقیق کے لیے امداد کی ترجیح دیکھی جا سکے۔ عالمی ادارہ صحت ان بیماریوں پر توجہ مرکوز کرتا ہے جو انسانی صحت کے لیے زیادہ خطرناک ہیں اور جن کا وبا کا باعث بننے کا زیادہ امکان ہے۔ اور ایسی بیماریوں پر بھی نظر رکھی جاتی ہے جن کی کوئی ویکسین نہیں۔

نیپا وائرس ان 10 سب سے خطرناک بیماریوں میں سے ایک ہے۔ اس کی وبا ایشیا میں کئی بار پھیل چکی ہے اور یہ ممکن ہے کہ ہم اس کا نام مستقبل میں بار بار سُنیں۔

اس سوال کا جواب کہ نیپا وائرس اتنا خطرناک کیوں ہے، اس کی کئی وجوہات ہیں۔ اس کا انکیوبیشن کا عرصہ زیادہ ہے (بعض کیسز میں زیادہ سے زیادہ 45 روز)۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ جب کوئی شخص اس وائرس سے متاثر ہو جاتا ہے تو ابتدا میں اسے معلوم ہی نہیں ہوتا کہ وہ اس بیماری کا شکار ہو چکا ہے اور کافی روز بعد علامات ظاہر ہوتی ہیں اور تب تک وہ بہت سے افراد میں اسے پھیلانے کا باعث بن چکا ہوتا ہے۔

انسانوں کے ساتھ ساتھ اس وائرس سے جانوروں کی ایک بڑی تعداد متاثر ہو سکتی ہے اور یہی وجہ ہے کہ اس وائرس کے پھیلنے کے امکانات مزید بڑھ جاتے ہیں۔ اس وائرس سے براہ راست متاثرہ شخص یا جانور سے رابطے یا آلودہ خوراک کھانے سے بھی متاثر ہوا جا سکتا ہے۔

نیپا وائرس سے متاثرہ لوگوں میں سانس لینے میں دشواری، کھانسی، گلے کی سوزش، درد، تھکاوٹ، دماغ کی سوزش (جس سے موت بھی واقع ہو سکتی ہے) جیسی علامات ظاہر ہوتی ہیں۔ یہ کہنا ٹھیک ہو گا کہ عالمی ادارہ صحت اس بیماری کو روکنے کی کوشش کرنا چاہیے اور ہمیں بھی اپنے ارد گرد صفای کا خیال رکھنا چاہیے۔

نیپا وائرس چمگادڑوں (فروٹ بیٹ) سے پھیل سکتا ہے

تین جنوری 2020 کو سپاپرن وچارا پلوسادی اپنی ایک ڈلیوری کا انتظار کر رہی تھیں۔ وہ جہاں رہتی تھیں وہاں یہ بات مشہور ہو چکی تھی کہ چین کے شہر ووہان میں سانس کی ایک بیماری لوگوں کو بڑے پیمانے پرشدید متاثر کر رہی ہے۔ چینی کیلنڈر پر نئے سال کی آمد آمد تھی اور بہت سے چینی سیاح سیر و تفریح کی غرض سے پڑوسی ملک تھائی لینڈ کا رُخ کر رہے تھے۔

سانس کی اس نامعلوم بیماری کی وجہ سے احتیاطً تھائی لینڈ حکام نے ووہان سے آنے والے مسافروں کی ائرپورٹ پر ہی سکریننگ شروع کر دی تھی۔ مسافروں کے نمونے لیبارٹریوں میں بھیجے جا رہے تھے تاکہ ٹیسٹنگ کے عمل سے حقیقت تک پہنچا جا سکے۔ سپاپرن کی لیبارٹری بھی ان لیبارٹریوں میں شامل تھی جہاں یہ نمونے ٹیسٹ کیے جا رہے تھے۔

سپاپرن وائرس پر تحقیق کی ماہر ہیں اور بنکاک میں ’تھائی ریڈ کراس‘ میں متعدی امراض اور صحت سے متعلق ایک سینٹر چلاتی ہیں۔ گذشتہ دس برسوں سے وہ دنیا بھر میں جانوروں سے انسانوں کو منتقل ہو سکنے والے امراض کے بارے میں پیش گوئی کرنے، ان کا پتا لگانے، اور انھیں روکنے کے لیے کام کرنے والے ماہرین کے گروہ میں شامل ہیں۔

سپاپرن اور ان کی ٹیم نے بہت سارے جانوروں کے مختلف نمونے اکھٹے کیے۔ تاہم ان کی مرکزی توجہ چمگادڑوں پر تھی جسے کورونا وائرس کی بہت سی اقسام کو منتقل کرنے کا ذمہ دار ٹھہرایا جاتا ہے۔

لیبارٹری میں تحقیقاتی کام کرتے ہوئے سپاپرن اور ان کی ٹیم جلد ہی سانس کی اس پراسرار مرض کو سمجھ گئے، چین سے باہر کووڈ 19 کے ایک کیس کا پتا لگا لیا گیا۔ اٹیم کو یہ معلوم ہوگیا کہ یہ اس بیماری کا باعث بننے والا وائرس انسانوں میں پیدا نہیں ہوا تھا۔ یہ ممکنہ طور پر کورونا وائرس ہے جو پہلے ہی چمگادڑوں میں پایا گیا تھا۔

شکر تھا کہ جلد ہی معلومات مل گئیں اور حکومت تیزی سے مریضوں کو قرنطینہ کرنے اور شہریوں کو آگاہی فراہم کرنے کے قابل ہوگئی۔ اندازاً سات کروڑ آبادی کے ملک تھائی لینڈ میں تین جنوری 2021 یعنی ایک سال بعد کورونا وائرس کے 8955 کیسز سامنے آئے ہیں اور اموات کی مجموعی تعداد 65 بتائی گئی ہے۔

مگر ابھی بھی جب دنیا کووڈ 19 سے نمٹنے کی کوشش کر رہی ہے،وہاں وچارا پلوسادی اگلی ممکنہ عالمی وبا کی تیاریاں کر رہی ہیں جو کہ انتہای خطرناک ہے۔

یہاں یہ بات قابل ذکر ہے کہ ایشیا میں زور پکڑنے والے وبائی امراض کی ایک بڑی تعداد موجود ہے۔ برساتی علاقوں میں حیاتیاتی تنوع پائی جاتی ہے جس کا مطلب یہ ہے کہ یہاں بیماری کا باعث بننے والےعناصر کی شدید بھرمار ہے۔ جس سے کسی بھی نئے وائرس کے پھیلنے کے امکانات بہت حد تک بڑھ جاتے ہیں۔ انسانوں کی آبادی کے بڑھنے، اور ان کے آپس میں اور جنگلی جانوروں سے مزید رابطوں سے اس کا خطرہ مزید بڑھ جاتا ہے۔

سپاپرن نے اپنے کیریئر میں ہزاروں چمگادڑوں پر تحقیق کی ہے اور کئی نئے وائرس دریافت کیے ہیں۔ تھقیق کے دوران انھوں نے کئی قسم کے کورونا وائرس ڈھونڈ نکالے ہیں اور ایسے دوسرے وائرس بھی جو انسانوں میں منتقل ہو سکتے ہیں۔

ان سب میں ’نیپا‘ وائرس بھی شامل ہے جو چمگادڑوں سے پھیلتا ہے۔ سپاپرن اور ان کی ٹیم کا کہنا ہے کہ ’یہ ایک بڑی تشویش کا باعث ہے کیونکہ اس کا فی الحال کوئی علاج نہیں ہے۔۔۔ اور اس وائرس سے ہلاکتوں کی شرح بہت زیادہ ہے۔‘نیپا وائرس سے ہلاکتوں کی شرح 40 سے 75 فیصد تک ہے (یعنی ہر 100 متاثرہ افراد میں سے 40 سے 75 افراد ہلاک ہو سکتے ہیں)، تاہم ہلاکتوں کی شرح کا انحصار اس بات پر بھی ہے کہ یہ وبا کس علاقے میں پھوٹتی ہے۔

سپاپرن وہ واحد انسان نہیں ہیں جسے اس وائرس نے پریشان کر رکھا ہے۔ سال عالمی ادارہ صحت ہر سال بیماری پھیلانے والے پیتھوجینز (جرثوموں) کی ایک فہرست کا جائزہ لیتا ہے اور فیصلہ کرتا ہے کہ کن بیماریوں کے حوالے سے عوامی صحت کی ایمرجنسی لگائی جا سکتی ہے تاکہ تحقیق کے لیے امداد کی ترجیح دیکھی جا سکے۔ عالمی ادارہ صحت ان بیماریوں پر توجہ مرکوز کرتا ہے جو انسانی صحت کے لیے زیادہ خطرناک ہیں اور جن کا وبا کا باعث بننے کا زیادہ امکان ہے۔ اور ایسی بیماریوں پر بھی نظر رکھی جاتی ہے جن کی کوئی ویکسین نہیں۔

نیپا وائرس ان 10 سب سے خطرناک بیماریوں میں سے ایک ہے۔ اس کی وبا ایشیا میں کئی بار پھیل چکی ہے اور یہ ممکن ہے کہ ہم اس کا نام مستقبل میں بار بار سُنیں۔

اس سوال کا جواب کہ نیپا وائرس اتنا خطرناک کیوں ہے، اس کی کئی وجوہات ہیں۔ اس کا انکیوبیشن کا عرصہ زیادہ ہے (بعض کیسز میں زیادہ سے زیادہ 45 روز)۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ جب کوئی شخص اس وائرس سے متاثر ہو جاتا ہے تو ابتدا میں اسے معلوم ہی نہیں ہوتا کہ وہ اس بیماری کا شکار ہو چکا ہے اور کافی روز بعد علامات ظاہر ہوتی ہیں اور تب تک وہ بہت سے افراد میں اسے پھیلانے کا باعث بن چکا ہوتا ہے۔

انسانوں کے ساتھ ساتھ اس وائرس سے جانوروں کی ایک بڑی تعداد متاثر ہو سکتی ہے اور یہی وجہ ہے کہ اس وائرس کے پھیلنے کے امکانات مزید بڑھ جاتے ہیں۔ اس وائرس سے براہ راست متاثرہ شخص یا جانور سے رابطے یا آلودہ خوراک کھانے سے بھی متاثر ہوا جا سکتا ہے۔

نیپا وائرس سے متاثرہ لوگوں میں سانس لینے میں دشواری، کھانسی، گلے کی سوزش، درد، تھکاوٹ، دماغ کی سوزش (جس سے موت بھی واقع ہو سکتی ہے) جیسی علامات ظاہر ہوتی ہیں۔ یہ کہنا ٹھیک ہو گا کہ عالمی ادارہ صحت اس بیماری کو روکنے کی کوشش کرنا چاہیے اور ہمیں بھی اپنے ارد گرد صفای کا خیال رکھنا چاہیے۔

نیپا وائرس چمگادڑوں (فروٹ بیٹ) سے پھیل سکتا ہے

تین جنوری 2020 کو سپاپرن وچارا پلوسادی اپنی ایک ڈلیوری کا انتظار کر رہی تھیں۔ وہ جہاں رہتی تھیں وہاں یہ بات مشہور ہو چکی تھی کہ چین کے شہر ووہان میں سانس کی ایک بیماری لوگوں کو بڑے پیمانے پرشدید متاثر کر رہی ہے۔ چینی کیلنڈر پر نئے سال کی آمد آمد تھی اور بہت سے چینی سیاح سیر و تفریح کی غرض سے پڑوسی ملک تھائی لینڈ کا رُخ کر رہے تھے۔

سانس کی اس نامعلوم بیماری کی وجہ سے احتیاطً تھائی لینڈ حکام نے ووہان سے آنے والے مسافروں کی ائرپورٹ پر ہی سکریننگ شروع کر دی تھی۔ مسافروں کے نمونے لیبارٹریوں میں بھیجے جا رہے تھے تاکہ ٹیسٹنگ کے عمل سے حقیقت تک پہنچا جا سکے۔ سپاپرن کی لیبارٹری بھی ان لیبارٹریوں میں شامل تھی جہاں یہ نمونے ٹیسٹ کیے جا رہے تھے۔

سپاپرن وائرس پر تحقیق کی ماہر ہیں اور بنکاک میں ’تھائی ریڈ کراس‘ میں متعدی امراض اور صحت سے متعلق ایک سینٹر چلاتی ہیں۔ گذشتہ دس برسوں سے وہ دنیا بھر میں جانوروں سے انسانوں کو منتقل ہو سکنے والے امراض کے بارے میں پیش گوئی کرنے، ان کا پتا لگانے، اور انھیں روکنے کے لیے کام کرنے والے ماہرین کے گروہ میں شامل ہیں۔

سپاپرن اور ان کی ٹیم نے بہت سارے جانوروں کے مختلف نمونے اکھٹے کیے۔ تاہم ان کی مرکزی توجہ چمگادڑوں پر تھی جسے کورونا وائرس کی بہت سی اقسام کو منتقل کرنے کا ذمہ دار ٹھہرایا جاتا ہے۔

لیبارٹری میں تحقیقاتی کام کرتے ہوئے سپاپرن اور ان کی ٹیم جلد ہی سانس کی اس پراسرار مرض کو سمجھ گئے، چین سے باہر کووڈ 19 کے ایک کیس کا پتا لگا لیا گیا۔ اٹیم کو یہ معلوم ہوگیا کہ یہ اس بیماری کا باعث بننے والا وائرس انسانوں میں پیدا نہیں ہوا تھا۔ یہ ممکنہ طور پر کورونا وائرس ہے جو پہلے ہی چمگادڑوں میں پایا گیا تھا۔

شکر تھا کہ جلد ہی معلومات مل گئیں اور حکومت تیزی سے مریضوں کو قرنطینہ کرنے اور شہریوں کو آگاہی فراہم کرنے کے قابل ہوگئی۔ اندازاً سات کروڑ آبادی کے ملک تھائی لینڈ میں تین جنوری 2021 یعنی ایک سال بعد کورونا وائرس کے 8955 کیسز سامنے آئے ہیں اور اموات کی مجموعی تعداد 65 بتائی گئی ہے۔

مگر ابھی بھی جب دنیا کووڈ 19 سے نمٹنے کی کوشش کر رہی ہے،وہاں وچارا پلوسادی اگلی ممکنہ عالمی وبا کی تیاریاں کر رہی ہیں جو کہ انتہای خطرناک ہے۔

یہاں یہ بات قابل ذکر ہے کہ ایشیا میں زور پکڑنے والے وبائی امراض کی ایک بڑی تعداد موجود ہے۔ برساتی علاقوں میں حیاتیاتی تنوع پائی جاتی ہے جس کا مطلب یہ ہے کہ یہاں بیماری کا باعث بننے والےعناصر کی شدید بھرمار ہے۔ جس سے کسی بھی نئے وائرس کے پھیلنے کے امکانات بہت حد تک بڑھ جاتے ہیں۔ انسانوں کی آبادی کے بڑھنے، اور ان کے آپس میں اور جنگلی جانوروں سے مزید رابطوں سے اس کا خطرہ مزید بڑھ جاتا ہے۔

سپاپرن نے اپنے کیریئر میں ہزاروں چمگادڑوں پر تحقیق کی ہے اور کئی نئے وائرس دریافت کیے ہیں۔ تھقیق کے دوران انھوں نے کئی قسم کے کورونا وائرس ڈھونڈ نکالے ہیں اور ایسے دوسرے وائرس بھی جو انسانوں میں منتقل ہو سکتے ہیں۔

ان سب میں ’نیپا‘ وائرس بھی شامل ہے جو چمگادڑوں سے پھیلتا ہے۔ سپاپرن اور ان کی ٹیم کا کہنا ہے کہ ’یہ ایک بڑی تشویش کا باعث ہے کیونکہ اس کا فی الحال کوئی علاج نہیں ہے۔۔۔ اور اس وائرس سے ہلاکتوں کی شرح بہت زیادہ ہے۔‘نیپا وائرس سے ہلاکتوں کی شرح 40 سے 75 فیصد تک ہے (یعنی ہر 100 متاثرہ افراد میں سے 40 سے 75 افراد ہلاک ہو سکتے ہیں)، تاہم ہلاکتوں کی شرح کا انحصار اس بات پر بھی ہے کہ یہ وبا کس علاقے میں پھوٹتی ہے۔

سپاپرن وہ واحد انسان نہیں ہیں جسے اس وائرس نے پریشان کر رکھا ہے۔ سال عالمی ادارہ صحت ہر سال بیماری پھیلانے والے پیتھوجینز (جرثوموں) کی ایک فہرست کا جائزہ لیتا ہے اور فیصلہ کرتا ہے کہ کن بیماریوں کے حوالے سے عوامی صحت کی ایمرجنسی لگائی جا سکتی ہے تاکہ تحقیق کے لیے امداد کی ترجیح دیکھی جا سکے۔ عالمی ادارہ صحت ان بیماریوں پر توجہ مرکوز کرتا ہے جو انسانی صحت کے لیے زیادہ خطرناک ہیں اور جن کا وبا کا باعث بننے کا زیادہ امکان ہے۔ اور ایسی بیماریوں پر بھی نظر رکھی جاتی ہے جن کی کوئی ویکسین نہیں۔

نیپا وائرس ان 10 سب سے خطرناک بیماریوں میں سے ایک ہے۔ اس کی وبا ایشیا میں کئی بار پھیل چکی ہے اور یہ ممکن ہے کہ ہم اس کا نام مستقبل میں بار بار سُنیں۔

اس سوال کا جواب کہ نیپا وائرس اتنا خطرناک کیوں ہے، اس کی کئی وجوہات ہیں۔ اس کا انکیوبیشن کا عرصہ زیادہ ہے (بعض کیسز میں زیادہ سے زیادہ 45 روز)۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ جب کوئی شخص اس وائرس سے متاثر ہو جاتا ہے تو ابتدا میں اسے معلوم ہی نہیں ہوتا کہ وہ اس بیماری کا شکار ہو چکا ہے اور کافی روز بعد علامات ظاہر ہوتی ہیں اور تب تک وہ بہت سے افراد میں اسے پھیلانے کا باعث بن چکا ہوتا ہے۔

انسانوں کے ساتھ ساتھ اس وائرس سے جانوروں کی ایک بڑی تعداد متاثر ہو سکتی ہے اور یہی وجہ ہے کہ اس وائرس کے پھیلنے کے امکانات مزید بڑھ جاتے ہیں۔ اس وائرس سے براہ راست متاثرہ شخص یا جانور سے رابطے یا آلودہ خوراک کھانے سے بھی متاثر ہوا جا سکتا ہے۔

نیپا وائرس سے متاثرہ لوگوں میں سانس لینے میں دشواری، کھانسی، گلے کی سوزش، درد، تھکاوٹ، دماغ کی سوزش (جس سے موت بھی واقع ہو سکتی ہے) جیسی علامات ظاہر ہوتی ہیں۔ یہ کہنا ٹھیک ہو گا کہ عالمی ادارہ صحت اس بیماری کو روکنے کی کوشش کرنا چاہیے اور ہمیں بھی اپنے ارد گرد صفای کا خیال رکھنا چاہیے۔

Related Articles

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here

Stay Connected

22,046FansLike
2,984FollowersFollow
18,400SubscribersSubscribe

Latest Articles