26 C
Lahore
Tuesday, October 19, 2021

کورونا ویکسین لگوانے والے 23 افراد ہلاک

اوسلو(ناروے)گزشتہ چند ہفتوں میں ہوی کورونا ویکسین کی ایجاد کے بعد محسوس ہوا کہ اب اس موذی وبا س جان چھوٹ جائے گی مگر ایک سال کی سضت محنت اور تحقیق کے نتیجے میں تیار ہونے والی ویکسین اس قابل نہیں لگ رہی کہ اس سے مریض فوری صحت یاب ہو سکے یا دوبارہ وائرس کے اٹیک سے محفوظ رہے۔ اس بات سے انکار نہیں کیا جا سکتا کہ ویکسین کا ٹرائل ہونے کے بعد اسے مارکیٹ میں لانچ کیا گیا مگر اس کے سائیڈ افیکٹس سامنے آنا شروع ہوگے۔

حالیہ تحقیق اور ایجاد کے بعد ہوی کورونا ویکسین کی وجہ سے23 لوگ جان کی بازی ہار گئے۔ ناروے میں کورونا ویکسین کی خوراک لینے کے چند دن بعد ہی 23 افراد ہلاک ہوگئے۔ غیر ملکی خبر رساں ایجنسی کے مطابق مرنے والوں میں سے 13 افراد کی موت کورونا وائرس کی ویکسین کے سایڈ ایفیکٹس کی وجہ سے ہوئی۔

ہلاک ہون والے بیشتر افراد کی عمر 80 برس کے لگ بھگ تھی اور زیادہ ترنرسنگ ہومز کے رہائشی تھے۔ نارویجن میڈیسن ایجنسی کے چیف فزیشن سیگار ہورٹیمو نے واضح کیا کہ ویکسین لگنے کے بعد بخار اور متلی ہونا عام ہے اور پیچیدہ صحت کے مسائل رکھنے والوں کے لیے ویکسین کے سایڈ ایفیکٹس مہلک بھی ثابت ہوسکتے ہیں۔ ناروے میں اب تک 30 ہزار افراد کوکورونا وایرس سے بچاو کی ویکسین لگائی جاچکی ہے۔

تاہم حکام کا کہنا ہے کہ 23 افراد کی موت کی بنیاد پر ویکسین کو غیر محفوظ قرار نہیں دیا جاسکتا۔ ڈاکٹروں کو ویکسین لگانے سے پہلے مزید باریک بینی سے مریض کی صحت کا جائزہ لینا ہوگا۔ جن کی صحت بہت خراب ہو یا عمر رسیدہ افراد کو ویکسین لگانے کے حوالے سے اضافی احتیاط برتنے کی ضرورت ہوگی۔ دوا ساز کمپنی فائزر کی تیار کردہ ویکسین کی پہلی خوراک لگوانے کے بعد مرنے والے 23 افراد میں 15خواتین اور 8 مرد شامل ہیں۔ فائزر کمپنی کے مقامی نمائندے کا کہنا ہے کہ ویکسینیشن کے بعد ہونے والی اموات کا علم ہے اور مقامی حکام کے ساتھ مل کر متعلقہ معلومات بھی جمع کی جارہی ہیں۔

اوسلو(ناروے)گزشتہ چند ہفتوں میں ہوی کورونا ویکسین کی ایجاد کے بعد محسوس ہوا کہ اب اس موذی وبا س جان چھوٹ جائے گی مگر ایک سال کی سضت محنت اور تحقیق کے نتیجے میں تیار ہونے والی ویکسین اس قابل نہیں لگ رہی کہ اس سے مریض فوری صحت یاب ہو سکے یا دوبارہ وائرس کے اٹیک سے محفوظ رہے۔ اس بات سے انکار نہیں کیا جا سکتا کہ ویکسین کا ٹرائل ہونے کے بعد اسے مارکیٹ میں لانچ کیا گیا مگر اس کے سائیڈ افیکٹس سامنے آنا شروع ہوگے۔

حالیہ تحقیق اور ایجاد کے بعد ہوی کورونا ویکسین کی وجہ سے23 لوگ جان کی بازی ہار گئے۔ ناروے میں کورونا ویکسین کی خوراک لینے کے چند دن بعد ہی 23 افراد ہلاک ہوگئے۔ غیر ملکی خبر رساں ایجنسی کے مطابق مرنے والوں میں سے 13 افراد کی موت کورونا وائرس کی ویکسین کے سایڈ ایفیکٹس کی وجہ سے ہوئی۔

ہلاک ہون والے بیشتر افراد کی عمر 80 برس کے لگ بھگ تھی اور زیادہ ترنرسنگ ہومز کے رہائشی تھے۔ نارویجن میڈیسن ایجنسی کے چیف فزیشن سیگار ہورٹیمو نے واضح کیا کہ ویکسین لگنے کے بعد بخار اور متلی ہونا عام ہے اور پیچیدہ صحت کے مسائل رکھنے والوں کے لیے ویکسین کے سایڈ ایفیکٹس مہلک بھی ثابت ہوسکتے ہیں۔ ناروے میں اب تک 30 ہزار افراد کوکورونا وایرس سے بچاو کی ویکسین لگائی جاچکی ہے۔

تاہم حکام کا کہنا ہے کہ 23 افراد کی موت کی بنیاد پر ویکسین کو غیر محفوظ قرار نہیں دیا جاسکتا۔ ڈاکٹروں کو ویکسین لگانے سے پہلے مزید باریک بینی سے مریض کی صحت کا جائزہ لینا ہوگا۔ جن کی صحت بہت خراب ہو یا عمر رسیدہ افراد کو ویکسین لگانے کے حوالے سے اضافی احتیاط برتنے کی ضرورت ہوگی۔ دوا ساز کمپنی فائزر کی تیار کردہ ویکسین کی پہلی خوراک لگوانے کے بعد مرنے والے 23 افراد میں 15خواتین اور 8 مرد شامل ہیں۔ فائزر کمپنی کے مقامی نمائندے کا کہنا ہے کہ ویکسینیشن کے بعد ہونے والی اموات کا علم ہے اور مقامی حکام کے ساتھ مل کر متعلقہ معلومات بھی جمع کی جارہی ہیں۔

اوسلو(ناروے)گزشتہ چند ہفتوں میں ہوی کورونا ویکسین کی ایجاد کے بعد محسوس ہوا کہ اب اس موذی وبا س جان چھوٹ جائے گی مگر ایک سال کی سضت محنت اور تحقیق کے نتیجے میں تیار ہونے والی ویکسین اس قابل نہیں لگ رہی کہ اس سے مریض فوری صحت یاب ہو سکے یا دوبارہ وائرس کے اٹیک سے محفوظ رہے۔ اس بات سے انکار نہیں کیا جا سکتا کہ ویکسین کا ٹرائل ہونے کے بعد اسے مارکیٹ میں لانچ کیا گیا مگر اس کے سائیڈ افیکٹس سامنے آنا شروع ہوگے۔

حالیہ تحقیق اور ایجاد کے بعد ہوی کورونا ویکسین کی وجہ سے23 لوگ جان کی بازی ہار گئے۔ ناروے میں کورونا ویکسین کی خوراک لینے کے چند دن بعد ہی 23 افراد ہلاک ہوگئے۔ غیر ملکی خبر رساں ایجنسی کے مطابق مرنے والوں میں سے 13 افراد کی موت کورونا وائرس کی ویکسین کے سایڈ ایفیکٹس کی وجہ سے ہوئی۔

ہلاک ہون والے بیشتر افراد کی عمر 80 برس کے لگ بھگ تھی اور زیادہ ترنرسنگ ہومز کے رہائشی تھے۔ نارویجن میڈیسن ایجنسی کے چیف فزیشن سیگار ہورٹیمو نے واضح کیا کہ ویکسین لگنے کے بعد بخار اور متلی ہونا عام ہے اور پیچیدہ صحت کے مسائل رکھنے والوں کے لیے ویکسین کے سایڈ ایفیکٹس مہلک بھی ثابت ہوسکتے ہیں۔ ناروے میں اب تک 30 ہزار افراد کوکورونا وایرس سے بچاو کی ویکسین لگائی جاچکی ہے۔

تاہم حکام کا کہنا ہے کہ 23 افراد کی موت کی بنیاد پر ویکسین کو غیر محفوظ قرار نہیں دیا جاسکتا۔ ڈاکٹروں کو ویکسین لگانے سے پہلے مزید باریک بینی سے مریض کی صحت کا جائزہ لینا ہوگا۔ جن کی صحت بہت خراب ہو یا عمر رسیدہ افراد کو ویکسین لگانے کے حوالے سے اضافی احتیاط برتنے کی ضرورت ہوگی۔ دوا ساز کمپنی فائزر کی تیار کردہ ویکسین کی پہلی خوراک لگوانے کے بعد مرنے والے 23 افراد میں 15خواتین اور 8 مرد شامل ہیں۔ فائزر کمپنی کے مقامی نمائندے کا کہنا ہے کہ ویکسینیشن کے بعد ہونے والی اموات کا علم ہے اور مقامی حکام کے ساتھ مل کر متعلقہ معلومات بھی جمع کی جارہی ہیں۔

Related Articles

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here

Stay Connected

22,046FansLike
2,986FollowersFollow
18,400SubscribersSubscribe

Latest Articles