30 C
Lahore
Tuesday, October 19, 2021

الیکٹرک گاڑیاں لانےسےقبل پرانی گاڑیوں کا سوچناچاہئےتھا،ٹیوٹاپاکستان

پاکستان میں ٹیوٹا گاڑیاں بنانے والےادارے انڈس موٹرزکمپنی کے سی ای او اصغرجمالی نے کہا ہے کہ اگرپاکستان میں

الیکٹرک گاڑیوں کو آگے لانے کا مقصد کاربن کا پھیلاؤ روکنا ہے توپرانی گاڑیوں کا ختم کرنے کا پہلے سوچنا چاہئے تھا۔

سماءمنی سے خصوصی بات کرتےہوئے اصغرجمالی نےکہا کہ پاکستان میں پرانی گاڑیوں،بسوں اورٹرکوں کے دھوئیں سے آلودگی پھیلتی ہے۔ حکومت نے الیکٹرک گاڑیاں متعارف کروانے کا منصوبہ اس وقت بنایا جب ماحولیات کو بہتربنانے کے لیے کئی اقدامات کئے جاسکتےتھے۔

اصغرجمالی نے کہا کہ کاربن کا پھیلاؤ روکنے کےلیے الیکٹرک گاڑیاں آخری اقدام ہوتا ہے۔ ایسا معلوم ہوتا ہے کہ الیکٹرک گاڑیوں سے متعلق فیصلہ جلد بازی میں کیا گیا۔جاپان جیسے ملک میں پرانی گاڑیوں کے خاتمے کےلیے سخت پالیسیاں رائج ہیں جو ان کی جانب سے کاربن پھیلانے کے اسباب کو مدنظر رکھتے ہوئے بنائی گئی ہیں۔ بھارت نے حالیہ پرانی گاڑیوں سے متعلق پالیسی نافذ کی جس کا مقصد نئی گاڑیوں کی فروخت بڑھانا،فضائی آلودگی کم کرنا اور تیل کی امورٹ پراخراجات کم کرنا ہے۔پاکستان نے بھی حالیہ الیکٹرک گاڑیوں سے متعلق پالیسی پر غور شروع کیا جس کا مقصد موسمی تبدیلی اور تیل کی امپورٹ پر آنےوالے اخراجات کم  کرنا ہے۔

اصغرجمالی کا کہنا ہے کہ پیچیدہ ٹیکنالوجی میں الیکٹرک گاڑیوں دیرپا نہیں ہوسکتیں اور کچھ کہنا قبل ازوقت ہوگا کہ اس پالیسی کے تحت کونسی گاڑی کی ٹیکنالوجی بہتر ہوگی۔ مثال کےطور پر ابھی یہ نہیں کہہ سکتے کہ لیتھیم یا ہائی ڈروجن سیل والی بیٹری کا استعمال درست فیصلہ ہوگا۔انڈس موٹرز کےسی ای او نے کہا کہ پاکستان میں الیکٹرک گاڑیوں سے متعلق معاملات واضح ہونے میں 3 سے 5 برس کا عرصہ لگ سکتا ہے۔ اس وجہ سے انڈس موٹرز نے الیکٹرک گاڑیوں سے متعلق محتاط رویہ اختیار کیا ہوا ہے۔

پاکستان میں ٹیوٹا گاڑیاں بنانے والےادارے انڈس موٹرزکمپنی کے سی ای او اصغرجمالی نے کہا ہے کہ اگرپاکستان میں

الیکٹرک گاڑیوں کو آگے لانے کا مقصد کاربن کا پھیلاؤ روکنا ہے توپرانی گاڑیوں کا ختم کرنے کا پہلے سوچنا چاہئے تھا۔

سماءمنی سے خصوصی بات کرتےہوئے اصغرجمالی نےکہا کہ پاکستان میں پرانی گاڑیوں،بسوں اورٹرکوں کے دھوئیں سے آلودگی پھیلتی ہے۔ حکومت نے الیکٹرک گاڑیاں متعارف کروانے کا منصوبہ اس وقت بنایا جب ماحولیات کو بہتربنانے کے لیے کئی اقدامات کئے جاسکتےتھے۔

اصغرجمالی نے کہا کہ کاربن کا پھیلاؤ روکنے کےلیے الیکٹرک گاڑیاں آخری اقدام ہوتا ہے۔ ایسا معلوم ہوتا ہے کہ الیکٹرک گاڑیوں سے متعلق فیصلہ جلد بازی میں کیا گیا۔جاپان جیسے ملک میں پرانی گاڑیوں کے خاتمے کےلیے سخت پالیسیاں رائج ہیں جو ان کی جانب سے کاربن پھیلانے کے اسباب کو مدنظر رکھتے ہوئے بنائی گئی ہیں۔ بھارت نے حالیہ پرانی گاڑیوں سے متعلق پالیسی نافذ کی جس کا مقصد نئی گاڑیوں کی فروخت بڑھانا،فضائی آلودگی کم کرنا اور تیل کی امورٹ پراخراجات کم کرنا ہے۔پاکستان نے بھی حالیہ الیکٹرک گاڑیوں سے متعلق پالیسی پر غور شروع کیا جس کا مقصد موسمی تبدیلی اور تیل کی امپورٹ پر آنےوالے اخراجات کم  کرنا ہے۔

اصغرجمالی کا کہنا ہے کہ پیچیدہ ٹیکنالوجی میں الیکٹرک گاڑیوں دیرپا نہیں ہوسکتیں اور کچھ کہنا قبل ازوقت ہوگا کہ اس پالیسی کے تحت کونسی گاڑی کی ٹیکنالوجی بہتر ہوگی۔ مثال کےطور پر ابھی یہ نہیں کہہ سکتے کہ لیتھیم یا ہائی ڈروجن سیل والی بیٹری کا استعمال درست فیصلہ ہوگا۔انڈس موٹرز کےسی ای او نے کہا کہ پاکستان میں الیکٹرک گاڑیوں سے متعلق معاملات واضح ہونے میں 3 سے 5 برس کا عرصہ لگ سکتا ہے۔ اس وجہ سے انڈس موٹرز نے الیکٹرک گاڑیوں سے متعلق محتاط رویہ اختیار کیا ہوا ہے۔

پاکستان میں ٹیوٹا گاڑیاں بنانے والےادارے انڈس موٹرزکمپنی کے سی ای او اصغرجمالی نے کہا ہے کہ اگرپاکستان میں

الیکٹرک گاڑیوں کو آگے لانے کا مقصد کاربن کا پھیلاؤ روکنا ہے توپرانی گاڑیوں کا ختم کرنے کا پہلے سوچنا چاہئے تھا۔

سماءمنی سے خصوصی بات کرتےہوئے اصغرجمالی نےکہا کہ پاکستان میں پرانی گاڑیوں،بسوں اورٹرکوں کے دھوئیں سے آلودگی پھیلتی ہے۔ حکومت نے الیکٹرک گاڑیاں متعارف کروانے کا منصوبہ اس وقت بنایا جب ماحولیات کو بہتربنانے کے لیے کئی اقدامات کئے جاسکتےتھے۔

اصغرجمالی نے کہا کہ کاربن کا پھیلاؤ روکنے کےلیے الیکٹرک گاڑیاں آخری اقدام ہوتا ہے۔ ایسا معلوم ہوتا ہے کہ الیکٹرک گاڑیوں سے متعلق فیصلہ جلد بازی میں کیا گیا۔جاپان جیسے ملک میں پرانی گاڑیوں کے خاتمے کےلیے سخت پالیسیاں رائج ہیں جو ان کی جانب سے کاربن پھیلانے کے اسباب کو مدنظر رکھتے ہوئے بنائی گئی ہیں۔ بھارت نے حالیہ پرانی گاڑیوں سے متعلق پالیسی نافذ کی جس کا مقصد نئی گاڑیوں کی فروخت بڑھانا،فضائی آلودگی کم کرنا اور تیل کی امورٹ پراخراجات کم کرنا ہے۔پاکستان نے بھی حالیہ الیکٹرک گاڑیوں سے متعلق پالیسی پر غور شروع کیا جس کا مقصد موسمی تبدیلی اور تیل کی امپورٹ پر آنےوالے اخراجات کم  کرنا ہے۔

اصغرجمالی کا کہنا ہے کہ پیچیدہ ٹیکنالوجی میں الیکٹرک گاڑیوں دیرپا نہیں ہوسکتیں اور کچھ کہنا قبل ازوقت ہوگا کہ اس پالیسی کے تحت کونسی گاڑی کی ٹیکنالوجی بہتر ہوگی۔ مثال کےطور پر ابھی یہ نہیں کہہ سکتے کہ لیتھیم یا ہائی ڈروجن سیل والی بیٹری کا استعمال درست فیصلہ ہوگا۔انڈس موٹرز کےسی ای او نے کہا کہ پاکستان میں الیکٹرک گاڑیوں سے متعلق معاملات واضح ہونے میں 3 سے 5 برس کا عرصہ لگ سکتا ہے۔ اس وجہ سے انڈس موٹرز نے الیکٹرک گاڑیوں سے متعلق محتاط رویہ اختیار کیا ہوا ہے۔

Related Articles

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here

Stay Connected

22,046FansLike
2,986FollowersFollow
18,400SubscribersSubscribe

Latest Articles