
رپورٹ: راؤ جمیل
سی ای او / چیف ایڈیٹر
فرسٹ نیوز ایچ ڈی
پورٹ قاسم جیسے حساس ادارے پر سیکیورٹی اور اہم اداروں کی موجودگی کے باوجود چور مافیا کی اجارہ داری بڑا سوالیہ نشان
30 سال سے جاری اندھیر نگری کا پردہ چاک
پورٹ قاسم میں کوکنگ آئل چور مافیا کا قبضہ
سیکیورٹی حصار کے سائے میں گھناؤنا دھندا، احسان عرف ‘ٹی ٹی’ انتظامیہ کی مبینہ ملی بھگت سے آئل چوری کا سرغنہ نکلا
بغیر گیٹ پاس چوری شدہ آئل شہر بھر میں سپلائی، نذرانے کے عوض پورٹ قاسم کے سیکیورٹی اہلکاروں کی پشت پناہی کا الزام
شہریوں کی زندگیوں سے بدترین کھیل، بغیر ریفائن ‘کچا آئل’ دکانوں اور ہوٹلوں پرمارکیٹ سے کم دام فروخت کرنے کا انکشاف
دیانت دار اعلیٰ افسر کی نیک نامی داؤ پر لگانے کی کوشش، گرفتاریوں اور مقدمات کے باوجود بااثر ملزم دوبارہ سرگرم ہیں،ذرائع
کراچی (رپورٹ: راؤ محمد جمیل ) پاکستان کے اہم ترین ادارے پورٹ محمد بن قاسم کے اندر کوکنگ آئل چور مافیا کی بدترین منفی سرگرمیوں اور اجاره داری کا سنسنی خیز انکشاف ہوا ہے بدنام آئل چور مافیا گذشته 30 سالوں سے کُھلے عام اپنے گھناونے دھندے میں آزادانہ طور پر مصروف بتایا جاتا ہے پورٹ محمد بن قاسم سیکورٹی حصار اور دیگر اہم اداروں کی چھتری کے سائے میں آئل چور مافیا کی سرگرمیوں نے حیران کرکے رکھ دیا کوکنگ آئل چور مافیا کے سرغنہ احسان عرف ٹی ٹی پر اپنے کارندوں کے ذریعے آئل ٹینکرز کے ڈرائیوروں کی ملی بھگت سے پورٹ محمد بن قاسم کے اندر بڑے پیمانے پر آئل چوری کرنے اور انتظامیہ کی مبینہ ملی بھگت سے بغیر گیٹ پاس کے چوری شده آئل پورٹ قاسم کی حدود سے باہر نکالنے اور شہر کے مختلف علاقوں میں سپلائی کرنے کا الزام ہے ملزم احسان عرف ٹی ٹی پر ماضی میں کوکنگ آئل چوری کے الزام میں تھانہ بن قاسم میں متعدد مقدمات بھی درج ہو چکے ہیں انتہائی ذمہ دار ذرائع سے ملنے والی اطلاعات کے مطابق ضلع ملیر کے علاقے بن قاسم تھانے کی حدود میں واقع اہم ترین ملکی ادارے پورٹ محمد بن قاسم میں طویل عرصے سے کوکنگ آئل ٹینکروں سے بڑے پیمانے پر کوکنگ آئل چوری کیے جانے کی مصدقہ اطلاعات موصول ہوئی ہیں ذرائع کے مطابق کوکنگ آئل چور گروه کا سرغنہ احسان عرف ٹی ٹی بتایا جاتا ہے ملزم اپنے کارندوں کے ذریعے مختلف کوکنگ آئل ٹینکرز کے ڈرائیوروں کی سہولت کاری سے آئل چوری کرکے پورٹ محمد بن قاسم کے ویران مقام پر جمع کرتا ہے بعد ازاں چوری شده کوکنگ آئل لوڈنگ مزدا ، ہائی ایس اور بائی رؤف گاڑیوں میں بھر کر کورنگی کے علاقے میں قائم ایک گودام میں پہنچایا جاتا ہے جہاں سے مذکوره کوکنگ آئل کنستروں میں بھر کر سوزوکی پک اپ کے ذریعے شہری اور مضافاتی علاقوں میں قائم دکانوں اور ہوٹلوں پر مارکیٹ سے کم داموں پر فروخت کردیا جاتا ہے مذکوره کوکنگ آئل کچہ ہوتا ہے کیونکہ اسے پورٹ محمد بن قاسم سے مختلف آئل کمپنیوں میں لے جا کر مختلف مراحل سے گزار کر ریفائن کرکے صحت کے عین مطابق قابل استعمال بنایا جاتا ہے تاہم چوری شده کچه آئل کیوں کے ریفائن کے بغیر ہی سپلائی کردیا جاتا ہے جو انسانی صحت اور زندگیوں کیلئے انتہائی مضر بتایا جاتا ہے ذرائع کے مطابق چور گروه کے سرغنہ احسان ٹی ٹی کے پورٹ محمد بن قاسم کے بعض سیکورٹی افسران اور اہلکاروں سے خصوصی مراسم ہیں جو مبینہ طور پراس گھناونے دھندے میں ملزم کی پشت پناہی اور سہولت کاری کرتے ہیں اور ان خدمات کے عوض ملزم سے مخصوص ” نذرانہ” بھی وصول کرتے ہیں اطلاعات کے مطابق ملزم سیکورٹی کے عملے اور انتظامیہ پر دباؤ ڈالنے کیلئے پورٹ محمد بن قاسم کے انتہائی دیانت دار اور بہترین کردار کے حامل ایک اعلیٰ افسر سے ذاتی تعلقات ظاہر کر کے گمراه کرتا ہے روزنامه ” حمایت ” کو انتہائی مصدقہ ذرائع سے ملنے والی تفصیلات کے مطابق مذکوره اعلیٰ افسر کا شمار میرٹ پر خدمات سرانجام دینے والے دیانت دار افسران میں ہوتا ہے جبکہ چور گروه اپنے گھناونے مفادات کے حصول کیلئے انکی نیک نامی کو داؤ پر لگانے کے در پے ہے ذرائع کے مطابق ماضی میں ایک حساس ادارے کے کمانڈر نے ملزم کی چوری شده کوکنگ آئل سے لدی مزدا گاڑی پکڑ لی تھی مذکوره گاڑی اور کوکنگ آئل کو ضائع بھی کردیا گیا تھا ذرائع کے مطابق پورٹ محمد بن قاسم جیسے حساس ادارے پر سیکورٹی اور دیگر اہم ادارے کی موجودگی کے باوجود مذکوره گھناونے دھندے کی انجام دہی بڑا سوالیہ نشان ہے یہ اطلاعات بھی موصول ہوئی ہیں کہ بن قاسم پولیس نے ملزم کو رنگے ہاتھوں گرفتار کرکے متعدد بار مقدمات بھی درج کیے ہیں تاہم بااثر ملزم اپنا اثر و رسوخ استعمال کر کے دوباره اپنا گھناونا دهنده شروع کرلیتا ہے


